کیا پاکستان اور افغانستان کے ایک دوسرے پر حملوں کے دوران چین کی ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوں گی؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ میں کمی کے لیے چین بظاہر متحرک ہے تاہم دونوں فریقین کے ایک دوسرے پر حملوں میں کمی نہیں آئی ہے۔

جمعے کی شب افغان وزارت دفاع نے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے قریب حمزہ کیمپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق پڑوسی ملک میں دارالحکومت کابل، قندھار اور دیگر مقامات میں مجموعی طور پر 70 ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

کشیدگی میں کمی کے لیے چین دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ان دنوں کابل اور اسلام آباد کے درمیان متحرک دکھائے دیتے ہیں۔

چین نے کیا کوششیں کیں؟

جمعرات کے روز پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے معاملے پر پاکستان چین کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان افغانستان سمیت تمام معاملات پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ’ہم افغانستان کے معاملے پر بات چیت کے عمل کا حصہ ہیں۔ افغانستان ہمارے بات چیت کے دو طرفہ اور سہہ فریقی دونوں قسم کے فریم ورک میں آتا ہے۔‘

افغانستان اور چین کی طرف سے ان ملاقاتوں کی پہلے ہی تصدیق کی جا چکی ہے۔ چند روز قبل چین کے کابل میں سفیر اور چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے افغان دارالحکومت میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی۔

چین کی وزارت خارجہ نے ایک حالیہ بیان میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے متحرک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک میں چین کے سفارتخانے دونوں فریقین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔‘

روئٹرز کے مطابق بیجنگ نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کروانے کے خواہاں ہیں۔ ’فوری طور پر ٹاسک یہ ہے کہ لڑائی کو پھیلنے سے روکا جائے اور فریقین کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔‘

جمعے کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے بتایا کہ ان کی اپنے چینی ہم منصب ڈاکٹر یوئی ژیاوژانگ سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جو جمعے کی صبح کابل سے اسلام آباد پہنچے ہیں۔

’ہم نے پاکستان اور چین کو تحریک طالبان پاکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) جیسے دہشت گروپوں کی طرف سے درپیش خطرات پر بات چیت کی۔ ہم نے دائمی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے باہم کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔‘

تاہم چینی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کے اسلام آباد آمد سے چند گھنٹے قبل ہی جمعرات اور جمعے کی درمیان شب پاکستان نے افغانستان کے اندر ایک مرتبہ فوجی کارروائیاں کیں۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں سے منسلک تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔‘ اس کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ان کارروائیوں کے جواب میں افغان طالبان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے جمعہ کی شام فیض آباد کے نزدیک واقع اہم فوجی تنصیب ’حمزہ (کیمپ)‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری اس بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے وہاں موجود کمانڈ سینٹر اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جس میں کافی نقصان ہوا ہے۔

ایسے میں جب چین دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے لیکن دونوں اطراف سے فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں تو سوال یہ ہے کہ چین جنگ بندی کروانے میں کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے۔

مگر پہلے یہ جاننا بھی اہم ہے کہ چین کیوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کرنے کا خواہاں ہے۔

چین کے ’معاشی اور سیاسی مفادات‘

صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان کہتے ہیں کہ چین کے پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں میں مالی مفادات بھی ہیں اور سیاسی طور پر بھی وہ خطے میں اپنے مفادات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ چین نے دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس لیے وہ خطے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد ’چین وہ پہلا ملک تھا جس نے چین میں افغان سفارتکار کو عہدہ سونپنے کے دستاویزات قبول کیے اور اپنا سفیر کابل بھیجا۔ اس نے ہی افغانستان کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل کرنے کی پیشکش کی۔‘

صحافی طاہر خان کہتے ہیں کہ چین اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے کوششیں کرتا آیا ہے۔ سنہ 2018 میں چین ہی کی کوششوں سے بات چیت کا سہہ فریقی فورم بنا تھا۔ اس کے بعد سے چین کی یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے۔

وہ کہتے ہیں کہ چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کابل اور اسلام آباد کے درمیان باقاعدگی سے سفر کرتے رہتے ہیں ’لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر شٹل ڈپلومیسی کر رہے ہیں۔‘ یعنی وہ دونوں ملکوں کے درمیان پیغامات لے کر آ جا رہے ہیں۔

