آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا امریکہ کی ایران جنگ چین کو تائیوان پر حملے کا موقع دے سکتی ہے؟
- مصنف, ٹیم لیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین اور تجزیہ کاروں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ امریکی فوج کی توجہ ایران پر مرکوز ہونے کے باعث کیا چین اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔
اس سے قبل 1950 کی دہائی میں بیجنگ نے تائیوان پر اس وقت حملے کیے تھے جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں میں مصروف تھا تاہم اس مرتبہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد چین کی فوجی سرگرمیاں تائیوان کے گرد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیجنگ کی جانب سے ایک دوستانہ اشارہ ہو سکتا ہے خاص طور پر مارچ کے آخر میں صدر ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل، جب بیجنگ تائیوان سمیت کئی معاملات پر سمجھوتہ چاہتا ہے۔
امریکی فوجی کارروائیوں نے وینیزویلا اور ایران جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو نشانہ بنایا ہے جس سے چین کی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور یہ ممکنہ طور پر تائیوان کے خلاف کسی فوجی اقدام میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
دوسری جانب صدر شی جن پنگ کی فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں نے چین کی جنگی صلاحیت کو کمزور کیا ہے، جبکہ وینیزویلا اور ایران کے خلاف امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ بیجنگ کے لیے ایک رکاوٹ کا سبب بھی بن رہا ہے۔
تائیوان میں چینی افواج موجودگی کا تناسب
موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین کے تائیوان پر حملے کی ایک تاریخی مثال وہ ہے جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع میں الجھا ہوا تھا۔
1958 میں جب امریکہ لبنان میں دراندازی کر رہا تھا تب چینی رہنما ماؤ زے تنگ نے کِن مین (کیموئی) اور ماتسو جزائر پر گولہ باری کا آغاز کیا۔ یہ علاقے اب بھی تائیوان کے زیرِ کنٹرول ہیں۔
اس موقع پر ماؤ نے تائیوان اور لبنان کو ایسے پھندے قرار دیا جو امریکہ کو جکڑ رہے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کِن مین اور ماتسو پر حملہ دراصل مشرقِ وسطیٰ کے عوام کی امریکہ مخالف جدوجہد کی حمایت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے بھی بڑھ کر یہ اقدام امریکہ کی تائیوان کے لیے وابستگی کا امتحان تھا۔
تاہم 1958 کے حملوں کے برعکس موجودہ ایران جنگ کے دوران بیجنگ نے تائیوان کے گرد اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ نہیں کیا حالانکہ امریکی فوجی وسائل مشرقِ وسطیٰ کی طرف منتقل کیے جا رہے ہیں، جیسے لنکن کیریئر سٹرائیک گروپ جسے بحیرہ جنوبی چین سے ہٹایا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق واشنگٹن تھاڈ اینٹی میزائل سسٹم نظام کو بھی جنوبی کوریا سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ان اقدامات نے امریکہ کی چین کے خلاف روک تھام کی صلاحیت میں ممکنہ کمی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس کے باوجود مارچ میں اب تک صرف دو چینی جنگی طیاروں کی تائیوان کی فضائی حدود میں پرواز کی اطلاعات ہیں جو حالیہ برسوں میں سب سے کم سطح کی دراندازی کہی جا رہی ہے۔
بیجنگ نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی جبکہ تائیوان کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ چین صدر ٹرمپ کے مارچ کے آخر میں متوقع دورے سے قبل مثبت ماحول پیدا کر کے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ تائیوان پر طاقت کے ذریعے حاوی نہیں ہو گا۔
تائیوان کے ایک قومی سلامتی کے اہلکار نے تائی پے کو محتاط رہنے کی تلقین کی اور خبردار کیا کہ بیجنگ امریکی سلامتی کی حمایت اور تائیوان کو اسلحے کی فروخت کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
شی اور ٹرمپ کی ملاقات میں توانائی بحران اور تجارتی معاملات زیر غور ہوں گے
صدر شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ کے درمیان عنقریب ہونے والی ملاقات خود چین کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دونوں عالمی طاقتیں تائیوان، تجارت اور دیگر مسائل کے حل کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ چین تائیوان کے معاملے اور خصوصاً امریکی اسلحہ فروخت کے حوالے سے صدر ٹرمپ سے معاہدہ چاہے گا جبکہ ساتھ ہی ٹیرف کم کرنے اور سیمی کنڈکٹرز و مصنوعی ذہانت پر برآمدی پابندیاں ختم کرنے پر بھی زور دے گا۔
