ایران کی جنگ چین کے بڑھتے ’عالمی اثر و رسوخ‘ کو کس طرح متاثر کر رہی ہے؟

    • مصنف, لورا بکر
    • عہدہ, چین میں نامہ نگار
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

چین نے ابھی تک مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے جھٹکے محسوس نہیں کیے۔۔۔۔ لیکن لہریں ضرور محسوس کر رہا ہے۔

قلیل مدت میں، اس کے پاس کئی مہینوں کے لیے تیل کے ذخائر موجود ہیں، جس کے بعد وہ مدد کے لیے اپنے پڑوسی روس کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔

لیکن چین یہ حساب ضرور لگا رہا ہو گا کہ اس صورتِ حال کے طویل مدتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔۔۔ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں اس کی سرمایہ کاری کے لیے بلکہ اس کے بڑے عالمی عزائم کے لیے بھی۔

اسی ہفتے بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی کے ہزاروں مندوبین جمع ہیں، جہاں وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے لیے آئندہ کا لائحہِ عمل طے کرنے پر غور کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جب ملک کو کمزور کھپت، طویل عرصے سے جاری جائیداد کے بحران اور مقامی حکومتوں کے بھاری قرضوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

جمعرات کو چین نے اپنی سالانہ معاشی ترقی کا ہدف 1991 کے بعد سب سے کم سطح پر کر دیا، حالانکہ بیجنگ تیزی سے ہائی ٹیک اور قابلِ تجدید صنعتوں کو ترقی دے رہا ہے۔

چین نے شاید امید کی تھی کہ برآمدات کے ذریعے اپنی معاشی مشکلات سے نکل آئے گا۔ لیکن اس نے ایک سال امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ میں گزارا ہے، اور اب اسے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے خدشے کا بھی سامنا ہے، وہ خطہ جو اس کے اہم سمندری تجارتی راستوں اور توانائی کی ضروریات کا بڑا ذریعہ ہے۔

جنگ جتنی زیادہ طول پکڑے گی، اس کے اثرات اتنے ہی زیادہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کی آمدورفت بند رہتی ہے۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے فلپ شیٹلرجونز کہتے ہیں کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدت کی بدامنی اور غیر یقینی صورتحال چین کے لیے اہمیت رکھنے والے دیگر خطوں کو بھی متاثر کرے گی‘ ۔

’مثال کے طور پر افریقی معیشتیں خلیجی سرمائے کے مستحکم بہاؤ سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اگر سرمایہ کاری رک گئی تو اس سے وسیع تر عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جو چین کے طویل المدتی اور وسیع مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

یعنی، چین کے عالمی اثر و رسوخ، سرمایہ کاری اور مشرقِ وسطیٰ سے باہر کی منڈیوں کو بھی طویل جنگ سے خطرہ لاحق ہے۔ اور دیگر ممالک کی طرح، چین بھی اس نئی غیر یقینی صورتحال سے محتاط ہے۔

کنگز کالج لندن میں چائنا لا انسٹیٹیوٹ اور ڈائریکٹرپروفیسر کیری براؤن کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ چین بھی وہی سوچ رہا ہے جو باقی سب سوچ رہے ہیں۔ منصوبہ کیا ہے؟ یقیناً امریکی بغیر منصوبے کے اس میں نہیں کودے ہوں گے۔‘

وہ کہتے ہیں ’شاید، باقی سب کی طرح، وہ بھی سوچ رہے ہوں گے، اوہ خدا، وہ واقعی بغیر کسی منصوبے کے اس میں کود گئے ہیں۔ اب ہم اس میں گھسیٹے نہیں جانا چاہتے، جیسے ہم کسی اور تنازع میں بھی نہیں الجھنا چاہتے، لیکن ساتھ ہی ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا بھی پڑے گا۔‘

زیادہ پکے دوست نہیں مگر قریبی تعلق قائم ہے

ایران کو ہمیشہ مغرب کے بہت سے حلقوں میں چین کا ’اتحادی‘ قرار دیا گیا ہے۔

یقیناً دونوں ممالک کے تعلقات دوستانہ رہے ہیں۔

تہران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا آخری غیر ملکی دورہ 1989 میں بیجنگ کا تھا، جہاں انہوں نے عظیم دیوارِ چین پر تصویر بھی بنوائی تھی۔

ان کے درمیان شراکت داری اُس وقت مزید گہری ہوئی جب شی جن پنگ نے 2016 میں تہران کا دورہ کیا اور بالآخر دونوں ممالک نے 2021 میں 25 سالہ سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے۔

