’ہمارے بجٹ کے لیے ایران پر حملہ بہت فائدہ مند ہے‘: کیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے؟

    • مصنف, داریا موسولوا اور برائن ونڈسر
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کبھی بھی اتحادی آمر حکمرانوں کے پُرتشدد خاتمے کو خوشی سے قبول نہیں کیا۔

سنہ 2011 میں لیبیا میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کی باغی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت ایک فیصلہ کن لمحہ تھا، جب پوتن شدید غصے میں آگئے اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اُس نے مشرقِ وسطیٰ بھر میں انقلابی ہنگاموں کو ہوا دی ہے۔

لیکن جب 28 فروری کو ایک امریکی، اسرائیلی حملے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے تو ماسکو کا ردِعمل خاصا محتاط تھا۔

پوتن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا، جس میں انھوں نے خامنہ ای کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’تمام اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

تاہم انھوں نے اس معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لینے سے گریز کیا۔

جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ جاری رکھا تو اس بات کا بہت کم امکان نظر آیا کہ روس تہران کو کوئی فوجی مدد فراہم کرے گا۔

تہران پر حملے روس کے بعض مقاصد کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ ماسکو یوکرین میں ممکنہ امن معاہدے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کو اپنے ساتھ رکھنے پر کام کر رہا ہے، اس لیے اپنے اتحادی ایران کا دفاع کریملن کی اولین ترجیحات سے کافی دور نظر آتا ہے۔

دراصل مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ، جو امریکہ کے ہتھیار، پیسے اور توجہ کو بھٹکا دے، روس کے مفاد میں بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔

تیل کا کاروبار

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی برآمدات میں خلل پڑا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئیں اور روس کے پابندیوں کے شکار توانائی کے شعبے کو سودے بازی کا ایک نیا ہتھیار مل گیا۔

ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو بند کر دیا۔ یہ وہ تنگ سمندری راستہ ہے جس سے دنیا کے تیل اور ایل این جی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

پانچ مارچ کو امریکہ نے پابندیوں کے باعث سمندر میں پھنسے روسی تیل کے بیڑوں کی خریداری کے لیے انڈیا پر عائد پابندیوں میں نرمی کی۔

امریکی حکام نے کہا کہ 30 روزہ استثنا ایک ’عارضی قدم‘ ہے، جس کا مقصد عالمی منڈیوں میں تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا ہے۔

خام برینٹ تیل کی قیمت جمعے تک بڑھ کر 87.7 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو تنازع شروع ہونے کے بعد سے 24 فیصد اضافہ ہے۔ 28 فروری کو کریملن کے خصوصی ایلچی کریل دمتریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ کہ ’جلد ہی تیل کا ایک بیرل 100 ڈالر‘ تک پہنچ جائے گا۔

ماسکو کے لیے یہ اضافہ نہایت موزوں وقت پر ہوا ہے۔ روس اپنے وفاقی بجٹ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ توانائی کی برآمدات سے حاصل کرتا ہے، جو 2025 کے آخر سے نئی مغربی پابندیوں کے دباؤ اور عالمی تیل کی کم قیمتوں کے باعث کم ہو گئی تھی۔

روس میں تیل کے شعبے سے وابستہ ایک تجزیہ کار نے بی بی سی مانیٹرنگ کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اس وقت انڈسٹری میں موڈ بہت پُرجوش ہے۔‘

سنہ 2022 یں جب مغربی پابندیوں نے عالمی تیل کی منڈیوں کی شکل بدل دی تو روس نے اپنا زیادہ تر خام تیل چین اور بھارت جیسے خریداروں کو بھاری رعایتوں پر بیچا۔

لیکن مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں غیر یقینی کی وجہ سے اب ان خریداروں کے پاس متبادل کم ہیں، جو ممکنہ طور پر ماسکو کو زیادہ قیمت وصول کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

کریملن کے حامی ٹی وی میزبان ولادیمیر سولوویوف نے 2 مارچ کو اپنے پرگرام میں کہا کہ ’ہمارے بجٹ کے لیے ایران پر حملہ بہت فائدہ مند ہے۔‘

