ابو ظہبی میں ایرانی میزائل حملے کے دوران ہلاک پاکستانی ڈرائیور: ’کہتا تھا اب دبئی آ گیا ہوں تو کچا گھر پکا کریں گے‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’وہ اپنی بیٹی کے ڈاکٹر بننے اور پاکستان میں پکے گھر کے خواب پورے ہوتے نہیں دیکھ سکے۔‘

مرید زمان ان افراد میں شامل ہیں جو 28 فروری کو متحدہ عرب امارات میں ایرانی میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

28 فروری کو دبئی میں موجود ان کے چھوٹے بھائی محمد خان یاد کرتے ہیں کہ انھیں کام کے دوران اطلاع ملی تھی کہ ابو ظہبی میں ان کے بھائی ’ایک میزائل حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔‘

یہ سن کر محمد خان فوراً روانہ ہوئے مگر راستے میں ہی پتا چلا کہ مرید زمان دم توڑ چکے ہیں۔ ’یہ خبر سن کر میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کے خاندان نے ’ساری زندگی غربت میں گزاری، اب کچھ حالات بہتری کی طرف گئے تو بھائی ہی چلا گیا۔ وہ کہتا تھا میں بھی اب دبئی آ گیا ہوں تو کچا گھر پکا کریں گے۔‘

اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے جواب میں تہران نے متحدہ عرب امارات سمیت کئی خلیجی ریاستوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان میں حکام کے مطابق اب تک ابوظہبی اور دبئی میں دو پاکستانی ہلاک اور ایک زخمی ہوئے ہیں۔

مرید زمان 28 فروری کو ہلاک ہوئے اور ان کی میت صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ان کے آبائی علاقے میں 7 مارچ کو پہنچائی گئی جبکہ ان کی تدفین 8 مارچ کو ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ دبئی میں البرشا کے علاقے میں 7 مارچ کو بھی ایک حملہ ہوا تھا جس میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ وہ پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھے۔

دونوں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ فائر کیے گئے میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک ڈرائیور جو قرض لے کر امارات پہنچا تھا

مرید زمان پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھے۔

ان کے چھوٹے بھائی محمد خان دبئی میں ایک کمپنی میں ہیلپر ہیں۔ وہ اپنے بھائی کی میت کے ہمراہ واپس آئے ہیں۔

محمد خان کا کہنا تھا کہ مرید زمان کے لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بچے شامل ہیں۔

ان کی سب سے بڑی بیٹی کی عمر 12 سال ہے جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی چار سال کی ہے اور ایک بیٹا چھ سال کا ہے۔

محمد خان کا کہنا تھا کہ مرید زمان ’ہم سب بہن بھائیوں میں بڑے تھے اور یہ تقریباً آٹھ سال پہلے ابوظہبی گئے تھے۔ جہاں وہ ایک خاندان کے پاس ڈرائیور کی خدمات انجام دے رہے تھے۔‘

’واقعے کے متعلق مجھے زیادہ نہیں بتایا گیا مگر یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ جس وقت یہ ہوا تو وہ اپنی گاڑی میں تھے۔ یہ ایک چھوٹی گاڑی ہے اور اس وقت وہ تنہا تھے کہ ایک میزائل کا ٹکڑا ان کو لگا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد اور والدہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں۔ اب تو وہ کام نہیں کرتے مگر چند سال پہلے جب مرید زمان ابوظہبی گئے تھے تو اس وقت میرے والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔‘

’مرید زمان ڈرائیونگ سیکھنے سے پہلے کنڈکٹری کرتے رہے تھے۔ پھر انھوں نے ڈرائیونگ سیکھی، اس کے بعد ان کی شادی ہوئی تھی جس کے لیے قرضہ لیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی شادی کے بعد ’ہمارے ایک جاننے والے نے بتایا کہ ابوظہبی کا ویزا ہے تو انھوں نے یہ ویزہ حاصل کیا جس کے لیے قرضہ لیا گیا اور یہ قرضہ بعد میں ادا کیا جاتا رہا۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ ’قرضہ ادا کرنے کے بعد انھوں نے میرے لیے دبئی کا ویزا حاصل کیا تھا۔‘