چین نے وعدہ کیا کہ وہ 25 برسوں میں ایران میں 400 ارب ڈالر (300 ارب پاؤنڈ) کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس کے بدلے ایران تیل کی فراہمی جاری رکھے گا۔

تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس رقم کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی ایرانیوں تک پہنچا ہے۔ لیکن تیل کی فراہمی بہرحال جاری رہی۔

سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کے مطابق 2025 میں چین نے ایران سے روزانہ تقریباً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل خام تیل درآمد کیا، جو چین کی مجموعی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 12 فیصد بنتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے کئی کھیپوں کو اصل ماخذ چھپانے کے لیے ملائیشین تیل کے طور پر لیبل کیا گیا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مرکز کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں سمندر میں موجود ذخیرہ گاہوں میں چار کروڑ 60 لاکھ بیرل سے زیادہ ایرانی تیل محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ چینی بندرگاہوں ڈالیان اور ژوشان میں کسٹمز کلیئرنس کے منتظر ذخائر بھی موجود ہیں، جہاں نیشنل ایرانی آئل کمپنی نے ذخیرہ کرنے کے ٹینک کرائے پر لے رکھے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اسلحے کی فروخت کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ چین نے تہران کو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل فروخت کرنے کی تردید کی ہے، تاہم امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے ایرانی انجینیئرز کی تربیت اور پرزہ جات فراہم کر کے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مدد کی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ بھی الزام ہے کہ ایران میں مظاہرین اور حکومت کے ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن میں چین کی فراہم کردہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام نے کردار ادا کیا۔

یہ سب دیکھ کر یوں لگ سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔

یہاں تک کہ بعض اخباری سرخیوں میں چین اور ایران کو شمالی کوریا اور روس کے ساتھ ملا کر ’عدم استحکام کا محور‘ بھی قرار دیا گیا۔

اگرچہ یہ چاروں ممالک امریکی قیادت میں قائم عالمی نظام کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں، لیکن حقیقت میں چین اور ایران کا تعلق نظریاتی سے زیادہ مفادات پر مبنی رہا ہے۔

پروفیسر براؤن کہتے ہیں کہ ’ایسا کوئی حقیقی نظریاتی یا ثقافتی سبب نہیں ہے کہ چین ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے۔‘

چین کی تقریباً ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ جیسی حکمتِ عملی کے لیے کبھی کبھار یہ فائدہ مند رہا کہ ایران امریکہ کے لیے ایک مستقل دردِ سر بنا رہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ چین کے ایران سے تعلقات رکھنے کی وجوہات زیادہ تر منفی نوعیت کی ہیں، مثبت نہیں۔

’یہ کسی بھی تعلق کے لیے ایک بہت کمزور بنیاد ہوتی ہے، اور یہ ایک حد تک تو کام کرتی رہی، مگر یہ کبھی بھی بہت گہرا تعلق نہیں تھا۔‘

چین اپنے اتحادیوں کو اس انداز میں نہیں دیکھتا جس طرح مغربی ممالک دیکھتے ہیں۔ وہ باہمی دفاع کے معاہدوں پر دستخط نہیں کرتا اور نہ ہی کسی اتحادی کی مدد کے لیے فوراً میدان میں اترتا ہے۔

اس کے بجائے بیجنگ عام طور پر کسی بھی تنازع سے دور رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

پیش قدمی کرنے کی کوشش

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے واقعات سے پریشان نہیں ہے۔

بیجنگ نے حسبِ توقع ایک محتاط مذمت جاری کی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔۔۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کسی خودمختار ملک کے رہنما کو کھلے عام قتل کیا جائے اور حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی جائے۔‘

حقیقت یہ ہے کہ جنوری میں وینزویلا میں اور اب ایران میں واشنگٹن کے اقدامات نے ان ممالک کے چین کے ساتھ تعلقات کی حدود بھی واضح کر دی ہیں۔

دونوں مواقع پر بیجنگ ایک تماشائی کی حیثیت سے کنارے پر ہی رہا اور وہ اپنے دائرۂ اثر میں آنے والے ممالک کی عملی مدد کرنے کے قابل نظر نہیں آیا۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے فلپ شیٹلر جونز کے مطابق چین خود کو امریکہ کے مقابل ایک ’ذمہ دار توازن پیدا کرنے والی طاقت‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ’فوجی طاقت کے حوالے سے امریکہ یہ دکھا رہا ہے کہ سپر پاور ہونا دراصل کیا معنی رکھتا ہے یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کی صلاحیت۔۔‘

