آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلن شاہ: نیپالی ’جین زی‘ کے ممکنہ وزیراعظم، ایک متنازع نقشہ اور انڈیا کی تشویش
- مصنف, رجنیش کمار
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
رجب طیب اردوغان کی عمر 49 سال تھی جب وہ استنبول کے میئر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد مارچ 2003 میں ترکی کے وزیر اعظم بنے تھے۔ بلن شاہ صرف 35 سال کی عمر میں کھٹمنڈو کے میئر سے نیپال کے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ نیپال کی 239 سالہ بادشاہت 2008 میں ختم ہوئی لیکن تب سے اب تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے تنہا اپنی طاقت کے بل بوتے پر حکومت نہیں بنائی ہے۔ لیکن اس بار بلن شاہ کی قیادت میں راشٹریہ سواتنتر پارٹی ایسا کرنے جا رہی ہے اور اسی وجہ سے خطے میں اس پیش رفت کو توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
نیپال کی پارلیمنٹ میں کل 275 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے 138 سیٹوں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت بلن شاہ کی جماعت 180 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔
نیپالی صحافی کشور نیپال کا کہنا ہے کہ جمہوری نیپال میں یہ پہلی بار ہوا ہے اور ’یہ بلن شاہ کے لیے ایک طاقت بھی ہے اور چیلنج بھی۔ طاقت اس لیے کیونکہ حکومت کسی کی حمایت پر منحصر نہیں ہوگی اور چیلنج یہ ہو گا کہ لوگوں کو بلن سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔‘
نیپال میں جب ’جین زی‘ تحریک شروع ہوئی تھی تو سوشل میڈیا پر نوجوان بلن شاہ سے اپیل کر رہے تھے کہ وہ کھٹمنڈو کے میئر کے عہدے سے استعفیٰ دیں اور احتجاج کی قیادت سنبھالیں۔
یاد رہے کہ آر ایس پی جماعت صرف تین سال پہلے بنی تھی۔ بلن شاہ اور آر ایس پی دونوں نیپال میں دیگر جماعتوں اور لیڈروں کے مقابلے نسبتاً نئے ہیں جبکہ انڈیا کو نیپال کی کمیونسٹ پارٹیوں اور نیپالی کانگریس پارٹی کے ساتھ کام کرنے کا تو تجربہ ہے لیکن آر ایس پی اور بالن شاہ دلی کے لیے بھی بلکل نئے ہیں۔
آر ایس پی کی بھاری اکثریت سے جیت کے بعد انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے بلن شاہ کو فون کر کے مبارکباد بھی دی تھی۔ بعد میں مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہماری مشترکہ کوششوں سے، وہ انڈیا اور نیپال کے درمیان تعلقات کو نئی منزل تک پہنچائیں گے۔‘
یاد رہے کہ بلن شاہ نے، کھٹمنڈو کے میئر کے طور پر جون 2023 میں انڈین فلم ادیپورش کی نمائش پر پابندی عائد کر دی تھی اور انھوں نے فلم میں ہندو دیوی سیتا کو انڈین یا ہندوستانی کے طور پر پیش کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
2020 میں نیپال کے اس وقت کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں اتراکھنڈ ریاست کے کئی حصوں کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ یہ نقشہ بلن شاہ کے میئر کے دفتر میں بھی دکھایا گیا تھا۔
ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ بلن شاہ کی قیادت میں نیپال اور انڈیا کے تعلقات کیسے ہوں گے اور آیا ان کا جھکاو چین کی جانب ہو گا؟
انڈیا میں نیپال کے سابق سفیر لوک راج برال کا کہنا ہے کہ ’بلن شاہ نیپال کی سیاست میں ایک انجان شخصیت رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں فی الحال کچھ بھی کہنا محض اندازہ ہوگا۔‘
ایک چینی منصوبہ اور انڈیا کا اعتراض
بلن شاہ نے اپنے منشور سے نیپال-چین صنعتی پارک کا منصوبہ ہٹا دیا تھا۔
یہ صنعتی پارک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا حصہ ہےاور نیپال-انڈیا سرحد کے قریب واقع ہے، خاص طور پر اس حساس سلی گوڑی کوریڈور کے قریب، جسے ’چکن نیک‘ یعنی ’مرغی کی گردن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک تنگ زمینی پٹی ہے جو انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں کو ملک کے باقی حصوں سے ملاتی ہے۔
انڈیا مبینہ طور پر اس منصوبے سے ناخوش تھا۔ جب بلن شاہ نے نیپال چائنا انڈسٹریل پارک پروجیکٹ کو اپنے منشور سے نکالا تو اس پروجیکٹ کے چیئرمین گووند تھاپا نے فیس بک پر ایک طویل تبصرہ لکھا جس میں کہا گیا کہ ’صنعتی پارک کے بارے میں سنجیدگی سے بات کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ چائنا نیپال دوستی صنعتی پارک کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ بیرونی رکاوٹوں کو قرار دیا جا رہا ہے نہ کہ نیپال کے اندر کسی مسئلے کو۔‘
تھاپا نے لکھا کہ 'چونکہ یہ ایک سفارتی معاملہ ہے، میں اب تک اس پر کھل کر بات نہیں کر سکا۔ لیکن اب خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے۔ جب چینی سرمایہ کاری نیپال میں آئے گی، تو نیپالی عوام، سمجھ نہیں سکتے کہ کسی دوسرے ملک کو اس پر اعتراض کیوں کرنا چاہیے۔‘
