کراچی میں ’شیطانی مجسمے‘ کی وائرل ویڈیو پر پولیس کی وضاحت: مقدس کُتب میں سانڈھ کی شکل والے دیوتا ’بعل‘ کی کہانی کیسے بیان ہوئی؟

    • مصنف, وقار مصطفیٰ اور محمد زبیر خان
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان میں گذشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر لگ بھگ 10 فٹ بلند اور تھرماپول سے بنے ایک ’شیطانی مجسمے‘ کی ویڈیو وائرل ہے اور آن لائن اس معاملے سے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں تاہم اب کراچی پولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات اِن قیاس آرائیوں کے برعکس ایک مختلف کہانی پیش کر رہی ہیں۔

’مہران ٹاؤن، کورنگی کراچی میں عالمگیر کے پاس یہ شیطانی مجسمہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کو باقاعدہ کسی پروگرام کے اندر انھوں نے نصب کرنا ہے۔ انتظامیہ جلد از جلد اس بارے میں نوٹس لے۔۔۔‘ یہ ایک ابتدائی ویڈیو تھی جسے فلم کرنے والے شخص کو یہ کہتے سُنا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو میں ایک سڑک کے کنارے یہ مجسمہ موجود ہے جبکہ سڑک پر معمول کی ٹریفک رواں دواں ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو پورے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں بھی اس کی وسیع پیمانے پر کوریج ہوئی۔

یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہیں کراچی کے متعلقہ مقامی تھانے کی پولیس اس مقام پر پہنچی اور اس مجسمے کو تھانے میں منتقل کر دیا گیا۔

کراچی پولیس کی جانب سے مقامی میڈیا کے نمائندوں کو بھیجی جانے والی ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار یہ بتاتا ہے کہ ’ہم اِس کو اٹھا کر یہاں لے آئے ہیں، یہ فوم کا بنا ہوا ہے، ابھی تک ہمیں اس کا مالک نہیں ملا۔ وہ مل جائے تو پتا چلے گا کہ اس مجسمہ ساز نے کس نیت سے یہ مجسمہ تیار کیا۔‘

ایس ایچ او تھانہ کورنگی ناصر محمود کے مطابق ’جیسے ہی یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو ہم نے اسے ڈھونڈنے کا کام شروع کیا، پہلے تو وہ جگہ ملنے میں مشکل ہوئی جہاں یہ مجسمہ موجود تھا، افطاری کا وقت تھا اور دکانیں بند تھیں، مگر ہم نے تالے کھلوائے اور اُس دکان تک پہنچے جہاں یہ مجسمہ موجود تھا۔ اس کے بعد دکان کے مالک اور جس شخص کو کرائے پر دکان دی گئی تھی ان کا پتا چلایا گیا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ناصر محمود نے کہا کہ اب تک ہونے والی تحقیقات کے مطابق یہ بنانے کا آرڈر ایک مذہبی جماعت نے دیا تھا جسے انھوں نے یوم القدس کے موقع پر ہونے والی ریلی کے دوران نذرِ آتش کرنا تھا۔

ایس ایچ او کے مطابق مجسمہ برآمد کرنے کے بعد اسے بنانے والے کاریگر سے پوچھ گچھ کی گئی تو انھوں نے اس شخص کا نام اور نمبر دیا جنھوں نے اس کا آرڈر دیا تھا اور جب اس شخص سے تحقیقات کی گئیں تو انھوں نے بتایا کہ اس مجسمے کو یوم القدس کے موقع پر نذر آتش کرنے کے لیے بنایا جا رہا تھا۔

ناصر محمود کے مطابق پولیس نے مذکورہ مذہبی جماعت کے رہنماوں کو بھی طلب کیا مگر تاحال وہ نہیں آئے مگر اب مجسمہ تیار کرنے والے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک اس معاملے میں کوئی ملزم یا قصوروار نہیں اور پولیس کی کوشش ہے کہ وہ مذہبی جماعت کے اُس رہنما سے تحریری بیان حاصل کر لے جنھوں نے اسے بنانے کا آرڈر دیا تھا۔

مقدس کُتب میں ’بعل‘ کی کہانی کیسے بیان کی گئی؟

یاد رہے کہ لگ بھگ ایک ماہ پہلے یعنی 11 فروری 2026 کو ایران میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والی ریلیوں میں ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرین کی جانب سے ایک بڑے مجسمے کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔

