نہال ہاشمی کی بطور گورنر تقرری اور ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی: سندھ میں اس تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں؟

    • مصنف, روحان احمد اور عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان کے صدر آصف زرداری نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سفارش پر نہال ہاشمی کی بطور سندھ کے گورنر تقرری کی منظوری دے دی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس نے جمعرات کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ شہباز شریف نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک سمری منظوری کے لیے صدر آصف علی زرداری کو بھجوائی گئی ہے۔

بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے نہال ہاشمی سے ملاقات کی اور انھیں ’گورنر سندھ کی تعیناتی پر مبارکباد‘ دی۔

شہباز شریف حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے موجودہ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے نہال ہاشمی کو مبارکباد دی ہے۔

ایک تقریب کے دوران صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے خبر ٹی وی پر دیکھی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی ساری زندگی ایک منصب پر نہیں رہتا، میں گونگا، بہرا اور ڈمی گورنر نہیں تھا اور نہ رہنا چاہتا ہوں۔‘

’میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں وزیرِ اعظم صاحب کا، میں مبارکباد دیتا ہوں نہال ہاشمی بھائی کو کہ وہ آئیں اور سارے کام جو ہم نے پونے چار سالوں میں شروع کیے ہیں انھیں جاری رکھیں۔‘

کراچی سے تعلق رکھنے والے 66 سالہ نہال ہاشمی کئی دہائیوں سے نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں۔

وہ اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں ان کے مشیر برائے قانون و انصاف رہے جبکہ کراچی میں مسلم لیگ ن کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ مارچ 2015 سے فروری 2018 تک سینیٹر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

فروری 2018 میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے جرم کا مرتکب قرار دے کر ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی اور انھیں پانچ برس کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

نہال ہاشمی جنھیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا تھا

مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی پہچان متوسط طبقے سے تعلق اور نواز شریف کے ساتھ دیرینہ وابستگی ہے۔

وہ اُس وقت بھی مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے جب سنہ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد پرویز مشرف اقتدار میں آ چکے تھے اور سندھ، بالخصوص کراچی میں نواز شریف کی جماعت کے نام لیوا بہت کم تھے اور جو تھے وہ یا تو جیل میں تھے یا جیل جانے سے بچنے کے لیے چھپتے پھرتے تھے۔

ایسے وقت میں نہال ہاشمی، جو کراچی کی ذیلی عدالتوں میں وکالت کرتے تھے، طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں نواز شریف کی عدالت حاضری کے وقت ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔

نہال ہاشمی نواز شریف کے قریب تو بہت تھے لیکن کبھی بھی ان کے سنجیدہ مشاورتی حلقے میں شامل نہیں رہے۔ اس کی وجہ ان کے مزاج کا جذباتی پن بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی میٹنگز میں بھی بعض اوقات ایسی بات کر جاتے جس پر ان کے علاوہ شرکا کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑتا۔

یہی جذباتی پن بالآخر ان کے جیل جانے کا باعث بنا۔

فروری 2018 کے دوران سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

انھیں پانچ برس کے لیے کوئی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نا اہل بھی قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا از خود نوٹس لیا تھا جس میں انھیں پاناما لیکس کیس میں تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) اور سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیتے سنا جا سکتا تھا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی جانب سے اسے نہال ہاشمی کی ذاتی رائے قرار دیا گیا تھا اور نواز شریف نے نہال ہاشمی کو سینیٹر کی نشست سے مستعفی ہونے کا کہہ کر ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی تھی۔

ابتدائی طور پر نہال ہاشمی نے اپنا استعفیٰ سینیٹ میں جمع کروا دیا تھا تاہم پھر 31 مئی کو انھوں نے چیئرمین رضا ربانی سے استعفے کی واپسی کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی۔

تبدیلی پر اتحادی جماعتوں کا ردعمل

پاکستان مسلم لیگ ن کی ایک اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کی تائید کی جبکہ دوسری اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی ترجمان سعدیہ جاوید نے اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے گورنر کی تقرری کا فیصلہ وفاقی حکومت کا استحقاق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عام انتخابات کے بعد پی پی پی اور ن لیگ میں سمجھوتہ ہوا تھا کہ دو صوبوں میں پیپلز پارٹی اور دو صوبوں میں ن لیگ کے گورنر ہوں گے۔‘

ان کے مطابق ’تین صوبوں میں اس انڈرسٹینڈنگ پر عمل ہو گیا تھا، ہمارا تو مطالبہ تھا کہ سندھ میں بھی عمل کیا جائے۔‘

