آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب پولیس کی اہلکار کی ’فحش ویڈیو بنانے‘ کا الزام، ٹک ٹاکر گرفتار: ’مشروب میں نشہ آور چیز ملائی گئی‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ایک اہلکار کو نشہ آور اشیا پلانے کے بعد فحش ویڈیوز ریکارڈ کرنے کے الزام میں ایک خاتون ٹک ٹاکر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پنجاب کے وسطی علاقے قلعہ دیدار سنگھ میں پیش آنے والے واقعے کی رپورٹ متاثرہ خاتون نے متعلقہ تھانے میں درج کروائی ہے۔
مقامی عدالت کی طرف سے ریمانڈ پر جیل بھیجی جانے والی ملزمہ پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے قابل اعتراض ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر خاتون پولیس اہلکار کو بلیک میل کیا تھا۔
تاہم اس مقدمے میں گرفتار ہونے والی ملزمہ کے وکیل جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی موکلہ کی ضمانت کے لیے گوجرانوالہ کی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ابھی یہ درخواست اس واقعہ سے متعلق درج ہونے والی ایف آئی آر کی بنیاد پر ہی کی ہے۔
ان کے مطابق جب پراسیکیوشن اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرے گی تو ہی معلوم ہوسکے گا کہ الزامات ثابت کرنے کے لیے کیا شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
متاثرہ خاتون کی جانب سے دی گئی درخواست پر تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس میں متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب پولیس میں ملازمہ ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے سنہ 2012 میں ایک پرائیویٹ اکیڈمی سے کمپیوٹر کا کورس کیا تھا اور اسی کورس کے دوران ان کی ملاقات ملزمہ سے ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کورس ختم ہونے کے بعد انھوں نے پنجاب پولیس میں ملازمت اختیار کر لی۔ ان کے بقول ان کی 12 سال تک ملزمہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 2024 میں ملزمہ نے کہیں سے ’ان کے گھر کا پتہ معلوم کیا اور ایک دن وہ ان کے گھر آ گئیں جس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔‘
درخواست گزار کے بقول ملزمہ نے ان کے محلے میں ہی ایک گھر کرائے پر لیا ہوا تھا۔
مقدمے کے اندراج کے وقت درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا کہ ایک دن ملزمہ ان کے گھر آئیں اور وہ انھیں (درخواست گزار) کو اپنے گھر لے گئیں جہاں پر ’مہمان نوازی کے بہانے مشروبات میں نشہ آور چیز ملائی اور جب اسے تھوڑا سا ہوش آیا دوائی کے بہانے انجکشن لگا دیا‘ جس سے وہ ’مکمل طور پر بے ہوش ہوگئیں‘۔
اس مقدمے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے ملزمہ اکثر اوقات درخواست گزار کو اپنے گھر بلاتی اور پہلے نشہ آور چیزیں ملا کر اور پھر انجکشن لگا کر درخواست گزار کو بےہوش کر دیتی اور پھر ان کی قابل اعتراض ویڈیوز بناتی تھی۔
درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ نے دھمکی دی کہ اگر اس نے ملزمہ کی خواہش کے مطابق کام نہ کیا تو وہ تمام قابل اعتراض ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گی۔
ان کے بقول چند روز قبل ملزمہ اسے گھر سے اغوا کر کے لے گئی اور دن کے وقت وہ اسے کمرے میں بند رکھتی اور پھر رات کو اسے نشہ آور اشیا اور پھر انجکشن لگا کر قابل اعتراض ویڈیوز بناتی رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کے جسم پر انجیکشن اور اس جنسی تشدد کے نشانات موجود ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ’ایک دن موقع پا کر وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔‘
لیپ ٹاپ اور موبائل فون برآمد: پولیس
پولیس نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا ہے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر قاسم گورائیہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد اس واقعے میں ملوث ملزمہ کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور وہ موبائل فون بھی برآمد کرلیا ہے جس پر ’یہ فحش ویڈیوز ریکارڈ کی گئی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ملزمہ کی نشاندہی پر وہ سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے جو کہ درخواست گزار کے بقول اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا ہے تو تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ چونکہ ملزمہ کی نشاندہی پر تمام میٹریل برآمد کرلیا گیا ہے اس لیے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں تھی۔
ایک سوال کے جواب میں تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق گرفتار ہونے والی ملزمہ سے متعلق کسی بھی تھانے سے ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان کا ماضی میں بھی کوئی کریمینل ریکارڈ ہے۔
پولیس نے گرفتار ہونے والی ملزمہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، وہ تمام ناقابل ضمانت جرم ہیں۔
اس واقعے سے متعلق جو مقدمہ درج کیا گیا ہے، اس میں جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی کو اغوا کرنا، ریپ اور جسمانی اعضا کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔
جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس میں 25 سال قید سے لے کر سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون پنجاب پولیس میں ملازمہ ضرور تھیں لیکن کچھ عرصہ پہلے انھیں ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا تاہم قاسم گورائیہ نے متاثرہ خاتون کی برطرفی کی وجوہات نہیں بتائیں۔
تاہم گوجرانوالہ پولیس کے ترجمان محمد عرفان کا کہنا ہے کہ متاثر خاتون ابھی تک پنجاب پولیس میں ملازمہ ہے اور انھیں نوکری سے برطرف نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں جس ’ٹک ٹاکر خاتون ملزمہ کو گرفتار کیا گیا ہے اس کا بظاہر رہن سہن لڑکوں جیسا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس اس مقدمے کے مختلف زاویوں پر تحقیقات کر رہی ہے اور ’اس معاملے پر بھی تحقیقات ہو رہی ہے کہ کہیں ملزمہ کسی انٹرنیشل گینگ کا حصہ تو نہیں۔‘