آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, صدر ٹرمپ مجتبیٰ خامنہ ای کے رہبرِ اعلیٰ بننے پر ’ناخوش‘، امریکی فوج ایران بھیجنے کا فیصلہ نہیں ہوا

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ کرنے کے لیے ایران میں امریکی فوج بھیجنے پر غور کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ: ’ہم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہم ابھی اس کے قریب بھی نہیں ہیں۔‘

خلاصہ

  • ایرانی میڈیا کے مطابق علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ملک کے نئے رہبر اعلیٰ بن چکے ہیں اور ان کی قیادت میں اسرائیل پر نئے میزائل حملے کیے گئے ہیں
  • ترکی کی حدود میں ایرانی میزائل تباہ کر دیا گیا: 'زمینی اور فضائی حدود کے خلاف ہر خطرے پر بلا جھجھک کارروائی کریں گے'
  • اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں
  • بحرین کی توانائی کی سرکاری کمپنی بابکو نے 'غیر معمولی حالات' کے باعث معاہدے معطل کر دیے
  • اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا پورا حق حاصل ہے: سعودی عرب کا ایرانی حملوں پر ردعمل
  • اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائشی علاقے میں ممنوعہ سفید فاسفورس کا استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ
  • جہاں ایک طرف ایران میں 1300 سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں تو وہیں امریکی فوج کے مطابق اب تک اس کے سات فوجی ہلاک ہو چکے ہیں

لائیو کوریج

  1. لبنان کے صدر کی جنگ بندی اور بین الاقوامی فوجی امداد کی اپیل

    لبنان کے صدر جوزاف عون نے مطالبہ کیا ہے کہ ’مکمل جنگ بندی کی جائے اور اسرائیل کی جانب سے لبنان پر زمینی، فضائی اور سمندری حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں۔‘

    اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف وسیع فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں۔

    حزب اللہ لبنان میں قائم ہے اور بعض علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتی ہے، تاہم یہ لبنان کی حکومت کی مخالف ہے۔

    یہ کشیدگی دو مارچ کو اُس وقت بڑھ گئی جب ایران کے حمایت یافتہ اس مسلح گروہ نے ایرانی رہنما علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون داغے۔

    صدر جوازف عون نے اپنے ملک کی فوج کے لیے بین الاقوامی مدد کی درخواست کی ہے تاکہ وہ حزب اللہ کے زیرِ اثر علاقوں کا کنٹرول سنبھال سکے اور گروہ کو غیر مسلح کر سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل اور لبنان کو بین الاقوامی نگرانی میں مذاکرات شروع کرنے چاہیں۔‘

  2. برطانیہ کے جیٹ طیارے متحدہ عرب امارات میں مشن انجام دے رہے ہیں: برطانوی وزیرِ دفاع کی تصدیق

    برطانیہ کے ڈیفنس سیکریٹری ہیلی نے ایرانی حکومت کو ’ایک تباہ کن قوت، جس نے مظاہرین کو قتل کیا‘ قرار دیتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری عزائم ترک کرے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرے۔

    ہیلی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا ردِعمل ہمیشہ فوجی مشورے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ برطانیہ اس وقت متحدہ عرب امارات کی معاونت کے لیے دفاعی فضائی مشنز انجام دے رہا ہے، اور برطانوی فورسز اب تک دو ڈرون مار گرا چکی ہیں جن میں سے ایک اردن کے اوپرجبکہ دوسرا بحرین کی جانب بڑھ رہا تھا۔

    ہیلی کے مطابق تیسرا وائلڈ کیٹ ہیلی کاپٹر بھی قبرص پہنچ چکا ہے اور رائل ایئر فورس کے آپریشن ماہرین کو خطے کے پانچ سے زائد ممالک میں بھیج دیا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ کے قطر میں آٹھ جنگی طیارے موجود ہیں اور قبرص میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ برطانوی جیٹ طیارے تعینات ہیں۔