اس کے علاوہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نہال ہاشمی کی تقرری پر ان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ’نہال ہاشمی اپنے سیاسی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبے میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں گے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم مسلم لیگ ن کی حلیف جماعت ہے اور گورنر کا ایک آئینی عہدہ اس کا حق ہے جس سے محروم کیا جا رہا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ایسے یکطرفہ فیصلے کے بعد ان کی جماعت کے حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں، ’ہمیں فی الفور وفاقی حکومت سے باہر آ جانا چاہیے۔‘

فاروق ستار کے مطابق یہ روایت رہی ہے کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم کا ہوتا ہے۔

تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کامران ٹیسوری کو ہٹانے کی فوری وجہ کچھ دن پہلے گورنر ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب بنی۔

ان کے مطابق اس تقریب میں وفاق سے کراچی کے معاملات میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات بھی کی گئی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مظہر عباس نے بتایا کہ گورنر ہاؤس کی اس تقریب میں جو تقاریر کی گئیں اور جو مطالبات کیے گئے، ان کے خلاف سندھ اسمبلی نے باقاعدہ ایک قرارداد پاس کی تھی۔

’اُس وقت پیپلز پارٹی نے براہ راست وفاق کو بتا دیا تھا کہ کامران ٹیسوری گورنر سندھ کے طور پر مزید قبول نہیں۔‘

مظہر عباس نے کہا ’یہ انتظامی سے زیادہ سیاسی فیصلہ تھا۔‘

تجزیہ کار عامر ضیا کے مطابق پیپلز پارٹی کامران ٹیسوری کے ایکٹویزم سے خوش نہیں تھی اور وہ ن لیگ پر گورنر کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی سمجھتی ہے (کامران ٹیسوری کی وجہ سے) سندھ کا گورنر ہاؤس ایم کیو ایم کے زیر استعمال تھا۔‘

سہیل رب خان ان صحافی و تجزیہ کاروں میں سے ہیں جو گذشتہ کئی دہائیوں سے ایم کیو ایم اور سندھ کی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گُل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد گورنر ہاؤسمیں ایم کیو ایم رہنماؤں کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں انتظامی سطح پر سندھ میں ایک نیا صوبہ بنانے کی بات کی گئی تھی۔‘

’یہ بات نہ پی پی پی کو پسند آئی اور نہ قوم پرست جماعتوں کو پسند آئی۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے تو جناح گراؤنڈ میں احتجاج کا بھی اعلان کیا تھا۔‘

سہیل رب خان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں صدر آصف زرداری نے خود دلچسپی لی تھی اور یہی اصل وجہ بنی کامران ٹیسوری کی تبدیلی کی۔

کیا ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی پر عمل کر سکتی ہے؟

سندھ میں گورنر کی تبدیلی پر ایم کیو ایم پاکستان اس وقت سخت ناراض آ رہی ہے اور اس کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ اب ان کی جماعت کا حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

جب ن لیگ کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی ایم کیو ایم پاکستان سے مشاورت ہوئی تھی اور وہ ’ہماری ایک اہم اتحادی جماعت ہے، جس کے تحفظات ہم دور کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے نامزد گورنر نہال ہاشمی سے ملاقات میں ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو بھی دعوت دی گئی تھی۔

’لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ اس ملاقات میں نہیں آ سکتے کیونکہ وہ کراچی میں ہیں۔‘

سندھ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ ایم کیو ایم پاکستان حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی پر عمل کرے گی۔

سہیل رب خان کہتے ہیں کہ ’ایم کیوا یم پاکستان اب پہلے جیسی طاقت نہیں رکھتی۔ وہ ماضی میں بھی ایسے بیانات دیتے رہے ہیں لیکن انھوں نے کبھی عمل نہیں کیا۔‘

’آپ آج ہی کی مثال لے لیں گورنر کی تبدیلی کے بعد نہ کوئی بڑی پریس کانفرنس ہوئی اور نہ ہی کوئی ہنگامی اجلاس ہوا، صرف ڈاکٹر فاروق ستار کی طرف سے ایک بیان آیا جو کہ کامران ٹیسوری کے ذاتی دوست بھی ہیں۔‘

تجزیہ کار مظہر عباس بھی کچھ ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اس وقت کوئی سخت فیصلہ لینے کی پوزیشن میں نہیں۔

ان کے مطابق اس وقت ایم کیو ایم پاکستان میں دو آرا پائی جاتی ہیں، ایک یہ کہ گورنر کو ہٹانے کے فیصلے کے خلاف حکومت سے الگ ہوا جائے، دوسری رائے یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے وزیر اپنے عہدوں سے استعفے دے دیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم اپنا احتجاج تو ریکارڈ کرائے گی لیکن حکومت کی مخالفت نہیں کرے گی۔‘