آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کابل میں پاکستانی فضائی حملہ: افغان طالبان کا بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کا الزام، اسلام آباد کی تردید
- مصنف, یاما باریز اور کیتھرین آرمسٹرانگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کے فضائی حملے کے بعد سینکڑوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کا دعویٰ ہے یہ حملہ منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے مرکز پر کیا گیا۔
جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے ایکس پر لکھا کہ اس مرکز کو پیر کے روز نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کچھ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔
بی بی سی پشتو سروس نے اس مرکز کا دورہ کیا جہاں عمارت کے کچھ حصے اب بھی جل رہے تھے اور سٹریچر پر 30 سے زائد لاشیں لائی جا رہی تھیں۔
حکام کے مطابق وہاں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔ افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعوی کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 400 جبکہ 250 افراد زخمی ہیں۔ بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا۔
افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکز کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات نہیں ہیں۔
رہائشیوں نے مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر 50 منٹ پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی جس کے بعد طیاروں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ساتھ تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ’یہ وہ عام شہری اور منشیات کے عادی افراد تھے جن کی اکثریت پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہوئی۔‘
دوسری جانب راشد خان سمیت افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی مذمت کی۔
پاکستان کا کیا مؤقف ہے؟
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کابل اور ننگرہار میں ’عسکری تنصیبات اور دہشت گردی کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو افغانستان میں طالبان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔‘
ایکس پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کو تباہ کیا گیا۔ حملوں کے بعد ہونے والے دھماکے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔‘
عطا اللہ تارڑ نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے ننگرہار میں بھی افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے چار مراکز کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود اسلحہ اور تکنیکی انفراسٹرکچر تباہ کیا۔‘
پاکستانی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’تمام اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ صرف اُن تنصیبات تک محدود رکھا گیا جنھیں افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘
پاکستان کے عسکری ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ویڈیو میں فضائی حملے کے بعد ایک دوسرے دھماکے کی وجہ سے اٹھنے والے شعلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اسلحہ ڈپو تھا۔‘
بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔
پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی نے گذشتہ ماہ دوبارہ شدت اختیار کی۔ پاکستان افغانستان پر شدت پسند گروہوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ افغانستان میں طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کے مطابق 26 فروری سے دونوں ممالک کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں افغانستان میں کم از کم 75 افراد ہلاک اور 193 زخمی ہو چکے ہیں۔
پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ان مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے جو افغان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے دونوں فریقوں نے اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا مگر جھڑپوں کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا۔
چین دونوں ممالک میں ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے گذشتہ ہفتے اپنے افغان اور پاکستانی ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان امور بھی افغانستان اور پاکستان کے دورے کر رہے ہیں۔ چین کے سفارت خانے بھی دونوں ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔‘
اقوام متحدہ میں چینی مشن کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی ہے ’افغانستان اور پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد براہِ راست بات چیت کریں گے۔‘
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ’جلد از جلد جنگ بند کریں اور اپنے اختلافات اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چین مفاہمت میں سہولت کاری اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