آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لالٹین کی کہانی: جو فاطمی دور سے رمضان کی پہچان بنی
- مصنف, ولید بدران
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
رمضان میں دسترخوان پر پکوان اور روشنیوں کا تعلق خاصہ پرانا ہے اور اس میں ایک خاص اہمیت یا مقام ’لالٹین‘ کو حاصل ہے۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ اسلامی دنیا میں رمضان سے جُڑے سب سے نمایاں عوامی علامات میں سے ایک لالٹین بھی ہے۔
اسی لالٹین کو ایک خاص مقام تو مصر میں حاصل ہے کہ جہاں یہ لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام بنا چکی ہے۔جیسے ہی رمضان قریب آتا ہے بازار مختلف قسم کی لالٹینوں سے بھر جاتے ہیں اور سڑکیں اور گھروں کو اس کی رنگین روشنی سے سجایا جاتا ہے۔ برٹش اینسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ لالٹین رمضان کے مہینے میں رات کے وقت سڑکوں اور گھروں کو روشن کرتی ہیں جو اس مہینے کے ساتھ جڑی خوشی اور انتظار کی کیفیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان لالٹینیوں سے بہت سے لوگوں کے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں، جیسے کہ بچے اسے اپنے ہاتھوں میں اُٹھا کر گلیوں بازاروں میں گھوما کرتے تھے اور ساتھ ساتھ رمضان میں دعائیہ کلام بھی پڑھا کرتے تھے۔ لالٹین خریدنا کئی خاندانوں کے لیے سالانہ ایک روائیت بن گئی ہے، جو رمضان کی روحانی اور سماجی تیاری کی شروعات کا اعلان کرتی ہے۔ اس طرح لالٹین نے اجتماعی خوشی کے اظہار اور رمضان کی خصوصیت کی علامت کے طور پر اپنی جگہ بنا لی ہے، جو کہ خاندانی قربت اور سماجی تعاون کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس روایت کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں، جب بجلی نہیں ہوتی تھی تو لالٹین کا استعمال رات میں روشنی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ جیسے جیسے اسلامی معاشروں نے ترقی کی، لالٹین نے اسلامی فن تعمیر اور فنون سے متاثر ہو کر فنکارانہ اور سجاوٹی شکلیں اختیار کیں اور یہ ایک ایسا ثقافتی ورثہ بن گئی جو خاص طور پر جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتی ہے۔
تاریخی اور سیاسی تبدیلیوں نے لالٹین کو ایک آلے سے ایک تہوار کی علامت میں بدلنے میں مدد دی، جو عوامی ثقافت میں جڑ پکڑ گئی۔ اسی لیے رمضان میں لالٹین کی تاریخ کا مطالعہ صرف اس کی ابتدا کو جانچنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مذہب، عادات اور روایات کس طرح اسلامی معاشروں کی روزمرہ زندگی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیوں کے باوجود ثقافتی ورثے کی مسلسل موجودگی کا ثبوت ہے اور یہ بھی کہ عوامی علامات اپنی اصل افادیت سے بڑھ کر ثقافتی شناخت کا حصہ بن سکتی ہیں۔
ماہرِ لسانیات کے مطابق لفظ ’لالٹین‘ اصل میں یونانی زبان سے آیا ہے، جہاں لالٹین کا مطلب روشنی یا جلتا ہوا مشعل تھا۔ یہ لفظ غالباً قبطی زبان یا مصر اور شام میں رومی دور کے آخری ادوار اور ابتدائی اسلامی دور کے دوران بازنطینی تہذیب کے اثر سے عربی میں منتقل ہوا۔ یونانی تاریخ میں ’فان‘ روشنی یا نمودار ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، جو لالٹین کے کام یعنی شعلے کو ہوا سے محفوظ رکھنے کے لیے روشنی کا ذریعہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ لفظ عربی میں موجودہ شکل ’لالٹین‘ میں تبدیل ہوا جو خاص طور پر شعلے کو محفوظ رکھنے والے ڈھانچے یا فریم کے ساتھ مشعل کی نمائندگی کرتا ہے اور تقریباً اپنے اصل معنی کو برقرار رکھا۔ تاہم، عربی ثقافت میں خاص طور پر مصر میں لالٹین نے ایک رمزی معنی اختیار کر لیا جو رمضان سے جُڑا ہے۔ یہ خوشی اور جشن کی علامت بن گیا اور اکثر یہ رمضان کی لالٹین کی نمائندگی کرتا ہے نہ کہ محض ایک عام چراغ۔
لالٹین سے متعلق کئی مختلف روایات