ان کے بقول، بیجنگ ’اسی سطح کی سپر پاور نہیں ہے‘ باوجود اس کے کہ اس کی معیشت مضبوط ہے۔ ’چین اس طرح کے اقدامات کے خلاف اپنے دوست ممالک کا تحفظ کرنے کے لیے تیار نہیں، چاہے وہ ایسا کرنا بھی چاہے۔‘

ان خدشات کا مقابلہ کرنے کے لیے، ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس شی جن پنگ خود کو ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی عالمی رہنما کے طور پر پیش کرتے رہیں گے۔

ایس او اے ایس چائنا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر سٹیو سانگ کہتے ہیں ’چین کا مؤقف یہ ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مغرب کی منافقت اور لبرل عالمی نظام کے دعوے کس حد تک کھوکھلے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اس تنازع کے باعث توانائی کی فراہمی اور فضائی سفر میں رکاوٹیں مغرب کے مقابلے میں گلوبل ساؤتھ کی معیشتوں پر کہیں زیادہ گہرے اثرات مرتب کریں گی۔

’چند مہینوں میں کچھ ممالک کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔۔۔ اور یہ زیادہ تر گلوبل ساؤتھ کے ممالک ہوں گے۔ ہم مغربی اتحاد میں دراڑیں پڑتی بھی دیکھ رہے ہیں، جہاں برطانیہ اور سپین جیسے ممالک کو حملوں کے لیے خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

بیجنگ کو شاید یہ موقع بھی نظر آئے کہ اسے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

وزیرِ خارجہ وانگ یی پہلے ہی عمان اور فرانس کے ہم منصبوں سے بات کر چکے ہیں اور چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک خصوصی ایلچی بھیجے گا۔

ٹرمپ کا متوقع دورہ

تاہم چین اس معاملے میں بہت محتاط انداز اختیار کر رہا ہے، کیونکہ اس کے لیے ایک بڑا عنصر امریکہ کے غیر متوقع مزاج کے حامل صدر ہیں، جو اس مہینے کے آخر میں ایک اہم اور طویل عرصے سے متوقع ملاقات کے لیے آنے والے ہیں۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر چین کی تنقید میں اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا، جس سے ممکن ہے کہ ملاقات کے دوران مصافحہ کچھ آسان ہو جائے۔

کچھ لوگوں نے یہ قیاس آرائیاں بھی کی ہیں کہ آیا یہ دورہ اب بھی ہو سکے گا یا نہیں، تاہم ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ یہ منصوبہ بدستور برقرار ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے حکام اس دورے پر بات چیت کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔

فلپ شیٹلر جونز کے مطابق چین اس موقع کو اس لیے بھی اہم سمجھ سکتا ہے کہ وہ یہ اندازہ لگا سکے کہ ٹرمپ دیگر حساس معاملات پر کیسے ردِعمل دے سکتے ہیں، مثلاً تائیوان کے معاملے پر، جو ایک خودمختار نظام کے تحت چلنے والا جزیرہ ہے مگر جس پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے۔

ان کے مطابق اگر یہ جنگ امریکہ میں غیر مقبول ثابت ہوتی ہے تو اس سے امریکی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں مزید احتیاط یا محدود مداخلت کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

اور اگر مستقبل کی کسی امریکی حکومت نے واقعی ایسا راستہ اختیار کیا تو چین کو اپنے خطے اور وسیع تر دنیا میں اپنے مفادات آگے بڑھانے کے لیے زیادہ آزادی مل سکتی ہے۔

چین میں کچھ حلقے اس بحران کو اس موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں کہ واشنگٹن کو جنگ پسند طاقت کے طور پر پیش کیا جائے، جیسا کہ پیپلز لبریشن آرمی نے سوشل میڈیا پر کیا ہے۔

لیکن پروفیسر براؤن کے مطابق اس طرح کا غیر متوقع اور غیر منظم کردار رکھنے والا فریق بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

’میرا خیال ہے کہ چین ایک ایسے عالمی نظام کا خواہاں نہیں جس پر امریکہ حاوی ہو، لیکن وہ اس بات کا بھی متمنی نہیں کہ امریکہ ایک اتنا غیر مستحکم کھلاڑی بن جائے۔‘