آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
علی لاریجانی کی ہلاکت کا اسرائیلی دعویٰ: ایران کا سفارتی چہرہ جنھیں طاقتور حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے
اسرائیلی وزیر دفاع نے منگل کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک بیان اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو فضائی حملے میں ہلاک کیا گیا تاہم ایران نے تاحال اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق لاریجانی کی طرف سے جلد ایک بیان جاری کیا جائے گا۔
گذشتہ دو ہفتے سے زیادہ عرصے کے دوران ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری جاری ہے جس کے نتیجے میں سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سمیت کئی رہنماؤں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
علی لاریجانی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد ایرانی قیادت میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
لاریجانی کا خاندان ایرانی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ مغربی میڈیا میں اکثر اس کا موازنہ امریکی کینیڈی خاندان سے کیا جاتا ہے۔ لاریجانی کو سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے مخالفین میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
علی لاریجانی نے تین مرتبہ صدارتی امیدوار کے طور پر اپنے کاغذات جمع کرائے تھے۔ آخری بار انھوں نے 2024 میں صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد کاغذات جمع کرائے۔ لیکن امیدواروں کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار کمیٹی نے ان کی نامزدگی مسترد کر دی تھی۔
لاریجانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ وہ سابق رہبر اعلی علی خامنہ ای کے قتل کے بعد کے مرحلے میں فیصلہ سازوں میں شامل ہیں۔
اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز سے چند دن قبل ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے علی لاریجانی کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ جنگ کی صورت میں ملک کے امور چلائیں اور اس کے بقا کو یقینی بنائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی اخبار لی فیگارو نے بھی ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ لاریجانی نے حالیہ عوامی احتجاج کے آغاز میں خامنہ ای کو اہم سیاسی اور سکیورٹی فیصلوں سے ہٹانے کی ایک داخلی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔
امریکی اور فرانسیسی اخبارات میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کے حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
حالیہ عرصے میں اپنے دوروں اور بیانات کے ذریعے لاریجانی اس بات میں شامل دکھائی دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ یورینیم افزودگی کے معاملے پر مذاکرات سے متعلق فیصلوں میں کردار ادا کر رہے تھے۔
لاریجانی خاندان: اسلامی جمہوریہ میں اثر و رسوخ اور اہم عہدے
علی لاریجانی 1957 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد 1930 کی دہائی کے اوائل میں آئے تھے۔ وہ 1961 میں اپنے خاندان کے ساتھ واپس آگئے۔
انھوں نے ریاضی میں تعلیم مکمل کی اور تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
ان کے والد مذہبی عالم تھے۔ علی لاریجانی کے چار بھائی ہیں اور سب نے ایرانی ریاستی اداروں میں عہدے سنبھالے۔
ان کے بھائی صادق لاریجانی مصلحت نظام کونسل کے سربراہ ہیں۔ یہ حکومتی فیصلوں کے لیے ایک اعلیٰ مشاورتی ادارہ ہے۔
وہ پہلے مجلس خبرگان اور نگہبان کونسل کے رکن رہے اور بعد میں عدلیہ کے سربراہ بھی رہے۔ وہ 2019 میں امریکی مالی پابندیوں کا نشانہ بھی بنے۔
ان کے بھائی محمد جواد لاریجانی انسانی حقوق کونسل کے سیکریٹری رہے اور اس وقت بنیادی سائنسی تحقیق کے ادارے کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
ان کے بھائی ڈاکٹر باقر لاریجانی کو تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں اینڈوکرائنولوجی اور میٹابولزم کے ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ان کے دوسرے بھائی فاضل لاریجانی ایران کی اسلامی آزاد یونیورسٹی کے صدر اور کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں ایرانی ثقافتی اتاشی رہے۔
علی لاریجانی نے آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کی بیٹی سے شادی کی جو امام خمینی کے قریبی ساتھی تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کی صفوں سے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تک