سینگوں والے بیل کی صورت میں ایک کرسی پر بیٹھے اس پتلے کو منتظمین نے ’بعل‘ قرار دیا۔ اس قدیم دیوتا کا ذکر مسیحیت اور یہودیت دونوں میں مرکزی حیثیت رکھنے والے مذہبی متون کے مجموعے بائبل اورمسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن میں ایک جھوٹے معبود کے طور پر کیا گیا ہے۔

کراچی میں ملنے والا مجسمہ بھی ’بعل‘ جیسا ہے۔

مفسرینِ قرآن کے مطابق بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ قرآن میں کئی مقامات پر اس لفظ کو ’شوہر‘ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔

مسلم سکالر جاوید احمد غامدی کی تفسیر میں لکھا ہے کہ زمانۂ قدیم کی سامی زبانوں میں لفظِ بعل ’اِلٰہ‘ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا، چنانچہ ایک خاص دیوتا کو اُنھوں نے یہی نام دے رکھا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’لبنان کی فینیقی قوم کا سب سے بڑا دیوتا یہی بعل تھا اور اُس کی بیوی عستارات اُن کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ اسرائیل کے بادشاہ اخی اب نے جب صیدا (موجودہ لبنان) کی شہزادی ایزبل سے شادی کر لی تو اُس کے اثر سے بعل پرستی بنی اسرائیل میں بھی پھیل گئی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔‘

ابو الاعلیٰ مودودی کی تفسیر ’تفہیم القرآن‘ سے علم ہوتا ہے کہ گویا بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی اور خصوصاً لبنان، اور شام و فلسطین میں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اُردن میں آباد ہوئے اورمشرک قوموں کے ساتھ اُن کے معاشرت کے تعلقات بنے تو اُن کے اندر بھی اس (بعل پرستی) کا رواج ہوا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق بعل کی عبادت قدیم مشرقِ وسطیٰ کی بہت سی اقوام میں کی جاتی تھی، خصوصاً کنعانیوں میں۔ بظاہر وہ اسے زرخیزی کا دیوتا اور اپنے دیوتاؤں کے مجموعے (پینتھیون) کے اہم ترین خداؤں میں سے ایک سمجھتے تھے۔

بعل کی شخصیت اور اس کے افعال کے بارے میں ہماری معلومات زیادہ تر اُن مٹی کی تختیوں سے حاصل ہوتی ہیں جو سنہ 1929 کے بعد شمالی شام کے شہر اوگاریت (موجودہ راس شمرا) سے دریافت ہوئیں اور جن کا تعلق دوسری ہزارہ قبل مسیح کے وسط سے ہے۔

یہ تختیاں اگرچہ بعل کے مقامی مندر کی عبادت سے متعلق تھیں، لیکن غالباً وہ عمومی کنعانی عقائد کی نمائندگی بھی کرتی ہیں۔

آدم آگسٹین کی انسائیکلوپیڈیا کے لیے تحقیق ہے کہ ان عقائد میں زرخیزی کو سات سالہ ادوار میں سمجھا جاتا تھا۔ کنعانی اساطیر کے مطابق بعل، جو زندگی اور زرخیزی کا دیوتا تھا، موت نامی دیوتا سے، جو موت اور بانجھ پن کی علامت تھا اور مہلک جنگ کرتا تھا۔ ’اگر بعل غالب آ جاتا تو سات سال تک زرخیزی اور خوشحالی کا دور آتا، لیکن اگر وہ موت کے ہاتھوں مغلوب ہو جاتا تو سات سال تک قحط اور خشک سالی کا زمانہ رہتا۔‘

’تقریباً 1400 قبل مسیح میں نئے مصری عہدِ سلطنت کے آخری دور سے لے کر 1075 قبل مسیح تک مصر میں بھی بعل کی عبادت مقبول رہی۔ بعد میں آرامیوں کے اثر سے، جنھوں نے بابلی تلفظ 'بیل' اپنایا، یہ دیوتا یونانی دنیا میں بیلوس کے نام سے معروف ہوا اور اسے زیوس کے ساتھ مماثل سمجھا گیا۔ بعل کو مختلف علاقوں میں مقامی دیوتا کے طور پر بھی پوجا جاتا تھا۔‘

