آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات اور ایران جنگ کے پس منظر میں پاکستان کے سٹریٹیجک خدشات
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملے تو اس پیش رفت کو ایران جنگ کے تناظر میں کافی اہمیت کی نظر سے دیکھا گیا۔
اس ملاقات کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی طویل المدتی مدد اور حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے موجودہ مشکل صورت حال میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا اور خطے میں امن کی کوششوں میں ساتھ دے گا۔‘
بیان کے مطابق ولی عہد اور پاکستانی وزیراعظم نے ’دنیا اور خطے کی سکیورٹی اور استحکام پر حالیہ عسکری تنازع کے اثرات پر خصوصی گفتگو کی۔‘
اس ملاقات میں سعودی گزٹ کے مطابق جنرل انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے صدر خالد الہمدان بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کی جانب سے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے جواب میں تہران نے مشرق وسطی میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ سپوٹنک سے بات کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر عبد اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سعودی عرب اور عرب اتحادیوں سے بیک چینل رابطوں کے ذریعے یہ بات کر رہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی چال میں پھنس کر استعمال نہ ہوں جبکہ دوسری جانب ایران کو قائل کرنے کی کوش کر رہا ہے کہ تنازع کو مذید پھیلانا خود اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے اس سے قبل کہا گیا تھا کہ اسلام آباد نے تہران کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی یاددہانی کروائی ہے۔ سنیٹر مشاہد حسین سید نے اس صورت حال پر تجزیہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’پاکستان کو اس پیچیدہ صورت حال میں مہارت اور نزاکت سے سفارت کاری کرنا ہو گی اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ پاکستان کسی جال میں نہ پھنسے۔‘
پاکستان کو خود ایران جنگ سے کس طرح کے خدشات ہیں اور سٹریٹجک اعتبار سے پاکستان اس تنازع کے پھیلنے سے کن مسائل کو ابھرتا ہوا دیکھ رہا ہے، اس حوالے سے بی بی سی نے ماہرین سے بات چیت کی ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل اور تجارتی کارگو کی بندشوں کے علاوہ اسلام آباد میں پالیسی ساز ایک کہیں بڑی سٹریٹیجک تبدیلی سے خائف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی سیستان و بلوچستان پالیسی اور سعودی عرب و ترکی کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات اس جنگ کے تناظر میں سنگین خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔ امریکہ و اسرائیل اور تہران کی فوجی حکمتِ عملی پاکستان کے سرحدی علاقوں اور گوادر جیسے حساس منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو نے مشرقِ وسطیٰ سمیت اس خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پاکستان کے سٹریٹیجک خدشات کیا ہیں؟
ایران کی سیستان و بلوچستان پالیسی اور مشرقی محاذ پر جنگ کے خطرات
خطے میں سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور خراسان ڈائری سے منسلک سینیئر صحافی افتخار فردوس کے مطابق ایران میں جاری جاری جنگ کے کئی پہلو پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے آیت اللہ علی خامنہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ہونے والے احتجاج کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ دن قبل ہم نے مظاہرے دیکھے جن میں لوگ ہلاک ہوئے اور خاصا نقصان ہوا۔‘ افتخار کا ماننا ہے کہ ’ابھی تک یہ خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے اور یہ آگ دوبارہ کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے۔‘
یاد رہے امریکی و ایرانی حملوں میں سید خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ہونے والے مظاہروں میں 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ ’اگر آپ ٹی وی پر ایران میں شہری ہلاکتیں دکھائیں گے، اگر ان کی قیادت دوبارہ نشانہ بنے گی، اور ایسے منظرنامے پیدا ہوں گے جس میں ایران کے اندر شدید تباہی دکھائی دے گی، تو اس کے اثرات یقیناً پاکستان پر بھی آئیں گے۔‘
افتخار فرودس کے مطابق پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو ایران کی سیستان و بلوچستان سٹریٹیجک پالیسی ہے جو پاکستان کے لیے براہِ راست خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب تک ہم نے دیکھا ہے کہ امریکہ و اسرائیل ایران کے مغربی فرنٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اس طرف کی ائیر سپیس امریکیوں کو نہیں دی گئی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر جنگ میں شدت آتی ہے اور ایران کے عراق کے ساتھ مغربی محاذ پر دباؤ بڑھتا ہے تو ایران کی فوجی حکمتِ عملی مشرقی محاذ سیستان و بلوچستان کی طرف منتقل ہو سکتی ہے، اور پھر یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا مسئلہ بنے گا۔‘
اس کی وضاحت کرتے ہوئے افتخار فردوس کہتے ہیں کہ ’اگر گراؤنڈ فورسز سے حملہ مشکل ہوا تو امریکی و اسرائیلی بمباری اور ٹوماہاک یا کروز میزائلوں وغیرہ کا سہارا لیں گے اور ان میں سے کچھ پاکستان کے اندر گر گئے، تو اس کے اثرات پاکستان کی خودمختاری پر پڑیں گے، اس کے علاوہ یہ پسنی اور گوادر کے قریب ہے، کل کو اگر ہم سے قریبی اڈے مانگ لیے تو پاکستان بہت مشکل صورتحال میں پڑ جائے گا۔‘
