مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی رپورٹ: انڈین خفیہ ادارے ’را‘ اور آر ایس ایس پر پابندی کی تجویز، انڈیا کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ

    • مصنف, غافرہ قادر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی سالانہ رپورٹ نے ایک بار پھر انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورتِحال پر دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ میں امریکی حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ انڈیا کو اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے ’خاص تشویش‘ پائی جاتی ہے۔

کمیشن نے کچھ اداروں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی تجویز دی ہے، جن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور انڈیا کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسِس وِنگ (را) بھی شامل ہے۔

دوسری جانب انڈین وزارتِ خارجہ نے رپورٹ کو ’سیاسی ایجنڈے پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے اداروں سے متعلق افراد کے امریکہ میں اثاثے منجمد ہو سکتے ہیں اور اُن کے امریکہ داخلے پر پابندی لگ سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں انڈیا میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین اور اقدامات میں اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن نے ایف سی آر اے، یو اے پی اے، سی اے اے اور این آر سی کے ساتھ ساتھ وقف (ترمیمی) ایکٹ پر بھی تنقید کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ قوانین بالخصوص مسلم اور مسیحی برادریوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے مطابق ’کئی ریاستوں میں تبدیلی مذہب (اینٹی کنورژن) کے قوانین کو سخت بنایا گیا ہے، طویل قید کی سزاؤں کا نفاذ ہوا ہے، اور گائے کے تحفظ کے نام پر ہجوم کے تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔‘

رپورٹ میں مہاراشٹر، اوڈیشا (اڑیسہ) اور اترپردیش میں فرقہ وارانہ تشدد کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جہاں وشوا ہندو پریشد جیسی کچھ سخت گیر ہندو تنطیموں کو اس تشدد سے جوڑا گیا ہے۔

پہلی بار را کا نام

امریکہ میں مذہبی آزادی کے کمیشن نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے امریکی حکومت کو آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے سیکشن 6 پر عمل درآمد کی تجویز دی ہے اور انڈیا کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف ’دباؤ اور ہراسانی‘ کے واقعات جاری ہیں۔

را انڈیا کی انٹیلیجنس ایجنسی ہے جو براہِ راست وزیراعظم کے دفتر کے ماتحت کام کرتی ہے۔

کمیشن کی سنہ 2026 کی رپورٹ میں ایک بار پھر را کا نام اُن اداروں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جن کے خلاف ’ٹارگٹڈ سینکشنز‘ کی سفارش کی گئی ہے، اور کمیشن نے اسے شمالی امریکہ میں سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل کی مبینہ منصوبہ بندی جیسی سرحد پار پُرتشدد سرگرمیوں سے جوڑا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار نیلنجن مکھوپادھیائے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے اس فہرست میں را کا نام دیکھ کر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ یہ ایک حکومتی ادارہ ہے اور ایسے اداروں کا کام اُس سرکاری طاقت اور سیاسی نظام کے بہت قریب ہوتا ہے جو وقت کی حکومت میں ہوتا ہے۔‘

رپورٹ سامنے آنے کے بعد انڈین سیاست اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا ہے۔

کانگریس نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے یو ایس سی آئی آر ایف کے حوالے کے ساتھ لکھا کہ ’آر ایس ایس پر فوراً پابندی لگانی چاہیے، اس کے اثاثے ضبط کرنے چاہییں اور اس سے متعلق افراد کے امریکہ داخلے پر پابندی لگانی چاہیے۔‘

گانگریس پارٹی نے یہ بھی یاد دلایا کہ انڈین آزادی کے معمار مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھی آر ایس ایس پر پابندی لگائی تھی۔

لیکن کانگریس کے اس مؤقف پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید ہوئی۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ کانگریس ایک غیر ملکی رپورٹ کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ دوسروں نے امریکی رپورٹ کے بااعتبار ہونے پر سوال اٹھائے اور اسے جانبدار قرار دیا۔

