ایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟

    • مصنف, گلوبل جرنلزم ٹیم، بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

برطانیہ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کے سلسلے میں امریکہ کو اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے جس پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ تہران کو اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے کیا حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

روس اور چین دونوں کے ایران کے ساتھ مضبوط سفارتی، تجارتی اور فوجی روابط ہیں۔

لیکن موجودہ تنازع یہ ثابت کر دے گا کہ وہ اپنے اس اتحادی کی مدد کے لیے کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

روس کی زبانی جمع خرچ

بی بی سی نیوز روسی کے سرگئی گوریشکو کہتے ہیں کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں پر ماسکو نے شور تو بہت مچایا ہے لیکن اس کا ردعمل کافی حد تک محدود ہے۔ روس نے ان حملوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے تہران کے ساتھ یکجہتی کا اشارہ دیا ہے تاہم ماسکو نے ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریز کیا ہے جس سے روس کے اس تنازع میں براہ راست شامل ہوئے کا امکان ہو۔

روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کے باوجود، صورت حال ’صریح جارحیت میں تبدیل ہو گئی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ماسکو ایرانی قیادت اور اس ساری کشیدگی سے متاثرہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

روس کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ’بلا اشتعال جارحیت‘ کی مذمت کی ہے اور اسے سیاسی قتل اور خودمختار ریاستوں کے رہنماؤں کا ’شکار‘ قرار دیا ہے۔

اتوار کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ایرانی ہم منصب کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا جس میں اسے ’انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی مذموم خلاف ورزی‘ قرار دیا گیا۔

تاہم اس کے باوجود کریملن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید سے گریز کرتا نظر آرہا ہے اور اب بھی یوکرین کے معاملے پر ثالثی کی کوششوں کے لیے امریکہ کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔

سوموار کے روز ایک سوال پر کہ روس اب واشنگٹن پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہے، پیسکوف کا کہنا تھا کہ روس ’سب سے پہلے صرف خود پر بھروسہ کرتا ہے‘ اور اپنے مفادات کا دفاع یقینی بناتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب آپ روس کے ان مفادات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روس کی ایران کے لیے حمایت بڑی حد تک بیان بازی تک محدود کیوں ہے حالانکہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے تہران ماسکو کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔

ایران روس کو ڈرون سپلائی کر رہا ہے اور ماسکو کو مغربی پابندیوں سے بچنے کے طریقے تیار کرنے میں مدد کر رہا ہے۔

ایران روس کے اس عالمی منظر نامے میں بھی ٹھیک بیٹھتا ہے جس میں طاقت کے محور ایک سے زیادہ ہوں، جہاں ریاستی حقوق انسانی حقوق سے زیادہ اہم ہوتے ہوں، اور حکومتیں ملک کے اندر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ ایسی کسی بھی حکومت کا زوال روس کے اس عالمی منظرنامے کے لیے ایک دھچکا ہوگا۔

لیکن کریملن پہلے ہی یہ ظاہر کر چکا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے لیے زیادہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں چاہے وہ وینزویلا کا معاملہ ہو یا شام کا یا گذشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ۔

روس بہت بری طریقے سے یوکرین جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ سفارتی بیانات اور فوجی ٹینیکل تعاون سے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔

17 جنوری 2025 کو ایران اور روس کے درمیان ہونے والا سٹریٹیجک شراکتداری کا معاہدہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے کچھ ہی کم ہے۔

ماسکو اور تہران نے معلومات کے تبادلے، مشترکہ مشقیں اور ’علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے‘ کا عہد کیا ہے۔ تاہم حملے کی صورت میں انھوں نے ایک دوسرے کا دفاع کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی معمولی ہیں، اور تجارت بھی محض چار سے پانچ ارب ڈالر ہے۔

لیکن دونوں ملکوں کے دوران فوجی اور صنعتی روابط میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فروری میں، فنانشل ٹائمز اخبار کی جانب سے شائع ایک خبر کے مطابق، دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑا معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت روس ایران کو 50 کروڑ یورو مالیت کے وربا مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گا۔

روس اب تک ایران کو یاک-130 تربیتی طیارے، ایم آئی-28 حملہ آور ہیلی کاپٹرز مہیا کر چکا ہے اور تہران کو جلد ہی ایس یو-35 لڑاکا طیارے ملنے کی بھی توقع ہے۔ تاہم روس نے اب تک ایران کو وربا دفاعی سسٹم فراہم نہیں کیا ہے۔

ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے استعمال نے یوکرین جنگ میں روسی افواج کی حکمت عملی کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا۔ لیکن پچھلے سال، ماسکو نے تیزی سے مقامی طور پر کردہ ڈرون کی پیداوار کو بڑھایا، جس سے ایرانی ہتھیاروں پر اس کا انحصار کم ہو گیا۔

ماسکو کے لیے ایران اتنا اہم ہے کہ وہ اسے گرنے نہیں دے سکتا لیکن اتنا بھی اہم نہیں کہ وہ اس کے لیے لڑائی مول لے۔ مستقبل میں یہ صورتحال بدل سکتی ہے لیکن فی الحال روس کی مداخلت محض زبانی جمع خرچ تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

چین جو تہران کی اقتصادی لائف لائن ہے

چین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ تاریخی طور پر بیجنگ دنیا بھر میں حکومت کی تبدیلی کی امریکی حکمت عملی کی مخالفت کرتا آیا ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کے گلوبل چائنا یونٹ کے شان یوان کا کہنا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان مضبوط تعلق کی سب سے بڑی وجہ باہمی فائدہ مند اقتصادی شراکت داری ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور توانائی کا سب سے اہم خریدار ہے۔

ایران پر برسوں سے امریکی پابندیوں کے باوجود، بیجنگ تہران کی اقتصادی لائف لائن بنا ہوا ہے۔ بے نام بحری بیڑوں کی مدد سے چین رعایتی قیمتوں پر ایران سے خام تیل کی ایک بڑی مقدار خریدتا ہے۔

مثال کے طور پر، 2025 میں چین نے ایران کے برآمد شدہ تیل کا 80 فیصد سے زیادہ خریدا۔ اور چینی خریداریوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بدولت ایران نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے بلکہ دفاعی مقاصد کے لیے اخراجات کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔

2021 میں چین اور ایران نے ایک 25 سالہ سٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔ اس معاہدے کے تحت چین نے ایرانی انفراسٹرکچر اور ٹیلی کمیونیکیشن میں اربوں کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

چین کا ’طویل عرصے تک چلنے والا کھیل‘

تاریخی طور پر، ایران-اسرائیل اور ایران-امریکہ تنازع میں چین کا ہمیشہ سے ردِعمل بڑا نپا تلا رہا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب بھی ایران کے حوالے سے کوئی تنازع پیدا ہوا بشمول گذشتہ برس ہونے والی 12 روزہ اسرائیل-ایران جنگ کے دوران، چین نے ہمیشہ ’تحمل‘ کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ’بیرونی مداخلت‘ کا الزام لگاتا آیا جو کہ امریکی پالیسی کی جانب اشارہ ہے۔

ماضی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے تنازعات کے دوران چین نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے یا اسے استعمال کرنے کی دھمکی دے کر چین تہران کی سفارتی ڈھال بنتا آیا ہے اور اس کے خلاف لائی جانے والی قراردادوں کو ناکام بنایا۔ تاہم چین نے کبھی براہ راست فوجی مداخلت کی پیشکش نہیں کی۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی حکمت عملی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں الجھا کر رکھ دیا جائے۔ ساتھ وہ اس بات کا بھی خیال رکھتا ہے کہ اس سارے عمل کے نتیجے میں خطہ مجموعی تباہی کا شکار نہ ہوجائے بصورت دیگر تیل کی عالمی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

تہران میں اگر کوئی مغرب نوز حکومت برسرِ اقتدار آ گئی تو یہ چین کے لیے ایک تباہ کن جغرافیائی سیاسی شکست ہوگی، کیونکہ تہران نہ صرف چین کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ سیاسی طور پر خطے میں امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

ایران برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے، اور وسطی ایشیا، قفقاز اور مشرق وسطیٰ کو جوڑنے والے ایک اہم جغرافیائی کنیکٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔

ایرانی حکومت کے گرنے سے ان کثیرالجہتی میکانزم کی ساکھ کمزور پڑ سکتی ہے جنھیں ماسکو اور بیجنگ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ایک بھرپور جنگ شروع نہیں کرتے اور ایرانی سرزمیں پر اپنے فوجی نہیں بھیجتے تب تک وہاں کے سیاسی اور فوجی ڈھانچے کے خاتمے کا امکان کم ہے۔

بیجنگ اپنا معمول کا ’طویل عرصے کا کھیل‘ کھیلے گا جس کے تحت وہ اس شخص کے ساتھ تعاون جو خامنہ ای کی جگہ لے گا چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ دوسری جانب جبکہ روس اپنے لیے مواقع تلاش کرے گا۔