سندھ کے نئے گورنر: ’آج کامران ٹیسوری جیت گیا اور ایم کیو ایم ہار گئی‘

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں سونے کے کاروبار سے وابستہ کامران ٹیسوری سندھ کے 34 ویں گورنر بن گئے ہیں۔ تقریباً آٹھ برس کے وقفے کے بعد ایم کیو ایم کا گورنر اس منصب پر فائز ہوا ہے۔ ایم کیو ایم میں ان کی شمولیت متنازع رہی اور اس کی وجہ سے تنظیم کو دھڑا بندی کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی تقرری دھڑوں کے انضمام کی وجہ بنے گی یا مزید تقسیم ہوگی۔

اولین امیدوار نسرین جلیل پر اعتراض

سندھ کے گورنر کا منصب رواں سال اپریل سے خالی تھا، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے عمران خان کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ عدم اعتماد کی تحریک میں ایم کیو ایم پاکستان نے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا تھا۔

ایم کیو ایم کو دو وفاقی وزارتیں دی گئیں جبکہ گورنر کے امیدوار کے لیے نسرین جلیل کا نام تجویز کیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر فیصل سبزواری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نسرین جلیل کا نام ترجیح کی بنیاد پر دیا گیا جبکہ دیگر امیدواروں میں ایم کیو ایم کے سینیئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، سابق میئر وسیم اختر، کشور زہرہ اور عامر چشتی شامل تھے۔

لیکن بعض حلقوں نے نسرین جلیل کی نامزدگی پر اعتراض اٹھایا اور ان کا ایک خط منظر عام پر آیا جو انھوں نے انڈین ہائی کمیشن کو لکھا تھا۔ کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کی جانب سے نسرین جلیل کے دستخط سے دنیا کے 50 سے زائد سفارتخانوں کو خطوط بھیجے گئے تھے، جن میں انڈین سفارتخانہ بھی شامل تھا جس میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی جبری گمشدگی کے بارے میں آگاہی دی گئی تھی۔

بی بی سی کی جانب سے جب نسرین جلیل سے رابطہ کیا گیا کہ انھیں گورنر کیوں نہیں بنایا گیا تو انھوں نے اس پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

کامران ٹیسوری کی دوبارہ انٹری

ایم کیو ایم پاکستان نے رواں سال 11 ستمبر کو کامران ٹیسوری کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے پارٹی کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلایا تھا اور انھیں پارٹی کا ڈپٹی کنوینیر مقرر کیا گیا، یہ فیصلہ کنوینیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا تھا۔

ان کی بطور ڈپٹی کنوینیر تعیناتی متفقہ فیصلہ تھا اور نہ ہی اسے قبول کیا گیا۔ اس اجلاس میں پارٹی کے کئی سینیئر رہنما غیر حاضر رہے اور بعد میں ان میں سے کئی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان کے صدر عارف علوی نے اتوار کو کامران ٹیسوری کی بطور گورنر تعیناتی کی منظوری دے دی۔ ایم کیو ایم کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پہلے مرحلے میں جو پانچ نام دیے گئے تھے ان میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی تھی، مشاورت سے دوسرے مرحلے میں سابق ایم این اے عبدالوسیم اور کامران ٹیسوری کے نام تجویز کرکے وفاق کو بھیجے گئے تھے۔

کامران ٹیسوری کون ہیں؟

کراچی کی معروف سڑک زیب النسا سٹریٹ پر ٹیسوری گولڈ کی ایک قدیم دکان موجود ہے جو کامران ٹیسوری کی فیملی کی ملکیت ہے۔ گولڈ کی تجارت ان کا فیملی بزنس ہے جو کراچی سے لے کر ہانگ کانگ تک پھیلا ہوا ہے۔

کامران ٹیسوری منی چینجر اور ریئل سٹیٹ کے کاروبار سے بھی منسلک رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دے کر منہدم کی گئی عمارت تجوری ہائیٹس میں بھی ان کی حصہ داری تھی۔

کامران ٹیسوری نے اپنے سیاسی سفر کے چند سالوں میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ زبیر موتی والا اور مفتاح اسماعیل سمیت کراچی کے کئی بڑے تاجر صنعت کار اور بینکار ہیں، جو سیاست کی دنیا میں آئے۔

کامران ٹیسوری کی قربت سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے ساتھ بڑھی اور بعد میں انھوں نے مسلم لیگ ف میں شمولیت اختیار کرلی لیکن وہاں کچھ عرصے بعد ہی اندرونی اختلافات کی وجہ سے انھیں مستعفی ہونا پڑا۔

کامران ٹیسوری نے شہر کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم میں شمولیت کی کوشش کی لیکن اندرونی مخالفت کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ بعد میں جب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور اس کی سربراہی ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس آئی تو کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں آ گئے۔

ٹیسوری کی شمولیت اور اختلافات

کراچی میں جاری آپریشن کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان ایک دشوار دور سے گزر رہی تھی۔ کئی رہنما اور ہمدردوں نے دوری اختیار کرلی یا پارٹی چھوڑ دی۔

کامران ٹیسوری نے مالی طور پر بھی تنظیم کی معاونت کی اسی عرصے میں انھیں رابطہ کمیٹی میں شامل کردیا گیا۔ کراچی کے صوبائی حلقے پی ایس 104 پر ضمنی انتخابات کے لیے ایم کیو ایم پاکستان نے کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دیا۔ ان کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی سے تھا۔

