آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, تہران کے مهرآباد ایئرپورٹ پر دھماکے، امریکہ کی اسرائیل کو ’ہنگامی صورتحال‘ میں ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 151.8 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے لیے ’ہنگامی‘ اختیار استعمال کیا گیا ہے تاکہ کانگریس کی نظرِ ثانی کی شرط کو ختم کیا جا سکے، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُدھر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں جلتے ہوئے طیارے اور دھوئیں کے بڑے بادل مهرآباد ایئرپورٹ پر دکھائی دے رہے ہیں، جو ایران کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے۔

خلاصہ

  • تہران کے مهرآباد ایئرپورٹ پر دھماکے، سعودی وزیرِ دفاع اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات میں ’ایرانی جارحیت‘ اور خطے کی سکیورٹی پر گفتگو
  • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گذشتہ سنیچر سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی بے قابو ہو سکتی ہے
  • کوئی ملک جنگ میں شریک ہوا تو جائز ہدف بن جائے گا، ایران کی یورپ کو تنبیہ
  • امریکی فوج نے ایرانی عسکری قوت کو تباہ کرنے میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. ایران عقلمندی سے کام لے اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے: سعودی عرب

    سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سنیچر کے روز ایران پر زور دیا کہ وہ ’عقلمندی سے کام لے اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے‘۔

    یہ درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کو بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

    پاکستانی فوج کے کمانڈر سے ملاقات کے بعد سعودی وزیر دفاع نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا ’ہم نے سعودی عرب پر ایران کے حملوں اور انھیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ایرانی فریق دانشمندی سے کام لے گا اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے گا۔‘

  2. ابوظہبی اور کویت پر نئے ایرانی ڈرون حملے

    ایران کی فوج نے خطے میں امریکی اڈوں پر نئے ڈرون حملوں کا اعلان کیا ہے۔

    فوج نے کہا کہ آج صبح بحریہ نے ابوظہبی میں امریکی اڈوں اور کویت میں کیمپ العدیری کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

  3. قطر کی فضائی حدود محدود پروازوں کے لیے جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

    قطر نے اعلان کیا ہے کہ ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ محدود پروازیں دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔

    ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق فضائی حدود جزوی طور پر کھولی جا رہی ہے، اور اس میں صرف انخلا اور ضروری سامان لے جانے والی کارگو پروازوں کو اجازت دی جائے گی۔

    حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے وضاحت کی ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید پروازوں کا انحصار جاری سکیورٹی صورتحال کے جائزے پر ہوگا۔ قطری حکام نے اس ہفتے کے آغاز میں بتایا تھا کہ فوج نے ایئرپورٹ پر ایرانی حملوں کی کوشش ناکام بنا دی۔

    جمعے کو قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ نو ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جن میں سے ایک غیر آباد علاقے میں گرا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  4. بغداد ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ، ہدف امریکی فوجی اڈہ اور ایک سفارتی ’فیسیلٹی‘ تھی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق جمعے کی آدھی رات کے فوراً بعد ایک ڈرون حملے میں بغداد ایئرپورٹ کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک فوجی اڈہ اور ایک امریکی سفارتی سہولت موجود ہے۔

    ایک سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے ’ایئرپورٹ پر کئی حملوں کا نشانہ بنایا گیا‘۔

    ایک اور سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ ڈرون حملہ ہوا جس کے بعد ایئرپورٹ پر آگ لگ گئی۔

  5. دبئی میں ایک حملے کو ناکام بنانے کے نتیجے میں ملبہ گرنے کا ’معمولی واقعہ‘، نصف درجن سے زائد پروازیں لینڈنگ کی منتظر

    دبئی حکام نے کہا ہے کہ ایک حملے کو ناکام بنانے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے سے پیدا ہونے والے ’معمولی واقعے‘ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق دبئی ایئرپورٹ پر اترنے والی نصف درجن سے زائد پروازوں لینڈ کرنے کی اجازت کی منتظر ہیں۔

  6. امریکہ نے اسرائیل کو ’ہنگامی صورتحال‘ میں ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 151.8 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے لیے ’ہنگامی‘ اختیار استعمال کیا گیا ہے تاکہ کانگریس کی نظرِ ثانی کی شرط کو ختم کیا جا سکے، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف پولیٹیکل-ملٹری افیئرز کے مطابق اس مجوزہ فروخت میں بارہ ہزار BLU-110A/B جنرل پرپز بم باڈیز شامل ہیں، جن کا وزن ایک ہزار پاؤنڈ ہے۔ اس کے ساتھ انجینئرنگ، لاجسٹکس اور تکنیکی معاونت کی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیرِ خارجہ نے یہ طے کیا ہے اور تفصیلی جواز فراہم کیا ہے کہ ایک ہنگامی صورتحال موجود ہے جس کے تحت اسرائیل کو فوری طور پر یہ دفاعی سازوسامان فراہم کرنا ضروری ہے۔‘