عبرانی صحائف میں اکثر کسی مخصوص مقام کے بعل کا ذکر ملتا ہے یا جمع کی صورت بعلیم کا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں کے اپنے اپنے ’آقا‘ یا دیوتا تھے۔

’لیکن نویں صدی قبل مسیح میں ایزبل کے اس منصوبے کے بعد کہ وہ اسرائیل میں اپنے فینیقی بعل کے مذہب کو یہوواہ کی سرکاری عبادت کے مقابلے میں رائج کرے، بعل کا نام اسرائیلیوں کے لیے قابلِ نفرت بن گیا۔ آٹھویں صدی قبل مسیح کے وسط تک بعل پرستی کے خلاف مخالفت اتنی شدید ہو چکی تھی کہ لفظ بعل کی جگہ اکثر تحقیر آمیز لفظ بوشَت یعنی ’شرم‘ استعمال ہونے لگا۔ چنانچہ بعض مرکب ناموں میں ایش بوشَت نے پرانے نام ایش بعل کی جگہ لے لی۔‘

بائبل کے مطابق حضرت موسیٰ کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن نون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رونما ہونا شروع ہو گیا تھا۔ جیسا کہ یہاں بیان ہے کہ ’اور بنی اسرائیل نے خدا کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے اور وہ خداوند کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے۔‘

’سو بنی اسرائیل کنعانیوں، حتّیوں، اموریوں، فِرِزّیوں اور یبوسیوں کے درمیان بس گئے اور (اُن کی) بیٹیوں سے آپ نکاح کرنے اور اپنی بیٹیاں ان کے بیٹوں کو دینے اور ان کے دیوتاؤں کی پرستش کرنے لگے۔‘

بائبل کے بیان کے مطابق ان کی ایک بستی میں علانیہ بعل کا مذبح بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔

’ایک خدا پرست اسرائیلی اس حالت کو برداشت نہ کر سکا اور اس نے رات کے وقت چپکے سے یہ مذبح توڑ دیا۔ دوسرے روز ایک مجمع کثیر اکٹھا ہو گیا اور وہ اس شخص کے قتل کا مطالبہ کرنے لگا جس نے شرک کے اس اڈے کو توڑا تھا۔‘

یہی زمانہ ہے، جب حضرت الیاس بنی اسرائیل میں نبوت کرنے کے لیے شہر ’بَعْلَبَک‘ میں مبعوث ہوئے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھا جس کا نام ’بعل‘ تھا۔ اسی بت کے نام پر اس شہر کا نام ’بعلبک‘ رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔

بعل کے پجاری اپنے دیوتا سے بلند آوازوں، پُرجوش چیخوں اور خود کو زخمی کرنے کی حامل انتہائی جذباتی رسومات کے ساتھ التجا ئیں کرتے تھے۔

غامدی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس حضرت ہارون کی نسل سے اور جلعاد کے رہنے والے تھے۔ اِن کا زمانہ محققین 875 اور 850قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ بائبل میں اِن کا ذکر ایلیا تشبی کے نام سے کیا گیا ہے۔

’یعنی بنی اسرائیل سے، جن کی سلطنت کے اُس زمانے میں دو حصے ہو چکے تھے۔ ایک حصہ آل داؤد کے قبضے میں تھا اور دوسرے پراخی اب کی حکومت تھی۔ حضرت الیاس نے دونوں میں فریضۂ نبوت ادا کیا۔‘

قرآن کی سورہ الصافات میں ہے کہ ’الیاس نے اپنی قوم سے کہا: تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟ کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور اُسے چھوڑ دیتے ہو جو بہترین پیدا کرنے والا ہے؟ اللہ کو، جو تمھارا بھی پروردگار ہے اور تمھارے اگلے باپ دادوں کا بھی؟ بالآخر اُنھوں نے اُسے جھٹلا دیا۔‘

ان حالات میں حضرت الیاس کو ملک چھوڑنا پڑا اور چند سال تک وہ کوہ سینا کے دامن میں پناہ گزین ہوئے۔

ان کی خداوند سے فریاد بائبل میں یوں ہے کہ ’بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں۔‘