جنگ کے دوران مسافر طیاروں کی بھیڑ سنبھالنے والے ’فلائٹ کنٹرولر‘ کیسے کام کرتے ہیں؟

    • مصنف, جارج سینڈیمین
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

گذشتہ دو ہفتے سے ایران اور خلیج کے آسمان پر میزائل اور ڈرونز کی حکمرانی ہے۔ ایسے میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز مسافر طیاروں کو جنگ سے بچاتے ہوئے محفوظ مگر بھیڑ والے فضائی راستوں سے گزار رہے ہیں۔

فلائٹ ٹریکر کے نقشے پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مصر اور جارجیا کس قدر مصروف ہو چکے ہیں۔

ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے کنٹرولرز میں سے ہر ایک نقشے کے مختلف حصوں کی نگرانی کرتا ہے، اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ طے کرتا ہے کہ کون سے طیارے ان کی فضائی حدود میں داخل ہو رہے ہیں اور کون سے نکل رہے ہیں۔

عام دنوں میں ایک کنٹرولر ایک وقت میں اپنے علاقے میں چھ طیاروں کو سنبھالتا ہے۔ لیکن جنگ کے دوران یہ تعداد اس سے دگنی بھی ہو سکتی ہے۔

ریٹائرڈ ایئر ٹریفک کنٹرولر برائن روچ کہتے ہیں کہ ’ایسی صورتحال میں دماغ صرف 20 سے 30 منٹ ہی یکسوئی برقرار رکھ سکتا ہے۔‘

انھوں نے یہ کام 18 سال تک کیا، پہلے مختلف ممالک میں رائل ایئر فورس کے لیے اور پھر لندن میں مسافر طیاروں کے لیے، جہاں وہ ایسے یونٹ کا حصہ تھے جس کی ذمہ داری ہنگامی صورتحال میں موصول ہونے والی کالز کو سنبھالنا تھی۔

مصروف اوقات میں جب طیاروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو انھیں سنبھالنے کے لیے مزید کنٹرولرز کو بلایا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ایک کنٹرولر پر کام کا بہت زیادہ دباؤ نہ پڑے۔

روچ کے مطابق، عام طور پر 45 سے 60 منٹ تک کام کی شفٹ کے بعد 20 سے 30 منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے۔ لیکن جب کسی بھی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے ٹریفک بہت زیادہ بڑھ جائے تو ممکنہ طور پر وہ صرف 20 منٹ کام کرتے ہیں اور پھر اتنی ہی دیر کا وقفہ لیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت کنٹرولرز ناقابلِ یقین حد تک طویل شفٹیں کر رہے ہیں اور ناقابلِ یقین حد تک زیادہ ٹریفک کو سنبھال رہے ہیں۔‘

تنازعات کی وجہ سے مسافر طیاروں کے راستوں پر کیا اثر پڑتا ہے، اس کی ایک مثال یہ ہے جب سنہ 2014 میں مشرقی یوکرین میں روسی ساختہ میزائل نے ملائیشیا ایئرلائنز کی پرواز کو مار گرایا تھا اور طیارے میں سوار تمام 298 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔

اُس وقت یوکرین کی حدود میں تنازع کی شدت کم تھی لیکن حالیہ دنوں میں لڑائی کا فضا تک پھیل جانا اور فوجی طیاروں کا گرنا ایسا منظر ہے جسے دیکھنے کی خواہش کوئی نہیں رکھتا۔

گذشتہ ہفتے امریکی عملے کے چھ ارکان اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کا ایندھن بھرنے والا طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا۔

یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں کا حصہ تھا اور اس واقعے میں شامل دو طیاروں میں سے ایک تھا۔ دوسرا طیارہ بحفاظت اتر گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ حادثہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھا اور نہ ہی دوست فوج کی۔

جب فضائی حدود اچانک بند ہو جائے یا بہت زیادہ مصروف ہو جائے تو کنٹرولرز پائلٹس سے رابطہ کرتے ہیں کہ انھیں کہاں جانا ہے، ان کے پاس کتنا ایندھن ہے اور ان کے طیارے کو کون سے ہوائی اڈے سنبھال سکتے ہیں۔