علی لاریجانی نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں سرکاری ایرانی چینل میں مختصر مدت کے لیے نگران کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی۔ وہ جوائنٹ سٹاف کے نائب سربراہ کے عہدے تک پہنچے۔
لاریجانی نے ایران۔عراق جنگ (1980-1988) میں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ خدمات انجام دیں۔
90 کی دہائی کے آغاز سے علی خامنہ ای کے دور میں لاریجانی سیاسی اور ثقافتی کام کی طرف منتقل ہوئے اور ایران کے قدامت پسند سیاسی دھڑے سے وابستگی کے باعث پہچانے جانے لگے۔
1992 میں انھوں نے محمد خاتمی کی جگہ وزیرِ ثقافت و اسلامی رہنمائی کا عہدہ سنبھالا۔
1994 میں انھیں سرکاری ایرانی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹر کے طور پر مقرر کیا گیا۔
اس دوران لاریجانی نے ایرانی میڈیا کو اسلامی نظریے کے فروغ کی طرف منتقل کرنے میں کردار ادا کیا۔
1996 میں خامنہ ای نے انھیں تین سال کے لیے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنے نمائندے کے طور پر مقرر کیا اور 1997 میں وہ مصلحت نظام کونسل کے رکن بنے۔
1999 میں انھیں دوبارہ سپریم لیڈر کے نمائندے کے طور پر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں مقرر کیا گیا۔
انھیں 2002 میں دوبارہ مصلحت نظام کونسل کا رکن بنایا گیا۔
وہ 2004 میں سرکاری ایرانی چینل کے ڈائریکٹر کے طور پر واپس آئے اور دو عربی زبان کے چینل العالم اور سحر قائم کیے۔
انھوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے چند ماہ بعد اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور 2005 کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے بعد چھٹے نمبر پر آئے۔
2005 میں انھیں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے انچارج کے طور پر مقرر کیا گیا اور وہ 2007 تک اس عہدے پر رہے۔
اسی سال انھیں دوبارہ مصلحت نظام کونسل کا رکن بنایا گیا۔
2008 میں علی لاریجانی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے اور سپیکر منتخب ہوئے۔
لاریجانی کئی بار سپیکر منتخب ہوتے رہے اور 2020 تک اس عہدے پر رہے۔
ان برسوں میں ان کی مصلحت نظام کونسل کی رکنیت میں کئی مرتبہ تجدید ہوئی۔
2020 میں پارلیمنٹ کی سربراہی کی مدت مکمل ہونے کے بعد خامنہ ای نے انھیں اپنا مشیر مقرر کیا۔
انھوں نے 2021 میں دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیا لیکن نگہبان کونسل نے ان کے کاغذات مسترد کر دیے۔
انھیں 2022 میں دوبارہ مصلحت نظام کونسل کے لیے نامزد کیا گیا۔
2024 میں نگہبان کونسل نے دوسری بار ان کی صدارتی نامزدگی مسترد کی۔
گست 2025 میں انھیں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سربراہ اور کونسل میں سپریم لیڈر کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔
ایران کا سفارتی چہرہ
لاریجانی نے ایران کی طرف سے جوہری معاملات پر مذاکرات کی قیادت کی اور وہ اس عرصے میں پارلیمنٹ کے سپیکر رہے جب ایران پر پابندیاں سخت ہوئیں۔
غزہ اور لبنان کی حالیہ جنگوں سے متعلق معاملات کو حل کرنے کے لیے بیرون ملک ایران کے نمائندہ کے طور پر علی لاریجانی کا کردار نمایاں ہو گیا۔
جنگ کے دوران انھوں نے عراق، لبنان، شام اور خلیج کے حکام سے ملاقاتیں کیں اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ایران خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت کرتا ہے۔
جون 2025 میں ایران امریکی اور اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنا۔ ایرانی اور اسرائیلی فریقوں کے درمیان کئی دنوں تک بمباری جاری رہی۔
حملے کے ابتدائی گھنٹوں میں اسرائیل کئی سینیئر سکیورٹی اور سیاسی حکام کو قتل کرنے میں کامیاب رہا اور بعد میں حکام نے اعتراف کیا کہ صدر مسعود پزشکیاں زخمی ہونے کے بعد ایک قتل کی کوشش سے بچ گئے۔
فوجی محاذ آرائی کے چند ماہ بعد ایران میں عوامی احتجاج پھیل گئے اور علی لاریجانی نے 'منظم اور تباہ کن' گروہوں پر الزام لگایا کہ انھوں نے مظاہرین کے مطالبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 'بدامنی اور تشدد کو ہوا دی۔'
لیکن فروری کے اوائل میں امریکی انتظامیہ نے علی لاریجانی سمیت دیگر شخصیات پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کیں۔
فروری 2026 میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر نئے حملے شروع کیے جن میں متعدد رہنما مارے گئے جن میں سب سے نمایاں خامنہ ای تھے۔ اس کے بعد لاریجانی کے بیانات سخت ہو گئے۔ انھیں جوہری معاملے پر اپنے عملی نقطہ نظر کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران طویل مدت کی جنگ کے لیے تیار ہے۔