آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
زہریلے کیمیکلز اور چھاتی کے کینسر کا خطرہ، بالوں کی ایکسٹینشنز استعمال کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے!
- مصنف, ایسٹر کاؤمبی
- عہدہ, گلوبل ڈیجیٹل ہیلتھ، بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
دنیا بھر میں لاکھوں خواتین کی جانب سے استعمال کی جانے والی ہیئر ایکٹینشن (بالوں کی ایکسٹینشن) میں ایسے کیمیکلز پائے جا سکتے ہیں جو چھاتی کے کینسر، ہارمونز کی خرابی اور تولیدی صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ انکشاف اپنی نوعیت کی اب تک ہونے والی سب سے بڑی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
امریکی کیمیکل سوسائٹی کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنسدانوں نے تقریباً ایکسٹینشن کے تقریباً ہر نمونے میں 50 کے قریب ایسے خطرناک کیمیکلز دریافت کیے۔
ہیئر ایکسٹینشن کے یہ نمونے مصنوعی اور انسانی بالوں سے تیار کردہ مصنوعات جیسا کہ وِگز، بریڈنگ ہیئر، ویوز اور کلپ اِنز پر مشتمل تھے۔
اس تحقیق کے نتائج نے اربوں ڈالر کی ہیئر ایکسٹینشن کی صنعت پر سخت ضابطوں اور صارفین کے لیے زیادہ شفافیت کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ایلیسیا فرینکلن کا کہنا ہے کہ ’ہم اُن کمپنیوں پر بھروسہ کر رہے ہیں جن پر یہ لازم نہیں کہ وہ خطرناک کیمیکلز سے پاک مصنوعات تیار کریں۔‘
سائنسدانوں کے مطابق بالوں کی ایکسٹینشن (ہیئر ایکسٹینشن) خاص طور پر خطرناک ہیں کیونکہ انھیں طویل عرصے تک لگایا جاتا ہے اور یہ جلد کے ساتھ براہِ راست اور مسلسل رابطے میں رہتی ہیں۔ اور یہ عمل ان ایکسٹینشنز کو استعمال کرنے والوں میں طویل مدتی صحت کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر فرینکلن نے مزید کہا کہ ’بالوں کی ایکسٹینشن جلد کے انتہائی قریب ہوتی ہے۔ اور اس میں موجود کیمیکل ہفتوں یا مہینوں تک سر کی جلد، گردن اور جسم کے ساتھ جمے رہ سکتے ہیں۔‘
یہ تحقیق نہ صرف خواتین کے لیے ایک بڑے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس صنعت کے ضابطوں پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خطرناک کیمیکل
تحقیق کے مطابق بالوں کی ایکسٹینشن کی عالمی مارکیٹ کا حجم سنہ 2028 تک 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ اگرچہ کئی خواتین انھیں فیشن یا آرائش کے لیے استعمال کرتی ہیں، لیکن ایک بڑی تعداد میں خواتین ایسی ہیں جو انھیں اپنے بالوں کو سنبھالنے کا آسان طریقہ سمجھتی ہیں۔
مصنوعی بالوں سے بنی ایکسٹینشن کی قیمت صرف 20 ڈالر تک ہو سکتی ہے جبکہ اعلیٰ معیار کے انسانی بالوں سے بنی ایکسٹینشن ہزاروں ڈالر تک میں فروخت ہوتی ہیں۔
سائنسدانوں نے ہیئر ایکسٹینشن کے 43 نمونوں کا تجزیہ کیا اور جدید تکنیک کے ذریعے اُن میں مجموعی طور پر 170 کیمیکلز کی موجودگی دریافت کیے، جن میں سے 48 کیمیکل اقوامِ متحدہ اور یورپی کیمیکل ایجنسی کی خطرناک مادوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر فرینکلن کے مطابق 'اُن میں آگ بجھانے والے مادے، زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے زہریلے کیمیکل (کیڑے مار کیمیکل)، اور فیتھلیٹس جیسے مادے شامل تھے جو اینڈوکرائن نظام کو متاثر کرتے ہیں اور تولیدی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔'
