ٹرمپ کو ’ناقابل قبول‘ مجتبیٰ خامنہ ای، جو ایران کے اگلے رہبر اعلیٰ بن سکتے ہیں

    • مصنف, بی بی سی
    • عہدہ, فارسی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے طور اُن کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ’ناقابل قبول‘ ہو گا۔

خبررساں اداروں روئٹرز اور ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویوز میں امریکی صدر نے زور دیا کہ ایران کے لیے نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب میں اُن (ٹرمپ) کا بھی کردار ہونا چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسا کہ وینزویلا میں نئی قیادت کے انتخاب کے موقع پر ہوا۔

انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس عہدے کے لیے فرنٹ رنر (یعنی سب سے آگے) ہیں، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ اس نتیجے (مجتبیٰ بطور رہبر اعلیٰ) کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں۔

یاد رہے کہ علی خامنہ ای کے امریکی، اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے جانے کے بعد، بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا اُن کے بیٹے مجتبیٰ بھی مارے گئے ہیں؟

کئی دنوں تک اس حوالے سے کوئی خبر نہیں آئی لیکن منگل (تین مارچ) کو ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مجتبیٰ زندہ ہیں اور ’ملک کے اہم امور پر مشاورت اور جائزے‘ میں مصروف ہیں۔

تاہم وہ ابھی تک وہ عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو ایرانی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اب ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ بننے کی دوڑ میں سب سے آگے سمجھا جا رہا ہے، تاہم ایسے دعوؤں کی تصدیق کرنا اب بھی مشکل ہے۔

دریں اثنا، مجلسِ رہبری (جو کہ 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے اور رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا ذمہ دار ہے) کے اجلاس کے انعقاد کو ’فیصلے پر پہنچنے کے قریب‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق نئے رہبر اعلیٰ سے متعلق اعلان علی خامنہ ای کی تدفین سے پہلے ہونے کا امکان نہیں ہے۔

اپنے والد کے برعکس، مجتبیٰ زیادہ عوامی نہیں رہے ہیں۔ انھوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔ نہ ہی انھوں نے عوامی تقاریر یا انٹرویوز دیے، اور ان کی صرف محدود تعداد میں تصاویر اور ویڈیوز شائع کی گئی ہیں۔

تاہم، ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں طویل عرصے سے افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ اُن کے والد تک رسائی کے لیے مجتبیٰ سے ہو کر ہی گزرنا پڑتا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سفارتی کیبلز میں (جو وکی لیکس نے سنہ 2000 کی دہائی کے آخر میں شائع کیں) انھیں ’عبا کے پیچھے ایسی طاقت‘ کے طور پر بیان کیا، جسے حکومت میں وسیع پیمانے پر ’قابل اور طاقتور رہنما‘ سمجھا جاتا تھا۔

لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور رہبرِ اعلیٰ انتخاب متنازع ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران سنہ 1979 میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد قائم ہوئی، اور اس کا نظریہ اس اصول پر مبنی ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کو وراثتی جانشینی کے ذریعے نہیں بلکہ اس کی مذہبی حیثیت اور ثابت شدہ قیادت کی بنیاد پر منتخب کیا جانا چاہیے۔

ماضی میں علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ کی مستقبل کی قیادت کے بارے میں صرف عمومی انداز میں بات کی۔ مجلسِ رہبری کے ایک رُکن نے دو سال قبل یہ بھی کہا تھا کہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کے رہبرِ اعلیٰ کے امیدوار بننے کے خیال کے بھی مخالف تھے۔ لیکن خود علی خامنہ ای نے کبھی ایسی قیاس آرائیوں کا عوامی طور پر جواب نہیں دیا۔

تو، مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

آٹھ ستمبر 1969 کو شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ، علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انھوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی سکول سے حاصل کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، 17 سال کی عمر میں، مجتبیٰ نے ایران عراق جنگ کے دوران کئی بار مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دیں۔ اس آٹھ سالہ خونریز تنازع نے ایرانی حکومت کو امریکہ اور مغرب کے بارے میں مزید مشکوک بنا دیا، جو عراق کی حامی تھے۔

