آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جنگ کہیں دور ہو رہی ہے اور چولہے ہمارے بند ہو جائیں گے‘: دلی سمیت انڈیا میں ریسٹورنٹس بند ہونے کے خدشات کیوں؟
- مصنف, مرزا اے بی بيگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
شمال میں کشمیر سے لے کر جنوب میں کیرالہ تک اور مغرب میں گجرات سے لے کر مشرق میں ناگالینڈ تک، انڈیا میں مشرق وسطی کے بحران کے اثرات روز مرہ کی زندگی پر نظر آنے لگے ہیں۔
کہیں ڈوسہ ملنا بند ہو گیا ہے تو کہیں بریانی کی قلت ہے جبکہ ریستورانوں میں کھانے کے اوقات اور مینیو میں بھی کمی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق جب سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی طرف سے یہ بات کہی گئی ہے کہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کی وجہ سے ایل پی جی سلنڈر کی سپلائی متاثر ہو گی انڈیا کی تقریبا تمام ریاستوں سے ایل پی جی کے متعلق پریشان کن خبریں آ رہی ہے۔
تلنگانہ ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق حیدرآباد اور پورے تلنگانہ میں تقریباً 90 فیصد ہوٹل اور ریستوران دو دن کے اندر بند ہو سکتے ہیں کیونکہ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی کی شدید قلت ہے۔
صنعتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کے محدود ذخائر کے ساتھ چھوٹی چھوٹی کھانے پینے کی دکانیں سب سے پہلے متاثر ہوں گی۔
مشرقی ریاست مغربی بنگال کے کولکتہ سے یہ رپورٹ ہے کہ وہاں بعض ریستورانوں میں ایل پی جی کی قلت کے سبب بریانی بننا بند ہو گئی ہے۔
دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ایک اہم ریستوراں چین سری انناپورنا سری گوری شنکر گروپ نے سوموار کی شب یہ نوٹس جاری کیا کہ وہ اپنے ریستورانوں کے اوقات کم کر رہے ہیں اور اپنے مینیو کو بھی بنیادی ضروری اشیا تک محدود کر رہے ہیں۔
اسی دوران حکومت ہند نے پٹرولیم اور پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کی دستیابی، فراہمی اور مساوی تقسیم کو منظم کرنے کے لیے ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کا نفاذ کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیٹرولیم اور نیچرل گیس کی وزارت نے آئل ریفائنریوں کو ایل پی جی کی زیادہ پیداوار اور گھریلو ایل پی جی کے استعمال کے لیے اضافی پیداوار کے احکامات جاری کیے ہیں۔
وزارت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت نے گھریلو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی ہے اور ذخیرہ اندوزی/ بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے 25 دن کی انٹر بکنگ مدت متعارف کرائی ہے۔‘
ہم نے دارالحکومت دہلی میں اس ابھرتے ہوئے بحران کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔
دارالحکومت نئی دہلی میں صورت حال
بی بی سی کے نمائندے ادیب انور نے جنوبی دہلی کے جامعہ نگر علاقے کا دورہ کیا۔ وہاں ان کی ملاقات ایک گھریلو ملازمہ سواشنی دیوی سے ہوئی۔
انھوں نے بتایا: ’میں تکونہ پارک کے پاس کرائے کے مکان میں رہتی ہوں۔ میرا شوہر جوتوں کی مرمت کا کام کرتا ہے۔ ہم بہت ہی پریشان ہیں کیونکہ ہمارے گھر پر گیس کی سپلائی نہیں ہے۔‘
’ہم ایک چھوٹا سا سلنڈر لاتے ہیں اور اسی پر گزارا کر لیتے ہیں، اور وہ بھی سو روپے فی کلو ملتا تھا، مگر اس بار گیس کی کم سپلائی کی وجہ سے وہ تین سو روپے مانگ رہے ہیں۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اسے خرید سکیں۔‘
انھوں نے بتایا: ’کل سے ہم بھوکے ہیں، ہمارے گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اب کیسے گزارا کریں، کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اگر اسی طرح جنگ چلتی رہی، جیسا کہ ہم نیوز میں دیکھ رہے ہیں، تو آگے جا کر ہم بھوکے مر جائیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کس کو بتائیں اور کون ہماری سنے گا۔‘
سواشنی دیوی نے مزید کہا: ’اب اگر ہم لکڑی بھی لانا چاہیں اور چولہا جلانا چاہیں تو مکان مالک کبھی راضی نہیں ہوگا، وہ لکڑی جلانے نہیں دے گا۔ پھر کھانا بنانا ویسے بھی مشکل ہو جائے گا، اور گیس تو پہلے ہی نہیں ہے۔ ہم پرائیویٹ سے لیتے ہیں، مگر پرائیویٹ سپلائی والا کہہ رہا ہے کہ اس کے پاس گیس ہے ہی نہیں۔‘