وزارت خارجہ کا بیان

اس بار انڈین وزارتِ خارجہ نے رپورٹ کو صرف مسترد ہی نہیں کیا بلکہ اسے بدنیتی پر مبنی ’جانبدار‘ اور ’سیاسی ایجنڈے سے متاثر‘ قرار دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یو ایس سی آئی آر ایف ایک جانبدار تنظیم ہے جس کا سیاسی ایجنڈا ہے۔ یہ حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتی ہے اور انڈیا کے بارے میں سیاسی ایجنڈے سے متاثر بیانیہ پیش کرتی ہے۔ ہم اس بدنیتی پر مبنی رپورٹ کو پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔‘

انڈین وزارت خارجہ نے کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ ’ایجنڈا ڈریون رپورٹس‘ سے باز آئے اور اپنا وقت امریکہ کے اندر انسانی حقوق کے مسائل پر صرف کرے۔

آر ایس ایس کا کردار اور تاریخی پس منظر

جس تنظیم کا نام رپورٹ میں نمایاں طور پر سامنے آیا ہے وہ آر ایس ایس ہے جو انڈیا کی ایک بااثر ہندو قوم پرست تنظیم سمجھی جاتی ہے۔

سنہ 1925 میں قائم ہونے والی یہ تنظیم خود کو سماجی اور ثقافتی تحریک بتاتی ہے، لیکن ناقدین کے مطابق اس کا مرکزی مقصد ہندوتوا کے نظریے کو فروغ دینا ہے اور انڈیا کو ہندو قوم بنانا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ اس کا قریبی تعلق واضح ہے۔ اور نریندر مودی سمیت کئی اہم بی جے پی رہنما ماضی میں اس سے منسلک رہے ہیں۔

آر ایس ایس کا نظریہ ہندوتوا کے گرد گھومتا ہے، جس میں ہندو راشٹر، گھر واپسی، اکھنڈ بھارت (غیر منقسم انڈیا) اور وشوا گرو جیسے تصورات شامل ہیں۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سوچ میں اقلیتوں کے لیے جگہ محدود ہے۔

تاریخی طور سنہ 1948 میں گاندھی کے قتل کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی تھی جو بعد میں آئین کی پاسداری کا یقین دلانے پر ہٹا دی گئی۔

اسی طرح سنہ 1975 کی ایمرجنسی کے دوران بھی اس پر پابندی عائد ہوئی۔ ماضی میں تنظیم پر یہ تنقید بھی ہوتی رہی کہ وہ 26 جنوری اور 15 اگست یعنی یوم جمہوریہ اور یوم آزادی جیسے اہم قومی مواقع پر پرچم کشائی سے گریز کرتی رہی ہے۔ بہرحال اس تنظیم نے بہت دیر بعد اس موقف میں تبدیلی کی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار مسٹر مکھوپادھیائے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس رپورٹ کو امریکی حکومت کے حالیہ مؤقف سے جوڑنا غلط ہے۔ یہ صرف ایک اتفاق بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ کمیشن کا مودی پر تنقیدی مؤقف ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی منظر پر آنے سے پہلے کا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کمیشن پہلے بھی مودی کی سیاست، ان کے نظریات اور انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں، جن میں تشدد بھی شامل ہے، پر تنقید کرتا رہا ہے۔‘

’مودی کے حوالے سے پولرائزیشن صرف انڈیا میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود ہے۔ عالمی رہنما مودی سے اس لیے ڈیل کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک منتخب عہدہ رکھتے ہیں، نہ کہ ان کی سیاست کی ذاتی توثیق کے طور پر۔‘

مسٹر مکھوپادھیائے کا ماننا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے یہ نہایت خطرناک دور ہے۔ انھوں نے کہا: ’میں اپنے مسلم دوستوں اور جان پہچان والوں کے اس بوجھ سے گہری ہمدردی رکھتا ہوں جنھیں بعض دفعہ اپنی شناخت تک چھپانی پڑتی ہے۔‘

بہرحال اس رپورٹ پر ابھی تک آر ایس ایس کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