آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رنجیت سنگھ کی پشاور فتح جس سے افغان درانی حکمرانی کا زوال ہوا اور ہندوستان پر حملے تھمے
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
سنہ 1823 کے مارچ کے مہینے میں موسم بہار کی بارشیں دیر سے ہو رہی تھیں اور دریائے سندھ میں پانی کم تھا۔ چنانچہ مہاراجا رنجیت سنگھ نے دریا کو گاؤں ہُند کے قریب اسی تاریخی گھاٹ سے عبور کرنے کا ارادہ کیا، جہاں سے ان سے پہلے بھی کئی فاتحین گزر چکے تھے۔
اولف کیرو اپنی کتاب ’دی پٹھانز‘ میں بتاتے ہیں کہ سنہ 1818 میں ملتان اور اس سے اگلے سال کشمیر کھو کر، اٹھارویں صدی کے نصف سے حکمران درّانی افغان دریائے سندھ کے مشرق میں اپنی تمام عمل داریوں سے محروم ہو چکے تھے اورلاہور سے حکومت کرتے سکھ حکمران رنجیت سنگھ نے دریا کے افغان کنارے پر ایک مضبوط پڑاؤ قائم کر لیا تھا۔
’اگلے دو برسوں میں رنجیت سنگھ نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی۔ اپنے زیرِ اقتدار علاقوں میں ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی شامل کر لیا اور حسن ابدال کے شمال میں آباد ہزارہ کے قبائل کو بھی زیرِ نگیں کر لیا، جو کشمیر جانے والے راستوں میں سے ایک پر قابض تھے۔‘
درّانی اقتدار کو درپیش اس چیلنج کا جواب دینا ضروری تھا۔
کیرو کے مطابق سنہ 1822میں افغان گورنر عظیم خان بارکزئی مفرور سکھ سردار جے سنگھ اٹاری والا کے ساتھ پشاور آئے تاکہ خیرآباد پر حملہ کر کے رنجیت سنگھ کو دریائے سندھ کے پار دھکیل دیں، مگر اندرونی مشکلات کے باعث کارروائی سے پہلے ہی واپس ہونا پڑا۔ اس پر رنجیت سنگھ نے ان کے بھائی یار محمد خان سے خراج طلب کیا۔
’یار محمد نے مہاراجا کو قیمتی گھوڑوں کا تحفہ دے کر وقتی طور پر ٹال دیا۔ بعد میں رنجیت سنگھ کو خبر ملی کہ عظیم خان اس تحفے پر ناخوش ہو کر پشاور لوٹ رہے ہیں، جبکہ یار محمد ان کے غضب سے بچنے کے لیے سوات میں یوسف زئیوں کے پاس پناہ لے چکے تھے۔‘
اس پر رنجیت سنگھ سنہ 1823 کے مارچ میں پھر سے عظیم خان کے مقابل فوج کش ہوئے۔
کیرو لکھتے ہیں کہ قبائلی جتھے دریائے سندھ کے یوسف زئی کنارے پر جمع ہو کر نعرے لگا کر سکھ گھڑ سواروں کو للکار رہے تھے۔ جواب میں سکھ سپاہی غصے سے بھر گئے اور اپنے گھوڑوں کو دریا میں ڈال دیا۔ وہ آدھا تیرتے اور آدھا پانی میں چلتے ہوئے پار نکل گئے، اگرچہ کئی آدمی اور جانور تیز دھار میں بہہ بھی گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اس کے بعد رنجیت سنگھ نے اپنے مرکزی لشکر کے ساتھ منظم انداز میں پیش قدمی کی۔ انھوں نے کشتیاں جمع کیں اور توپوں کو ہاتھیوں پر لاد کر دریا پار کروایا۔ اس دوران میں یوسف زئی اورخٹک لشکر بھی جمع ہو گئے، جن کی تعداد تقریباً بیس ہزار تھی۔ ان کی قیادت بنیر میں پیر بابا کے خاندان سے تعلق رکھنے والے سید اکبر شاہ کر رہے تھے۔‘
کیرو نے لکھا ہے کہ اُدھر عظیم خان بارکزئی اپنے کابل کے دستوں کے ساتھ پشاور سے مرکزی سڑک کے راستے آگے بڑھ چکے تھے۔ لیکن انھوں نے دریا عبور کرنے کے بجائے تقریباً پانچ کلومیٹرمشرق میں مرکزی سڑک پر اس جگہ اپنا پڑاؤ ڈال لیا جہاں اب نوشہرہ چھاؤنی ہے۔
’اس جنگ کا نام موجودہ نوشہرہ چھاؤنی کے نام پر نہیں رکھا گیا، کیونکہ اس وقت وہاں چھاؤنی موجود نہیں تھی، بلکہ اس کا نام دریائے لنڈائی کے شمالی کنارے پر واقع قدیم گاؤں یا قصبے نَوکھَر سے لیا گیا۔ چونکہ جنگ کی سب سے شدید لڑائی پیر سباق کی پہاڑی کے اردگرد لڑی گئی، اس لیے اسے کبھی کبھی اس نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔‘
الیگزینڈر گارڈنر اپنی کتاب ’سولجر اینڈ ٹریولر: میموائرز آف الیگزینڈر گارڈنر، کرنل آف آرٹلری اِن دی سروس آف مہاراجا رنجیت سنگھ‘ میں لکھتے ہیں کہ شدید حملوں کے باوجود رنجیت سنگھ کی فوج دریائے سندھ عبور کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔‘
’اس کے بعد قبائلی لشکر پیر سباق کی پہاڑی پر واپس چلا گیا جہاں اس نے اپنی قوت مجتمع کی۔ اسے امید تھی کہ عظیم خان کے درّانی دستے اور توپ خانہ مدد کو پہنچیں گے۔ مگر نامعلوم وجوہ کی بنا پر عظیم خان نے فوراً دریائے کابل عبور کر کے قبائلیوں سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’رنجیت سنگھ نے اپنے توپ خانے اور پیادہ فوج کو قبائلی لشکر کے مقابلے میں مرکوز کر دیا اور جنرل ونٹورا کی قیادت میں ایک چھوٹا دستہ دریا کے دائیں (جنوبی) کنارے پر بھیج دیا تاکہ عظیم خان کو روکے رکھے۔‘
کیرو لکھتے ہیں کہ جنگ کا آغاز قبائلیوں اور سکھ اکالیوں کے درمیان نہایت شدید دست بدست لڑائی سے ہوا۔ امرتسر کے جوشیلے مذہبی گروہ کے رہنما پھولا سنگھ مارے گئے، اور سکھ گھڑ سوار قبائلی پیادوں پر کوئی خاص اثر نہ ڈال سکے، کیونکہ وہ میدان میں بکھرے ہوئے چٹانی ٹیلوں کے درمیان نہایت موزوں جگہوں پر مورچہ بند تھے۔
’لڑائی کا پانسہ سکھوں کے خلاف پلٹنے لگا۔ یوسف زئی اور خٹک جنگجوؤں کے جتھے غیر معمولی بہادری کے ساتھ سکھوں کی تربیت یافتہ پیادہ فوج پر ٹوٹ پڑے اور اسے منتشر کر دیا۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’اس کے بعد قبائلی لشکر جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھا، لیکن ایک طرف سے مہاراجا کی فوج کی گورکھا بٹالین نے اسے روک دیا۔ اس بٹالین نے مربع ترتیب بنا کر آگے بڑھتے ہوئے قبائلی جتھوں پر مسلسل فائر کیا۔ دوسری جانب دریا کے پار سے سکھ توپ خانے نے بھی مؤثر گولہ باری کی، جس سے قبائلی پیش قدمی رک گئی۔
’مگر قبائلی دوبارہ ان چٹانی ٹیلوں کے درمیان واپس چلے گئے اور سکھوں نے مجتمع ہو کر پیر سباق کی اہم چوٹی پر قبضہ کرنے کی تین کوششیں کیں، مگر ہر بار پسپا کر دیے گئے۔‘
کیرو لکھتے ہیں کہ ’چوتھی کوشش میں جا کر یہ پہاڑی فتح ہوئی، اور وہ بھی صرف اس لیے کہ خود مہاراجا رنجیت سنگھ گورکھا سپاہیوں کے بچے ہوئے دستے اور اپنے گھڑ سوار محافظوں کی قیادت کرتے ہوئے میدان میں آ گئے اور انھیں حوصلہ دیتے رہے۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ اس موقع پر قبائلی نقصانات کا اندازہ نوشہرہ کے قریب ترکئی کے ٹیلوں کے جنوب میں واقع وسیع قبرستانوں کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔
کیرو کے مطابق اس دوران میں دریا کے دوسرے کنارے پر عظیم خان نے نہ تو دریا پار کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی سکھ توپ خانے کے اثر کو کم کرنے کی کوئی سنجیدہ تدبیر کی، حالانکہ ان کی فوج جنوبی کنارے پر موجود تھی۔ اسی شام وہ پسپا ہو گئے۔ وہ بمشکل ہی اس جنگ میں شامل ہوئے تھے اور ان کے اس طرزِ عمل کی کوئی قابلِ قبول توجیہ پیش نہیں کی گئی۔
جوناتھن ایل لی اپنی کتاب ’افغانستان: اے ہسٹری فرام 1260 ٹو دی پریزنٹ'میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں یقین تھا کہ ان کا بھائی سکھوں کے کہنے پر پشاور واپس لینے کے لیے آ رہا ہے، جبکہ بعض اسے بزدلی یا سکھوں کے حملے سے گھیرے جانے کے خوف سے تعبیر کرتے ہیں۔‘
