’اسرائیل سے زیادہ خلیجی ممالک پر میزائل حملے‘: حالیہ جنگ میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور حکمت عملی میں کیا تبدیلی آئی؟

    • مصنف, عبدالرحمان ابو طالب
    • عہدہ, بی بی سی نیوز عربی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

بی بی سی عربی کے جائزے کے مطابق ایران نے گذشتہ سال اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ کے مقابلے اس حالیہ جنگ کے دوران خلیجی خطے کی جانب زیادہ میزائل داغے ہیں۔

سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے 4 مارچ تک خلیجی ملکوں پر داغے گئے میزائلوں کی تعداد 550 سے زیادہ ہے۔

عمان نے اپنی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں کی تعداد نہیں بتائی۔

دوسری جانب واشنگٹن اور اسرائیل نے ایران پر ہزاروں بم گرائے ہیں۔

ایران کی دفاعی صلاحتیوں میں بیلسٹک، کروز اور ہائپر سونک میزائل شامل ہیں اور اس کے پاس ڈرونز بھی ہیں مگر بظاہر اس نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کی حکمت عملی تبدیل کی۔

تو ہمیں ان میزائلوں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ اسرائیل کے خلاف گذشتہ جنگ کے مقابلے اس بار کیا مختلف ہے اور ایران اپنے ہتھیاروں پر کس حد تک انحصار کر سکتا ہے؟

ہمیں ان میزائلوں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

ایران کے پاس کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفینس آف ڈیموکریسیز کے مطابق ایران کے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی رینج 300 سے ایک ہزار کلومیٹر تک ہے۔

خلیجی ممالک سمیت کئی پڑوسی ان میزائلوں کی رینج میں آتے ہیں۔

درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی رینج ایک ہزار سے دو ہزار کلو میٹر ہے اور یہ اسرائیل پہنچ سکتے ہیں۔

ایران کا سب سے اہم ہتھیار بیلسٹک میزائل ہیں جو زیادہ اونچائی تک پہنچ سکتے ہیں اور وہاں سے کمان کی طرز پر اہداف کا تعاقب کر سکتے ہیں۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفینس آف ڈیموکریسیز کے مطابق تہران تباہی مچانے کے لیے اپنے بیلسٹک میزائلوں کو سب سے طاقتور ہتھیار سمجھتا ہے جو کہ اس کی فضائی قوت کا متبادل ہیں۔ پابندیوں کی وجہ سے اسے ہتھیاروں کی روایتی منڈیوں تک رسائی نہیں جس کی وجہ سے اس کی فضائی قوت کمزور ہے۔

کروز اور ہائپر سونک میزائل کم اونچائی پر اڑتے ہیں اور انھیں اہداف تک پہنچنے کے لیے ایئر پاور انجن (جیٹ یا پروپیلر) کی مدد درکار ہوتی ہے۔

ایرانی میزائلوں کے استعمال کی حکمت عملی کیسے تبدیل ہوئی

ایران اس وقت اپنے میزائل اسرائیل اور خلیجی ممالک دونوں کی طرف داغ رہا ہے۔ یہ سابقہ جنگ کے برعکس ہے۔ اس سے قبل تہران نے خلیجی ممالک میں صرف قطر کے العدید اڈے پر حملہ کیا تھا۔

امریکی پالیسی ریسرچ سینٹر امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کے تحت چلنے والے کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ کے مطابق جنگ کے پہلے چار دن میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی تقریباً 36 لہریں برسائیں۔ پہلے دن سب سے زیادہ 20 لہریں داغی گئیں۔ ہر لہر میں اوسطاً دو سے تین میزائل شامل تھے۔

لیکن دوسرے دن سے رجحان بدل گیا۔ روزانہ کی لہریں کم ہو کر دوسرے دن چار جبکہ تیسرے اور چوتھے دن چھ لہریں رہ گئیں۔

اسی دوران اسرائیل کی جانب فائر کی گئی ہر لہر میں میزائلوں کی اوسط تعداد بڑھ کر دوسرے دن 9 سے 30 کے درمیان پہنچ گئی۔

تل ابیب یونیورسٹی سے منسلک انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کا اندازہ ہے کہ 4 مارچ تک جنگ کے آغاز سے ایران نے اسرائیل پر 128 میزائل داغے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح تک ان حملوں میں 10 اسرائیلی ہلاک ہوئے مگر کسی فوجی کو جانی نقصان نہیں پہنچا۔

ایران نے اپنے میزائلوں کی صحیح تعداد ظاہر نہیں کی مگر پاسدارانِ انقلاب کے مطابق 4 مارچ کی دوپہر تک، جو جنگ کا پانچواں دن تھا، امریکہ اور اسرائیل پر میزائلوں کی 17 لہریں فائر کی گئیں۔

اسرائیلی تخمینوں کے مطابق موجودہ اور پچھلی جنگوں کے دوران ایران اپنے تقریباً آدھے میزائل لانچ پلیٹ فارمز کھو چکا۔

کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نکولس کارل کے مطابق اس سے میزائل یونٹس کے درمیان ہم آہنگی کمزور ہوئی اور انھیں روکنا آسان ہوا۔

وہ بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ ’امریکہ اور اسرائیل وہ ٹیمیں نشانہ بنا رہے ہیں جو لانچنگ کر رہی ہوتی ہیں، یا تو فائرنگ کے وقت یا اُس سے پہلے۔‘

اگرچہ یہ کہنا ممکن نہیں کہ کتنے پلیٹ فارم ابھی بھی فعال ہیں تاہم کارل کے مطابق وہ زیادہ نہیں ’جس سے ایران کے ایک وقت میں فائر کیے جانے والے میزائلوں کی تعداد محدود ہوئی۔‘

