آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سہیل آفریدی: سندھ حکومت کو فراخ دلی کا کبوتر اُڑا کر فوراً نیچے کیوں اتارنا پڑا؟
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
یہ سہیل آفریدی کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اجرک اور ٹوپی پہنانے کا فراخدلانہ فیصلہ کس کا تھا؟ بلکہ شیڈول میں تو بانی پاکستان کے مزار سے متصل جناح گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت اور آخری دن وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ سے سی ایم ہاؤس میں ملاقات بھی شامل تھی۔
تبصرے بازوں نے بھی پہلے دن کوئی کسر نہ چھوڑی۔ شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کر لاہور میں سہیل آفریدی سے ہونے والے ناروا سلوک اور سندھ کی روایتی مہمان نوازی کا موازنہ شروع ہو گیا۔ اور یہ کہ پی ٹی آئی کی لڑائی دراصل پنجاب میں نون لیگ سے ہے اور یہ بھی کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی کی میزبانی کے تیر سے دراصل پیپلز پارٹی نے ایک تیر سے کئی سیاسی شکار کیے ہیں۔
مثلاً آئندہ پنجاب میں ن لیگ کے مقابلے میں دونوں جماعتیں ہم آہنگی دکھا سکتی ہیں اور یہ بھی کہ اس خیر سگالیانہ اجرکی اقدام سے پیپلز پارٹی نے کراچی کے پشتون پنجابی اکثریتی علاقوں کے نوجوان ووٹروں کو لبھا لیا ہے اور یہ بھی کہ یہ مثبت پن دکھا کر دراصل پیپلز پارٹی نے اصل قوت کو پیغام دیا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مزید صوبے بنانے یا این ایف سی ایوارڈ میں رد و بدل سے پہلے 10 بار سوچ لیں۔
پھر ایسا کیا ہوا کہ اگلے 24 گھنٹے میں ہی لاہور اور کراچی آدابِ میزبانی کے ایک ہی پیج پر آ گئے؟
کیا حکومتِ سندھ نے پنجاب سے مختلف نظر آنے کی پیشگی اجازت لی تھی یا اپنے تئیں ہی فراخ دل ہونے کا فیصلہ کر لیا اور پھر یہ فیصلہ کسی ریموٹ کنٹرول نے فوراً ہی ریورس کروا دیا؟
یا رویے میں تیزی سے کشیدگی میں دونوں جماعتوں کے اندر پھرپھڑانے والے بازوں کا ہاتھ رہا؟ پھر بھی اتنا تو ہوا کہ سندھ کے وزیرِ بلدیات ناصر شاہ نے سرکاری و سیاسی و سٹریٹیجک مجبوریوں پر پردہ نہیں ڈالا اور دورے کے تیسرے دن مہمان سے بدمزگی کی معذرت کر لی۔
کیا شرجیل میمن، ناصر شاہ، سعید غنی جیسے تجربہ کار وزرا یا عاجل تبصرہ نگاروں کو کسی نے پیشگی نہیں سمجھایا تھا کہ ہارڈ سٹیٹ میں ہارڈ مال ہی چلے گا؟
جب حالات یہ ہوں کہ لاہور کی والڈ سٹی اتھارٹی کے سرکاری فنگشن میں کسی غریب قوال اور اس کے ہمنوا میوزیشنز کو ’جیل اڈیالہ قیدی آٹھ سو چار ہووے‘ کی فرمائش گانے پر نقصِ امن، اشتعال انگیزی اور اداروں کی بدنامی کی فردِ جرم کا سامنا ہو اور میزبان اتھارٹی کے تین اہلکار غفلت کے الزام میں معطل ہو جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یا گوجرانوالہ میں راہوالی کینٹ کے قریب شادی کی تقریب میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر پکڑ کے نعرے لگانے والے سات افراد امنِ عامہ کے قانون (ایم پی او) کے تحت 15 دن کے لیے اندر ہو جائیں۔
یا کوئی دانش علی آف نواب ٹاؤن لاہور اپنی گاڑی میں فل بلاسٹ کے ساتھ نور جہاں کا ’جھانجر دی پاواں جھنکار‘ سنتے سنتے بھول جائے کہ عوام کے آرام میں خلل کے جرم میں پنجاب ساؤنڈ ایکٹ کے تحت چند منٹ بعد وہ گرفتار ہونے والا ہے۔ ایسی فضا میں سندھ حکومت کو فراخ دلی کا کبوتر اڑا کے فوراً نیچے اتارنے کی کیا پڑ گئی تھی؟