  3. صدر ٹرمپ مجتبیٰ خامنہ ای کے رہبرِ اعلیٰ بننے پر ’ناخوش‘، امریکی فوج ایران بھیجنے کا فیصلہ نہیں ہوا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ وہ ایران میں امریکی فوج بھیجنے کے فیصلہ لینے سے ابھی ’بہت دور‘ ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ کرنے کے لیے ایران میں امریکی فوج بھیجنے پر غور کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ: ’ہم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہم ابھی اس کے قریب بھی نہیں ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے اس انٹرویو کے دوران ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ‌ای کے ایران کے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے پر ’خوش نہیں‘ ہیں۔

  4. اسرائیل کے لبنان میں حزب اللہ سے منسلک مالیاتی ادارے پر حملے

    اسرائیل نہ صرف اپنے فضائی حملوں کی شدت بلکہ ان کے دائرہ کار کو بھی بڑھا رہا ہے۔ آج اس نے بیروت میں القرض الحسن مالیاتی ادارے کی کئی شاخوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    مقامی وقت کے مطابق دوپہر تک القرض الحسن کی تین شاخوں کو نشانہ بنایا جا چکا تھا۔ اس ادارے پر الزام ہے کہ یہ براہِ راست حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ بینک پورے لبنان میں مختلف کاروباروں اور نجی صارفین کو مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کی شاخیں پورے شہر میں قائم ہیں۔

    ہم جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے زیرِ کنٹرول ضلع ضاحیہ سے گزر رہے تھے، جب ایک حملے میں ایک عمارت تباہ پو گئی۔ وہ اب بھی جل رہی تھی اور اس کے قریب واقع کئی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

    یہ شہر کا وہ حصہ ہے جسے اسرائیل نے فضائی حملوں میں بارہا نشانہ بنایا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں شہر میں جن اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان میں سے کچھ ضاحیہ کی حدود سے باہر ہیں جہاں سے اسرائیل نے تمام شہریوں کو نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

    ان مقامات میں مالیاتی ادارے کی کچھ شاخیں اور ساحل پر واقع ایک ہوٹل بھی شامل ہے، جہاں اتوار کو ایران سے مبینہ تعلقات رکھنے والے چار افراد ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

  5. جرمن چانسلر کا ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا دفاع, بیتھنی بیل، بی بی سی نیوز جرمنی

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران میں حکومت کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جتنی جلدی ملاّ حکومت ختم ہوگی اتنی ہی جلد یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔‘

    جرمن چانسلر نے الزام عائد کیا کہ: ’ایران بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز ہے اور اس مرکز کو بند ہونا چاہیے اور امریکی اور اسرائیلی اپنے طریقے سے یہی کر رہے ہیں۔‘

    وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی پر اس جنگ کے ’اثرات‘ پڑ سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ’توانائی کی پالیسی میں اپنی خود مختاری بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔‘

  6. امریکہ نے سعودی عرب میں ہلاک ہونے والے فوجی اہلکار کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نے سعودی عرب میں ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکار کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق کینٹکی سے تعلق رکھنے والے سارجنٹ بنجمن پیننگٹن یکم مارچ کو سعودی عرب کی پرنس سلطان ایئربیس پر حملے میں زخمی ہوئے تھے اور اتوار کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

    ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اب تک امریکہ کے ساتھ فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

  7. ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل داغے، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مزید میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

    فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں اور عوام کو پناہ گاہوں میں جانے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ فوج ان میزائلوں کو مار گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

  8. قطر میں دھماکے کی آواز، ’میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا‘: وزارتِ دفاع

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ مسلح افواج نے ملک کو نشانہ بنانے والے میزائل حملے کو کامیابی سے روک دیا۔

  9. امریکی بمبار طیارے گلوچسٹر شائر کے آر اے ایف بیس پہنچ گئے، یہ طیارے کن خصوصیات کے حامل ہیں؟, ڈنکن کینیڈی، آر اے ایف ایئربیس پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار

    گزشتہ 72 گھنٹوں میں گلوچسٹر شائر کے آر اے ایف فیرفورڈ بیس پر فضائی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں امریکہ نے اپنے بھاری بھرکم بمبار طیارے تعینات کیے ہیں۔

