طورخم سرحد پر چار روز سے پڑی لاش کا معمہ: عارضی سیز فائر اور مبینہ شناخت کے باوجود میت کیوں نہ اٹھائی جا سکی؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب سے شروع ہونے والی سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ 14 روز گزرنے کے باوجود بدستور وقفے وقفے سے جاری ہے اور اس دوران طورخم سرحد پر زیرو پوائنٹ کے مقام پر پڑی ایک لاش کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں۔

ہلاک ہونے والا شخص کی شہریت اور لاش اٹھائے جانے کے حوالے سے دعوے سامنے آ ر ہے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق سرحد پر دونوں اطراف سے ہونے والی مسلسل فائرنگ کے باعث یہ میت پیر (نو مارچ) سے اِسی مقام پر موجود رہی ہے تاہم جمعرات کی دوپہر پاکستان اور افغانستان کے مقامی قبائلی عمائدین اور مشران کی کوششوں سے زیرو پوائنٹ کے مقام پر عارضی سیز فائر کیا گیا تاکہ اس لاش تک پہنچ کر اس کی شناخت کا عمل مکمل کیا جائے اور اسے متعلقہ حکام کے حوالے کیا جا سکے۔

مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے تاکہ مرنے والے کو احترام کے ساتھ اس کے لواحقین تک پہنچایا جا سکے۔

دوسری جانب دوحہ میں افغان طالبان کے رہنما سہیل شاہین نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’طورخم سرحد کی دوسری جانب ایک شخص مارا گیا تھا اوراس کی لاش گیٹ پر پڑی تھی، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ وہ پاکستانی تھا یا افغان شہری۔‘

سہیل شاہین کا دعویٰ ہے کہ مرنے والا شخص پاکستانی شہری تھا۔ انھوں نے تصدیق کی کہ شام ساڑھے پانچ بجے پاکستان اور افغان قبائلی عمائدین آئے اور لاش اپنے ساتھ لے گئے۔

تاہم سرحد پر لاش کی شناخت اور حوالگی کے لیے جانے والے پاکستانی عمائدین کا کہنا ہے کہ وہ لاش کسی افغان شہری کی تھی۔ ان کی جانب سے لاش وہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کی بھی تردید کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص نے شلوار قمیض پہن رکھی ہے جبکہ اس کی داڑھی بھی ہے۔ بعدازاں بی بی سی کو لاش کے اس حُلیے کی تصدیق پاکستان کی جانب سے زیرو پوائنٹ پہنچنے والے قبائلی عمائدین کے جرگے کے ایک رُکن نے بھی کی ہے۔

اس میت کی شناخت اور حوالگی سے غرض سے سرحد پر جمعرات کی شام ساڑھے پانچ بجے تک عارضی سیز فائر کا اعلان کیا گیا تھا۔ پاکستان اور افغانستان سے آنے والے جرگہ ممبران اس میت تک پہنچے بھی، اس کی مبینہ شناخت کا عمل بھی کیا گیا تاہم بعدازاں فریقین لاش کو اٹھائے بغیر واپس اپنے اپنے ملک چلے گئے۔

پاکستان کی جانب سے زیرو پوائنٹ پہنچنے والے مشران میں ملک تاج الدین شنواری، شاہ خالد، مراد حسین، قاری نظیم گل، مولانا عاقب اور قاری جہاد شاہ سمیت دیگر عمائدین شامل تھے۔ جبکہ افغانستان کی جانب سے ملک حاجی مستیار شنواری، ملک مولا خان شنواری سمیت شنواری قبیلے کے اراکین اور دیگر افراد شامل تھے۔

طورخم بارڈر پر زیرو پوائنٹ پر پہنچنے والے دونوں وفود کے اراکین نے سفید پرچم تھام رکھے تھے جو امن کی علامت ہوتے ہیں اور اس کے بعد وہ پیدل اس مقام تک پہنچے جہاں میت پڑی ہے۔