ہر طیارے کی جسامت مختلف ہوتی ہے اور کنٹرولرز کو یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ تمام طیارے ایک دوسرے سے محفوظ فاصلے پر رہیں کیونکہ بڑے مسافر طیارے اپنے قریب پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے شدید ہوا کے دباؤ اور عدم توازن کا باعث بنتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ چھوٹے طیاروں کو بڑے طیاروں سے ایک محفوظ فاصلے پر رکھنا پڑتا ہے۔ اور اگر کوئی چھوٹا بزنس جیٹ ہے تو ہو سکتا ہے اسے بالکل ہی مختلف راستے پر ڈالنا پڑے۔

جان 20 سال سے پائلٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ فضائی حدود اچانک بند کر دی جائیں۔ وہ اپنا اصل نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ اب بھی پائلٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے اوپر سے گزرنے والے راستوں پر پرواز کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر ایئرلائنز پہلے سے منصوبہ بندی کر لیتی ہیں کہ کب انھیں کسی مخصوص فضائی حدود سے گریز کرنا ہے، وجہ چاہے خراب موسم ہو یا پھر جنگ۔

جان کہتے ہیں: ’اس معاملے میں ہم سب جانتے تھے کہ مشرق وسطیٰ میں کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ کچھ ہو گا یا نہیں ہو گا، بلکہ سوال یہ تھا کہ کب ہو گا۔‘

تنازع سے بچنے کے لیے متبادل پروازوں کے منصوبوں سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ، پائلٹس یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ایندھن ساتھ رکھیں تاکہ اگر انھیں واپسی کی پرواز کرنی پڑے یا اپنی اصل منزل سے زیادہ دور کسی ہوائی اڈے پر اترنا پڑے تو وہ ایسا کر سکیں۔

جان کہتے ہیں کہ ’ایسا کرنا ایک معمول کا حصہ ہوتا ہے اور اس کی تربیت دی گئی ہوتی ہے۔‘

وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پائلٹس اور کنٹرولرز طریقہ کار پر سختی سے عمل کرتے ہیں تاکہ فضائی حدود اگر بہت زیادہ مصروف ہو جائے تو بھی صورتحال ان کے قابو میں رہے۔

ہنّا طویل فاصلے کی پروازوں میں کیبن کریو کی مدد کرتی ہیں۔ ہم ان کا اصل نام استعمال نہیں کر رہے کیونکہ انھیں اپنی ایئرلائن کی جانب سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ہنّا جن راستوں پر پرواز کرتی ہیں وہ اکثر مشرق وسطیٰ سے گزرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تنازع کے اوقات میں جہاز پر موجود ان کی ٹیم کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، ’خاص طور پر گھبرائے ہوئے یا ناراض مسافروں کے لیے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ تصور بہت گھسا پٹا ہے کہ کیبن کریو کا کام مسافروں سے بس یہ پوچھنا ہے کہ انھیں کھانے میں چکن چاہیے یا بیف۔ ہمارا کام اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘

ان کے مطابق: ’بہت سے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے کام کا ایک پہلو مسافروں کی حفاظت کرنا بھی ہے۔ کھانا پیش کرنا تو وہ کام ہے جو ہم تب کرتے ہیں جب باقی سب کچھ قابو میں ہو۔‘

ہنّا کے مطابق جب پروازوں کی منزل تبدیل کر دی جاتی ہے اور شیڈول بکھر جاتا ہے تو اس سے پائلٹس اور کیبن کریو دونوں ہی متاثر ہوتے ہیں۔ ایسا ہونے سے کام اور زندگی کا صحت مندانہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں ان کی ایئرلائن سمیت کئی ایئرلائنز نے اپنے راستوں میں مزید سٹاپ شامل کیے ہیں کیونکہ وہ ایران کے اوپر سے سیدھا نہیں گزر سکتیں۔

تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ کام کا اس نوعیت کا بوجھ ان کے پیشے کا حصہ ہے۔

ہنّا کا کہنا ہے کہ ’کیبن کریو کے طور پر ہم سب خود کو ایک بڑے خاندان کا حصہ محسوس کرتے ہیں۔‘