آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں تولیدی صحت کی تعلیم دینے کا بِل: ’بچوں کو پہلے آگاہی دینی چاہیے تاکہ کسی جال میں نہ پھنس سکیں‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں 14 سال اور اس سے زائد عمر کے طلبہ کو تولیدی صحت سے واقفیت کی تعلیم دی جائے گی۔
گذشتہ ہفتے پارلیمان سے پاس ہونے والے اس بِل میں تولیدی صحت کی تعلیم دینے سے پہلے بچوں کے والدین یا قانونی سرپرستوں سے تحریری اجازت کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پارلیمان کے ایویں زیریں اور ایوان بالا سے منظوری کے بعد یہ بل اب منظوری کے لیے صدرِ مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے اور ان کی حتمی منظوری کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا جس کے بعد اس قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت میں قائم تعلیمی اداروں پر ہو گا۔
پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر قرۃ العین مری نے پیش کیا تھا۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اس بل کو پاکستان پیپلز پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والی رُکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے ایوان زیریں میں پیش کیا جہاں اسے سادہ اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔
اس بل کو پیش کرنے کے مقاصد اور وجوہات میں سینیٹر قرۃ العین مری نے لکھا کہ ’تولیدی صحت کی جامع تعلیم نصاب پر مبنی عمل ہو گا جس کے ذریعے تولیدی صحت کے علمی، جذباتی، جسمانی اور سماجی پہلوؤں پر تدریس اور سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘
’اس کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو وہ علم، مہارتیں، رویے اور اقدار فراہم کرنا ہے جو انھیں اپنی صحت، فلاح اور وقار کو سمجھنے اور برقرار رکھنے کے قابل بنائیں، باعزت سماجی تعلقات قائم کرنے میں مدد دیں، یہ سوچنے پر آمادہ کریں کہ ان کے فیصلے ان کی اپنی اور دوسروں کی فلاح پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ سمجھنے اور یقینی بنانے میں مدد کریں کہ ان کے حقوق زندگی بھر محفوظ رہیں۔‘
اس بل میں کہا گیا ہے کہ 14 سال اور اس سے زیادہ عمر کے طلبہ کے لیے تولیدی صحت کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے سے قائم اتھارٹی مڈل اور ہائی سکول کے طلبہ کے لیے تولیدی تعلیم سے متعلق مواد کتب میں شامل کرنے کی اجازت دے گی۔ پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نصاب کے معیار کو جانچنے کے لیے قائم اتھارٹی تولیدی نصاب میں بہتری کے لیے تحقیق بھی کرے گی۔
بِل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس بِل کو پیش کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرۃ العین مری نے بی بی سی کو بتایا کہ تولیدی صحت کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت موجودہ دور کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بچے اگر کسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں اور جب انھیں استاد اس بارے میں نہیں بتاتا تو وہ اس بارے میں متجسس ہو جاتے ہیں اور اس تجسس کو پورا کرنے کے لیے وہ انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع کا سہارا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ غلط ہاتھوں میں پھنس جاتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ بچے اپنے اس تجسس کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں اور اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے تولیدی صحت کی تعلیم کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سیالکوٹ اور ملک کے دیگر شہروں میں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ’تولیدی صحت یا سیکس ایجوکیشن کے بارے میں جاننے کی کوششوں کے دوران ناپسندیدہ عناصر کے جال میں پھنسے۔‘
قرۃ العین مری کا کہنا تھا کہ پہلے جب یہ بل ڈرافٹ ہوا تو اس میں یہ کہا گیا تھا کہ اس ’تعلیم کو پرائمری سے ہی نصاب کا حصہ بنا دیا جائے تاہم اس ضمن میں دیگر سیاسی جماعتوں اور ذمہ داران نے اتفاق نہیں کیا۔‘
معاشرے کے لیے سنجیدہ اور حساس موضوع
تاہم پاکستان جیسے معاشرے میں اس بل کے نفاذ سے متعلق چند خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رُکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کم عمری کی شادی سے متعلق ایک بل پارلیمان میں پیش کیا تھا جس میں شادی کی عمر 18 سال مقرر کی گئی تھی۔ یہ بل پارلیمان سے منظور ہو گیا تھا۔
اس قانون سازی کا اطلاق بھی تولیدی صحت سے متعلق بل کی طرح صرف اسلام آباد تک محدود تھا۔ تاہم بعدازاں دینی اور سیاسی جماعتوں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام ف نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اس قانون سازی کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کی دھمکی دی تھی۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اس قانون سازی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو دھمکی دی تھی کہ وہ دیکھتے ہیں کہ کیسے اس بل پر کی جانے والی قانون سازی پر عملدرآمد ہوتا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کم عمری سے متعلق اس قانون سازی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’خلاف دین‘ قرار دیا تھا اور ان کے بقول لڑکی کی شادی کی عمر اس وقت سے شروع ہو جاتی ہے جب وہ بالغ ہو جائے اور اس میں عمر کی حد مقرر نہیں ہے۔
تاہم تولیدی صحت سے متعلق بل پیش کرنے والی سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ ’اس بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کے جتنے بھی اجلاس ہوئے اس میں مذہبی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ بھی موجود ہوتے تھے اور ان سے بھی ان تمام معاملات میں مشاورت کی گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ تولیدی صحت اور اس کی اہمیت کے بارے میں دین اسلام میں بھی ذکر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بچوں کے والدین کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ جس طرح سوشل میڈیا لوگوں پر اثر انداز ہو رہا ہے تو ایسے حالات میں وہ بھی چاہیں گے کہ ان کے بچے تولیدی صحت کے بارے میں پہلے سے ہی آگاہ ہوں تاکہ انھیں کوئی اپنے دام میں نہ پھنسا سکے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر نے اس امید کا اظہار کیا کہ تولیدی صحت کے بارے میں ’قانون سازی کا نفاذ متنازع نہیں ہو گا اور ان کی کوشش ہو گی کہ تمام مذہبی جماعتیں بھی اس قانون پر عمل درآمد کے لیے میدان میں آئیں۔‘
انھوں نے کہا کہ بچوں کو تولیدی صحت کے بارے میں آگہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نسلوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کی کوشش ہے کہ تولیدی صحت سے متعلق مضامین ملک کے تمام صوبوں کے تعلیمی نصاب میں شامل کیے جائیں۔
انھوں نے کہا تعلیم صوبائی استحقاق ہے اور چونکہ اُن کا دائرہ کار وفاق تک ہی محدود تھا اس لیے اسلام آباد میں تولیدی صحت کی تعلیم کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صوبے بھی اس اقدام کی پیروی کریں گے۔
دوسری جانب ماہر تعلیم سیدہ حرا امام کا کہنا ہے کہ ملک اور علاقے کی روایات کو دیکھتے ہوئے ایسی چیزوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کے لیے ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جو کہ متنازع نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں واقع تعلیمی اداروں میں بچوں اور بچیوں کو ’گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ‘ کے بارے میں بتایا جاتا ہے اور اس بارے میں بچوں کے والدین نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔
سیدہ حرا امام کا کہنا تھا کہ جب سکول کی انتظامیہ بچوں کے والدین سے یہ کہیں گے کہ ان کے بچوں کو تولیدی صحت کی تعلیم دیں گے تو والدین کی جانب سے ممکنہ سخت ردعمل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