دوسری جانب واشنگٹن پرامید ہے کہ بیجنگ روس اور ایران سے کم تیل خریدے اور امریکہ سے زیادہ تیل، گیس، سویابین اور بوئنگ طیارے خریدے جبکہ اس کو نایاب معدنیات پر برآمدی پابندیاں نرم کرنے کی امید بھی ہے۔
امریکہ کی وینیزویلا اور ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کو بعض مبصرین چین کی تیل کی سپلائی کو نشانہ بنانے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا ایک حصہ قرار دے رہے ہیں۔
چین کے بعض غیر سرکاری تخمینوں کے مطابق امریکہ کے وینیزویلا کے تیل پر قبضے سے پہلے 2025 میں چین نے وینیزویلا سے یومیہ تقریباً چار لاکھ 63 ہزار بیرل خام تیل درآمد کیا جو وینیزویلا کی کل برآمدات کا 70 سے 80 فیصد اور چین کی کل درآمدات کا سات فیصد تھا۔
ٹی ڈی سکیورٹیز کے تجزیے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ چین پر بری طرح اثر انداز ہوئی ہے کیونکہ 2025 میں ایران نے اپنی 99 فیصد تیل برآمدات چین کو کیں تھیں جو چین کی کل سمندری خام تیل درآمدات کا 13 فیصد بنتا ہے۔
اسی سال آبنائے ہرمز سے روزانہ گزرنے والے ایک کروڑ 49 لاکھ بیرل تیل میں سے تقریباً 50 لاکھ بیرل چین کے لیے تھے جو اس کی کل روزانہ درآمدات کا 43.3 فیصد بنتا ہے۔
تائیوان کے صمیڈیا نے ایک فرانسیسی ماہرِ معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی توانائی کی کمی ممکنہ طور پر تائیوان کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں رکاوٹ بن سکتی ہے کیونکہ طویل جنگ کے لیے بلا تعطل توانائی کی فراہمی لازمی ہے۔
تاہم میڈیا نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ چین کے پاس تقریباً 1.4 ارب بیرل خام تیل کے سٹریٹجک ذخائر موجود ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ سے تمام درآمدات مکمل طور پر بند ہونے کی صورت میں بھی چھ ماہ تک سپلائی کے خلا کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔
یاد رہے کہ چین غیر ملکی فوسل فیول پر انحصار کم کرنے اور مقامی طور پر پیدا ہونے والی قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کا عمل تیز کرنے میں مصروف ہے۔
چین کے اس اقدام کا مقصد قومی توانائی تحفظ کو بنیادی طور پر یقینی بنانا اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں مضبوط بنیاد اور اعتماد پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔
جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے عوامل
اب دیکھنا ہو گا کہ صدر شی جن پنگ کی انسدادِ بدعنوانی کی حالیہ مہم کے بعد چین کی فوجی صلاحیت کس حد تک متاثر ہوئی ہے۔
اس مہم کے دورن 2022 سے اب تک 100 سے زائد اعلیٰ فوجی افسران کوممکنہ طور پر برطرف یا معطل کیا گیا ہے۔
2024 سے 2026 کے درمیان ملک کی سب سے بڑی فوجی قیادت سنٹرل ملٹری کمیشن کے سات میں سے پانچ ارکان کو برطرف کر دیا گیا اور اس میں اب صرف چیئرمین شی جن پنگ اور نائب چیئرمین ژانگ شینگ من باقی ہیں۔
تائیوان کے خلاف ’گرے زون حکمتِ عملی‘ کے معمار سمجھے جانے والے چین کے مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین ہی ویڈونگ کی 2025 میں برطرفی، پیپلز لبریشن آرمی کی جنگی صلاحیت پر اثر انداز ہونے کے ساتھ تائیوان حکمتِ عملی میں تبدیلی کا باعث بنی۔
چین کے سرکاری فوجی اخبار پی ایل اے ڈیلی میں شائع تبصروں کو دیکھتے ہوئے تائیوان کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فوج کی تعمیرِ نو کا بنیادی کام پارٹی وفاداری کو مضبوط بنانے کے لیے سیاسی اصلاحات کو بڑھانا ہو گا۔
ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران استعمال ہونے والے چینی ساختہ ایچ کیو نائن بی ایئر ڈیفنس سسٹم کی ناکامی نے بھی بیجنگ کا اپنے ہتھیاروں کی کارکردگی پر اعتماد کمزور کیا ہے۔
تائیوان کے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ چینی، روسی اور مقامی ایرانی سازوسامان کا غیر مؤثر امتزاج امریکی اور اسرائیلی الیکٹرانک جنگ اور درست حملوں کے سامنے ناکام رہا۔
یاد رہے کہ بیجنگ ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کرتا آیا ہے۔
تائیوان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سی این سے نے تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ امریکی فوجی طاقت اور وینیزویلا اور ایران میں پیچیدہ کارروائیوں کی صلاحیتوں سے متاثر ہو سکتا ہے جبکہ چین کی فوج اور ہتھیاروں کی صلاحیتیں بڑی حد تک غیر یقینی ہیں۔
اگرچہ ایران جنگ طویل ہونے کی صورت میں امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پر توجہ چین کو تائیوان کے خلاف اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے کا موقع دے سکتی ہے لیکن امریکی فوجی طاقت اب بھی ایک ڈھال کا کردار ادا کر رہی ہے تو دوسری جانب چینی فوج بڑے پیمانے پر ہونے والی اصلاحات کے عمل سے گزر رہی ہے۔