’صنعتی پارک عام سامان تیار کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے نہ کہ ہتھیار یا میزائل بنانے کے لیے۔ یہ خطے کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے نہ کہ فوجیوں کو تربیت دینے کے لیے۔ اس لیے ہمیں نہیں لگتا کہ کسی دوسرے ملک کو اس پر اعتراض کرنا چاہیے۔‘
سینئر انڈین صحافی اور نیپال کی گہری سمجھ رکھنے والے مصنف آنند سوروپ ورما کہتے ہیں کہ ’بلاشبہ چین کو بی آر آئی سے فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن نیپال کے لوگ بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس سے نیپال کا انڈیا پر انحصار کم ہو جائے گا۔ نیپال کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ان تمام پہلوؤں کو سمجھے۔‘
ورما کا کہنا ہے کہ ’انڈیا بلن شاہ کے انتخاب کا خیرمقدم کرے گا۔ یہ چین کے مقابلے میں انڈیا کے لیے بہتر ہوگا۔‘
دلی کے لیے انجان بلن شاہ
لوکراج برال کہتے ہیں کہ ’میں بلن کا نام میئر بننے سے پہلے نہیں جانتا تھا۔ وہ میڈیا سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی میں نے انھیں کسی بحث میں سنا ہے۔‘
برال کہتے ہیں کہ ’بلن شاہ نے ایک بار اپنے فیس بک سٹیٹس میں انڈیا، امریکہ اور آر ایس پی کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرے کیے تھے۔ ہم یہاں ان الفاظ کا ذکر بھی نہیں کر سکتے۔ میں بالن کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا۔‘
تاہم نیپال میں انڈیا کے سابق سفیر رنجیت رائے کا ماننا ہے کہ ’کھٹمنڈو کا میئر ہونا ایک چیز ہے اور نیپال کا وزیر اعظم بننا بالکل الگ چیز ہے۔‘
رنجیت رائے کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ بلن شاہ کو بطور میئر پرکھا جانا چاہیے۔ یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ بطور وزیر اعظم، ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔‘
’میں سمجھتا ہوں کہ نیپال کی نئی نسل کی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات اور اعتماد پیدا کرنا انڈیا کی ذمہ داری ہے۔ اب تک، بھارت نے نیپال کی پرانی جماعتوں کے ساتھ کام کیا ہے، لیکن اب ایک نئی طاقت سامنے آئی ہے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو پڑوس میں نوجوانوں پر مرکوز کرنا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ نیپال کی انڈیا کے ساتھ تقریباً 1,800 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ نیپال کئی معاملات میں انڈیا پر منحصر ہے اور اسی لیے دلی کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا نیپال کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ تاہم نیپال دلی پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
کیا انڈیا کو اپنی پالیسی بدلنی پڑے گی؟
وجے کانت کرنا، ڈنمارک میں نیپال کے سابق سفیر، کھٹمنڈو میں سینٹر فار سوشل انکلوژن اینڈ فیڈرلزم (CEISF) کے نام سے ایک تھنک ٹینک چلاتے ہیں۔ کرنا کا کہنا ہے کہ ’بلن شاہ کا اندازہ ماضی میں کہی گئی باتوں کی بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا۔‘
کرنا کہتے ہیں کہ ’نریندر مودی بھی وزیر اعظم بننے سے پہلے چین کے بارے میں بہت باتیں کرتے تھے، لیکن ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد حالات بالکل بدل گئے۔ اسی طرح میئر بلن شاہ اور وزیر اعظم بلن شاہ میں بھی بڑا فرق ہو گا۔‘
’میرے خیال میں انڈیا اور انڈین میڈیا کو دونوں ممالک کے تعلقات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس بات پر توجہ نہیں دینی چاہیے کہ بلن شاہ نیپال کا وزیر اعظم بننے کے بعد اپنا پہلا غیر ملکی دورہ کہاں کا کرتے ہیں۔‘
نیپال اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی بنیاد یکم اگست 1955 کو رکھی گئی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان 1,414 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو کہ اونچے اور برف پوش پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔
یہ سرحد شمالی نیپال میں ہمالیہ کے سلسلے میں واقع ہے۔ اگرچہ سرحد اصل میں نیپال اور تبت کے درمیان تھی لیکن چین نے تبت کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ نیپال چین کے تحفظات کے حوالے سے ہمیشہ حساس رہا ہے۔ نیپال ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
21 جنوری 2005 میں نیپالی حکومت نے دلائی لامہ کے نمائندہ دفتر کو بند کر دیا تھا جسے تبتی پناہ گزینوں کی بہبود کے دفتر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کھٹمنڈو میں امریکی سفارت خانے نے اس پر سخت اعتراض کیا لیکن نیپال ڈٹا رہا جبکہ چین نے نیپال کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
1962 کی انڈیا چین جنگ کے دوران نیپال نے غیر جانبداری برقرار رکھی تھی اور فریق بننے سے انکار کر دیا تھا۔ نیپالی سفارت کار ہرنیا لال شریستھا کا کہنا ہے کہ انڈیا نے نیپال پر اس جنگ میں کھل کر حمایت کرنے کے لیے کافی دباؤ ڈالا۔