    آج صبح تین بی-52 بمبار طیارے یہاں اترے۔ موجودہ تنازع کے دوران یہ پہلی بار ہے کہ بی-52 طیارے برطانیہ میں دیکھے گئے ہیں۔ یہ پرانے، سب سونک جنگی طیارے امریکی فضائیہ کے بنیادی ہتھیار ہیں، جو 1950 کی دہائی میں سروس میں آئے اور ویتنام سے افغانستان تک مختلف جنگوں میں استعمال ہوئے۔

    کچھ بی-52 طیارے امریکی سٹریٹجک کمانڈ کا حصہ ہیں یعنی یہ جوہری ہتھیار لے جا سکتے ہیں۔ تاہم انھیں روایتی فضائی حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    جمعے سے اب تک یہاں چار بی-1 بمبار بھی اترے ہیں۔ یہ سپرسونک طیارے طویل فاصلے تک پرواز کر سکتے ہیں اور 24 کروز میزائل تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    فیرفورڈ کا رن وے 10,000 فٹ (3,000 میٹر) لمبا ہے، جو ان دیوہیکل طیاروں کے لیے موزوں ہے۔ ان کی آمد نے درجنوں صحافیوں اور مقامی افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جو امریکی فضائی طاقت کی جھلک دیکھنے کے لیے بیس کے گرد جمع ہو گئے۔

  10. قومی فریضہ سرانجام دیتے ہوئے مسلح افواج کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے: متحدہ عرب امارات

    وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج کے دو اہلکار آج ریاست میں اپنے قومی فریضے کی ادائیگی کے دوران فنی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر گرنے سے ہلاک ہو گئے۔

    وزارتِ دفاع نے مرنے والے اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

  11. ترک فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائل کو تباہ کر دیا گیا: وزارت دفاع

    ترکی کا کہنا ہے کہ نیٹو فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغا گیا دوسرا بیلسٹک میزائل مار گرایا، جو ترک فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی خطرے کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

    وزارتِ قومی دفاع نے اعلان کیا کہ ایران سے داغا گیا اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک میزائل کو نیٹو افواج نے مشرقی بحیرہ روم میں تباہ کیا۔ وزارت نے کہا کہ میزائل کے ٹکڑے غازیانتپ کے خالی کھیتوں میں گرے اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے کہا کہ ایک بار پھر ترکی کی جانب بڑھنے والے میزائل کو روک لیا گیا۔ نیٹو نے کہا ہے کہ وہ تمام اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

    یہ گذشتہ ہفتے کے دوران دوسرا ایرانی بیلسٹک میزائل ہے جس نے ترکی کے جنوب کو نشانہ بنایا۔ ترکی، جو نیٹو کا رکن اور ایران کا پڑوسی ہے، نے سنیچر کے روز ایران کو دوبارہ حملے سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی، لیکن اس نے اتحادیوں سے مزید تحفظ کے لیے باضابطہ درخواست دینے کا عندیہ نہیں دیا۔

    ترک وزارتِ دفاع نے کہا کہ ’ہم ایک بار پھر زور دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرزمین اور فضائی حدود پر کسی بھی خطرے کے خلاف تمام ضروری اقدامات بلا جھجک اور فیصلہ کن انداز میں کیے جائیں گے۔‘

    وزارت نے مزید بتایا کہ کچھ گولہ بارود کے ٹکڑے جنوب مشرقی صوبے غازی عینتاب میں گرے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    یہ واضح نہیں کہ میزائل کہاں جا رہا تھا، اسے مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو دفاعی نظام نے روک لیا۔

    امریکی فضائیہ جنوبی ترکی کے انجرلیک بیس پر موجود ہے، جبکہ شمال مشرقی صوبہ ملاتیا میں نیٹو کا ریڈار بیس ہے جو اتحادیوں کے لیے اہم دفاع فراہم کرتا ہے۔ انقرہ نے کہا کہ میزائل کے ٹکڑے غازی عینتاب کے خالی کھیتوں میں گرے۔

