آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ اور اسرائیل جیسی بڑی فوجی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کی جنگی حکمتِ عملی کیا ہے؟
- مصنف, لوئیس باروچو
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کہتے ہیں کہ ان کے مسلسل مشترکہ فضائی حملوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل 3 مارچ کو اپنے پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر پوسٹ کیا:
’ان کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو گئی ہے‘۔
’وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا، اب بہت دیر ہو گئی!‘
ایران نے جواب میں اسرائیل اور ان مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر حملے کیے ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، اور کہا ہے کہ یہ کارروائیاں وہ اپنے دفاع میں کر رہے ہیں۔
لیکن چونکہ اسرائیل اور امریکہ کو فوجی اعتبار سے برتر سمجھا جاتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس جنگ میں ایران کے پاس کیا آپشنز ہیں اور وہ کون سی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے؟
ختم ہوتے وسائل
ڈاکٹر ایچ اے ہیلیر، جو برطانیہ میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ (آر یو ایس آئی) کے مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ ایران کا موجودہ فوجی طریقہ کار امریکہ یا اسرائیل کو ’روایتی جنگ میں شکست دینا‘ نہیں بلکہ کسی بھی تنازع کو ’طویل، خطے میں پھیلا ہوا اور معاشی طور پر مہنگا‘ بنانا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایران روایتی طور پر نہیں جیت سکتا لیکن اس کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ دوسروں کے لیے فتح کو مہنگا اور غیر یقینی بنایا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس میں سائنسز پو کے سینٹر فار انٹرنیشنل سٹڈیز کی اسسٹنٹ پروفیسر نیکول گراجیوسکی بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں۔
وہ ایران کی حکمتِ عملی کو ’جنگِ استنزاف‘ قرار دیتی ہیں، ایسی جنگ جس میں مخالف کو براہِ راست فیصلہ کن شکست دینے کے بجائے مسلسل حملوں اور نقصانات کے ذریعے آہستہ آہستہ کمزور کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے وسائل اور لڑنے کی صلاحیت متاثر ہو جائے۔
اس حکمتِ عملی کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔
گراجیوسکی کے مطابق: ’پچھلے سال اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران نے اپنے حملوں کا رخ زیادہ تر شہری علاقوں کی طرف کر دیا تھا۔ اس میں درست نشانہ لگانے سے زیادہ مقصد آبادی میں خوف اور نفسیاتی صدمہ پیدا کرنا تھا۔‘
میزائل اور ڈرونز کو عام طور پر ایران کے دفاعی نظریے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔
گراجیوسکی کہتی ہیں کہ ایران کے بیلسٹک میزائل ذخیرے کو مبینہ طور پر 12 روزہ جنگ کے دوران شدید نقصان پہنچا، لیکن ’درست تعداد غیر یقینی ہے کیونکہ یہ زیرِ زمین ذخیرہ ہے اور مسلسل تیاری کے عمل میں ہیں۔‘
اسرائیل کا اندازہ ہے کہ فروری 2026 تک ایران کے پاس تقریباً 2500 میزائل تھے، جن میں قلیل فاصلے (1,000 کلومیٹر تک) اور درمیانے فاصلے (1,000–3,000 کلومیٹر) کے میزائل شامل ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سجیل جیسے نظام استعمال کیے ہیں، جسے تقریباً 2000 کلومیٹر رینج کا حامل بتایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق فتح بھی استعمال کیا گیا ہے، جسے تہران ہائپر سونک قرار دیتا ہے یعنی ایسا میزائل جو آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
’میزائلوں کے شہر‘
ایرانی میڈیا اور حکام اکثر زیرِ زمین میزائل تنصیبات کا ذکر کرتے ہیں جنھیں ’میزائل شہر‘ کہا جاتا ہے، اگرچہ ان کے حجم اور ذخیرے کی تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی اعلیٰ کمانڈر جنرل ڈین کین کے مطابق، ایران کے بیلسٹک میزائل حملے لڑائی کے پہلے دن، سنیچر 28 فروری سے اب تک 86 فیصد کم ہو گئے ہیں۔ اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق منگل، 4 مارچ کو مزید 23 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اس کے باوجود، ہیلیر کہتے ہیں کہ ایران اب بھی ’اسرائیلی انفراسٹرکچر، امریکی علاقائی اڈوں اور خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی مؤثر صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کے بہاؤ کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز میں معمولی خلل بھی عالمی معیشت کے لیے شدید نتائج پیدا کر سکتا ہے۔‘
دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اس تنگ سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور اب ایران نے عملی طور پر اسے بند کر دیا ہے، ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی ہے کہ جو بھی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
اگرچہ ایران کو جدید میزائلوں اور ٹھوس ایندھن کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن گراجیوسکی کہتی ہیں کہ اس کی ڈرون صلاحیت اب بھی نمایاں ہے۔
خیال ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے دسیوں ہزار ’شاہد‘ ون وے حملہ آور ڈرون تیار کیے تھے۔
