ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ اور گرفتار پاکستانی شہری کی عدالت میں پیشی: ’میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا‘

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کے خلاف نیو یارک میں مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا ہے جس دوران انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ کام کر رہے تھے اور یہ کہ اس منصوبے میں کرائے کے قاتلوں کی بھرتی بھی شامل تھی۔

وہ دہشت گردی اور رقم دے کر قتل کرانے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدھ کے روز آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر قتل کی سازش رچانے میں ان کی مرضی شامل نہیں تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کا الزام ہے کہ آصف مرچنٹ امریکہ میں کرائے کے قاتل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ان کا منصوبہ تھا کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ اور دیگر امریکی سیاست دانوں کو ہدف بنایا جائے۔

یاد رہے کہ ایران کے بین الاقوامی آپریشنز کے سربراہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ ایرانی حکام بارہا ان کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔

آصف مرچنٹ پر الزام ہے کہ جون 2024 میں انھوں نے ایک اجرتی قاتل سے ملاقات کی اور قتل کرنے کے لیے انھیں پانچ ہزار ڈالرز پیشگی ادا کیے، تاہم جنھیں آصف مرچنٹ اجرتی قاتل سمجھ رہے تھے، وہ ایف بی آئی کے انڈر کور ایجنٹ تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق آصف مرچنٹ مبینہ طور پر قتل کے منصوبے کی تکمیل سے قبل 12 جولائی 2024 کو امریکہ چھوڑنا چاہتے تھے اور انھوں نے اس سلسلے میں پرواز کی بُکنگ بھی کر رکھی تھی، لیکن اسی روز امریکی حکام نے انھیں گرفتار کر لیا اور وہ ملک چھوڑ نہ سکے۔

’منصوبہ اپنی مرضی نہیں دباؤ کی وجہ سے بنایا‘

خبر رساں ادارے اے پی نیوز کے مطابق بروکلین کی فیڈرل کورٹ میں معاون امریکی اٹارنی نینا گپتا نے آصف مرچنٹ سے جرح کرتے ہوئے پوچھا: ’آپ امریکہ اس لیے آئے تھے کہ مافیا کے لوگوں کو کسی سیاستدان کو قتل کرنے کے لیے بھرتی کر سکیں، درست؟‘

مرچنٹ کا جواب تھا: ’یہ بات درست ہے۔‘

تاہم عدالتی کارروائی کے دوران آصف مرچنٹ نے بتایا کہ ’میں یہ سب اپنی مرضی سے نہیں کر رہا تھا۔‘ ان کے مطابق وہ تہران میں اپنے خاندان کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

استغاثہ نے یہ دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ آصف مرچنٹ دباؤ یا زبردستی کا شکار تھے۔

اے پی نیوز کے مطابق آصف مرچنٹ نے کہا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ کسی کے قتل ہونے سے پہلے ہی وہ گرفتار کر لیے جائیں گے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ امریکی حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے اور انھیں امید تھی کہ اس سے انھیں گرین کارڈ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

آصف مرچنٹ نے کہا کہ انھیں کسی خاص فرد کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کے ایرانی رابطہ کار نے تہران میں ہونے والی بات چیت میں تین افراد کے نام لیے تھے۔ ان میں ٹرمپ کے علاوہ جو بائیڈن کا نام تھا، جو اُس وقت امریکہ کے صدر تھے، اور نکی ہیلی کا نام بھی تھا، جنھوں نے سنہ 2024 کے صدارتی الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کی کوشش کی تھی اور ناکام رہی تھیں۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی عدالتی کارروائی کو رپورٹ کیا ہے۔

کارروائی کے دوران آصف مرچنٹ نے خود کو ایک کامیاب کاروباری شخص بتایا اور کہا کہ بینکاری کے کیریئر کے بعد انھوں نے کیلا برآمد کرنے، گاڑیاں فروخت کرنے اور گلاس فائبر انسولیشن درآمد کرنے کا کام کیا، اور بعد میں اپنے انکل کے گارمنٹس کے کاروبار میں شامل ہوئے۔

آصف مرچنٹ نے بتایا کہ ان کی دو بیویاں اور پانچ بچے ہیں، ایک بیوی پاکستانی اور دوسری ایرانی ہیں جن سے وہ کربلا، عراق کے مذہبی سفر کے دوران ملے۔

’میں نے ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے کی ہامی بھری‘

اپنے بیان کے مطابق، آصف مرچنٹ نے اپنے کزن حسنین کے ذریعے سنہ 2022 کے آخر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار مہرداد یوسف کے لیے کام شروع کیا۔

آصف مرچنٹ نے بتایا: ’انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ایرانی حکومت کے لیے کچھ کام کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں، میں نے ہامی بھر لی۔‘

مرچنٹ کے مطابق، ابتدا میں ان کا کام ہنڈی کے غیر رسمی اور غیر قانونی نظام کے ذریعے ایران تک رقم پہنچانا تھا لیکن بعد میں ان کی درمیان ہونے والی بات چیت زیادہ خطرناک رُخ اختیار کرتی گئی۔