سعید غنی 23 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ کامران ٹیسوری صرف 18 ہزار ووٹ لے سکے تھے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی الطاف حسین کی علحیدگی کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کامران ٹیسوری کے شدید حمایتی ہیں اور ان کی وجہ سے پارٹی قیادت سے بھی ان کے اختلافات اور بعد میں عیلحدگی ہوئی لیکن وہ کامران ٹیسوری کی حمایت سے دستبردار نہ ہوئے۔

سنہ 2018 میں سینیٹ کے انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کے اس وقت کے سربراہ فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کا نام تجویز کیا، جس کی رابطہ کمیٹی نے مخالفت کی۔ بعد میں ایک ہنگامی اجلاس میں چھ ماہ کے لیے کامران ٹیسوری کی رکنیت معطل کردی اور انھیں رابطہ کمیٹی سے ہی نکال دیا گیا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے بہادر آباد سے علیحدگی اختیار کرکے پی آئی بی کالونی میں اپنا سیاسی دفتر قائم کرلیا اور کامران ٹیسوری سمیت دیگر امیدواروں کو سینیٹ کے لیے نامزد کردیا۔

سینیٹ کے ان انتخابات میں ایم کیو ایم فروغ نسیم کی صورت صرف ایک ہی نشست حاصل کرسکی تھی۔ یوں فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں منقسم دھڑوں میں اختلافات نے شدت اختیار کر لی۔ ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق کا یہ بیان سامنے آیا کہ آج کامران ٹیسوری جیت گیا اور ایم کیو ایم ہار گئی۔

کیا ایم کیو ایم کادھڑوں میں انضمام ہو رہا ہے؟

کامران ٹیسوری کی تعیناتی پر ایم کیو ایم کے سابق رہنماؤں اور دھڑوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ایم کیو ایم سے عیلحدگی کے بعد پاک سرزمین پارٹی کے نام سے جماعت بنانے والے سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’ہم ایم کیو ایم کے نامزد کامران ٹیسوری کو گورنر بننے پر ایم کیو ایم اور کامران ٹیسوری کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کے سندھ بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کے مسائل میں کمی ہوگی۔

ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے لکھا ہے کہ خوشگوار سرپرائز لیکن ایک خوشی کا لمحہ۔ ایک دوست گورنر شپ کے اہم منصب کے لیے نامزد ہوا ہے وہ پر امید ہیں کہ وہ اس اہم ذمہ داری کو بخوبی ادا کریں گے۔ سابق میئر وسیم اختر نے ایم کیو ایم کے ورکرز اور سندھ کے لوگوں کو کامران ٹیسوری کی تعیناتی پر مبارک باد دی ہے۔

ایم کیو ایم کے ایک سینیئر رہنما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ تمام دھڑوں کے انضمام کے لیے ان پر بہت دباؤ ہے۔

صحافی اور تجزیہ نگار مبشر زیدی کہتے ہیں کہ مائنس لندن گروپ کے باقی دھڑوں بشمول مصطفیٰ کمال نے ٹیسوری کی تعیناتی کا ایک جیسا ہی خیرمقدم کیا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ کوئی منصوبہ ہے جس کے تحت ایک ایسی ایم کیو ایم بنائی جائے جو کم از کم کراچی میں تحریک انصاف کے ووٹ توڑ سکے کیونکہ اگلے الیکشن میں بھی پی پی کا اتنا زور نہیں ہوگا۔

سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے دھڑوں میں انضمام کی گذشتہ تین برسوں سے کوششیں جارہی ہیں۔ ان کے مطابق گذشتہ ضمنی انتخابات میں بھی ایک بار یہ ہی کوشش دہرائی گئی لیکن بات کامران ٹیسوری تک آکر رک جاتی تھی۔

ان کے مطابق غیر سیاسی لوگ اور کچھ افسروں کی کوششوں اور دباؤ میں آکر کامران ٹیسوری کو واپس لیا گیا ہے۔ ان کی واپسی پر کچھ اراکین بالخصوص کشور زہرہ نے احتجاج کیا۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد پھر اچانک کچھ لوگوں نے کامران ٹیسوری کو ان کے سامنے بٹھایا اور کہا کہ اگر ان کو رابطہ کمیٹی میں شامل نہیں کرتے تو تو انھیں گورنر بنا دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ایم کیو ایم کا ٹرائیکا

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم کی فیصلہ سازی تین رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی اور عامر خان پر متشمل تھی۔ تینوں رہنماؤں میں اختلافات بیان بازی سے لے کر عوامی سطح پر بھی سامنے آچکے ہیں۔

سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ لگتا یہ ہے کہ کامران ٹیسوری کو ڈاکٹر فاروق ستار کی واپسی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اگر وہ (ٹیسوری) اور ان کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ کسی طرح سے فاروق ستار کو واپس لے بھی آئے تو خالد مقبول صدیقی یا عامر خان کسی ایک کی قربانی دینی ہوگی، جس سے لگتا ہے کہ ایم کیو ایم مزید تقسیم در تقسیم ہوتی جائے گی۔

ان کے مطابق اس تقسیم کا بیرونی فائدہ ایم کیو ایم لندن اور اندرونی فائدہ تحریک انصاف اور تحریک لبیک پاکستان کو ہوگا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا مؤقف جاننے کے لیے ان سے متعدد بار رابطہ اور پیغامات بھیجے گئے مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