لندن ہیتھرو ایئرپورٹ پر لگا پوسٹر جس نے عثمان شاہ کی زندگی اجیرن کر دی

    • مصنف, اِیمان عاصم
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’مجھے پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان ہونے پر فخر ہے۔‘

یہ جملہ برطانیہ میں رہنے والے سید عثمان شاہ کا ہے، جن کی زندگی کا سب سے ’قابل فخر‘ لمحہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد شدید تکلیف اور پریشانی میں بدل گیا۔

کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ نے سید عثمان شاہ سے رابطہ کیا۔ وہ انھیں ایک ’خوش آمدید‘ مہم کا حصہ بنانا چاہتے تھے جس کے لیے انتظامیہ نے لندن کے کامیاب ترین 38 افراد کو منتخب کیا تھا۔

ہاتھ ہلا کر مسکراتے ہوئے ان کی تصاویر ہیتھرو ایئرپورٹ پر لگائی جانی تھیں۔ تصور یہ تھا کہ جیسے یہ سب افراد شہر آنے والے مہمانوں کا استقبال کر رہے ہیں، انھیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

تصاویر کے لیے ایسے افراد کو منتخب کیا گیا جو لندن میں نمایاں جگہوں پر کام کر رہے تھے اور ایسے افراد بھی شامل کیے گئے جو سیاحتی مراکز سے وابستہ تھے۔

پوسٹر پر سید عثمان شاہ کی جو تصویر لگائی گئی اس میں وہ کھجوروں کی ٹوکری اٹھائے ہاتھ ہلا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور لندن کی مارکیٹ میں واقع سٹال ’دی ڈیٹ سلطان‘ کے مالک ہیں۔

جب عثمان شاہ سے اس تصویری مہم میں شامل ہونے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے فوراً یہ پیشکش قبول کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب ان کے والدین نے ائیرپورٹ پر ان کے پوسٹرز دیکھے تو یہ ’میری زندگی کا سب سے اہم لمحہ تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں: ’میرے لیے یوں تھا جیسے کوئی خواب سچ ہو گیا ہو۔ میں نے اپنی والدہ کی آنکھوں میں چمک دیکھی۔ والد نے میری طرف مڑ کر کہا ’بیٹے! مجھے تم پر بہت فخر ہے۔‘ دونوں نے کہا کہ یہ دن ان کی زندگی کا سب سے خوش گوار دن تھا۔‘

لیکن پھر ایک صبح چار بجے عثمان شاہ کو اچانک پیغامات اور فون کالز آنے لگے۔

’عثمان، کیا آپ نے دیکھا کہ آپ وائرل ہو رہے ہیں؟ آپ بہت غلط وجوہات کی بنا پر وائرل ہو رہے ہیں۔‘

شاہ کے پوسٹر کی ایک تصویر آن لائن شیئر کی گئی تھی اور اس کے جواب میں نسلی نفرت پر مبنی تبصروں کا سیلاب امڈ آیا۔

عثمان بتاتے ہیں: ’کسی نے یہ لکھا تھا کہ ہیتھرو ایئرپورٹ پر ایک براؤن شخص کی تصویر کیا کر رہی ہے؟ اور اس کے بعد نسلی نفرت پر مبنی تحقیر آمیز تبصرے آئے، ہزاروں کی تعداد میں۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ برطانیہ ’محاصرے میں ہے۔‘

ایک اور نے کہا: ’متلی ہو رہی ہے، تیسرے درجے کے ملک میں خوش آمدید۔‘

تیسرا تبصرہ یوں تھا: ’سفید فام ہونا تو اب تقریباً جرم بن چکا ہے!!‘

عثمان شاہ کہتے ہیں کہ چوں کہ پوسٹر کی تصویر میں انھوں نے روایتی لباس پہن رکھا تھا اس لیے بہت سے لوگوں نے فرض کر لیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ اسی بنیاد پر زیادہ تر پیغامات میں ان کے مذہب پر حملہ کیا گیا۔

’کچھ تبصروں میں کہا گیا تھا کہ لندن اب لندنستان بنتا جا رہا ہے، اسے مسلمانوں نے فتح کر لیا ہے۔‘