بیٹی کی شادی اور مکان پکا کرنے کے خواب

محمد خان کا کہنا تھا کہ ان کے دبئی پہنچنے کے بعد مرید زمان نے ’اپنا گھر پکا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مرید زمان پر اپنے پانچ بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کی کفالت کی ذمہ داری تھی۔ ’جو تنخواہ انھیں ملتی تھی، پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے بس گزارہ ہی ہوتا تھا۔ اس تنخواہ میں سے وہ بوڑھے ماں باپ کا بھی خیال رکھتے تھے، ان کو بھی پیسے بھیجتے تھے۔ اس سے پہلے ہمارا ایک بھائی بیمار ہو کر فوت ہوا تھا، اس کے اخراجات بھی ان کے ذمے ہی تھے۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے دبئی میں ملازمت مل گئی تو بس ایک ہی بات کرتے تھے کہ اب ہمیں پیسے اکٹھے کرنے چاہییں اور مکان بنانا چاہیے تاکہ ہمارے بچے بھی اب پکے مکان میں رہائش پذیر ہوسکیں اور سکون کی زندگی گزار سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے دو، تین دن پہلے ’میری بات ہوئی تھی تو اس وقت بھی انھوں نے یہی کہا تھا کہ اب ہمارا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے کہ پکا مکان ہو۔ اس کے لیے انھوں نے مجھے بڑی نصیحتیں بھی کی تھیں۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ وہ والدہ سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔ ’اکثر جب وہ کام سے فارغ ہوتے تو شام کو گھنٹوں والدہ کو کال کرتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ والدہ سے بات کرنے کے بعد اپنی اہلیہ اور بچوں سے بات کرتے تھے۔ ’مرید زمان کو عیدالاضحیٰ پر چھٹیاں ملنا تھیں اور انھوں نے بچوں کے لیے ابھی سے چھوٹے چھوٹے تحفے لینا شروع کر دیے تھے کہ ایک ساتھ خریداری ممکن نہیں تھی۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ ’مرید نے بچوں سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ جب پاکستان آئیں گے تو ایک ماہ تک ان کے ساتھ رہیں گے، ان کے لیے بہت تحفے لائیں گے اور ان کے ساتھ گھومنے پھرنے جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تمام بیٹیوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ ’بڑی بیٹی میں تو ان کی جان تھی۔ انھوں نے بڑی بیٹی کو سرکاری سکول کی جگہ پرائیویٹ سکول میں داخل کروایا تھا اور جب بھی بیٹی سے بات ہوتی تو وہ اس کو نصیحت کرتے کہ وہ دل لگا کر تعلیم حاصل کرے۔‘

’بیٹی جب کسی چیز کا تقاضا کرتی تو اس سے وعدہ کرتے کہ دلائیں گے مگر ساتھ میں کہتے کہ اچھے نمبر ہونے چاہییں۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے کہتے تھے کہ ’تم پڑھو لکھو اور ڈاکٹر بنو۔ اس کے لیے مجھے جتنی بھی محنت کرنا پڑی وہ میں کروں گا۔ اور وہ بھی اپنے والد کی ہدایات پر پورا عمل کرتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں بھائی کی میت لے کر آیا تو اپنی والدہ اور والد کا سامنا نہیں کرسکتا تھا مگر بھتیجی بار بار اپنے والد کے تابوت سے لپٹ رہی تھی تو میں یہی سوچ رہا تھا کہ ابوظہبی میں ملازمت کرنے کے باوجود پکا مکان ان کا خواب ہی رہ گیا اور بیٹی کو ڈاکٹر بنتے بھی نہیں دیکھ سکے۔‘

محمد خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں میت کو پاکستان لانے میں متحدہ عرب امارات کی حکومت اور حکام نے مکمل سہولتیں فراہم کی ہیں۔‘

’مجھے پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں سب نے بہت تسلی دی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جلد ہی اس جنگ کا اختتام ہوگا اور دبئی میں میری ملازمت جاری رہے گی تاکہ میں اپنے بھائی کے خوابوں کو پورا کرسکوں۔‘