ادیب انور نے خانسامہ محمد حکیم سے بھی ملاقات کی جنھوں نے بتایا ’میں ایک باورچی خانہ چلاتا ہوں، جہاں سے ہم شادیوں اور افطار پارٹیوں کے لیے مختلف جگہوں پر کھانے کی سپلائی کرتے ہیں۔ مگر پچھلے دو تین دن سے گیس کا مسئلہ ہو رہا ہے۔ جنگ کی وجہ سے یہاں لوگوں کے پاس گیس کی سپلائی نہیں ہے اور ہمارا سپلائر بھی ہمیں گیس نہیں دے رہا۔‘
’ہماری آمدن بھی کم ہو رہی ہے۔ عید کے آس پاس ہمارے یہاں 15 لوگ کام کرتے ہیں، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو تنخواہیں بھی کم ہو جائیں گی۔‘
جنوبی دہلی کے علاقے میں گیس سپلائی کرنے والے سدھارتھ چوہان نے ہماری نمائندہ غافرہ قادر سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’اگر سپلائی زیادہ رک گئی تو مجھے یہ تشویش ہو رہی ہے کہ میرے گھر کا بھی چولہا بند ہو جائے گا۔ پھر لکڑی ڈھونڈنی پڑے گی یا کچھ اور انتظام دیکھنا پڑے گا۔ ہم بھوکے مر جائیں گے۔ جنگ کہیں دور ہو رہی ہے اور چولہے ہمارے بند ہو جائیں گے۔‘
اسی طرح انڈین گیس کے سپلائر راہل شرما نے بتایا: ’سپلائی تو کم آ رہی ہے اور لوگ بھی پریشان ہیں۔ فون پر فون کر رہے ہیں کہ ڈیلیوری وقت پر کیوں نہیں ہو رہی، مگر ہم کوشش کر رہے ہیں جتنا ہمارے پاس ہے اتنا گھر گھر تک پہنچائیں۔‘
'لیکن اگر یہ صورت حال اسی طرح رہی تو ہماری پریشانی بڑھ جائے گی۔ اس کے ساتھ ابھی رمضان کا مہینہ چل رہا ہے تو گیس کا استعمال بھی زیادہ ہے۔‘
دہلی کے جامعہ نگر علاقے میں ایف کے سی نامی ریستوران کے باورچی محمد طارق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’کل سے گیس نہیں مل رہی۔ ہماری سپلائی شاہین باغ سے ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ گیس ہی نہیں مل رہی ہے۔‘
’ہم نے مینیو سے کچھ چیزیں کم کر دی ہیں، اب جیسے گریوی والے آئٹمز بالکل ہی نہیں بن رہے کیونکہ ہمارے پاس چولہا ہی نہیں جل رہا۔ ہمارے کسٹمرز بھی کم ہو گئے ہیں، وہ بھی ایسے میں جب رمضان میں ہمارے کسٹمرز کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔‘
'اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ریستوران بند کرنا پڑے گا، وہ بھی عید کے وقت۔ تہوار ہمارے لیے اہم ہوتا ہے مگر پیسہ بھی نہیں آ رہا اور کام بھی نہیں ہے۔ ساتھ والے ریستوران کا چولہا تو کل سے ہی بند ہے۔ ہمارے پاس ایک دن کا سٹاک تھا، وہ ختم ہو گیا۔ اب اگر ہم زیادہ پیسہ بھی دیں تب بھی گيس نہیں مل رہی ہے کیونکہ پچھلے دو تین دن سے ان کے پاس گیس کی سپلائی ہی نہیں ہے۔‘
انڈیا کا خلیجی ممالک پر انحصار
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اب اپنے 13 ویں دن میں ہے جس کی وجہ سے لاکھوں بیرل تیل اور گیس آبنائے ہرمز کے قریب پھنسے ہوئے ہیں۔
انڈین خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 40-50 فیصد تنگ آبی گزرگاہ سے آتا ہے۔ یہاں سے ملک کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات کا تقریباً 50-60 فیصد اور اس کی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی ترسیل کا تقریباً 80-85 فیصد گزرتا ہے۔
ملک بھر میں ریستورانوں اور لاکھوں دیگر کھانے پینے کی دکانوں کے لیے سب سے زیادہ تشویش ایل پی جی کی ہے جو بڑے پیمانے پر کوکنگ گیس کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
انڈیا ہر سال استعمال ہونے والی ایل پی جی کا 80-85 فیصد درآمد کرتا ہے۔ یہ چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ ہے۔ اس کا تقریباً تمام حصہ خلیجی ممالک بطور خاص قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی فراہمی انڈیا کے لیے فوری طور پر سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ ریفائنریز اور تقسیم کاروں کے پاس موجود سٹاک کا تخمینہ صرف دو سے تین ہفتوں کی طلب کو پورا کرنے کا ہے۔
نیشنل ریستوران ایسوسی ایشن آف انڈیا کے خزانچی من پریت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’زیادہ تر ریستورانوں کے پاس اس وقت مشکل سے ہی دو دن کا اضافی ایل پی جی ہے۔ اگر ایل پی جی کی قلت برقرار رہی تو ان میں سے بہت سے لوگوں کو اگلے چند دنوں میں کاروبار بند کرنا پڑے گا۔‘