عثمان شاہ کی تصویر کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جا رہا تھا، لاکھوں بار دیکھا جا چکا تھا اور نفرت بھرے تبصرے مسلسل آ رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ تبصرے دیکھتے ہوئے انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے 'میرا دل ڈوبتا جا رہا ہے۔ لوگ میری شکل اور میرے مذہب کے بارے میں رائے قائم کر رہے تھے، اور اس بات پر بھی کہ میں کھجوریں فروخت کرتا ہوں۔'

عثمان کے مطابق: 'میں نے زندگی میں کبھی ایسے سلوک کا سامنا نہیں کیا۔ میں کچن میں کھڑا تھا جب میری بیوی نے آ کر کہا ’عثمان، میں نے تمھیں پہلے کبھی اس حالت میں نہیں دیکھا‘ اور میں دھاڑیں مار مار کر رو پڑا۔‘

’میں نفرت کے بجائے بس محبت پھیلانا چاہتا ہوں‘

عثمان شاہ ان آٹھ افراد میں سے ایک تھے جو نسلی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے اور جنھیں ہیتھرو کے پوسٹرز میں شامل کیا گیا تھا۔ اسی مہم میں حصہ لینے والی ایک اور مسلمان خاتون ایک کامیاب کھلاڑی ہیں۔ انھیں اتنی شدید بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑا کہ انھوں نے اپنی تصاویر والے پوسٹر ہٹانے کی درخواست کر دی۔

ہیتھرو نے عثمان کو بھی پیشکش کی کہ اگر وہ چاہیں تو ان کے پوسٹر بھی ہٹا دیے جائیں، لیکن انھوں نے جواب دیا کہ وہ چاہتے ہیں پوسٹر وہیں رہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’اس طرح ہدف بنائے جانے کے باوجود میں سر نہیں جھکاؤں گا۔‘

عثمان شاہ نے نفرت کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اپنی’اسلامی اقدار‘ اور والدین کی تربیت سے متاثر ہو کر انھوں نے کئی ایسے لوگوں کو جواب دیا جنھوں نے نفرت آمیز پیغامات بھیجے تھے۔

انھوں نے لکھا: ’ان تبصروں پر میں آپ کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتا، آپ سے نفرت نہیں کرتا، بلکہ میں آپ کو معاف کرتا ہوں۔‘

عثمان نے لوگوں کو دعوت دی کہ اگر وہ انھیں بازار میں آ کر ملیں تو وہ انھیں مفت کھجوریں دیں گے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں نفرت کے بجائے محبت پھیلانا چاہتا ہوں۔‘

ان کے مطابق کئی لوگ ان سے معافی مانگنے کے لیے آئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں جو پھول لے کر آئیں اور کہا کہ انھیں اپنی باتوں پر شرمندگی ہے۔

عثمان شاہ ایسے واحد شخص نہیں ہیں جنھیں اپنے مذہب کی بنیاد پر نفرت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی نفرت کے جرائم میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔

دو سال کے دوران حملوں کے واقعات ہوئے، پُر تشدد انداز میں مساجد پر دھاوا بولا گیا اور دائیں بازو کی نمایاں شخصیات کی جانب سے مسلم مخالف بیانیہ بنایا گیا۔

لیکن اسی دوران یہ سوال بھی سامنے آیا کہ مسلمان کمیونیٹی کے اپنے اندر کیا مسائل ہیں اور وہ (دوسرے عقائد یا قومیت رکھنے والوں سے) کتنا گھلتے ملتے ہیں۔

ہیتھرو ایئرپورٹ پر عوامی رابطوں کی مرکزی افسر جو بٹلر کہتی ہیں: ’ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچ کر ہر شخص کو محفوظ ہونے کا احساس ہونا چاہیے اور اسے لگنا چاہیے کہ اسے خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ جو نفرت انگیز تبصرے ہم نے دیکھے، ان کی ہم سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس مہم میں شامل تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ دیکھ کر حوصلہ ملا کہ کتنے زیادہ لوگ آن لائن بدسلوکی کا نشانہ بننے والوں کی حمایت میں سامنے آئے۔‘

عثمان شاہ پر جو بھی بیتی، اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ انھیں برطانوی ہونے پر فخر ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس ملک نے مجھے بنایا ہے۔ میں نے ہر چیز اسی ملک میں سیکھی ہے۔ مجھے یہاں کھانا ملا، تعلیم ملی اور اسی عظیم ملک نے مجھے مواقع دیے۔‘

آخر میں عثمان شاہ نے کہا: ’مجھے پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان ہونے پر فخر ہے۔‘