    ترک صدر طیب اردوان کے مواصلاتی ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے کہا کہ انقرہ تمام فریقوں، خصوصاً ایران، کو سختی سے خبردار کر رہا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کے استحکام اور شہریوں کو خطرے میں ڈالیں۔

    انقرہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر کیے گئے فضائی حملوں میں انجرلیک بیس استعمال نہیں کیا، جس کے جواب میں تہران نے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

    ایران نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے بار بار کہا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے اور ترکی کو براہِ راست نشانہ نہیں بنا رہا۔

    ترکی، جو فضائی جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوشش کر رہا تھا، نے کہا ہے کہ فی الحال اس کا نیٹو کے آرٹیکل 4 کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جس کے تحت کسی رکن ملک کو خطرہ لاحق ہو تو اتحادی مشاورت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

    یہ قدم آگے چل کر آرٹیکل 5 کے نفاذ کی طرف لے جا سکتا ہے، جس کے تحت نیٹو کو اپنے کسی رکن ملک کے دفاع کے لیے متحرک ہونا پڑتا ہے۔

  12. قطر نے ایران کے 17 بیلسٹک میزائل اور چھ ڈرون مار گرائے

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکے کی آواز سننے کی اطلاع پہلے دی گئی تھی۔

    اب قطر کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے 17 بیلسٹک میزائل اور چھ ڈرون حملے کیے گئے، جنھیں قطر کی مسلح افواج نے کامیابی سے روک دیا۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق تمام حملے ناکام بنا دیے گئے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  13. ایرانی رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف ریڈ زون میں احتجاج کرنے والے 42 مظاہرین کو قید, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف ریڈ زون میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والے 42 مظاہرین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا ہے۔

    پیر کے روز 48 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے گرفتار ہونے والے ملزمان سے آہنی راڈ اور دیگر سامان کی برآمدگی کے لیے چار روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جو مسترد کردی گئی۔

    انسداددہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے والے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں بھی دائر کرد ی گئی ہیں جس پر عدالت نے پراسیکوشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔

    تھانہ سیکرٹیریٹ اور تھانہ آبپارہ میں ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایک اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ضمانت کی ان درخواستوں پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پراسیکوشن کو نوٹسز جاری کر رہی ہے تاکہ اگلی تاریخ میں دلائل دیے جائیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ ان مقدمات کا ریکارڈ بروقت عدالت میں پیش کیا جائے۔

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو ایران کے رہبر اعلیٰ کی ہلاکت کے خلاف اسلام آباد کے علاقے ریڈ زون میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

    زخمی ہونے والوں میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ کی ان کے گھر جا کر عیادت بھی کی تھی۔

  14. امریکی حملے سے بچانے کے لیے ایرانی جہاز کو انڈیا نے پناہ دے دی تھی: حکام, ابھشیک دے، بی بی سی نیوز

    ایرانی جنگی جہاز ایرس دینا کو انڈیا نے لنگر انداز ہونے کی اجازت دی تھی، تین دن بعد اسے امریکی آبدوز نے تارپیڈو سے نشانہ بنایا۔

    انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ایران نے 28 فروری کو اپنے تین جہازوں کو انڈین بندرگاہوں پر لنگر انداز کرنے کی اجازت مانگی تھی، اسی دن امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، اور انڈیا نے یہ اجازت یکم مارچ کو دی۔

    جہازوں کی یکم سے چار مارچ تک کی نقل و حرکت واضح نہیں ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ صرف ایک جہاز انڈیا کیوں پہنچا۔

    چار مارچ کو ایرس دینا سری لنکا کے جنوبی ساحل سے 20 ناٹیکل میل دور بین الاقوامی پانیوں میں امریکی آبدوز کے تارپیڈو حملے میں ڈوب گیا، جس میں کم از کم 87 ملاح ہلاک ہوئے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر پہلا حملہ تھا جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ شروع کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی بحریہ کو تباہ کرنا اس جنگ کا ایک مقصد ہے۔