سنگاپور کے راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینیئر ایسوسی ایٹ عبدالباسط کہتے ہیں کہ چین نے پاکستان اور چین دونوں کے اندر انرجی اور ٹیلی کام کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہ ضرور چاہے گا کہ وہ اس سرمایہ کاری کو محفوظ بنائے۔

تاہم عبدالباسط کہتے ہیں کہ جیو اکنامک مفادات کے ساتھ ساتھ چین کے خطے کے اندر جیو پولیٹیکل یا سیاسی مفادات بھی ہیں۔

’پاکستان کے تو مفاد میں ہے کہ امریکہ اس میں ساتھ مل جائے لیکن چین کے یہ مفاد میں نہیں ہے۔ اس لیے اگر تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھیں تو چین یہ چاہے گا کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے بجائے اس کے کہ کل کو امریکہ کی مداخلت کا کوئی امکان پیدا ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یاد رہے کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلا کا سب سے زیادہ فائدہ جس ملک کو ہوا تھا وہ چین ہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس خطے میں چین کے جیو اکنامک، جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی مفادات ہیں۔

چینی ثالثی کے باوجود فوجی کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب پاکستان کی طرف سے کابل، پکتیا اور قندھار میں فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ خیال رہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب چین کی طرف سے ثالثی کا آغاز پہلے ہی کر دیا گیا تھا۔

صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے موقع پر پاکستان کی طرف سے کارروائی غیر متوقع تھی۔

ان کا ذاتی موقف ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ’پاکستان کو چین اور ترکی کی ثالثی کی کوششوں میں افغان طالبان کی طرف سے وہ مطلوبہ ضمانتیں نہیں ملیں جو وہ چاہتا ہے۔‘

صحافی طاہر خان کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان کو اب یہ معلوم ہو گیا ہے کہ جب سے افغانستان کی طرف سے سرحد پر حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے تب سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

’ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بالکل ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ ان کی شدت میں کمی آئی ہے۔ حال ہی میں لنڈی کوتل میں ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے لیکن اس سے پہلے ایسے حملوں کی شدت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ پاکستان نے فوجی کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان پر جو دباؤ ڈالا ہے وہ چاہتے ہیں اس کو قائم رکھا جائے تا کہ ثالثی کی کوششوں کے دوران ثالثوں کو افغان طالبان کی طرف سے وہ ضمانتیں مل سکیں جو پاکستان حاصل کرنا چاہتا ہے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ چین کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ عید سے قبل پاکستان اور افغانستان کو جنگ بندی پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

سنگاپور کے راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینیئر ایسوسی ایٹ عبدالباسط نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو اب یہ سمجھ ہے کہ اس کے پاس موقع ہے۔

’امریکہ اس وقت مشرق وسطی میں مصروف ہے اور ورلڈ آرڈر ایک گراوٹ کی سی صورتحال کا شکار ہے، اس لیے پاکستان کو معلوم ہے کہ اس وقت کوئی ایسی پوچھ گچھ کا ماحول نہیں ہے اور وہ بہت سی چیزوں میں بچ کر نکل سکتا ہے۔ وہ سوچے گا کہ اس وقت اس کے پاس موقع ہے۔‘

ساتھ ہی عبدالباسط یہ بھی کہتے ہیں کہ اب جب تک افغان طالبان پاکستان کو تحریری طور پر وہ ضمانتیں نہیں دیتے جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں اس وقت تک پاکستان کا جنگ بندی پر راضی ہونا مشکل ہو گا۔

’کیونکہ اس کے بعد پاکستان کے پاس یا تو یہ آپشن باقی بچے گا کہ وہ افغانستان پر زمینی جنگ کر کے قبضہ کر لے یا پھر یہ کہ وہ افغان طالبان کی قیادت کے لوگوں کے خلاف براہ راست کارروائی کرے لیکن اس قسم کے انتہائی اقدامات کا مطلب ہو گا کھلی جنگ جو کہ پاکستان نہیں کرنا چاہے گا۔‘

یہی وجہ ہے کہ عبدالباسط سمجھتے ہیں کہ اپنے مطالبات سے کم پر ماننے کی اب پاکستان کے پاس گنجائش نہیں ہے۔

کیا چین اس ثالثی میں کامیاب ہو سکے گا؟

عبدالباسط کہتے ہیں کہ چین پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک پر کافی بھاری اثر و رسوخ رکھتا ہے تاہم دونوں ملکوں کے بنیادی یا اصولی موقف میں بہت بڑا فرق نظر آتا ہے۔