کیرو نے لکھا ہے کہ ’نو سال بعد الیگزینڈر برنز کو پشاور میں بتایا گیا کہ عظیم خان کو اپنے خزانے کے لٹ جانے کا خوف تھا، یا پھر ان کے سپاہی شمالی کنارے پر موجود اکالیوں کے نعروں سے گھبرا گئے تھے۔ ان نعروں کو انھوں نے تازہ کمک کی آمد کا اعلان سمجھ لیا تھا۔‘
عظیم خان دل شکستہ حالت میں، مگر بغیر کسی زخم کے، جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد مر گئے۔
کیرو لکھتے ہیں اس موت کے ساتھ ہی پائندہ خیل کے بیس زندہ بچ جانے والے بھائیوں کے درمیان اتحاد کی آخری جھلک بھی ختم ہو گئی۔ عظیم کے سوتیلے بھائی دوست محمد نے کابل میں عظیم کی جگہ سنبھالی اور بعد ازاں سنہ 1826 میں افغانستان کے حکمران بنے۔ یار محمد پشاور کے حاکم بنے۔
الیگزینڈر گارڈنر اپنی کتاب ’سولجر اینڈ ٹریولر: میموائرز آف الیگزینڈر گارڈنر، کرنل آف آرٹلری اِن دی سروس آف مہاراجا رنجیت سنگھ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’درّانی اقتدار کے باقی ماندہ آثار کو ختم کرتے ہوئے رنجیت سنگھ نے پشاور کو تباہ حال کر دیا اور خیبر درہ پر بھی قبضہ جما لیا تاکہ درّانیوں کی مزید کمک اس راستے سے نہ آ سکے۔‘
کیرو لکھتے ہیں کہ بالا حصار کے قلعے پر گولے برسائے گئے اور اندر موجود خوبصورت محل کو لوٹ لیا گیا۔ قلعے کے نیچے باغ میں سرو کے درخت کاٹ دیے اور حوضوں کا پانی گدلا کر دیا، اور ان کی گھڑ سوار فوج نے پشاور کے اردگرد میلوں پھیلے آلو بخارا، آڑو، خوبانی اور ناشپاتی کے شاندار باغات تباہ کر دیے۔
تاہم، وی نلوا نے اپنی کتاب ’ہری سنگھ نلوا‘ میں لکھا ہے کہ سکھ فوج کے سپہ سالار ہری سنگھ نلوا نے جلد ہی اس قلعے کی دوبارہ تعمیر کا آغاز کر دیا۔
رنجیت سنگھ کی یہ فتح ان کی فتوحات کا نقطۂ عروج ثابت ہوئی۔ اب ان کی سلطنت مغرب میں درہ خیبر سے لے کر شمال میں کشمیر اور جنوب میں ملتان تک پھیل چکی تھی۔
کیرو کے مطابق رنجیت سنگھ زیادہ دیر وہاں نہیں رکے۔ انھوں نے یار محمد کی اپنے حق میں اطاعت قبول کی اور جنوب کی طرف واپس چلے گئے۔
’اب مہاراجا رنجیت سنگھ پشاور کو کوہاٹ، بنوں اور ڈیرا جات کے ساتھ، اپنی برائے نام عمل داری میں لانے میں کامیاب ہو چکے تھے لیکن ان کی فوجیں مسلسل قبائل کے خلاف سخت لڑائیوں میں الجھی رہیں، یہاں تک کہ اُن علاقوں میں بھی جہاں درّانی گورنروں نے ان کی اطاعت قبول کر لی تھی۔‘
راج موہن گاندھی کی کتاب ’نان وائلنٹ بادشاہ آف دی پشتونز‘ سے پتا چلتا ہے کہ اس کے بعد سید احمد آئے، جو اتر پردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوستانی مذہبی رہنما تھے۔ وہ 1827 میں پشاور پہنچے۔ ان کی تحریک کا مرکز چارسدہ تھا ۔
ان کی کتاب میں لکھا ہے کہ ’سید احمد نے پشاور کے گورنر پر الزام لگایا کہ وہ انھیں زہر دینے کی کوشش کر رہےہیں، اور خود پشاور پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں یار محمد خان مارے گئے۔ اگر فرانسیسی جرنیل ونٹورا کی قیادت میں ایک سکھ دستہ، جو رنجیت سنگھ کے لیے ایک مشہور نسل کی گھوڑی لیلیٰ حاصل کر نے آیا ہوا تھا، وہاں موجود نہ ہوتا تو پشاور یار محمد کے چھوٹے بھائی سلطان محمد خان کے لیے بچانا ممکن نہ رہتا۔‘
سید احمد دوبارہ پشاور پر حملہ آور ہوئے۔ بارکزئیوں کو شکست ہوئی اور 1830 کے موسمِ گرما کے آخر میں سید احمد نے دو ماہ تک پشاور پر قبضہ بھی کیے رکھا مگر1831 میں بالاکوٹ میں سکھوں کے ایک حملے میں مارے گئے۔
سنہ 1849 میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سکھوں کو شکست دے کر پنجاب پر قبضہ کر لیا اور پشاورسمیت وہ علاقے بھی ان کے ہاتھ آ گئے جو پہلے رنجیت سنگھ کے زیرِ نگیں تھے۔