تاریخی اور عوامی روایات کے مطابق اس روایت کی ابتدا مصر کی فاطمی ریاست کے دور سے جڑی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ایناس محمد البہیجی اپنی کتاب ’تاریخ الدولۃ الفاطمیہ‘ میں لکھتی ہیں کہ ’فاطمیوں نے کئی ایسی روایات قائم کیں جو عمومی طور پر اسلامی ثقافت اور خاص طور پر مصری ثقافت کا حصہ بن گئیں۔ آج بھی مصر کے مسلمان اور آس پاس کے ممالک اور علاقوں کے بہت سے مسلمان ان روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور شاید ان میں سب سے نمایاں رمضان کی لالٹین ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوہر الصقلی فاطمی فوج کی قیادت کرتے ہوئے شعبان 358 ہجری، جولائی 969 عیسوی میں مصر میں داخل ہوئے۔ یہ قدم فاطمی خلیفہ المعز لدین اللہ کے حکم پر اٹھایا گیا تھا اس وقت جب بغداد میں عباسی خلافت اور مصر میں اخشیدی ریاست کمزور ہو چکی تھی۔
جوہر الصقلی بغیر کسی بڑی مزاحمت کے مصر میں داخل ہوئے اور عارضی طور پر فسطاط کو اپنا مرکز بنایا۔ اس کے بعد انھوں نے فوراً قاہرہ شہر کی بنیاد رکھنا شروع کی تاکہ یہ فاطمی ریاست کا نیا دارالحکومت بنے اور بعد میں خلیفہ کی آمد کا مرکز ہو۔ اسی دوران خلیفہ کے محل اور جامع الازہر کی تعمیر بھی شروع کی گئی۔
رمضان کے مہینے میں لالٹین کی روایت کی ابتدا کے بارے میں احمد المنزلاوی اپنی کتاب ’ماہِ رمضان قبل از اسلام اور اسلام میں‘ میں لکھتے ہیں کہ ’فاطمی خلیفہ المعزّ لدین اللہ منگل کی شام رمضان کے مہینے کی پانچ تاریخ کو سن 362 ہجری 973 عیسوی میں موجودہ تیونس کے شہر مہدیہ سے قاہرہ میں داخل ہوئے۔
مصری لوگ ان کے استقبال کے لیے شاندار جلوس کی صورت میں نکلے اور ان کے ہاتھوں میں لالٹین، مشعلیں اور موم بتیاں تھیں۔ یہ جلوس جیزہ سے قاہرہ میں واقع ان کے محل تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی دن سے رمضان کے مہینے کی لالٹینوں کے ساتھ تعلق قائم ہو گیا۔
لوگ فجر کی نماز کے لیے مساجد جاتے وقت لالٹین اپنے ہاتھوں میں لیے مساجد کی جانب بڑھتے تھے۔ جبکہ خواتین اور بچے انھیں خریداری کرنے یا رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہوئے ساتھ لے جاتے تھے۔‘
اس سلسلے میں بیان کی جانے والی ایک روایت یہ بھی ہے کہ فاطمی خلیفہ الحاکم بأمر اللہ نے حکم دیا تھا کہ خواتین کو رات کے وقت گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ دی جائے، سوائے رمضان کے مہینے میں۔ اس شرط کے ساتھ کہ ان کے آگے ایک لڑکا لالٹین لے کر چلے تاکہ لوگوں کو ان کے گزرنے کا علم ہو جائے اور راہ گیر احتراماً ان کے لیے راستہ چھوڑ دیں۔
بعد کی صدیوں میں خاص طور پر مملوک اور عثمانی ادوار میں لالٹین اپنے سرکاری اور مذہبی دائرے سے آگے بڑھ کر عوامی جشن کا حصہ بن گئی۔ بچے گلیوں میں لالٹین لے کر گھومتے اور مشہور مذہبی ترانے گاتے۔ اس کے بعد سے لالٹین مصر میں رمضان کی آمد کی ایک اہم علامت بن گئی اور پھر آہستہ آہستہ عرب اور اسلامی دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گئی۔
لالٹین کی تیاری
فاطمی دور میں لالٹین دھات اور شیشے سے بنائے جاتی تھیں اور انھیں موم بتیوں یا تیل سے روشن کیا جاتا تھا تاکہ وہ ایک عملی ذریعہ بن سکیں اور نماز اور سحری کے اوقات کی نشاندہی بھی کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھ لالٹین سازی میں نمایاں ترقی ہوئی، خاص طور پر مملوک دور میں۔ اس زمانے میں لالٹین بنانے والوں نے اس کی شکل اسلامی فنِ تعمیر سے متاثر ہو کر بنائی، جیسے مینار، گنبد، منبر، کھڑکیاں اور دروازے۔ اس پر ہلال، نقش و نگار اور خطاطی بھی کی جس سے اسے ایک منفرد انداز ملا۔
عثمانی دور میں یہ ہنر مزید ترقی کر گیا اور لالٹینوں کی اشکال اور سائز میں تنوع آ گیا۔ ان کی تیاری میں رنگین شیشہ اور شوخ رنگ استعمال کیے جانے لگے، جس سے لالٹین زیادہ خوبصورت اور دلکش ہو گئیں اور رمضان کی راتوں میں قاہرہ کی گلیوں کو خوشگوار اور پرمسرت ماحول عطا کرنے لگے۔
