ترکی کا کہنا ہے کہ نیٹو فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغا گیا دوسرا بیلسٹک میزائل مار گرایا، جو ترک فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی خطرے کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزارتِ قومی دفاع نے اعلان کیا کہ ایران سے داغا گیا اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک میزائل کو نیٹو افواج نے مشرقی بحیرہ روم میں تباہ کیا۔ وزارت نے کہا کہ میزائل کے ٹکڑے غازیانتپ کے خالی کھیتوں میں گرے اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے کہا کہ ایک بار پھر ترکی کی جانب بڑھنے والے میزائل کو روک لیا گیا۔ نیٹو نے کہا ہے کہ وہ تمام اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
یہ گذشتہ ہفتے کے دوران دوسرا ایرانی بیلسٹک میزائل ہے جس نے ترکی کے جنوب کو نشانہ بنایا۔ ترکی، جو نیٹو کا رکن اور ایران کا پڑوسی ہے، نے سنیچر کے روز ایران کو دوبارہ حملے سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی، لیکن اس نے اتحادیوں سے مزید تحفظ کے لیے باضابطہ درخواست دینے کا عندیہ نہیں دیا۔
ترک وزارتِ دفاع نے کہا کہ ’ہم ایک بار پھر زور دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرزمین اور فضائی حدود پر کسی بھی خطرے کے خلاف تمام ضروری اقدامات بلا جھجک اور فیصلہ کن انداز میں کیے جائیں گے۔‘
وزارت نے مزید بتایا کہ کچھ گولہ بارود کے ٹکڑے جنوب مشرقی صوبے غازی عینتاب میں گرے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ واضح نہیں کہ میزائل کہاں جا رہا تھا، اسے مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو دفاعی نظام نے روک لیا۔
امریکی فضائیہ جنوبی ترکی کے انجرلیک بیس پر موجود ہے، جبکہ شمال مشرقی صوبہ ملاتیا میں نیٹو کا ریڈار بیس ہے جو اتحادیوں کے لیے اہم دفاع فراہم کرتا ہے۔ انقرہ نے کہا کہ میزائل کے ٹکڑے غازی عینتاب کے خالی کھیتوں میں گرے۔
ترک صدر طیب اردوان کے مواصلاتی ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے کہا کہ انقرہ تمام فریقوں، خصوصاً ایران، کو سختی سے خبردار کر رہا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کے استحکام اور شہریوں کو خطرے میں ڈالیں۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر کیے گئے فضائی حملوں میں انجرلیک بیس استعمال نہیں کیا، جس کے جواب میں تہران نے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایران نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے بار بار کہا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے اور ترکی کو براہِ راست نشانہ نہیں بنا رہا۔
ترکی، جو فضائی جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوشش کر رہا تھا، نے کہا ہے کہ فی الحال اس کا نیٹو کے آرٹیکل 4 کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جس کے تحت کسی رکن ملک کو خطرہ لاحق ہو تو اتحادی مشاورت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
یہ قدم آگے چل کر آرٹیکل 5 کے نفاذ کی طرف لے جا سکتا ہے، جس کے تحت نیٹو کو اپنے کسی رکن ملک کے دفاع کے لیے متحرک ہونا پڑتا ہے۔