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان: ایران جنگ میں براہِ راست و بالواسطہ شکار
افتخار فردوس کے مطابق ایک اور اہم پہلو پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات اور دفاعی معاہدے ہیں۔
ان کے بقول: ’ان تینوں ملکوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ایران پر حملہ نہ ہو، مگر اب یہ تینوں کسی نہ کسی صورت اس جنگ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔۔۔ سعودی عرب اور ترکی براہِ راست اور پاکستان بالواسطہ طور پر۔‘
وہ ایرانی صدر اور شہباز شریف میں بات چیت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں ان کے مطابق سعودی عرب پر حملے روکنے کی بات کی گئی ہے۔ خیال رہے اگرچہ ایران کے سعودی عرب پر حملوں میں دیگر خلیجی ریاستوں جیسی شدت نہیں ہے تاہم ایران کے سعودی عرب پر ڈرون و میزائل حملے رکے نہیں ہیں۔
افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دوسرا اہم اتحادی ترکی ہے اور ترکی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ امریکی میزائل ڈیٹیکشن ریڈار سسٹم (خطے میں دیکھنے کی سکت)، دوحہ کے علاوہ ترکی کے علاقے مالاتیا میں ہے۔
جنگ شروع ہونے پر ایران نے سب سے پہلے جن دو چیزوں کو نشانہ بنایا ان میں ایک دوحہ میں ریڈار سسٹم اور دوسرا ابراہم لنکن ایئر کیریئر تھا۔
یاد رہے مالاتیا ترکی میں نیٹو بیس ہے اور منگل کے روز ترکی کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ ایک امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام جنوب مشرقی صوبے مالاتیا میں تعینات کیا گیا ہے۔
افتخار کے مطابق ’اگرچہ ترکی نے بھی پاکستان کی طرح بہت کوشش کی ہے کہ وہ جنگ کا حصہ نہ بنے تاہم اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ دوحہ والے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچا ہے اور اب ترکی پر بھی ایرانی حملوں کا ممکنہ نشانہ ہو سکتا ہے۔‘
یاد رہے اب تک ترکی پر دو بیلسٹک میزائل حملے ہو چکے ہیں۔
سیستان و بلوچستان: شدت پسندوں کی پناہ گاہ اور خطے میں بڑھتے خطرات
سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے افتخار فردوس کہتے ہیں کہ بلوچستان کے شدت پسند گروہ اکثر ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں پناہ لیتے ہیں۔
وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اب تک زمینی فوجی کارروائی (بوٹس آن دی گراؤنڈ) نہیں ہوئی اور لڑائی زیادہ تر فضائی حملوں اور میزائلوں تک محدود ہے۔ افتخار کے مطابق ’اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی جیسا ہدف حاصل کرنا مقصود ہو تو صرف فضائی طاقت کافی نہیں ہوگی اور اس کے لیے کسی مرحلے پر بوٹس آن دی گراؤنڈ بھی درکار ہو سکتے ہیں۔‘
افتخار کا ماننا ہے کہ ’ایران اپنے جغرافیائی ماحول اور بیلسٹک میزائلوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے کچھ دفاعی برتری رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے وسائل بھی لامحدود نہیں۔ اسی لیے ایک ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ دونوں فریق اسلحہ کے ذخائر دوبارہ بحال کرنے کے لیے عارضی وقفہ (ٹیکٹیکل پاز) لے سکتے ہیں، جس کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان برقرار رہے گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ایسا وقفہ آتا ہے تو سیستان و بلوچستان کی صورتحال خاص اہمیت اختیار کر جائے گی، کیونکہ یہ علاقہ ایران کے ایک حساس اور کمزور جغرافیائی حصے سے جڑا ہوا ہے جہاں مختلف اقلیتی گروہ آباد ہیں اور جنھیں بیرونی انٹیلیجنس سرگرمیوں کے لیے بھی موزوں سمجھا جاتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’کرد عنصر بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ اگرچہ اب تک کرد گروہوں نے جنگ میں شامل ہونے کا کوئی عندیہ نہیں دیا، تاہم اگر وہ کسی تحریک کا آغاز کرتے ہیں تو اس کے اثرات ترکی اور پاکستان دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔‘
بلوچستان اور سی پیک
برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور ’کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز‘ سے منسلک ایسوسی ایٹ فیلو عمر کریم کا ماننا ہے کہ ’پاکستان کی سب سے بڑی تشویش سرحد پار ریاستی رٹ اور قانون و امن امان کا ختم ہو جانا ہو گا کیونکہ اس خلا کو اسرائیل/انڈیا کے حمایت یافتہ گروہ پر کر سکتے ہیں۔‘
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے عمر کہتے ہیں کہ تاہم اگر ایسے گروہ ابھرتے ہیں جن کے پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے کسی نوعیت کے تعلقات یا روابط ہو، تو منظرنامہ مختلف ہو گا۔
عمر کے مطابق ’اگر کسی تیسرے فریق کے پراکسی گروہ قائم ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ سرحد کے دوسری طرف مکمل طور پر قانون و امن کا خاتمہ ہو جائے گا یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی جانب سرحد عملاً کھل جائے گی۔ اس کے نتیجے میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی پاکستان کی جانب دراندازی بڑھ سکتی ہے اور صوبے میں ریاستی انفراسٹرکچر، اہم منصوبوں اور خاص طور پر سی پیک سے متعلقہ منصوبوں اور گوادر کی اہم تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ایسی صورتحال بنیادی طور پر ’شورش کو غیر معمولی حد تک بڑھا سکتی ہے اور پاکستان کے لیے بلوچستان میں اہم منصوبوں کو جاری رکھنا یا غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا مشکل ہو جائے گا۔‘