تاہم ان کے خیال میں اس سے اسرائیل کے لیے ایرانی میزائلوں کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔ البتہ ایران کے لیے ان حملوں کی مؤثر ہم آہنگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

ایران نے خلیجی ممالک پر زیادہ میزائل برسائے

ایران نے اُن اہداف پر حملے بڑھا دیے ہیں جنھیں وہ ’خلیجی ممالک میں امریکی اڈے‘ قرار دیتا ہے۔

بی بی سی نے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حساب لگایا ہے کہ چار دن میں ایران نے خلیجی ممالک پر 551 میزائل فائر کیے۔

یہ تعداد پچھلی جنگ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس وقت ایران نے 12 دن میں اسرائیل پر تقریباً 500 میزائل داغے تھے۔

ان ممالک نے ایرانی حملوں کو اپنی خودمختاری پر ناقابلِ قبول حملہ قرار دیا اور ان کے مطابق ایرانی حملوں میں شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں میں بحرین، کویت اور امارات میں سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر بھی ایک شخص مارا گیا۔ عراق اور شام میں بھی ہلاکتیں ہوئیں۔

خلیجی ممالک نے ابھی تک ایران کے خلاف کوئی عسکری کارروائی نہیں کی بلکہ دفاعی اقدامات اور سفارتی دباؤ پر توجہ دی ہے۔

یہ تبدیلی کیوں آئی؟

نکولس کارل کے مطابق خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے فیصلے نے ایران کو ایسے ہتھیار استعمال کرنے کا موقع دیا ہے جو پچھلی لڑائی میں قابلِ استعمال نہیں تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال جون میں ’ایران صرف وہی ہتھیار استعمال کر رہا تھا جو اسرائیل تک پہنچ سکتا ہے۔ اب وہ کم رینج والے میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے یعنی وہ تمام پلیٹ فارم جو پچھلے سال کارآمد نہیں تھے اب دستیاب ہیں۔‘

ایران شاہد ڈرونز کا استعمال بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس اب بھی کئی فعال نظام موجود ہیں۔

امریکی جنرل ڈین کین کے مطابق جنگ کے پہلے دن کے مقابلے میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں 86 فیصد کمی آئی۔

گذشتہ روز کے بیان کے مطابق سینٹکام کا کہنا تھا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں یہ کمی 23 فیصد رہی۔

ڈرونز پر زیادہ انحصار

بی بی سی کے تجزیے کے مطابق خلیج پر ایران کے حملوں میں میزائل کے مقابلے میں ڈرونز کا استعمال کہیں زیادہ ہے۔ 4 مارچ کی دوپہر تک خلیجی ممالک پر 1493 ڈرونز اور 551 میزائل داغے گئے۔

یہ تعداد ان 1100 ڈرونز سے بھی زیادہ ہے جو ایران نے 12 روزہ جنگ میں اسرائیل پر داغے تھے۔

کارل کے مطابق ایران کی حکمتِ عملی شاید یہ ہے کہ خلیجی ممالک کو دبا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے تاکہ وہ واشنگٹن اور تل ابیب پر دباؤ بڑھائیں۔

امریکی جنرل ڈین کین کے مطابق جنگ کے پہلے دن کے مقابلے میں ایرانی ڈرون حملے 73 فیصد تک کم ہو چکے ہیں۔ یہ ممکن ہے ایران ذخیرہ بچانے کی کوشش کر رہا ہو کیونکہ مسلسل پیداوار برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ایران کتنی دیر تک میزائل برسا سکتا ہے؟

اسرائیل کا تخمینہ ہے کہ جنگ سے پہلے ایران کے پاس تقریباً 2500 بیلسٹک میزائل تھے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کہتے ہیں کہ ایران مہینے میں تقریباً 100 میزائل تیار کرتا ہے۔

ان تخمینوں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

کارل کے مطابق ایران کا ذخیرہ ایک وقت پر خطرناک حد تک کم ہونا شروع ہو جائے گا لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسا کب ہوگا۔

ان کے خیال میں ایران اپنی موجودہ حکمتِ عملی جاری رکھے گا، یعنی خطے میں بڑے پیمانے پر میزائل حملے جاری رہیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایرانی جانتے ہیں کہ ان کے بہت سے میزائل دفاعی نظام روک لے گا لیکن وہ بڑی تعداد میں فائرنگ کر کے حریفوں کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے کو کم کرنا چاہتے ہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے پاس ’لامحدود اسلحہ‘ ہے جبکہ ایران کی وزارتِ دفاع کہتی ہے کہ وہ ’اتنی مدت تک لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی امریکہ نے منصوبہ بندی نہیں کی۔‘

امریکی اسرائیلی حملے

دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملوں کے لیے بنیادی طور پر فضائیہ استعمال کر رہے ہیں جبکہ امریکہ زمین اور سمندر سے بھی میزائل داغ رہا ہے۔

سینٹکام کے مطابق جنگ کے پہلے چار دن میں امریکہ نے 2000 حملے کیے جن میں 2000 سے زیادہ گولے استعمال ہوئے۔

اسرائیل نے 4 مارچ تک 600 فضائی حملوں کیے جس دوران اسرائیلی فضائیہ نے مجموعی طور پر پانچ ہزار بم گرائے۔

ایرانی ہلال احمر کے مطابق ان حملوں میں 1045 شہری ہلاک ہوئے جن میں 175 بچے اور سکول کے عملے کے ارکان شامل ہیں۔ یہ سب جنگ کے پہلے دن مناب کے ایک پرائمری سکول پر میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔

ابھی واضح نہیں کہ اس تعداد میں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار شامل ہیں یا نہیں۔