    یہ اقدام آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کی شق 36(b) کے تحت کانگریسی نظرِ ثانی کی شرط کو ختم کرتا ہے۔

    اس منصوبے کا مرکزی کنٹریکٹر Repkon USA ہوگا، جو گارلینڈ، ٹیکساس میں واقع ہے۔ بم باڈیز کی کچھ تعداد امریکی فوجی ذخائر سے فراہم کی جائے گی۔

    یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس جنگ میں اب تک 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای، 150 سے زائد سکول کی طالبات اور اعلیٰ فوجی حکام شامل ہیں۔

    اس جنگ نے خطے میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا کر دیا ہے اور ایران نے جوابی حملے کرتے ہوئے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مجوزہ فروخت سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو تقویت ملے گی، کیونکہ یہ ایک اہم علاقائی اتحادی کی سلامتی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی، جو مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    ’یہ فروخت اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی، اس کی داخلی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرے گی اور علاقائی خطرات کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ ثابت ہوگی۔‘

  7. ایرانی میزائل حملے کی وارننگ کے بعد یروشلم میں دھماکے کی آواز سنی گئی

    یروشلم میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے ایک دھماکے کی آواز سنی ہے۔

    یہ فضائی حملے کے سائرن بجنے کے بعد ہوا، جس میں ایرانی میزائل حملے کی وارننگ دی گئی۔

    اسرائیلی فوج نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اس خطرے کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال ہے اور کچھ دیر بعد حالات کو معمول پر لانے کا اعلان کر دیا گیا۔

  8. بحرین میں سائرن بجنا شروع، شہریوں کو محفوظ ترین مقامات کی طرف جانے کی ہدایت

    بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں سائرن بجا دیے گئے ہیں تاکہ خطرات سے آگاہ رکھا جا سکے۔

    وزارت داخلہ نے کہا کہ ’شہریوں اور مقیم افراد سے گزارش ہے کہ پُرسکون رہیں، قریب ترین محفوظ مقام کی طرف جائیں اور تازہ ترین خبروں کے لیے سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔‘

  9. ٹرمپ کی ایران کا نیا رہنما خود منتخب کرنے کی خواہش۔۔ کیا ایران اس پر آمادہ ہوگا؟, بی بی سی کی لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کا نیا رہنما بھی وہی منتخب کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر مذہبی و عسکری شخصیات کو قتل کر دیا گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالبہ ایران کے مذہبی نظام کے لیے ناقابلِ تصور ہے، کیونکہ اس نظام کی بنیاد امریکہ پر گہری عدم اعتماد اور دشمنی پر قائم ہے۔

    ایران میں اصلاح پسند، عملیت پسند اور سخت گیر عناصر موجود ہیں، لیکن ان سب کا مشترکہ مقصد نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مجلسِ خبرگان، جو تقریباً 88 سیینئر علما پر مشتمل ادارہ ہے، اس نازک وقت میں ایک فرد کے بجائے رہنماؤں کی کونسل منتخب کرنے پر غور کر رہا ہے۔

    اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جو بھی نیا رہنما سامنے آئے گا، وہ اس کا ’براہِ راست ہدف‘ ہوگا۔

    فی الحال اس حساس معاملے پر کھل کر بات کرنے والے واحد شخص صدر ٹرمپ ہیں، جنھوں نے کہا کہ ’زیادہ تر وہ لوگ جنھیں ہم نے ذہن میں رکھا تھا، اب مر چکے ہیں۔‘

  10. ایران کی جانب سے میزائل داغے گئے، جواباً دفاعی نظام فعال بنا دیا گیا: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا پتا چلا لیا گیا ہے۔ فوج کے بیان کے مطابق دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ان میزائلوں کو روکا جا سکے۔

    اسرائیل میں موبائل فونز پر ہنگامی الرٹ بھیج دیا گیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوراً محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔

  11. ریاض میں سعودی وزیرِ دفاع اور پاکستانی آرمی چیف کی ملاقات، ’امید ہے ایران دانشمندی اور عقل مندی سے کام لے گا‘

    سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ریاض میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ سعودی عرب کے مطابق اس ملاقات میں ایران کی سعودی عرب پر ’جارحیت‘ پر بھی غور کیا گیا۔

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملاقات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی اور عقل مندی سے کام لے گا اور غلط حساب کتاب سے گریز کرے گا۔

    اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور وزیرِ دفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس ہشام بن عبدالعزیز بن سیف شریک ہوئے۔

    پاکستانی وفد میں آرمی چیف کے سیکریٹری میجر جنرل محمد جواد طارق موجود تھے۔

  12. روس مشرق وسطیٰ میں امریکی پوزیشنوں کے بارے میں ایران کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے: حکومتی ذرائع

