آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سفارتی طور پر ’ایک ڈراؤنا خواب‘ اور معیشت پر منفی اثرات: مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی انڈیا کے لیے خطرناک کیوں ہے؟
- مصنف, وسیم مشتاق
- عہدہ, تجزیہ کار، جنوبی ایشیا
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکہ کی جانب سے انڈیا کو روسی تیل خریدنے اور ایران کی جانب سے انڈیا کے دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت کے باوجود ماہرین مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کو انڈین معیشت کے لیے نقصان کا باعث قرار دے رہے ہیں۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں اُتار چڑھاؤ، توانائی کی سپلائی میں خلل، روپے کی قدر میں کمی اور مالیاتی نظام میں غیر یقینی صورتحال انڈین معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
انڈیا اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ مشرق وسطی کے ممالک سے آتا ہے۔
مشرق وسطی کے بہت سے ممالک انڈیا کو خام تیل فراہم کرتے ہیں اور جنگ کی وجہ سے اس میں تعطل انڈین معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف انڈیا میں تیل اور گیس سے جڑی صنعت بلکہ دیگر شعبوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس اور ماہرین کے مطابق توانائی کی برآمدات کی لاگت بڑھنے کی صورت میں انڈیا کا تجارتی خسارہ بڑھ سکتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔
دس مارچ کو انڈین نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی میں کچھ ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، خلیج میں جاری لڑائی انڈیا کی معیشت پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی اور سفارت کاری کے لحاظ سے انڈیا کے لیے ایک مشکل صورتحال اور سفارتی طور پر ایک ڈراؤنا خواب ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین حکام کے مطابق شیوالک اور نندا دیوی نامی دو بحری جہاز 46 ہزار اور 93 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جے کے ساتھ آبناَئے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے انڈیا کو کتنا نقصان ہو گا؟
انڈیا اپنے خام تیل کی ضروریات کا لگ بھگ 80 سے 90 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ مشرق وسطی کے ممالک سے آتا ہے۔
عالمی سطح پر 20 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزر کر مختلف ممالک میں پہنچتا ہے۔ یہ راستہ بند ہونے کی صورت میں انڈیا سمیت کئی ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور انڈیا بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
انڈیا کی طرف سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ انڈیا کی ایل این جی سپلائی کا لگ بھگ 80 فیصد مشرق وسطی کے ممالک سے آتا ہے۔
قطر، انڈیا کو ایل این جی اور توانائی کی دیگر مصنوعات فراہم کرتا ہے۔ قطر نے ایرانی ڈرون حملوں کے بعد اپنے ایک یونٹ پر پیداوار روک دی ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی بندش انڈیا کو توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔
دس مارچ کو انڈین حکومت نے ایل پی جی کی قلت سے بچنے کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کیے تھے۔ ممبئی، بنگلور اور چنئی سمیت کچھ شہروں میں گیس کی سپلائی کم ہو رہی ہے۔ یہ انتباہ بھی کیا گیا تھا کہ کچھ جگہوں پر ریستورانوں کو گیس کے ناکافی ذخیرے کی وجہ سے بند کرنا پڑ سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بڑھتا دباؤ
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نو مارچ کو ایک امریکی ڈالر 92 انڈین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ کا حجم بھی تین فیصد کم ہو کر 11 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔
خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس سے حالیہ دنوں میں انڈیا کے معاشی منظرنامے میں منفی اثر پڑا ہے۔
نو مارچ کو ’اکنامک ٹائمز‘ نے بتایا کہ اس وقت انڈیا کی معیشت پر سب سے زیادہ دباؤ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں تو درآمدات کی لاگت بڑھ جاتی ہے، افراط زر بڑھتا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
نو مارچ کو ’WION‘ نیوز چینل نے کہا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں انڈیا کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ انڈیا خام تیل کا تیسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو انڈیا کا درآمدی بل بھی فوری طور پر بڑھ جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں ہر ایک ڈالر کا اضافہ انڈیا کے درامدی بل میں لگ بھگ 16 ہزار کروڑ روپے کا اضافہ کرتا ہے۔
ترسیلاتِ زر سے متعلق غیر یقینی
مشرق وسطیٰ میں تنازع خطے میں رہنے والے انڈینز کی ترسیلات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انڈیا دُنیا میں ترسیلات کا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے جو ملک کی کل معیشت کا لگ بھگ 3٫5 فیصد ہے۔
لگ بھگ ایک کروڑ انڈین شہری مشرق وسطیٰ میں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ وہ انڈیا کو پیسے واپس بھیجتے ہیں جس سے انڈیا کے بیرونی کھاتوں کے ایک بڑے حصے کو سہارا دیتا ہے۔
پانچ مارچ کو ہندو اخبار نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات امریکہ کے بعد انڈیا کو ترسیلات زر کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھتا ہے اور خطے کی معیشت کے ساتھ ساتھ انڈین تارکین وطن کی ملازمتوں کو بھی متاثر کرتا ہے تو اس سے انڈیا کو ترسیلات زر کی روانی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
CNN-News18 نے بینک کے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ’اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے اور خطے میں اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، تو خطرات مزید واضح ہو جائیں گے۔‘
تین مارچ کو سٹیٹ بینک آف انڈیا کے سابق ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سلونی نارائن نے دکن کرانیکل اخبار کو بتایا کہ ملکی معیشت کو کتنا نقصان ہو گا، اس بات پر منحصر ہے کہ جنگ کب تک جاری رہتی ہے۔
جنگ کی وجہ سے انڈیا کی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ تنازع نے انشورنس کی لاگت میں اضافہ کیا اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ مشرق وسطی میں انڈیا کی لگ بھگ 12 ارب ڈالرز کی زرعی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
نو مارچ کو اخبار دکن ہیرالڈ نے رپورٹ کیا کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر چاول کی برآمدات پر پڑ سکتا ہے۔ سنہ 2025 میں انڈیا نے مشرق وسطی کو چار ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے چاول برآمد کیے تھے۔ جو انڈین چاول کی مجموعی برآمدات کا 37 فیصد ہے۔
صنعتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 4 لاکھ میٹرک ٹن باسمتی چاول اس وقت جنگ کی وجہ سے بندرگاہوں یا ٹرانزٹ میں پھنسا ہوا ہے۔
انڈیا ایران کو باسمتی چاول، چائے، ادویات اور زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ لیکن اس وقت جنگی صورتحال کے باعث تقریباً 36 ہزار ٹن سامان انڈین بندرگاہوں پر پھنسا ہوا ہے جس سے برآمدات میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔
اس صورتحال نے انڈیا کی آٹو پارٹس کی صنعت کی پیداوار اور برآمدات کو بھی متاثر کیا ہے۔ صنعت کے نمائندوں نے حکومت سے مالی امداد اور پیداوار کے لیے توانائی کے وسائل کی مستحکم فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
دس مارچ کو اخبار ’منٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق اس شعبے سے منسلک ایسوسی ایشن نے انڈین حکام کو ایک خط لکھ کر اپنی تشویش سے بھی آگاہ کیا ہے۔