آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ابدی زندگی کے لیے‘ 90 سالہ خاتون کا دل چیر کر خون پینے والا طالبعلم جسے ’ویمپائر‘ بننے کا جنون تھا
- مصنف, بیتھ ولیئمز
- عہدہ, بی بی سی ویلز
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں موجود تفصیلات چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
نومبر سنہ2001 میں ہفتے کی رات تھی جب 90 سالہ میبل اپنی پسندیدہ کرسی میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں جس کی اونچی آواز نے باہر گزرنے والی ٹریفک کے شور کے ساتھ ساتھ چھت پر بارش کے گرنے والے قطروں کی آوازوں کو بھی دبا رکھا تھا۔ لیکن ایک اور آواز تھی جو اونچا سننے والی میبل کو سنائی نہیں دی۔ یہ آواز گھر کی ایک کھڑکی کے ٹوٹنے اور ان کے نوعمر قاتل کے گھر میں داخل ہونے کی آواز تھی۔
اس کے بعد اس گھر میں جو کچھ وقوع پذیر ہوا، اس نے انگلیسی کے اس چھوٹے سے گاؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے تقریبا 25 سال گزر جانے کے بعد تفتیش کرنے والے سراغ رساں نے اسے اپنے طویل کریئر کا سب سے ہولناک جرم قرار دیا۔
90 سال کی عمر میں بھی میبل متحرک زندگی گزار رہی تھیں۔ 1960 کی دہائی میں بیوہ ہو جانے کے بعد سے ہی وہ اس مکان میں رہائش پذیر تھیں۔
بی بی سی ویلز کے پوڈ کاسٹ سے بات کرتے ہوئے مقامی کری پریچرڈ کے مطابق اس جگہ سب ہی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ ’ہم گھر کی چابی تک پاس نہیں رکھتے تھے کیوں کہ ہم نے کبھی گھر کا دروازہ لاک ہی نہیں کیا تھا۔‘
لیکن میبل کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
کرسی میں آرام کرتی میبل کے گھر میں داخل ہونے والا 17 سالہ آرٹ کا طالب علم میتھیو ہارڈمین تھا جس نے ان کے جسم پر چھری کے 22 وار کرنے کے بعد ایک دوسری کرسی پر لاش رکھتے ہوئے ایک عجیب رسم شروع کی۔
میتھیو نے میبل کے جسم کو چیر کر ان کا دل نکال لیا۔ اور پھر ایک پیالے سے ان کا خون پیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگلے دن میبل کی لاش ایک مقامی رضاکار نے دریافت کی جو میبل کو اکثر کھانا پہنچانے آتا تھا۔
نارتھ ویلز پولیس کے سابق تفتیشی افسر جان کلیٹن کو یاد ہے کہ ’ایک فرانزک ماہر نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس پیالے پر ہونٹوں کے نشان ہیں جس سے میں صرف ایک نتیجہ اخذ کر سکتا ہوں کہ کسی نے ممکنہ طور پر مقتولہ کا خون پیا ہے۔‘
لیکن کوئی ایسا کیوں کرے گا؟ گاؤں کا ہر شخص ہی پولیس کی نظر میں مشکوک ہو چکا تھا۔ جان کلیٹن کے مطابق ’پولیس کو کہا گیا کہ میبل کے گھر میں جانے والے ہر شخص کو اہمیت دی جائے۔‘
ایسے میں بہت سی افواہوں نے بھی جنم لیا۔ لیکن اس لرزہ خیز واردات کا مجرم قریب ہی تھا۔
میبل کے گھر اخبار پہنچانے والے نو عمر میتھیو تقریبا روزانہ ہی وہاں جایا کرتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ تنہا رہتی ہیں۔
حراست میں لیے جانے کے بعد اس نے پہلے تو خود کو بے قصور قرار دینے کی کوشش کی لیکن دو ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے دوران چشم کشا باتیں سامنے آئیں۔
ان میں سے ایک یہ تھی کہ میتھیو کو ’ویمپائر‘ یعنی خون آشام افسانوی کرداروں کے بارے میں جنون تھا اور وہ ابدی زندگی حاصل کرنے کے لیے ان جیسا ہی بننا چاہتا تھا۔
میبل کے قتل سے دو ماہ پہلے میتھیو نے جرمنی سے آئی ہوئی ایک طالبہ کی منت کی کہ ان کی گردن کو کاٹ لے کیوں کہ میتھیو کو یقین تھا کہ وہ لڑکی خود بھی ویمپائر ہے اور ایسا کرنے سے وہ بھی ویمپائر بن جائیں گے۔
میتھیو ہارڈمین کو میبل کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمرقید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والا ڈی این اے میتھیو کے گھر سے ملنے والی چھری پر موجود خون سے مل چکا ہے۔ اس کے علاوہ میبل کے گھر سے میتھیو کے قدموں کے نشان بھی پائے گئے تھے۔
اگرچہ اس واقعے کو 25 سال بیت چکے ہیں لیکن اس قتل کی پریشان کن تفصیلات کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ بین رابرٹس میبل کے ہمسائے تھے اور اس وقت ان کی عمر صرف دس سال تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دس سال کی عمر میں مجھے اندھیرے میں جانے سے ڈر لگتا تھا کیوں کہ اس عمر میں بھوتوں اور عفریتوں کو سچ سمجھتا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد وہ دن میں بھی سوچتے تھے کہ ’اگر میں باغیچے میں کھیل رہا ہوں اور گیند جھاڑیوں کی طرف گئی تو شاید وہ قاتل نکل آئے۔‘
انھیں یاد ہے کہ کس طرح سکول میں ایک استاد نے چند دن بعد انھیں کھڑا کیا اور اس واردات کے بارے میں کلاس کو تفصیلات دینے کا کہا۔
سنہ 2003 میں میتھیو ہارڈمین نے درخواست کی تھی کہ انھیں سزا کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دی جائے لیکن اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
2014 میں میتھیو کو پیرول پر رہا کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی۔