سنہ 1999 میں مجتبیٰ قم (جو ایک مقدس شہر ہے اور شیعہ الہیات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے) گئے تاکہ اپنی مذہبی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ انھوں نے اس وقت تک مذہبی لباس نہیں پہنا تھا، اور یہ واضح نہیں کہ انھوں نے 30 سال کی عمر میں مدرسے میں داخلہ کیوں لیا۔

مجتبیٰ اب بھی درمیانے درجے کے عالم دین ہیں، اور یہ بات اُن کے سپریم لیڈر بننے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں، ایران میں طاقت کے مراکز کے قریبی میڈیا اداروں اور حکام نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ’آیت اللہ‘ کہہ کر پکارنا شروع کر دیا ہے۔ آیت اللہ ایک سینیئر مذہبی عہدہ ہے۔ کچھ مبصرین کے نزدیک یہ تبدیلی اُن کی مذہبی حیثیت کو بلند کرنے اور انھیں ملک کی اعلیٰ قیادت کے لیے ایک معتبر امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

مدرسہ نظام میں ’آیت اللہ‘ کا رتبہ رکھنا اور اعلیٰ درجے کی تعلیم دینا کسی شخص کی علمی سطح اور علم کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور اسے مستقبل کے رہنما کے انتخاب کے لیے ایک شرط بھی سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اس کی ایک مثال پہلے ہی موجود ہے۔ علی خامنہ ای جب 1989 میں ایران کے دوسرے رہبر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے تو انھیں وقت سے قبل ’آیت اللہ‘ بنایا گیا تھا۔

سیاسی مداخلت کے الزامات

مجتبیٰ کا نام پہلی بار سنہ 2005 کے صدارتی انتخابات کے دوران عوامی توجہ کا مرکز بنا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں محمود احمدی نژاد ایران کے صدر بنے تھے۔

خامنہ ای کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں، اصلاح پسند امیدوار مہدی کروبی نے مجتبیٰ پر الزام لگایا کہ انھوں نے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج ملیشیا کے عناصر کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں مداخلت کی اور یہ عناصر احمدی نژاد کی جیت میں مدد کے لیے مذہبی گروہوں میں پیسے تقسیم کرتے تھے۔

چار سال بعد، ایک بار پھر مجتبیٰ پر یہی الزام لگا۔ احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا جسے ’گرین موومنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ کچھ مظاہرین نے اس خیال کی مخالفت میں نعرے لگائے کہ مجتبیٰ اپنے والد کی جگہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ بن سکتے ہیں۔

اس وقت کے نائب وزیر داخلہ مصطفیٰ تاج زادہ نے اس نتیجے کو ’انتخابی بغاوت‘ قرار دیا۔ انھیں سات سال قید کی سزا دی گئی اور اس فیصلے کو مصطفیٰ نے ’مجتبیٰ خامنہ ای کی براہ راست خواہش‘ قرار دیا تھا۔

دو اصلاح پسند امیدوار، میر حسین موسوی اور مہدی کروبی، کو سنہ 2009 کے انتخابات کے بعد گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ ایرانی ذرائع نے بی بی سی نیوز فارسی کو بتایا کہ فروری 2012 میں، مجتبیٰ ان سے ملے تھے اور انھوں نے موسوی سے احتجاج ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بہت سے لوگ توقع کرتے ہیں کہ اگر مجتبیٰ جانشین بنتے تو وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنے والد، والدہ اور بیوی کو امریکی، اسرائیلی حملوں میں کھو دیا ہو، اس کے مغربی دباؤ کے سامنے جھکنے کا امکان کم ہو گا۔

لیکن انھیں اسلامی جمہوریہ کی بقا کو یقینی بنانے اور عوام کو اس بات پر قائل کرنے کا مشکل کام درپیش ہو گا کہ وہ ملک کو سیاسی اور معاشی تباہی سے نکالنے کے لیے صحیح شخص ہیں۔

ان کا قیادت کا ریکارڈ زیادہ تر آزمودہ نہیں اور یہ تاثر کہ جمہوریہ ایران ایک موروثی نظام میں تبدیل ہو رہی ہے، عوامی بےچینی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

اگر مجتبیٰ رہبرِ اعلیٰ منتخب ہو گئے تو وہ ایک نمایاں شخصیت بن جائیں گے، جیسا کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو ’ختم کرنا ان کا واضح ہدف ہو گا۔‘