    ایرانی جہاز ایرس دینا، ایرس بوشہر اور ایرس لاوان نے 15 سے 25 فروری تک انڈیا کے شہر وشاکھا پٹنم میں ہونے والی ایک فوجی مشق میں حصہ لیا تھا۔ وہ 25 فروری کو انڈین پانیوں سے نکل گئے تھے۔

    جے شنکر نے پارلیمان کو بتایا کہ ’ایران نے 28 فروری کو تین جہازوں کے لیے اجازت مانگی تھی۔ یہ اجازت یکم مارچ کو دی گئی۔ ایرس لاوان نے چار مارچ کو کوچی میں لنگر انداز ہوا۔ عملہ اس وقت انڈین بحریہ کی سہولتوں میں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ درست فیصلہ تھا۔‘

    بعد ازاں سری لنکا نے بھی کہا کہ اس نے پانچ مارچ کو ایرس بوشہر کو پناہ دی، جب اس کے انجن میں خرابی پیدا ہوئی۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس حملے کو امریکہ کی عسکری طاقت کی مثال قرار دیا اور کہا کہ ’یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہے کہ امریکی آبدوز نے دشمن جہاز کو تارپیڈو سے ڈبویا۔‘

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ نے ’ایران کے ساحل سے 2000 میل دور سمندر میں ایک ظلم کیا‘ اور جہاز کو ’بین الاقوامی پانیوں میں بغیر کسی انتباہ کے نشانہ بنایا۔‘

    اب تک ایران کے تقریباً 20 بحری جہاز امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔

  15. فضائی دفاعی فورسز نے 12 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ آج ملک پر 15 میزائل اور 18 ڈرون حملے ہوئے۔ وزارت دفاع کے مطابق 15 بیلسٹک میزائلوں میں سے 12 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ تین سمندر میں جا گرے۔

    حکام کے مطابق 18 ڈرونز کا بھی سراغ لگایا گیا، جن میں سے 17 کو روک لیا گیا اور ایک متحد عرب امارات کی حدود میں گر کر تباہ ہوا۔

    وزارت کے مطابق ایران کے حملوں کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 253 بیلسٹک میزائل، آٹھ کروز میزائل اور 1,440 ڈرونز کا سراغ لگایا گیا ہے۔ ان میں سے دو میزائل اور 81 ڈرونز متحدہ عرب امارات میں گرے، باقی کو روک لیا گیا یا وہ سمندر میں جا گرے۔

    ان حملوں کے نتیجے میں اب تک چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا، جبکہ 117 افراد معمولی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جن میں یو اے ای، مصر، سوڈان، ایتھوپیا، فلپائن، پاکستان، ایران، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، آذربائیجان، یمن، یوگنڈا، اریٹیریا، لبنان، افغانستان، بحرین، کوموروس، ترکی، عراق، نیپال، نائیجیریا، عمان، اردن اور فلسطین شامل ہیں۔

    اس سے قبل ابوظہبی حکام نے بتایا تھا کہ ایرانی حملوں کو روکنے کے دوران دو افراد زخمی ہوئے۔

    وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور ریاست کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کوشش کا سختی سے مقابلہ کرے گی۔

  16. تیل کی تنصیبات پر بمباری کے نتیجے میں کیمیائی آلودگی پیدا ہو رہی ہے جو زہریلے حالات کا باعث بن سکتی ہے, ایسمے سٹالرڈ، نامہ نگار برائے ماحولیات و سائنس

    ایران میں فضائی حملوں کے فوری خطرات کے ساتھ ساتھ شہریوں کو اب صحت کے سنگین خدشات لاحق ہیں، کیونکہ تباہ شدہ تیل کے ڈھانچے سے آلودگی خارج ہو رہی ہے۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں تیل کے ڈپو، ریفائنریاں اور فیلڈز کو نقصان پہنچا ہے۔