یہاں تو ’نک دا کوکا‘ گانے والے اشرف ملکو کو ایک کروڑ 30 لاکھ لائیکس بھی ای سی ایل میں نام ڈلنے سے نہ بچا سکے اور اسے گلو خلاصی کے لیے نہ صرف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا بلکہ ’قیدی 804‘ کا داغ دھونے کے لیے ’پاک فوج نے اپنا فرض نبھانا اے، کجھ وی ہو جائے پاکستان بچانا اے‘ گا کے حب الوطنی ثابت کرنا پڑ گئی۔
ان نازک حالات میں بھی کچھ حاسد یہ کہنے سے باز نہیں آ رہے کہ جب واشنگٹن سے بیجنگ اور ریاض سے انقرہ تک پاکستان کا ہی جلوہ ہے۔ جب مرکز اور تین صوبوں پر ہائبرڈ نظام کی گرفت مضبوط ہے، عدلیہ کا قبلہ بھی درست ہو چکا ہے، پی ٹی آئی جیسی جماعتیں ہوا میں ہاتھ پاؤں چلا رہی ہیں تو پھر کسی ایک نعرے، کسی ایک گیت، کسی ایک تصویر، کسی ایک جلسے یا جلوسی سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ جنگل میں بیسیوں آوازیں ہر وقت گونجتی رہتی ہیں۔ شیر کے کان ہر آواز پر تھوڑا گھومتے ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ نظام ان کل موہے حاسدوں کو بھی اچھے سے پہچانتا ہے۔ اسے بخوبی معلوم ہے کہ ’گل اسی طرح اگے ودھدی اے‘۔
نظام اس قدر چوکس کہ حزبِ اختلاف کی ریلیاں تو رہیں ایک طرف۔ گذشتہ برس نیپال میں ہونے والے ہنگاموں کی فوٹیجز نشر کرنے کے بارے میں بھی چینلوں کو ازحد احتیاط برتنے کا مشورہ مل گیا تاکہ دیسی جینزیز کے خام زہن کسی بھی طرح کا وائرس یا فاسفورس نہ پکڑ لیں۔
کہنے کے لیے کچھ ہو نہ ہو مگر سننے کے لیے اب بھی بہت کچھ ہے۔ آپ نصیبو لال کو جب چاہے سنیں کون اعتراض کرے گا۔ اگر آپ سیاسی نغمے سننا چاہتے ہیں تو راحت فتح علی خان کا ’اس دیس کی خوشحالی کے لیے ہمیں تیری بہت ضرورت ہے نواز شریف نواز شریف‘ سننے میں کیا مسئلہ ہے۔ (آج کل میاں صاحب بھی یہی گیت ریوائنڈ کر کر کے وقت گزار رہے ہیں۔)
ایسی فضا جہاں پورا میڈیا بانی پی ٹی آئی اور ’قاسم کے ابا‘ کہہ کر کام چلا رہا ہے حکومتِ سندھ کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ نو مئی کے بعد عمران خان اور بنیان المرصوص آپریشن کے بعد انڈین فلمی گانے نشر کرنا، تعلیمی اداروں اور شادیوں کے فنگشنز میں بجانا اور تھیٹر میں ان پر مٹکنا تھرکنا قابلِ دست اندازی پولیس ہے۔
اور اب اس قابلِ دست اندازی فہرست میں بقول میرے پسندیدہ منتری عطا تارڑ چند فرسٹریٹڈ جماعتوں اور فارغ رہنماؤں پر مشتمل تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نامی اتحاد بھی شامل کر لیں۔
اس اتحاد کو پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، معیشت کی ترقی اور انڈیا کو ناکوں چنے چبوانے کے کارنامے نظر نہیں آتے۔
بس آئین کی بحالی اور بنیادی حقوق و عدلیہ کے تحفظ کے گھسے پٹے نعروں سے خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مگر یہ دیکھ کے ہر محبِ وطن پاکستانی کو حوصلہ ملتا ہے کہ ہارڈ سٹیٹ مسلح دہشت گردوں اور سیاسی چیلنج بازوں کو ایک ہی آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔
ایسے ماحول میں سندھ حکومت کو خندہ پیشانی کی کیا سوجھی۔ سوج گئی نا پیشانی!