اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے معاملے پر انڈیا اور پاکستان آمنے سامنے: ’ایسے ملک سے لیکچر کی ضرورت نہیں جو قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو‘

مطالعے کا وقت: 9 منٹ

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان نے انڈیا اور افغانستان کے نمائندوں کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات کو ختم کرنے کے لیے ہیں۔

پاکستان کے مستقل سفیر عاصم افتخار احمد نے انڈین نمائندے کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایسے ملک سے لیکچر لینے کی ضرورت نہیں جو مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

انھوں نے انڈیا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا ایک ایسی ریاست ہے جو غیر قانونی قبضے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور جھوٹے پروپیگنڈے کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی مرتکب ہے۔‘

پاکستانی سفیر انڈیا کے مستقل نمائندے ہریش پٹیل کے اس بیان کا جواب دے رہے تھے جس میں انھوں نے افغانستان میں پاکستان کے فضائی حملوں کو بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قراد دیا تھا۔

دوسری جانب افغان نمائندے نے الزام عائد کیا کہ 22 فروری سے پاکستان کے فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کے مشن کے مطابق 7 مارچ تک کم از کم 185 شہری متاثر ہوئے، جن میں 55 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انھوں نے پاکستان سے ایسے حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بحث ایسے وقت میں ہوئی جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں حالیہ ہفتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب طالبان حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عالمی سطح پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا جبکہ خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیوں کے باعث بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں انسانی صورتحال اب بھی سنگین ہے اور ملک معاشی بحران، بڑھتی دہشت گردی اور علاقائی کشیدگی کے خطرات سے دوچار ہے۔ اسی پس منظر میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں مختلف ممالک نے افغانستان کی صورتحال، طالبان کی پالیسیوں اور خطے میں سکیورٹی خدشات پر اپنے مؤقف پیش کیے۔

پاکستانی مندوب نے کیا کہا؟

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کے حالات پر بات کرتے ہوئے پاکستان نے طالبان کے سخت اقدامات اور افغانستان میں بڑھتی دہشت گردی کے خطرناک اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستان کے مستقل سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں انڈیا اور افغانستان کے نمائندوں کے حالیہ بیانات کے جواب میں کہا کہ افغانستان کے نمائندے فائق نصیر، حقیقی نمائندہ نہیں اور وہ ذاتی ایجنڈے کے لیے فورم کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ افغان نمائندے، جو حقیقت میں کسی کی نمائندگی نہیں کرتے، اس فورم کا غلط استعمال نہ کریں۔

سفیر نے کہا کہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی آپریشنز افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ افغان زمین سے پیدا ہونے والے دہشت گرد خطرے کو ختم کرنے کے لیے ہیں اور یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور دفاع کے حق کے مطابق ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فائق نے کراس بارڈر دہشت گردی کا ذکر تک نہیں کیا، جو پاکستان میں شہریوں، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

پاکستان کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ان کا ملک طالبان کو بارہا مفاہمت کی پیشکش کر چکا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج افغانستان دہشت گرد گروہوں اور ان کے حمایتی نیٹ ورکس کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ طالبان کے بعض عناصر نے ان گروہوں کے ساتھ ’ملی بھگت اور فعال حمایت‘ کا راستہ اختیار کر لیا ہے، جس کے خطے کے ممالک پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر سرحد پار دہشت گرد حملے جاری رہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں اور پاکستان اس صورتحال میں خاموش نہیں بیٹھے گا۔

عاصم افتخار احمد نے انڈیا کے نمائندے پر بھی تنقید کی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے، بشمول افغان زمین سے دہشت گرد گروپوں کی حمایت اور سرپرستی، جیسے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انڈین نمائندے کے بیانات حیران کن نہیں۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا نے افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر طویل بیان دیا، شہری ہلاکتوں اور سرحدی جھڑپوں کا ذکر کیا لیکن افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گرد خطرے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا، جو پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔ سفیر نے کہا کہ اس کی وجہ انڈیا کی شراکت داری ہے اور پاکستان نے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ انڈیا کی ملی بھگت کے ناقابل تردید شواہد فراہم کیے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے مؤثر اقدامات نے انڈیا کی افغان سرمایہ کاری کو ناکام بنا دیا ہے اور عالمی برادری کو انڈیا جیسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ملک سے لیکچر لینے کی ضرورت نہیں۔

سفیر نے زور دیا کہ انڈیا ہمیشہ افغانستان میں رکاوٹ ڈالنے والا کردار ادا کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان نے افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ذمہ داری سے کام کیا لیکن طالبان حکومت کو انسداد دہشت گردی، حکمرانی اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔

انھوں نے انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان زمین سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی پالیسی فوری طور پر ترک کرے۔