عمر کے مطابق یقیناً سرحد پار سرگرم گروہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ ’اگر جنگ ختم نہ ہوئی تو ممکن ہے کہ جلد ہی ایران کے اندر بھی شورش زور پکڑنے لگے۔‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران میں سرگرم باغی گروہوں کا نظریاتی پس منظر اور نوعیت پاکستان میں سرگرم گروہوں سے مختلف ہے اور دونوں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سرحد پار مرکزی ریاستی عملداری کے خاتمے کی صورت میں پاکستان کو یہ موقع بھی مل سکتا ہے کہ وہ پاکستان مخالف بلوچ شورش پسندوں کے خلاف سرحد پار کارروائیاں کرے، بغیر اس خدشے کے کہ اسے خودمختاری یا علاقائی سالمیت جیسے مسائل کا سامنا ہوگا۔‘
عمر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں پاکستان کی اہمیت بھی نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے اور بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوگا کہ پاکستان اپنے کارڈ کس طرح کھیلتا ہے اور ایرانی جانب سرگرم ہونے والے علیحدگی پسند گروہوں کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے بنتے ہیں۔
یاد رہے ماضی میں ایرانی حکام پاکستان پر ایران مخالف بلوچ شورش پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور حتیٰ کہ پاکستانی حدود میں میزائل حملے بھی کر چکے ہیں۔
عمر کے مطابق ’اگر پاکستان سے قریب سمجھے جانے والے گروہ وہاں اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں تو اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کی اہمیت بڑھ سکتی ہے، جبکہ افغانستان کے لیے بھی اس کی اہمیت بڑھ سکتی ہے کیونکہ افغانستان اس وقت بڑی حد تک ایرانی بندرگاہوں اور سرحدی راستوں کے ذریعے درآمدات پر انحصار کرتا رہا ہے۔‘
علی حسن، ہیلکس کے گلوبل سکیورٹی آپریشنز سینٹر (جی ایس او سی) میں انٹیلیجنس تجزیہ کار ہیں جو افغانستان اور پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔
وہ بھی عمر کریم سے اتفاق کرتے ہیں۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے علی نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ طویل ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا خدشہ ایران کے اندرونی عدم استحکام میں اضافہ ہے جس کے اثرات بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’بلوچ علیحدگی پسند گروہ، جو جیش العدل نامی عسکریت پسند تنظیم سے منسلک ہیں، طویل عرصے سے ایرانی ریاست کے خلاف سرگرم ہیں۔‘ اگرچہ اس بات کا امکان کم ہے، لیکن ’اگر یہ گروہ ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے کچھ حصوں یا پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ممکنہ طور پر پاکستان میں بلوچ باغیوں کی حمایت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔‘
علی حسن کہتے ہیں کہ ’خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کی صورت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑی چینی سرمایہ کاری بھی خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے، خاص طور پر گوادر کے علاقے میں۔‘ ان کے مطابق اگر بی ایل اے اپنی سرگرمیاں بڑھاتی ہے تو پاکستان میں چینی اہلکار اور منصوبے ممکنہ طور پر ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بی ایل اے بلوچستان میں انفراسٹرکچر منصوبوں سے وابستہ غیر ملکی شہریوں کو بھی وسائل کے استحصال کے نظام کا حصہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے یہ گروہ اکثر چین پاکستان اقتصادی راہداری سے وابستہ چینی انجینئروں اور سرمایہ کاروں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
خیال رہے سی پیک کے تحت چین نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور اس کے تحت خاص طور پر پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں کئی منصوبے جاری ہیں۔
علی حسن کے مطابق ایران کے ساتھ طویل تنازع سے بلوچستان کی جغرافیائی سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی آنے کا امکان کم ہے۔
ان کے بقول پاکستان پہلے ہی بلوچستان میں سخت سکیورٹی انتظامات کے ساتھ کام کر رہا ہے اور رپورٹس کے مطابق وہاں سکیورٹی فورسز کی وسیع نگرانی اور سخت اقدامات موجود ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان صوبے میں مزید وسائل اور اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ طویل تنازع سے پاکستان کو کسی سٹریٹیجک یا معاشی فائدے کی توقع نہیں۔
ان کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کے لیے فائدہ سے زیادہ تر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ملک پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور ’اسے اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ ایران کے ساتھ سرحدی صورتحال، بلوچستان میں عسکریت پسندی اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی وجہ سے وہ اس تنازع میں کسی نہ کسی شکل میں شامل ہو سکتا ہے۔‘