اس ڈیزائن کو روس کو برآمد کیا گیا ہے اور حتیٰ کہ امریکہ نے بھی اس ٹیکنالوجی کے کچھ پہلوؤں کو نقل کیا ہے۔
یہ صرف براہِ راست نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک مقصد بھی رکھتے ہیں ’وقت کے ساتھ فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنا‘ کیونکہ یہ مخالفین کو مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
گراجیوسکی کہتی ہیں کہ ’اس کا ایک حصہ انٹرسیپٹر صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے۔ ایران یہ یو اے ویز (بنا پائلٹ فضائی گاڑیاں) اور ڈرونز کے ساتھ کر رہا ہے۔ یہ وہی ہے جو روسیوں نے یوکرین میں بھی کیا۔‘
تاہم، امریکہ کا کہنا ہے کہ تنازعے کے پہلے دن کے مقابلے ایران کے ڈرون حملے 73 فیصد کم ہو گئے ہیں۔
تل ابیب میں قائم انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 2,000 سے زیادہ مختلف اقسام کے ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے 571 میزائل اور 1391 ڈرون داغے ہیں، جن میں سے کئی کو روک لیا گیا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ جیسے جیسے جنگ جاری رہے گی فریقین کے لیے اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
طویل تنازع
ایران مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی مستقل فوجی قوتوں میں سے ایک رکھتا ہے۔
انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کی ملٹری بیلنس 2025 رپورٹ کے مطابق، اس کے پاس تقریباً 610,000 فعال فوجی اہلکار ہیں جن میں شامل ہیں:
- 350,000 عام فوجی ہیں
- 190,000 پاسدارانِ انقلاب میں ہیں جو میزائل اور ڈرون پروگراموں کے ساتھ ساتھ کئی علاقائی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے
ایران ایک علاقائی اتحادی نیٹ ورک پر بھی انحصار کرتا ہے جن میں یمن میں حوثی باغی، عراق میں مسلح گروہ، لبنان میں حزب اللہ، اور مقبوضہ علاقوں میں حماس شامل ہیں لیکن اس کا خود ساختہ ’محورِ مزاحمت‘ غزہ سے حماس کے اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد خطے میں پھیلنے والی لڑائی کی لہر میں بھاری نقصان اٹھا چکا ہے۔
گراجیوسکی کہتی ہیں کہ موجودہ پابندیوں کے باوجود ایران کو طویل تنازع برداشت کرنے کا تجربہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ برداشت بڑی حد تک ایران۔عراق جنگ کے دور سے جڑی ہے، جب عسکری طور پر کمزور ہونے کے باوجود اس کے شہروں کو بار بار نشانہ بنایا جاتا رہا۔
تاہم ایران کی اس حکمتِ عملی کی پائیداری کا دارومدار اندرونی اتحاد پر بھی ہے۔
گراجیوسکی کہتی ہیں: ’یہ بہت حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ سکیورٹی اور سیاسی اشرافیہ کتنی متحد رہتی ہے اور کیا ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اختلافات بڑھتے ہیں تو اس سے عسکری حکمتِ عملی میں بھی زیادہ انتشار آ سکتا ہے۔‘
’ایسا لگتا ہے کہ میزائل آپریٹرز شدید دباؤ اور تھکن کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات غلط اہداف پر فائرنگ یا نشانے کی درستگی میں کمی ہو رہی ہے۔ کئی کارروائیاں زیادہ غیر منظم دکھائی دیتی ہیں اور مجموعی طور پر تھکن کا عنصر بھی نظر آ رہا ہے۔‘
اور یہ صورتحال، اگر ایران کے میزائل ذخائر اور افواج پر مسلسل حملوں کے ساتھ جاری رہی، تو ’غیر ارادی طور پر کشیدگی میں مزید اضافے‘ کا سبب بن سکتی ہے۔
کشیدگی میں اضافہ
گراجیوسکی ترکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے بدھ کے روز ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا جو ترک فضائی حدود میں داخل ہو رہا تھا۔
ترکی جو ایران کا پڑوسی ہے اور جس نے فضائی جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ ایران مذاکرات میں ثالثی کی کوشش کی تھی، اس نے خبردار کیا کہ ’تمام فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید کشیدگی کا باعث بنیں۔‘
گراجیوسکی کہتی ہیں کہ ایران کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ہمسایہ ممالک کے لیے حالات اس حد تک مشکل بنا دیے جائیں کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالیں — یا اسے مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے یا جنگ بندی کی طرف دھکیل دیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ حکمتِ عملی کامیاب ہو گی یا نہیں، لیکن یہی وہ جوا ہے جو ایران اس وقت کھیل رہا ہے۔‘
تاہم یہ جوا آسانی سے الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔
ہیلیر کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک ’فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اگرچہ انھوں نے ابتدا میں امریکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کی تھی، لیکن اب ان کی اپنی سلامتی ایران کے جوابی حملوں سے خطرے میں ہے، اس لیے امریکہ کی مہم کی حمایت کرنا زیادہ مناسب ہے تاکہ ایران کے فوری خطرے کو ختم کیا جا سکے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میرا نہیں خیال کہ خلیجی ممالک ابھی اس مقام پر پہنچے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ اس حوالے سہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔‘