آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرافی مندر لے جانے پر سوریا کمار اور جے شاہ تنقید کی زد میں: ’مسجد، چرچ یا گرودوارے کیوں نہیں گئے؟‘
سوریا کمار یادیو کی قیادت میں انڈین کرکٹ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کی فاتح بنی اور گذشتہ دنوں سے ملک میں اس کا جشن منایا جا رہا ہے۔ مگر اس دوران ٹیم کے کپتان، کوچ اور آئی سی سی چیئرمین کی مندر میں ٹرافی کے ساتھ آمد نے ملک میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اتوار کو کپتان سوریہ کمار، کوچ گوتم گمبھیر اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین جے شاہ نے احمد آباد میں ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل کے بعد نریندر مودی سٹیڈیم کے قریب واقع ہنومان مندر کا دورہ کیا تھا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوریا کمار اور گبمھیر انڈین ٹیم کی جرسی میں ہیں۔
اس دوران سوریا کمار کے ہاتھ میں ٹرافی ہے اور ان کا استقبال پھول نچھاور کر کے کیا جا رہا ہے۔
تینوں کی طرف سے مندر کا دورہ کیا جاتا ہے اور شائقین کے ساتھ تصاویر بھی بنوائی جاتی ہیں۔ ایک موقع پر جے شاہ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہیلو پنڈت جی! سیتا رام۔‘
ٹائمز آف انڈیا نے اس مندر کے پنڈت کا انٹرویو شائع کیا ہے۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ میچ سے پہلے کوچ گوتم گمبھیر اور کپتان سوریا کمار نے ’ہنومان جی سے آشیرواد لیا تھا (اور دعا کی کہ) اس بار بھارت جیتنا چاہیے۔ جے شاہ بھی آئے تھے۔۔۔ انھوں نے کہا تھا اگر اس بار بھارت جیتے گا تو میں ٹرافی لے کر ہنومان جی کے پاس ضرور آؤں گا۔ بھارت جیت گیا تو ٹرافی ہنومان جی کے پاس آئی اور ان کے پاس ٹرافی رکھی گئی۔‘
مگر ان مناظر پر کرکٹ شائقین میں واضح تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔
سابق انڈین کرکٹر اور سیاسی جماعت تریمول کانگریس کے رہنما کیرتی آزاد نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’شیم آن انڈیا۔‘
ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم کپل دیو کی قیادت میں 1983 کا ورلڈ کپ جیتے تو ہماری ٹیم میں ہندو، مسلم، سکھ اور مسیحی تھے۔ ہم ٹرافی کو مادر وطن انڈیا، بھارت، ہندوستان لائے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سوال کیا کہ ’انڈین کرکٹ ٹرافی کو اس میں کیوں گھسیٹا جا رہا ہے؟ ٹرافی مسجد، چرچ یا گردوارے میں کیوں نہ لائی گئی؟ یہ ٹیم انڈیا کی نمائندگی کرتی ہے نہ کہ سوریا کمار یادیو یا جے شاہ کے خاندان کی۔‘
’سراج اسے مسجد میں نہیں لے گئے، سنجو اسے چرچ میں نہیں لے کر گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ٹرافی ’1.4 ارب انڈین شہریوں کی ہے، مذہبی فتح کی علامت نہیں۔‘
ان کے ٹویٹ کے جواب میں انڈین وزیر ستیش چندرہ دوبے نے لکھا کہ ’جب پوری قوم ورلڈ کپ میں انڈیا کی فتح کا جشن منا رہی ہے تو آپ اپنی سیاست چمکانے کے لیے تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’منفی خیالات پھیلانا اختلاف رائے نہیں بلکہ تنگ نظری ہے۔‘
لیکن سبیر بھاٹیا نامی صارف نے لکھا کہ ان مناظر نے ایک غلط پیغام بھیجا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ کھیل کو مذہب اور سیاست سے دور رکھا جائے۔
جبکہ اشوک سوان نے یاد دلایا کہ ’میچ کا بہترین کھلاڑی ایک سکھ (جسپریت بمراہ) اور ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی ایک مسیحی (سنجو سیمسن) تھا۔‘
بعض صارفین نے اس اقدام کا دفاع بھی کیا ہے۔ جیسے سونو نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’کئی ٹیمیں ٹرافی جیت کر بیئر اور شراب کے ساتھ جشن مناتی ہیں لیکن سوریا کمار ٹرافی کے ساتھ ہنومان مندر گئے۔‘
مگر ٹرافی مندر میں لے کر جانا وہ واحد معاملہ نہیں جس پر شائقین نالاں ہیں۔ ان کی رائے میں جے شاہ کو بطور آئی سی سی چیئرمین ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
جیسے پاکستانی صحافی فیضان لاکھانی نے لکھا کہ یہ عہدہ عالمی سطح پر کرکٹ کی نمائندگی کرتا ہے اور اس میں غیر جانبدار رہنا ضرورت ہے، ’نہ کہ قومی ٹیم کے جشن میں شامل ہونا۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ جے شاہ اب بھی انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ جیسا رویہ رکھ رہے ہیں۔
عامر ملک نے ان طنز کیا کہ چیئرمین آئی سی سی نے ’گورننگ باڈی کا سربراہ ہونے کے ناطے غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ یہ ایک مثال ہے کہ آپ نیوٹرل کیسے رہ سکتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں فتح کے بعد اس وقت کپتان روہت شرما اور بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ نے ٹرافی کے ساتھ ممبئی کے سدھی ونائک مندر کا دورہ کیا تھا۔