انڈیا کی افغانستان میں فضائی حملوں کی شدید مذمت

اقوامِ متحدہ میں انڈیا کے مستقل نمائندے ہریش پٹیل نے کہا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے فضائی حملے بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عالمی قوانین اور اسلامی یکجہتی کے اصولوں کی بات کرنے کے باوجود رمضان کے مقدس مہینے میں بے رحمانہ فضائی حملے کیے گئے، جن میں 6 مارچ 2026 تک 185 بے گناہ شہری ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 55 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے، جس کی تصدیق یو این اے ایم اے نے کی ہے۔

انھوں نے تجارتی اور ٹرانزٹ دہشت گردی پر بھی تشویش ظاہر کی، جس میں تجارتی راستے بند کرنا اور زمین سے جکڑے ممالک کی رسائی محدود کرنا شامل ہے۔ انڈیا نے کہا کہ یہ عمل ڈبلیو ٹی او کے اصولوں، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس سے لینڈ لاکڈ ممالک کے معاشی مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے اس کے ساتھ ہی افغانستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کے لیے انڈیا کی حمایت کو بھی دہرایا۔

انڈیا کے نمائندے نے زور دیا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اور صرف بین الاقوامی برادری کے مربوط اقدامات سے ہی یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ داعش، القاعدہ اور ان کے وابستہ گروہ، بشمول لشکر طیبہ، جس کے ممبران مزاحمتی فرنٹ کے تحت کام کر رہے ہیں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد سرحد پار دہشت گردی میں ملوث نہ ہوں۔

افغان نمائندے کی طالبان کی پالیسیوں پر شدید تنقید

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغان نمائندے فائق نصیر نے کہا کہ طالبان کے اقتدار کے تقریباً پانچ سال بعد بھی افغانستان شدید انسانی، معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کی پالیسیوں کے نتیجے میں خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا اور انھیں عملی طور پر عوامی زندگی سے باہر کر دیا گیا جبکہ ایک پوری نسل تعلیم اور مواقع سے محروم ہو رہی ہے۔

افغان نمائندے نے یہ بھی الزام لگایا کہ طالبان نے دوحہ معاہدے کے برخلاف افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کو سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا، جو خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک ذمہ دار، جائز اور جامع حکومت ضروری ہے جو افغان عوام کی نمائندگی کرے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔

اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی صورتحال پر بحث: خواتین پر پابندیاں اور بین الاقوامی تنہائی نے ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں خواتین کے حقوق، بین الاقوامی تنہائی، دہشت گردی، پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور طالبان کی پالیسیوں پر عالمی تشویش ظاہر کی گئی۔

یو این کی نائب مشن ہیڈ جورجٹ گینیون نے کہا کہ طالبان کی بین الاقوامی برادری کے ساتھ سنجیدہ شراکت اور خواتین پر عائد سخت پابندیوں کا فوری خاتمہ افغانستان کی ترقی اور معاشرتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کی بین الاقوامی تنہائی اقتصادی ترقی، سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور انسانی حقوق پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

جورجٹ گینیون نے بتایا کہ طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالا لیکن بین الاقوامی برادری کے ساتھ محدود رابطے رکھے ہیں۔ خواتین کے حقوق محدود کرنے والے قوانین، بڑھتی دہشت گرد سرگرمیاں اور پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپیں تشویش کا باعث ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یو این کی خواتین ملازمین پر چھ ماہ سے پابندی امدادی کاموں کو متاثر کر رہی ہے اور پابندیوں کے نہ ہٹانے کی صورت میں افغانستان دوبارہ عالمی اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکہ، فرانس اور دیگر ممالک نے طالبان کی بداعتمادی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دوحہ عمل کی افادیت پر سوالات اٹھائے۔ بحرین اور برطانیہ نے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کی ضرورت پر زور دیا جبکہ پاکستان نے کہا کہ طالبان بار بار امن کی پیشکش کے باوجود تعاون نہیں کر رہے اور افغانستان دہشت گرد گروپوں کا مسکن بن چکا۔

ایران اور سابق افغان حکومت کے نمائندے نے بھی طالبان کے دہشت گرد روابط اور بڑھتی خطرناک صورتحال پر خبردار کیا۔

روسی فیڈریشن کے نمائندے نے کہا کہ روس نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی حمایت کی اور امید ظاہر کی کہ افغان حکومت اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ افغان مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل محنت کی جا رہی ہے اور اس ملک کو ہماری مشترکہ غیر سیاسی مدد کی ضرورت ہے۔

روسی نمائندے نے افغانستان کے لیے جامع اور متوازن نقطہ نظر اپنانے، افغان عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھنے اور طالبان کے ساتھ اعتماد پر مبنی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

چین نے افغانستان میں بین الاقوامی امداد میں کمی پر تشویش ظاہر کی اور روایتی ڈونرز سے فوری امداد دوبارہ شروع کرنے اور بڑھانے کا مطالبہ کیا۔