آصف مرچنٹ نے کہا کہ جب انھوں نے امریکہ میں اپنا گارمنٹس کا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو یوسف نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ امریکہ جائیں اور ایران کے لیے ہمدردی رکھنے والے افراد کو بھرتی کریں۔ انھوں نے آصف مرچنٹ کو نگرانی سے بچنے کی تربیت بھی دی، جیسے ہوائی اڈوں پر کیمرے تلاش کرنا۔

مارچ 2024 میں آصف مرچنٹ ایران جا کر یوسف سے ملے، جہاں انھیں ہدایات دی گئیں کہ وہ جرائم پیشہ افراد، ترجیحاً مافیا ممبران کو تلاش کریں۔ ان کو چار نکاتی منصوبہ بنانے کا کہا گیا: احتجاج کا اہتمام، دستاویزات کی چوری، منی لانڈرنگ، اور ’شاید کسی کو قتل کروانا‘۔

آصف مرچنٹ کے مطابق انھیں فکر تھی کہ ایران میں ان کی بیوی اور لے پالک بیٹی کا کیا ہو گا، لہذا وہ اس منصوبے میں شامل ہو گئے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ محض رسمی کارروائیاں کر رہے تھے، جیسے ٹرمپ کی ریلیوں کے مقامات کی انٹرنیٹ پر تلاش اور یوسف کو رپورٹ بھیجنا۔ انھیں یقین تھا کہ جلد یا بدیر اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔

اے پی نیوز کے مطابق آصف مرچنٹ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اپنی رپورٹس بھی پاسداران انقلاب کے رابطہ کار کو بھیجتے رہے اور جعلی مشاہدات بھی۔ یہ سب وہ ایک کتاب کے اندر چھپا کر مختلف افراد کے ذریعے ایران بھجواتے تھے۔

آصف مرچنٹ نے کہا کہ ان کے پاس ’اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا‘ کیوں کہ ایرانی ہینڈلر نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ان کے ایرانی رشتہ داروں کو بھی جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ رشتہ دار کہاں رہتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق مرچنٹ کے وکلا اور وائٹ ہاؤس سے موقف دینے کی درخواست کی گئی لیکن اس کا جواب نہیں آیا۔

آصف مرچنٹ کے خلاف مقدمے کا آغاز گذشتہ ہفتے ہوا، ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کرنے کا حکم دینے سے چند دن پہلے۔

امریکہ اسرائیل مشترکہ آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس مبینہ ایرانی منصوبے کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ 'میں نے انھیں نشانہ بنا لیا، اس سے پہلے کہ وہ مجھے نشانہ بناتے۔'

تہران ان الزامات کا انکار کرتا ہے کہ اس نے ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کو نشانہ بنایا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس عدالتی سماعت کے دوران آصف مرچنٹ کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ وہ ’کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

پراسیکیوٹر نے مرچنٹ سے پوچھا کہ کیا انھیں معلوم تھا کہ وہ ایک کالعدم دہشتگرد گروہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو اس پر انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔

انھوں نے مرچنٹ سے پوچھا کہ کیا انھیں معلوم تھا کہ جب وہ ہوٹل روم میں ایک رومال پر منصوبہ لکھ رہے تھے تو انھیں ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔

اس پر انھوں نے نفی میں جواب دیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ تعاون کر رہے تھے اور یہ کہ وہ چاپتے تھے کہ ایران میں موجود ان کا خاندان امریکہ آ جائے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی امریکی حکام کے ساتھ بات چیت ختم ہو گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر انھیں لگا کہ میں کوئی بڑا جاسوس ہوں۔‘

آصف مرچنٹ کون ہیں اور امریکہ میں کیسے گرفتار ہوئے؟

امریکی محکمہ انصاف کی دستاویزات کے مطابق آصف مرچنٹ کا پورا نام آصف رضا مرچنٹ ہے اور وہ پاکستانی شہری ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اپریل 2024 کے دوران آصف مرچنٹ نے ایران میں کچھ وقت گزارا اور اس کے بعد وہ پاکستان سے امریکہ آئے۔

آصف مرچنٹ نے مبینہ طور پر جس شخص سے رابطہ کیا اس نے نیو یارک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی اطلاع دی تھی۔

عدالتی دستاویزات میں آصف مرچنٹ پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے جون کے اوائل میں اس مخبر سے نیو یارک میں ملاقات کی جس دوران انھوں نے اس شخص کو قتل کے منصوبے کی تفصیلات بتائی تھیں۔

دستاویزات کے مطابق آصف مرچنٹ نے مبینہ طور پر اپنے مقاصد کے بارے میں بات کرتے ہوئے 'ہاتھ سے بندوق کا نشان' بھی بنایا۔

مرچنٹ پر الزام ہے کہ اس منصوبے کے تحت ہدف کے گھر سے دستاویزات چُرائی جانی تھیں، مظاہرہ کیا جانا تھا اور ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کا قتل کروایا جانا تھا۔

دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا کہ آصف مرچنٹ نے اس شخص سے کہا کہ ان کی ملاقات اجرتی قاتلوں سے کروائی جائے جس کے بعد جون میں ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹوں سے ان کا رابطہ کروایا گیا، جن کو آصف مرچنٹ نے پانچ ہزار ڈالرز کی رقم پیشگی ادا کی۔