ایک طرف افغانستان ہے جو یہ تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی اس کی سرزمین پر موجودگی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس کا موقف ہے کہ پاکستان اس کو افغانستان پر مسلط کر کے اپنے اندرونی مسائل سے جان چھڑوا رہا ہے۔

جبکہ دوسری طرف پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی اور دہشت گرد گروپوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے، انھیں مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا اور انھیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں جس میں عام لوگ اور فوجی اہلکار مر رہے ہیں۔

’اگر تو چین دونوں ملکوں کے ان بنیادی موقف کے فرق کو ختم کروا سکتا ہے تو پھر تو اس کو ثالثی میں اس کو کامیابی مل سکتی ہے لیکن ایسا ہوتا مشکل نظر آ رہا ہے۔‘

صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان بھی ان کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے مطالبات کو دیکھیں تو پاکستان کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ افغان طالبان یہ تحریری گارنٹی دیں کہ پاکستان کے اندر کوئی دہشت گردی کی کارروائی نہیں ہو گی۔

’افغان طالبان کہتے ہیں کہ وہ کابل کے اندر یہ گارنٹی نہیں دے سکتے کہ دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ پاکستان کے اندر کیسے دے سکتے ہیں۔‘

عبدالباسط کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین کا اثر و رسوخ دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہے لیکن کوئی بھی اثر و رسوخ کسی ملک کی قومی سلامتی کی قیمت پر نہیں لیا جاتا۔

اگر افغان طالبان کو لے لیں تو ٹی ٹی پی کو چھوڑ دینا ان کے نظریات کے منافی ہو گا اور ان کی سیاسی موت ہو گی۔ ان کو ساتھ رکھنا افغان طالبان کو ایک نظریاتی جواز فراہم کرتا ہے۔

’افغان طالبان ہمیشہ سے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے لوگوں کے سامنے خود کو کمزور نہیں دکھا سکتے۔ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ پاکستان نے ان پر کچھ بم گرائے اور وہ کہیں کہ ہم ٹی ٹی پی کو آپ کے حوالے کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب پاکستان کو دیکھیں تو پاکستان افغان طالبان کو اپنے مطالبات پر قائل کرنے کے لیے تمام تر حربے استعمال کر چکا ہے۔ اس نے سرحدیں بند کرنے سے لے کر افغان مہاجرین کو ملک سے نکالنے اور تجارت بند کرنے تک تمام طریقے استعمال کر لیے ہیں لیکن کوئی کارگر ثابت نہیں ہوا۔

’اب پاکستان کہتا ہے کہ اگر اس نے جنگ ہی لڑنی ہے تو وہ جنگ پھر اپنی شرائط پر لڑے گا اور اس کے بعد اس کے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے۔‘

اس لیے عبدالباسط کہتے ہیں کہ اس بات کے امکانات کم ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت ثالثی میں چین کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل کر پائے گا۔

صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان کا کہنا ہے دوسری طرف افغان طالبان یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستان کے اندر نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش کے ٹریننگ کیمپس ہیں۔ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

’تو پھر کابل یہ کہتا ہے کہ پھر آپ کم از کم یہ تو تحریری طور پر دیں کہ ہمارے اس حوالے سے خدشات ہیں لیکن پاکستان اس سے انکاری ہے۔ پاکستان ایسا کر نہیں سکتا کیونکہ اگر وہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ تسلیم کر رہا ہے کہ داعش کے پاکستان میں کیمپ موجود ہیں۔‘

ٹی ٹی پی کے معاملے پر افغان طالبان یہ موقف اپناتے ہیں کہ پاکستان ان سے بات چیت کرے۔ ’لیکن پاکستان کی حالیہ حکومت نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے اور وہ پالیسی یہ ہے کہ دہشت گردوں سے اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کے خلاف صرف کارروائی ہو گی۔‘

اس لیے طاہر خان بھی سمجھتے ہیں کہ اس بات کے امکانات کم ہیں کہ چین کو دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی میں زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے قبل سعودی عرب کی طرح چین بھی یہی کوشش کرے گا کہ دونوں ممالک کو زیادہ بڑے مسائل ایک طرف رکھ کر پہلے فوری نوعیت کے مسائل کو حل کرنے پر قائل کیا جائے۔

یعنی ان کے خیال میں چین دونوں ممالک کو عید سے قبل جنگ بندی پر راضی کرنے کی کوشش کرے گا اور باقی بڑے مسائل کو اس کے بعد مذاکرات کی میز پر لانے پر زور دے گا۔