    تہران میں ایک تیل ڈپو پر حملے کے بعد گھنے سیاہ دھوئیں کے بادل شہر پر چھا گئے۔ یہ دھواں اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ تیل مکمل طور پر نہیں جلتا، یعنی آکسیجن کی کمی ہوتی ہے۔ نتیجتاً کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کے بجائے خطرناک مادے خارج ہوتے ہیں، جیسے کاربن مونو آکسائیڈ، سیاہ ذرات (سوٹ)، اور بعض ایندھن سے سلفر ڈائی آکسائیڈ و ٹرائی آکسائیڈ۔

    یہ تمام مادے انسانوں کے لیے زہریلے ہیں، جلد، آنکھ اور پھیپھڑوں میں جلن پیدا کرتے ہیں، اور طویل عرصے تک نمائش کینسر کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچے خاص طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ زمین کے قریب ہوتے ہیں جہاں یہ ذرات بیٹھتے ہیں اور ان کی سانس کی نالیاں چھوٹی ہوتی ہیں۔

    اس کے علاوہ خطرہ ہے کہ تیل اور بھاری دھاتیں اردگرد کی مٹی اور پانی میں رس کر جائیں، جو ماحول اور انسانوں کے لیے طویل مدتی خطرات پیدا کرے گا۔

  17. بیروت میں اسرائیلی حملوں کے بعد عمارتیں منہدم، گاڑیاں جل کر تباہ

    پیر کی صبح بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد گھنے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے شہریوں کو انخلا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فوج ’القرَض الحسن ایسوسی ایشن کی دہشت گردی سے متعلقہ تنصیبات کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔‘

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے، تاہم تنظیم اس الزام کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ صرف عام لبنانی شہریوں کو چھوٹے، سود سے پاک قرضے فراہم کرتی ہے۔

    لبنان کے وزیرِ صحت راکان نصرالدین کے مطابق گذشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں 394 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  18. اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے تین علاقوں پر حملے کیے

    اسرائیلی فضائیہ کے مطابق ایران کے مختلف حصوں پر بیک وقت فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں تہران، اصفہان اور جنوبی ایران شامل ہیں۔

  19. روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ایران کے نئے رہبراعلیٰ مجتبی خامنہ ای کو مبارکباد

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی ہے اور تہران کے لیے ماسکو کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    پوتن نے کریملن کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ’ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر آپ کی تقرری پر میری دلی مبارکباد قبول کیجیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ روس ایران کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کو دہراتا ہے اور ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہے گا۔

    پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اس وقت مسلح جارحیت کا سامنا کر رہا ہے اور اس منصب پر آپ کے اقدامات میں غیر معمولی حوصلے اور لگن کی ضرورت ہوگی۔ انھوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو عزت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ایرانی عوام کو اس کڑے امتحان میں متحد کریں گے۔

  20. پڑوسی ممالک کے رہائشی علاقوں سے ایران پر میزائل داغے جا رہے ہیں: تہران

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے علاقائی ممالک پر ایران کے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک کے رہائشی علاقوں سے ایران پر میزائل داغے گئے ہیں۔

    ایکس نیٹ پر اپنی پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے ان لوگوں کو مخاطب کیا جو ’خطے میں امریکی فوجی اڈوں/اثاثوں پر (ایران کے) دفاعی حملوں کی منطق کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔‘ انھوں نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر ایکس نیٹ پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی۔

    اس ویڈیو میں ایک عمارت کے پیچھے ایک کھلے علاقے سے دو پراجیکٹائل کو فائر ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ویڈیو ریکارڈنگ کا صحیح مقام اور وقت معلوم نہیں ہے اور نہ ہی اسماعیل بقائی نے کوئی وضاحت فراہم کی ہے۔

    اسماعیل بقائی نے ایکس نیٹ ورک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران پر ہمسایہ ممالک کے رہائشی علاقوں سے میزائل داغے جاتے ہیں، اور امریکی لڑاکا طیارے ایران پر حملہ کرنے کے لیے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہیں، اور یہ سب علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘

    ایران کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی جنگ شروع ہونے سے پہلے خلیج فارس کے ممالک نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