بیسویں صدی میں لالٹین سازی ایک وسیع عوامی ہنر بن گئی، خاص طور پر قاہرہ کے قدیم علاقوں جیسے السیدہ زینب، الغوریہ اور الحسین میں۔ یہاں چھوٹی ورکشاپیں ہاتھ سے بنی لالٹین تیار کرنے کے لیے مشہور ہو گئیں، جو ٹین اور شیشے سے بنائی جاتی تھیں اور ان میں روایتی انداز اور ان کی اصل شکل کو برقرار رکھا جاتا تھا۔
روایتی لالٹین ابتدا میں موم بتیوں سے روشن کی جاتی تھیں لیکن بعد میں بیٹریوں کے استعمال کے ساتھ اس میں ترقی آئی، جبکہ اس کی تاریخی شکل کو برقرار رکھا گیا۔ مصری مصنفہ سمیرہ شفیق اپنی کتاب ’ہنونا اور اُن کی دادی اماں سونا‘ میں ایک لالٹین کی فیکٹری کے مالک کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’کارخانے کے مزدور پورا سال کام کرتے ہیں اور ہر سال شعبان کے مہینے میں لالٹین تیار کرنا شروع کرتے ہیں۔ استعمال ہونے والا سامان سادہ ہوتا ہے جیسے ٹین، تار، شیشہ اور شوخ رنگ۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ مطلوبہ شکل کا خاکہ بنانے کے بعد شیشے کو المازہ یعنی شیشہ کاٹنے والے آلے سے کاٹا جاتا ہے، پھر ٹین کو کاٹ کر اس کا فریم بنایا جاتا ہے جس میں شیشے کی پلیٹیں لگائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد لحام کے چولہے ’وابور‘ کے ذریعے ٹِن کی مدد سے آخری شکل کو جوڑا جاتا ہے۔ ہر کاریگر کا اپنا مخصوص کام ہوتا ہے اور آخری مرحلہ شیشے کو رنگنے اور لالٹین کو نقش و نگار سے سجانے کا ہوتا ہے۔
لالٹینوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں جن میں سب سے مشہور ابو شمعہ ہے۔ اس کے علاوہ المخمس، ابو باب، شقة البطيخ، الشمامة، الصاروخ اور دیگر اقسام بھی پائی جاتی ہیں۔
جدید دور اور لالٹین
جدید دور میں لالٹین سازی میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ پہلے لالٹین عام طور پر ہاتھ سے ٹین، تانبا، لکڑی اور رنگین شیشے سے بنائی جاتی تھی، لیکن اب چین سے درآمد شدہ روشنی والے اور میوزیکل پلاسٹک والی لالٹین مارکیٹ میں آ گئی ہیں، جس کی وجہ سے روایتی لالٹین کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔
اس کے باوجود، مصری ہاتھ سے بنی لالٹین اب بھی ایک اصل ثقافتی علامت کے طور پر موجود ہیں اور حالیہ سالوں میں اس میں دوبارہ دلچسپی بڑھ رہی ہے اور مقامی ثقافتی صنعتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
سمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ، اب لالٹین کو ورچوئل انداز میں تجربہ کرنا بھی ممکن ہے، جہاں ایپلیکیشنز کے ذریعے اسے بڑا یا چھوٹا کیا جا سکتا ہے، حرکت دی جا سکتی ہے اور بچوں کے لیے گانا اور ڈیجیٹل رنگ بھرنے کے تجربات بھی شامل ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ لالٹین اپنی روایتی جڑوں سے دور ہو گئی ہے۔ جدید ڈیزائنز میں بعض اوقات تانبا اور شیشہ کو سمارٹ ایل ای ڈی لائٹس کے ساتھ ملایا جاتا ہے، جس سے روایت اور ڈیجیٹل جدت کے درمیان توازن قائم ہوتا ہے اور بچوں اور ڈیزائنرز کو رمضان کی روایت کے ساتھ تاریخ کے دریچے میں جھانکنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
صدیوں سے لالٹین رمضان کی خوشی اور امید کی علامت رہی ہے، چاہے وہ فاطمی دور کے قاہرہ کی سڑکوں کی روشنی ہو یا بازاروں میں بچوں کی رنگین لالٹینیں۔ آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لالٹین رمضان کی ایک زندہ علامت کے طور پر موجود ہے، جو روایت اور جدیدیت کو یکجا کرتی ہے اور دکھاتی ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل جدت ثقافتی عادات کو برقرار رکھتے ہوئے انھیں ایک نیا انداز دے سکتا ہے۔ اس طرح لالٹین صرف روشنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک روایت اور ثقافت کا نام ہے۔