    امریکی حکومتی ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی پوزیشنوں کے بارے میں ایران کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس کے مطابق تین ذرائع، جن میں ایک اعلیٰ امریکی اہلکار بھی شامل ہے جو صورتحال سے براہِ راست آگاہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نے اس معلومات کی تصدیق کی۔

    یہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں روس کی جانب سے ایران کو مبینہ طور پر فراہم کی جانے والی مدد کا پہلا معلوم اشارہ ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ پہلا میڈیا ادارہ تھا جس نے تین گمنام ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے روسی انٹیلی جنس اور ایران کے درمیان مبینہ تعاون پر رپورٹ شائع کی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعے کے روز کہا کہ اگر روس ایران کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے تو اس سے امریکی فوجی آپریشن پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ ان کے مطابق ’ہم ان کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔‘

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سی بی ایس کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ کون کس سے بات کر رہا ہے، وہ کیوں بات کر رہے ہیں، وہ معلومات کتنی درست ہیں، اور ہم اسے اپنے جنگی منصوبوں میں کیسے مدنظر رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ روسی مداخلت امریکی فوجی دستوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ان کے بقول ’ابھی صرف ایرانیوں کو ہی فکر مند ہونا چاہیے۔‘

    خلیجی ممالک میں حالیہ دنوں میں امریکی تنصیبات ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، جن میں کویت میں امریکی فوجی اڈہ اور سعودی عرب میں سی آئی اے کا دفتر شامل ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کریملن نے نامہ نگاروں کے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا کہ آیا روس موجودہ تنازع میں ایران کی حمایت کر رہا ہے۔ سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ روس نے مبینہ طور پر ایران کے ساتھ جو انٹیلی جنس شیئر کی ہے، اس میں زیادہ تر ماسکو کے فضائی سیٹلائٹ نکشتر کی تصاویر شامل ہیں۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کسی بھی ایرانی حملے کا تعلق روس کی فراہم کردہ مبینہ انٹیلی جنس سے ہے یا نہیں۔

    کریملن نے جمعے کے روز تصدیق کی کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی۔ بیان کے مطابق پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر، دیگر اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ مزید کہا گیا کہ پوتن نے تنازع ختم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا، جبکہ ایرانی صدر نے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور ملک میں ہونے والے واقعات کی تفصیلی رپورٹ فراہم کی۔ دونوں ممالک نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  13. آئل فیلڈ اور فضائی اڈے پر حملوں کی کوشش ناکام بنا دی ہے: سعودی عرب

    سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے ایک آئل فیلڈ اور فضائی اڈے پر حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق چھ ڈرونز کو راستے میں ہی روک لیا گیا جو ایک تیل کے میدان کی طرف جا رہے تھے، جبکہ ایک بیلسٹک میزائل کو بھی روک لیا گیا جو ایک فضائی اڈے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا۔

    ڈرونز کو ملک کے جنوبی حصے میں واقع ’خالی کوارٹر‘ کے صحرا میں روکا گیا۔ یہ علاقہ تیل کے وسیع ذخائر کا حامل ہے، جن میں شیبہ آئل فیلڈ بھی شامل ہے، جسے وزارتِ دفاع نے حملے کا ہدف قرار دیا۔

    سعودی آئل کمپنی آرامکو کے مطابق یہ مقام روزانہ دس لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ بیلسٹک میزائل پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف جا رہا تھا۔ ایران پر حملے کی تیاری کے سلسلے میں فروری میں اس فضائی اڈے کو امریکی فضائیہ کے ایک طیارے نے استعمال کیا تھا۔

  14. تہران کے مهرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دھماکوں کی اطلاع

    ہم آپ کو تازہ ترین خبر دے رہے ہیں کہ تہران کے ایک بڑے بین الاقوامی تجارتی ہوائی اڈے پر بڑے حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں جلتے ہوئے طیارے اور دھوئیں کے بڑے بادل مهرآباد ایئرپورٹ پر دکھائی دے رہے ہیں، جو ایران کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے۔ جمعے کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں متعدد طیارے ایئرپورٹ پر موجود دکھائے گئے تھے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا بھی رپورٹ کر رہا ہے کہ ایئرپورٹ کے کچھ حصے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اس سے قبل بیان دیا تھا کہ وہ ملک میں ’وسیع پیمانے پر نئے حملوں کی لہر‘ شروع کر رہی ہے۔ اس سے قبل 4 مارچ کو اسی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا، جب اسرائیل نے کہا تھا کہ اس کے حملوں نے دفاعی اور ڈیٹیکشن سسٹمز کو تباہ کر دیا ہے جو اسرائیلی فضائیہ کے لیے خطرہ تھے، جن میں ہیلی کاپٹر بنانے والا سیکشن بھی شامل تھا۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایئرپورٹ کے کون سے حصے کو تازہ حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آج رات کی بمباری کہیں زیادہ شدید تھی۔