کومرسانت اخبار نے رپورٹ کیا کہ روسی تیل خلیج سے غائب ہونے والے تیل کے خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم آئل اینڈ گیس کنسلٹنسی کے شریک بانی رونلڈ سمتھ کہتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز کی بندش نے روسی تیل کے فروخت کرنے والوں اور انڈین و چینی خریداروں کے درمیان مذاکراتی پوزیشنوں کو عملی طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔‘

پرائیمورسک کی بالٹِک بندرگاہ پر روسی یورالز خام تیل کی قیمت جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 45 فیصد بڑھ چکی ہے اور یہ لگ بھگ 58.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

صدر پوتن نے چار مارچ کو ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ ماسکو یورپ کو بھی گیس کی فراہمی سے محروم کر سکتا ہے، عین اُس وقت جب براعظم میں گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی یونین کے رہنما 2027 کے آخر تک روسی گیس پائپ لائن گیس پر مکمل پابندی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

صدر پوتن نے تجویز پیش کی تھی کہ روس ابھی فوراً اپنی گیس کا رُخ کہیں اور موڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ایسے خریدار سامنے آ چکے ہیں جو یہی قدرتی گیس زیادہ قیمت پر خریدنے کے لیے تیار ہیں، یہ صرف کاروبار ہے۔‘

تجارتی راستوں کی بندش

روس کے پاس ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی اپنی وجوہات ہیں۔

پابندیوں کے بعد جب ماسکو نے تجارتی راستوں کو مغرب سے ہٹا کر کہیں اور منتقل کرنے کی کوشش کی تو اس نے ایران میں مختلف منصوبوں، نقل و حمل کے راستوں سے لے کر جوہری پلانٹس تک، میں بھاری سرمایہ کاری کی۔

روسی ریاستی جوہری کارپوریشن ’روساٹم‘ نے تین مارچ کو کہا تھا کہ اس نے جنوبی بندرگاہی شہر بوشہر میں نئے جوہری توانائی یونٹس کی تعمیر روک دی ہے اور کچھ کارکنوں کو وہاں سے نکال لیا ہے۔

کمپنی کے سربراہ الیکسی لکھاچیف نے کہا تھا کہ ’بدقسمتی سے ہمارا ایران کی جوہری صنعت کی قیادت سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، نہ کوئی ٹیلیفونک نہ ہی الیکٹرانک رابطہ موجود ہے۔‘

سنہ 2025 میں تہران اور ماسکو نے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں چار جوہری توانائی ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے 25 ارب ڈالر مالیت کا ایک اور معاہدہ کیا تھا۔ روس بندر عباس کے بندرگاہی شہر کے قریب سیریک تھرمل پاور پلانٹ کی تعمیر بھی کر رہا ہے۔

روس اور ایران پر گہری نظر رکھنے والے نکیتا سماگن کہتے ہیں کہ ’ایران میں حکومت کی تبدیلی ہو یا نہ ہو لیکن ان تمام منصوبوں کے منہدم ہونے کا خطرہ موجود ہے۔‘

’جنگ ملک کو مستقل بحران اور عدم استحکام میں دھکیل سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایران میں کی جانے والی تمام سرمایہ کاری، جو بڑی حد تک روس سے آئی تھی، مکمل طور پر ناقابل عمل ہو جائے گی۔‘

ماسکو ایران کے زریعے توانائی کی دوبارہ برآمد کے لیے ایک 'گیس حب' قائم کرنا چاہتا تھا لیکن جنگ نے روس کی ان امیدوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

روس اس منصوبے کے تحت ایک سات ہزار 200 کلومیٹر طویل بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ راہداری بنانے چاہتا تھا، جو اسے انڈیا، ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیا سے جوڑ سکتی تھی۔

نکیتا سماگن کہتے ہیں کہ یہ منصوبے منافع بخش ہوں یا نہ ہوں لیکن ’روس کی معیشت کو پابندیوں کے سبب روایتی مغربی راستے بند ہونے کے بعد عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے نئے راستوں کی ضرورت ہے۔‘

