آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جسپریت بمراہ نے انگلش ارمان خاک کر ڈالے‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو جسپریت بمراہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ بولرز کے قبرستان جیسی پچز پر بھی ہیری بروک جیسوں کی مہارت کا وہ توڑ نکال لاتے ہیں جو شاید ہی کبھی کسی فاسٹ بولر کے ذہن میں آئے۔
بظاہر انڈیا کی ورلڈ کپ فائنل میں رسائی کا سہرا سنجو سیمسن کے سر جاتا ہے مگر یہاں بمراہ کے بنا سیمسن کی کاوش بھی چھوٹی پڑ جاتی۔
ایک تو وانکھیڈے سٹیڈیم کی باؤنڈریز بھی ’ممبئی میں جگہ کہاں ملتی ہے‘ کی عکاس ہیں اور پھر پچ بھی ایسی دمک دار ہے کہ بلے باز کے لیے ہر گیند ہی فری ہٹ کے جیسی ہوتی ہے۔ ایسی پچ پر اگر سنجو سیمسن سا طاقتور بلے باز کریز میں پیچھے ہٹ کر بلا گھمانے لگے تو ’ہارڈ لینتھ‘ اور بے پناہ پیس کی بھد اُڑتے دیر نہیں لگتی۔
جوفرا آرچر کا پلان اپنی پوری رفتار سے آف سٹمپ کے اُوپری کنارے کو نشانہ بنانا تھا مگر جب سیمسن کا پلان واضح ہو گیا تو بھی وہ اُسی عزم پر قائم رہے۔
یہ پلان تب تو مؤثر ہو سکتا تھا اگر سیمسن کریز سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے، لیکن جتنا پیچھے وہ کریز میں ہٹ چکے تھے، وہاں آرچر کو بھی اپنے پلان سے ہٹنے کی ضرورت تھی۔
بطور بلے باز جو بے خوفی ہیری بروک میں نظر آتی ہے، بطور کپتان ابھی وہ اُن کی شخصیت کا خاصہ نہیں بنی۔
جب انڈین اوپنرز انگلش پیسرز کا اعتماد مجروح کر رہے تھے، تب بروک کے پاس بھی کوئی ’پلان بی‘ نہیں تھا۔ انڈین اوپنرز نے جو ’اُودھم‘ مچایا، اس نے انگلش سٹریٹیجی کے بچے کھچے حواس بھی معطل کر چھوڑے۔
جس رفتار سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کھیل کا پانسہ پلٹتا ہے، ایک ایک چال سوچی سمجھی ہونا ضروری ہے۔ جو پلان ڈریسنگ روم میں طے کیے جاتے ہیں، اگر پھیکے پڑنے لگیں تو کپتان کی اپنی سوجھ بوجھ بھی اس قابل ہونی چاہیے کہ اس لمحے کی ضرورت کے تحت اپنے بولر کو کچھ تو سُجھا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گو کہ قائدانہ صلاحیتوں میں سوریا کمار یادیو بھی ہیری بروک سے زیادہ آگے نہیں مگر اُن کی خوش قسمتی ہے کہ اُن کے پاس بمراہ اور پانڈیا جیسے بولر ہیں جو خود ہی ایسا گہرا کرکٹنگ فہم رکھتے ہیں کہ کپتان کے مشوروں کے محتاج نہیں رہتے۔
گو کہ ورلڈ کپ کے ’ناک آؤٹ‘ میچز میں سکور بورڈ پریشر کلیدی کردار ادا کرتا ہے مگر یہاں انگلش بیٹنگ ایسا کوئی دباؤ جھیلنے کو تیار نہیں تھی اور پہلی گیند سے ہی ہدف کے پیچھے بھاگنے کو تیار تھی۔
جب ہیری بروک کریز پر آئے تو گیند جسپریت بمراہ کی طرف اُچھالی گئی۔ بمراہ اس بولنگ اٹیک کے سربراہ ہیں اور اُن کا بنیادی کردار نئی گیند سے تیز رفتار سوئنگ کھوجنا ہے۔ وہ ’سلو ڈلیوری‘ بھی پھینکتے ہیں مگر اس کا استعمال اس قدر محدود رکھتے ہیں کہ بلے باز زیادہ حساب نہیں لگا پاتے۔
یہاں بروک پہلی ہی گیند سے بمراہ کو پریشر میں لانا چاہتے تھے کیونکہ اتنے بڑے ہدف کا تعاقب بولنگ اٹیک کے سربراہ کو دباؤ میں لائے بغیر ممکن بھی نہیں تھا۔ اور پھر حالیہ فارم بھی ان کی تائید میں تھی کہ اگر بٹلر کے بُرے دنوں میں ان کا بلا نہ چلتا تو انگلش ٹیم شاید سپر ایٹ مرحلے سے ہی گھر کو لَوٹ چکی ہوتی۔
امکانات کو ملحوظ رکھا جاتا تو شاید ایک فیصد سے بھی کم امکان تھا کہ بمراہ اپنے سپیل کی پہلی گیند سے ہی رفتار بالکل کھینچ لیں گے۔ بروک نے بھی اسی امکان کے پیشِ نظر چھکے سے ابتدا کرنے کا فیصلہ کیا مگر نہ صرف وہ گیند سست رفتار تھی بلکہ ’کراس سیم‘ کے بل پر مڑ کر عین آخری لمحے اُن کی نظروں سے اُوجھل بھی ہو گئی۔
نتیجے میں بلے کے کنارے سے جو سمت گیند کو ملی، وہ باؤنڈری کا فاصلہ طے کرنے سے پہلے ہی اکشر پٹیل کے زبردست کیچ کا نشانہ بن گئی۔ آدھا میچ گویا اسی وقت انڈیا کی جھولی میں آن گرا۔
لیکن اس سارے منظر کا جیکب بیتھل پر کوئی اثر نہ پڑا اور نہ صرف وہ پورے ارتکاز کے ساتھ اپنے ’زون‘ میں آئے بلکہ اپنی مہارت سے عین آخری اوور تک انڈین شائقین کی سانسیں بھی روکے رکھیں۔ سیمسن ہی کی طرح بیتھل بھی کریز کے اندر سے جم کے کھیلے اور انگلش اننگز کے دوران بارہا انڈین تماشائیوں پر چُپ کی چادر ڈال دی۔
حتمی نتیجے میں اگرچہ جوفرا آرچر کی یلغار نے ایک بار پھر چہچہاتے وانکھیڈے سٹیڈیم پر خاموشی کا حصار تو پھینکا مگر انڈین ٹیم کے لیے یہ فقط بجھتے دیے کی آخری پھڑپھڑاہٹ کی مانند ہی رہا کیونکہ جسپریت بمراہ کچھ اوورز پہلے ہی اس میچ کو تمام کر چکے تھے۔