  15. کوئی ملک جنگ میں شریک ہوا تو جائز ہدف بن جائے گا، ایران کی یورپ کو تنبیہ

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یورپی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ جنگ میں شریک ہونے پر وہ جائز اہداف بن سکتے ہیں۔

    فرانس 24 سے بات کرتے ہوئے ماجد تخت روانچی نے کہا کہ ’اگر کوئی ملک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت میں شریک ہوا تو وہ ایرانی جوابی کارروائی میں جائز ہدف بن جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایرانی حکام ’اچھی نیت کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

  16. تہران میں دھماکوں کی اطلاعات

    بی بی سی فارسی کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں دوبارہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک پیغام میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ’تہران میں ایرانی دہشتگرد حکومت کے ڈھانچے کے خلاف وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کر چکی ہے۔‘

    اس سے قبل تہران میں موجود ایک نوجوان خاتون نے ہمیں بتایا کہ ’تقریباً ہر روز ہر چند گھنٹوں بعد دوبارہ حملے ہوتے ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران سے اسرائیل کی جانب میزائلوں کی ایک نئی لہر داغی گئی ہے۔

    ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ ’دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے فعال ہے‘ اور متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ’احتیاطی ہدایات‘ جاری کی گئی ہیں۔

  17. اسرائیل اور ایرانی حملوں میں 1300 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے: اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر

    اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیرسعید ایروانی کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک امریکی و اسرائیلی حملوں میں 1332 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار ایرانی ہلال احمر کے ہیں اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہ نمبر بڑھ رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ جان بوجھ کر سکول، ہسپتال اور شہری انفراسٹرکچر تباہ کیا گیا ہے۔

    امریکہ نے شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ ایران میں ایک سکول پر بمباری سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیل نے ایران پر اپنے شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔

  18. امریکی فوج نے ایرانی عسکری قوت کو تباہ کرنے میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی: ٹرمپ

    وہائٹ ہاؤس میں کالج سپورٹس سے متعلق ایک اجلاس کے دوران جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران میں جاری کارروائیوں پر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ امریکی فوج ایران کی عسکری قوت کو تباہ کرنے میں ’غیر معمولی‘ کارکردگی دکھا رہی ہے۔

    انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ ’ان کی فوج ختم ہو گئی ہے۔‘

    ’ان کی بحریہ ختم ہو گئی ہے۔ ان کا مواصلاتی نظام ختم ہو چکا ہے۔ ان کی دو قیادتیں ختم ہو چکی ہیں، اب وہ اپنی تیسری قیادت پر آ گئے ہیں۔ ان کی فضائیہ مکمل طور پر مٹ چکی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کے پاس 32 بحری جہاز تھے۔ تمام 32 سمندر کی تہہ میں ہیں۔‘

  19. امریکہ نے ایران میں ’3000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں 3000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹ کام نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بتایا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران 43 بحری جہازوں کو تباہ کیا گیا یا انھیں نقصان پہنچایا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں ان مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے ’جو فوری خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ‘ مقصد یہ ہے کہ ’ایرانی حکومت کے سکیورٹی ڈھانچے کو ختم کیا جائے۔‘

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ایرانی سکول، ہسپتال اور دیگر اہم شہری مقامات بھی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

  20. ’ٹرمپ کو معلوم ہے کہ کون کس سے بات کر رہا ہے‘

    سی بی ایس نیوز کے پروگرام 60 منٹس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے پوچھا گیا کہ آیا روس ایران کو خطے میں امریکی فوجی پوزیشنز کے بارے میں آگاہ کر رہا ہے۔

    ہیگستھ کا جواب تھا کہ امریکہ ’ہر چیز کو ٹریک کر رہا ہے‘ اور اپنے جنگی منصوبوں میں ہر چیز کو مدنظر رکھے ہوئے ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی عوام کو تسلی ہونی چاہیے کہ ان کے کمانڈر اِن چیف کو ہر چیز کا علم ہے کہ کون کس سے بات کر رہا ہے۔‘

    ’جو چیز نہیں ہونی چاہیے، چاہے عوامی سطح پر یا بیک چینل کے ذریعے، اس پر پوچھا جاتا ہے اور سختی سے پوچھا جاتا ہے۔‘

    ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ ’ہم کچھ لوگوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہی ہمارا کام ہے۔ اس لیے ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔۔۔ لیکن اس وقت صرف وہ ایرانی پریشان ہوں جنھیں لگتا ہے کہ وہ زندہ رہیں گے۔‘

    آج اس سے پہلے ایک سینئر امریکی اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ روس خطے میں امریکی تنصیبات کے بارے میں ایران کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔

    کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر سے بات کر کے تعزیت کی اور روس کے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ لڑائی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

    پوتن کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