قبائلی عمائدین کے مطابق لاش کی گذشتہ کئی روز سے اس مقام پر موجودگی کے بعد انھوں نے متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا تھا کہ ’جنگ کے بھی کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں اور اگر کسی انسان کی جان چلی جائے تو اس کی لاش کو اٹھانا اور اس کی تدفین کرنا بنیادی انسانی حق ہے۔‘

پاکستان میں ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے ملک تاج الدین اس جرگے میں شامل تھے جو جمعرات کو زیرو پوائنٹ گیا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ لاش کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے لیکن فی الحال افغان جرگے کے ممبران نے لاش کو نہیں اٹھایا ہے۔

تاج الدین کے مطابق افغان جرگے کے ممبران کا مؤقف تھا کہ وہ لاش کو تحویل میں لینے سے متعلق کابل میں حکومت سے پوچھ کر بتائیں گے جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود لاش کو اٹھائے بغیر واپس آ گئے ہیں۔

بی بی سی نے ننگرہار میں محکمہ اطلاعات کے ترجمان سے بارہا رابطہ کر کے پاکستانی وفد کی جانب سے لاش کی شناخت سے متعلق دعوے کے بارے میں جاننے کے لیے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن انھوں نے پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

جب ملک تاج الدین سے پوچھا گیا کہ لاش کی شناخت بطور افغان شہری کیسے ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ افغان جرگہ، جو کہ سرحد کے ساتھ آباد قبائل پر مشتمل تھا، کے افراد نے شکل سے اس میت کی شناخت کی اور بتایا کہ یہ ایک مزدور تھا جو زیرو پوائنٹ پر ہتھ ریڑھی کی مدد سے سامان کی ترسیل کرتا تھا اور مقامی شخص تھا۔

مقامی افراد کے مطابق زیرو پوائنٹ سے وفود کے روانہ ہونے اور سیز فائر کی معیاد (ساڑھے پانچ بجے) ختم ہونے کے بعد دوبارہ فائرنگ کا آغاز ہو گیا ہے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

پاکستانی قبائلی عمائدین میں شامل مراد حسین آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں پیر (نو مارچ) کی شام کو اطلاع ملی تھی کہ زیرو پوائنٹ پر ایک لاش پڑی ہے جو کہ زیرو پوائنٹ پر افغان سائیڈ پر موجود ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد مقامی حکام سے رابطہ کیا گیا اور پھر افغانستان کے قونصلیٹ سے بھی رابطہ کیا گیا تاہم انھوں نے اس ضمن میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

ان کے مطابق طورخم میں سرحد پر زیرو پوائنٹ کا مقام پاکستان کے ایک گاؤں سے نظر آتا ہے اور پہاڑی پر واقع اس گاؤں سے یہ لاش دیکھی جا سکتی ہے۔اس گاؤں کا نام اول خان کلے بتایا گیا ہے۔

بی بی سی نے اس حوالے سے پشاور میں افغانستان کے قونصلیٹ کے ترجمان سے بھی رابطے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سرحدی علاقے میں امن مارچ

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ کئی روز سے جاری سرحدی جھڑپوں، گولہ باری اور فائرنگ کے باعث دونوں اطراف سرحدی علاقوں میں رہنے والوں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور یہاں سخت خوف پایا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ناصرف دونوں جانب سے درجنوں ہلاکتوں کے دعوے کیے گئے ہیں بلکہ شہری اور عسکری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں سرحدی ضلع لنڈی کوتل میں مقامی افراد نے ایک امن مارچ کیا ہے اور انھوں نے دونوں ممالک سے امن کے قیام کا مطالبہ کیا۔

یہ امن مارچ خیبر اولس کے زیر اہتمام منعقد ہوا جس میں سیاسی و سماجی کارکنوں، تاجروں اور شہریوں نے شرکت کی۔ شرکا کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے اور دونوں ممالک میں امن کے قیام کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اس لیے مذاکرات سے مسائل حل کیے جائیں کیونکہ کشیدگی دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔

مقررین نے کہا ہے کہ سرحد پار آبادیوں پر فائرنگ اور گولہ باری بند کی جائے کیونکہ اس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہےہیں اور روزگار اور تجارت کا سلسلہ بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