’یہ امریکی ٹوماہاک میزائل تھا‘: ایران میں سکول کے قریب حملے کی ویڈیو کا جائزہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

    • مصنف, میرلن تھامس اور شایان سرداریزادہ
    • عہدہ, بی بی سی ویریفائی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ماہرین کی طرف سے ایک ویڈیو کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی ایران میں پرائمری سکول کے قریب ایک فوجی اڈے پر امریکی ٹوماہاک میزائل کا حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایرانی حکام کے مطابق 110 بچوں سمیت 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی مہر نے گذشتہ روز اس واقعے کی ایک ویڈیو شائع کی جس کے جائزے پر بی بی سی ویریفائی کو معلوم ہوا کہ یہ اصل مناظر ہیں۔

اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میناب میں شجرہ طیبہ پرائمری سکول کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب کے اڈے پر میزائل حملہ ہوتا ہے۔

بی بی سی ویریفائی نے اس سے قبل سیٹلائٹ تصاویر، مصدقہ ویڈیوز اور ماہرین کے جائزے سے تصدیق کی تھی کہ سکول کے قریب علاقے پر کئی فضائی حملے کیے گئے تھے۔

حالیہ ویڈیو دیکھنے والے ماہرین نے بتایا کہ ٹوماہاک میزائل اور علاقے میں متعدد حملوں کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ یہ امریکی آپریشن تھا۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل یا ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل نہیں۔

ایک ماہر نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ ایک اکلوتے ایرانی میزائل نے بیک وقت اس مقام کو نشانہ بنایا اور اس سے اتنی ساری اموات ہوئیں۔

سنیچر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سکول پر حملے کے لیے ایران کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔

انھوں نے ایئر فورس ون پر سفر کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمیں لگتا ہے یہ ایران نے کیا کیونکہ آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے ساتھ بالکل درست نہیں۔ ان کے پاس درست نشانے کی کوئی مہارت نہیں۔‘

بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس کے مطابق امریکہ کو واقعے کے ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا تھا کہ مہلک حملے میں اس کی اپنی ذمہ داری کا قوی امکان ہے لیکن اس نے جان بوجھ کر سکول کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس کے مطابق شاید غلطی سے سکول نشانہ بنا تھا۔

اسرائیلی حکومت کے ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اس حملے میں اسرائیل کا ہاتھ نہیں تھا اور اس کی فوج سکول کے پاس آپریٹ نہیں کر رہی تھی۔

ایران نے حملے پر امریکہ اور اسرائیل کو قصوروار ٹھہرایا تاہم دونوں ملکوں نے عوامی سطح پر نہ تو ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی اس سے انکار کیا۔

بی بی سی نے نئی ویڈیو پر ماہرین کے جائزے پر موقف کے لیے امریکی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔

بی بی سی ویریفائی کے ویڈیو جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی اڈے پر ایک میڈیکل کلینک، جو ایرانی میڈیا کے بقول پاسداران انقلاب کی بحریہ کا ہے، پر ممکنہ طور پر ٹوماہاک میزائل حملہ ہوا جسے فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ کلینک سکول سے قریب 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ فوٹیج کا پہلا جائزہ آن لائن انویسٹیگیشن گروپ بیلنگ کیٹ نے کیا تھا۔

مصدقہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکول کے قریب دھواں اٹھتا ہے جس کے بعد ٹوماہاک میزائل دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوٹیج میں میزائل نظر آنے سے پہلے یہ فوجی اڈے پر گِر کر پھٹا تھا۔

یہ بی بی سی ویریفائی کے سابقہ جائزے سے مطابقت رکھتا ہے جس میں ظاہر ہوا تھا کہ سکول پر اسی دوران حملہ ہوا جب پاسداران انقلاب کے کمپلیکس کے قریب دیگر عمارتوں پر حملے ہوئے تھے۔

تین ماہرین نے مصدقہ ویڈیو میں ہتھیار کی شناخت ٹوماہاک میزائل کے طور پر کی ہے۔

میکنزی انٹیلیجنس سروسز کے سینیئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں موجود ہتھیار میں ’امریکی ٹوماہاک کی تمام نشانیاں ہیں‘ جو ہدف کے تعاقب کے آخری مراحل میں ہے۔

ٹوماہاک ایک طویل رینج کے کروز میزائل کی قسم ہے جو کئی دہائیوں سے امریکی ہتھیاروں میں شامل رہا۔ اسے آبدوز، بحری جہاز یا جنگی طیارے کہیں سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی فضائیہ کے سابق اہلکار اور اب قومی سلامتی کے تجزیہ کار ویز برائنٹ کی بھی یہی رائے ہے کہ یہ ٹوماہاک میزائل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کے کمپاؤنڈ پر متعدد حملوں کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ’سوچا سمجھا اور پریسائز‘ امریکی آپریشن تھا۔

آرمامینٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز نے اس سے قبل بی بی سی ویریفائی کو بتایا تھا کہ اس بات کے امکان نہیں کہ ایرانی میزائل نے سکول پر اس قدر نقصان پہنچایا کیونکہ ان میں ’قدرے چھوٹے دھماکہ خیز وار ہیڈ ہوتے ہیں۔‘

امریکی فوج کے سب سے سینیئر افسر جنرل ڈین کین نے 2 مارچ کو بتایا تھا کہ ایران کے جنوبی حصے میں سب سے پہلے امریکی بحریہ نے ٹوماہاک میزائل داغے تھے۔

4 مارچ کو نیوز کانفرنس کے دوران امریکی محکمۂ دفاع نے نقشہ دکھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں کے دوران کن علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان میں میناب کا علاقہ بھی شامل تھا۔

ایران میں انٹرنیٹ کی بندش سے واقعے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہوئی ہے۔

ایران میں بین الاقوامی صحافیوں پر پابندی کی وجہ سے بھی یہ سمجھنا مشکل ہوا کہ 28 فروری کو میناب میں کیا ہوا تھا۔