اس جنگ کے سبب روس کا عسکری لوجسٹکس کا نظام بھی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ جنگ کے حامی ٹیلی گرام بلاگر ’فائٹر بومبر‘ کے مطابق روس اپنے فضائی راستوں کو شام میں اپنے فوجی اڈوں تک ساز و سامان پہنچانے اور ساحلی خطے میں کریملن کے زیرِ کنٹرول نیم فوجی 'افریقہ کور' کی تعیناتیوں کی معاونت کے لیے ایرانی فضائی حدود پر انحصار کرتا ہے۔

ان کے مطابق ایران کا راستہ قابلِ بھروسہ نہ رہنے کے سبب روس کو اب مجبوراً ترکی سے گزرنا پڑے گا، جس سے انقرہ کو ماسکو پر اضافی دباؤ ڈالنے کی طاقت مل جائے گی۔

’ہمیں اپنی تشویش زیادہ سخت انداز میں ظاہر کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہمیں زیادہ قیمت چکانی پڑے گی۔‘

امریکہ کی تقیسم ہوتی توجہ

جیسے جیسے امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں مزید الجھتا جا رہا ہے، روسی حکام اور تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ واشنگٹن کی توجہ یوکرین سے ہٹ جائے گی۔

ماسکو میں اس بحران کو روس کی اپنی جنگی مہم پر دباؤ کم کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے 5 مارچ کو روسی میڈیا کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا کہ ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جہاں ممکن ہو ہم موجودہ صورتحال سے فائدہ اُٹھا سکیں، چاہے یہ ہمیں کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے۔‘

امریکی افواج نے ٹرمپ کی صدارت کے دوران فوجی آپریشنز میں ہتھیاروں کے بڑے ذخائر استعمال کر لیے ہیں، جس نے روس میں اس قیاس آرائی کو ہوا دی ہے کہ یوکرین کے لیے اب کم ہتھیار دستیاب ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ ایک ہی ہفتے میں امریکہ نے ایران کے سینکڑوں حملوں کو روکا ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ میزائلوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، یہ وہی دفاعی نظام ہے جسے یوکرین اپنے دفاع کے لیے استعمال کرتا ہے۔

روسی بحریہ کے سابق کپتان واسیلی ڈنڈیکن نے ایبزاٹز میڈیا کو بتایا کہ ’یوکرین کو فضائی دفاعی نظام اور دیگر میزائلوں کی سپلائی میں کمی آئے گی۔‘

’ہمارے حملوں کی کامیابی میں اضافہ ہوگا اور ہماری فضائیہ زیادہ آزادی کے ساتھ کارروائیاں کر سکے گی۔‘

چار مارچ کو صدر ولودیمیر زیلینسکی نے کہا تھا کہ یوکرین کی فوج مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی مدد کرے گی اور اس مقصد کے لیے وہ مہارت استعمال کی جائے گی، جو روسی حملے کے دوران ایرانی ساختہ شاہد ڈرون مار گرانے سے حاصل ہوئی ہے۔

روسی جنگ کے حامی بلاگر رائبار ٹیلی گرام پر لکھتے ہیں کہ یوکرین چاہے تو ’اپنے تیار کردہ تمام ڈرونز مشرقِ وسطیٰ بھیج دے، اس سے ہمارا تو فائدہ ہی ہوگا۔‘

امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ روس کو اس کی سفارتی کوششوں میں بھی مدد دے سکتی ہے کیونکہ مذاکرات میں تاخیر ماسکو کو یہ موقع دے سکتی ہے کہ وہ یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے اپنے حق میں ایک سازگار امن معاہدہ حاصل کر لے۔

چار اور پانچ مارچ کو ابوظہبی میں ہونے والے امریکہ کی زیرِ نگرانی مذاکرات کا تازہ ترین دور مؤخر کر دیا گیا ہے اور نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

عسکری تجزیہ کار آندرے النتسکی نے کومرسانت اخبار میں لکھا کہ ’روس اور اس کے دیگر قریبی اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ ضرورت کے وقت میں ایران کو تنہا نہ چھوڑیں۔‘

لیکن اُن کے مطابق اُنھیں اس بات سے بھی بچنا چاہیے کہ وہ خود ’تنازع کے بھنور میں نہ پھنسیں‘ اور اس کے بجائے اپنی خود کی سٹریٹجک سمت پر توجہ مرکوز رکھیں۔