آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ترکی کو کس بات کا خوف ہے؟
- مصنف, امید منتظری
- عہدہ, بی بی سی، ترک ایران سرحد پر واقع شہر وان سے
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ترکی کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ کہیں تہران میں حکومت کا انہدام نہ ہو جائے اور ایران خانہ جنگی اور علاقائی انتشار کا شکار نہ ہو جائے۔
خاص طور پر شام کے تجربے کو نظر میں رکھتے ہوئے انقرہ کے حکام پریشان ہیں۔ وہ اس بات سے بھی خائف ہیں کہ اگر ایران کی حکومت گر گئی تو خطے میں اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے اسرائیل کا اگلا ہدف ترکی نہ بن جائے۔
اس بارے میں سب سے واضح مؤقف گذشتہ روز دولت باغچلی نے پیش کیا، جو قوم پرست حرکت پارٹی کے سربراہ، حکمران اتحاد کی دو جماعتوں میں سے ایک کے لیڈر اور رجب طیب اردوغان کے قریبی اتحادی ہیں۔ انھوں نے یہ بات ایک افطار ڈنر میں شہروں کے میئرز سے خطاب کے دوران کہی۔
’ایران ایک وسیع تاریخی پس منظر رکھتا ہے، یہاں کسی بھی قسم کا زوال محض ایک حکومتی مسئلے تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ اس سے سرحد پار سکیورٹی دباؤ، آبادی کی نقل مکانی، فرقہ وارانہ کشیدگی، غیرقانونی معیشت کے نیٹ ورکس کا پھیلاؤ، مسلح پراکسی گروہوں کی افزائش جیسے اثرات ہوں گے۔‘
باغچلی نے مزید کہا: ’ترکی کو جس مسئلے کا سامنا ہے وہ کوئی دور دراز سرحدی بحران نہیں بلکہ یہ براہِ راست قومی سلامتی، سرحدی تحفظ اور علاقائی استحکام سے متعلق ہے۔ شام کے تجربے نے ہمیں بھاری قیمت پر سبق سکھایا۔ آج ایران کی پیش رفت کو بھی احتیاط سے دیکھنا ہو گا۔ جیسے ہی کسی علاقے میں حکومتی خلا پیدا ہوتا ہے، وہاں عقل، ضمیر، اجتماعی دانش اور ہمدردی نہیں چلتی بلکہ وہاں اسلحہ حکمرانی کرتا ہے۔‘
باغچلی نے کہا کہ ترکی کو شام کی طرح ’غافل‘ نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا: '’سب سے پہلے سرحدی سکیورٹی کو اعلیٰ ترین سطح پر مضبوط کیا جانا چاہیے۔ ایران کی سرحد پر کسی بھی ممکنہ منظر نامے کے لیے کثیر الجہتی تیاری ضروری ہے۔‘
’ممکنہ طور پر ہجرت کر کے آنے والوں کے دباؤ، سمگلنگ نیٹ ورکس کے پھیلاؤ، مسلح پراکسیز کی نقل و حرکت، دہشت گردوں کی دراندازی اور معاشی اثرات کو ایک جامع سکیورٹی نقطہ نظر کے ساتھ سنبھالنا ہو گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ امکان بھی ہے ایران حکومت کی مخالف کرد جماعتیں اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کر چکا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب بھی یہی چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بیان دے چکے ہیں کہ ’یہ بہت شاندار ہو گا۔‘
اس پر ترکی کے حکام شدید پریشان ہیں۔
اگرچہ چند دن بعد ٹرمپ نے ایک مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال کردوں کو جنگ میں شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ تاہم یہ امکان ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
ایرانی کردستان کی تنظیم کوملہ کے سیکریٹری جنرل، عبداللہ مہتدی نے جریدے نیوزویک کو بتایا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ حمایت کریں تو ان کی فورسز مشترکہ امریکی اسرائیلی فضائی مہم کے دوران ایران کی سکیورٹی فورسز کے خلاف زمینی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انھوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ اگر امریکہ کرد جماعتوں کی حمایت اور حفاظت کا فیصلہ کرے تو ہم ایک بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم آزادی کے عمل کا آغاز کر سکتے ہیں، روایتی معنوں میں نہیں۔‘
’لیکن ہم ایرانی فورسز کو پیچھے دھکیل کر کردستان کے علاقے میں شہروں پر قبضہ کر سکتے ہیں، اپنے لوگوں کی حفاظت کر سکتے ہیں، انھیں حکومتی فورسز کے قتل عام سے بچا سکتے ہیں، امن قائم کر سکتے ہیں اور افراتفری کو روک سکتے ہیں۔‘
عبداللہ مہتدی کے مطابق ایسا ہونا ایرانی عوام کی ہمت بڑھا سکتا ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں۔
ترکی کو کئی دوسرے معاملات پر بھی تشویش ہے۔ جیسے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور نتیجتاً متاثر ہوتی معیشت، عراق میں بڑھتا ہوا انتشار جس سے ترکی کے مفادات خطرے میں پڑ سکتے ہیں اور وہ میزائل جنھیں نیٹو نے ترکی کی فضائی حدود میں مار گرایا ہے۔
پاسداران انقلاب نے ترکی کی طرف کوئی بھی میزائل داغنے کی تردید کی ہے۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بنگلہ دیشی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا: ’جتنی جلد ممکن ہو یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ اس مرحلے پر واضح ہو چکا ہے کہ تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے اور پائیدار حل صرف بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔ ترکی اپنی تمام توانائی اسی سمت میں لگا رہا ہے۔‘
’مگر میں زور دینا چاہتا ہوں کہ امن اور استحکام کے لیے ہماری مخلصانہ کوششوں اور تعمیری رویے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی قومی سلامتی پر ذرا سا بھی سمجھوتہ کریں گے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، گذشتہ روز ہماری طرف داغا جانے والا میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ اس سنجیدہ مسئلے پر ہم ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں۔‘
فیدان نے اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کسی بھی اشتعال انگیزی کے جال میں آ کر اس ’ناجائز جنگ‘ میں شامل نہیں ہو گا۔
اسی دوران عباس عراقچی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ترکی زبان میں جاری کی گئی پوسٹ کو ترکی میڈیا نے نشر کیا۔
عراقچی نے لکھا: ’برادر ترک قوم اور دوست ترک حکومت کی طرف سے ایرانی عوام کے لیے کی گئی دعائیں اور اظہار یکجہتی ہمارے لیے طاقت اور حوصلے کا بڑا ذریعہ ہیں۔‘
تاہم، بغداد میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے سکیورٹی الرٹ اور امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑ دینے کی ہدایت کے بعد ترکی نے بھی ایسا ہی انتباہ جاری کیا اور اپنے شہریوں کو ہدایت کی کہ بہت زیادہ ضروری نہ ہو تو عراق کا سفر نہ کیا جائے۔
یہ انتباہ بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر ڈرون حملے کے بعد جاری کیا گیا۔
ترکی میں اب تک جنگ کے خلاف کئی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین احتجاج میں ترکی یوتھ یونین کے ارکان ترکی اور ایران کے پرچم تھام کر انقرہ میں امریکی سفارتخانے کے سامنے گئے اور امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