تحقیق میں شامل ہیئر ایکسٹینشن کے 36 نمونوں (مصنوعی اور اصل انسانی بالوں سے تیار کردہ) میں 17 ایسے کیمیکل پائے گئے جو بریسٹ کینسر یعنی چھاتی کے کینسر سے منسلک ہیں۔
تقریباً 10 فیصد نمونوں میں خطرناک آرگینوٹن مرکبات بھی پائے گئے، جو عام طور پر آگ سے بچاؤ کی صلاحیت رکھنے والے پلاسٹک بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کیونکہ آرگینوٹن مرکبات عمومی طور پر عام صارفین کے لیے تیار کردہ مصنوعات میں نہیں پائے جاتے ہیں۔
یہ کیمیکلزجلد کی جلن کا باعث بن سکتے ہیں اور ہارمونز کے نظام میں مداخلت کرتے ہیں، ان ہارمونز میں مداخلت جو جسم کے کئی اہم افعال جیسے تولید اور نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں۔
ان نمونوں میں سب سے زیادہ پائے جانے والے کیمیکلز میں فینول شامل ہے، جو پلائی ووڈ اور لکڑی کو جوڑنے والا مادہ بنانے میں استعمال ہوتا ہے، اور بائس (2-ایتھائل ہیکسل) فیتھلیٹ بھی، جو پلاسٹک کو زیادہ لچکدار بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکلز انسانوں میں حیاتیاتی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں، جو بریسٹ کینسر کے معروف عوامل سے مشابہ ہیں اور وقت کے ساتھ انسانی جسم میں کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
کیا 100 فیصد انسانی بالوں سے بنی ایکسٹینشنز بھی خطرناک ہیں؟
اس موضوع پر ماضی میں کی گئی سائنسی تحقیقات زیادہ تر مصنوعی بالوں (سینتھیٹک) سے بنی ہیئر ایکسٹینشنز پر مرکوز رہی ہیں، جن میں خطرناک دھاتوں کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔
تاہم تازہ تحقیق میں 11 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں ورجن (یعنی 100 فیصد انسانی بالوں سے بنی ایکسٹینشن جن کو کیمیکل سے پراسیس نہ کیا گیا ہو)، را (100 فیصد قدرتی انسانی بالوں پر مشتمل جو براہِ راست ایک ہی عطیہ دہندہ سے حاصل کیے گئے ہوں اور جن پر کیمیائی عمل، پرمنگ، سٹیمنگ یا کلرنگ نہ کی گئی ہو) اور مصنوعی بالوں کی ایکسٹینشنز شامل تھیں۔
ورجن اور را ایکسٹینشنز عام طور پر زیادہ مہنگی ہوتی ہیں اور انھیں یہ بتا کر فروخت کیا جاتا ہے یہ کسی بھی کیمیائی عمل سے نہیں گزاری گئیں۔
تاہم تحقیق میں انکشاف ہوا کہ بعض انسانی بالوں کی ایکسٹینشن کے نمونوں، بشمول وہ جنھیں ورجن اور را بتا کر فروخت کیا جاتا ہے، میں بعض مصنوعی بالوں کی ایکسٹینشنز کے مقابلے میں زیادہ خطرناک کیمیکلز موجود تھے، ان کیمیکلز میں کئی اینڈوکرائن ڈسراپٹرز بھی شامل ہیں۔
امریکی محقق ڈاکٹر فرینکلن کا کہنا ہے کہ ’صرف اس وجہ سے کہ کسی پراڈکٹ کو 100 فیصد انسانی بالوں پر مشتمل یا نیچرل قرار دیا گیا ہے، وہ مصنوعی بالوں سے زیادہ محفوظ نہیں ہو جاتی۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ ’ایسے نمونے بھی تھے جہاں ایک مصنوعی بالوں کے نمونے میں صرف ایک خطرناک کیمیکل پایا گیا، جبکہ انسانی بالوں سے بنی مصنوعات میں پانچ سے سات خطرناک کیمیکلز موجود تھے۔‘
ماہرین کے مطابق یہ کیمیکلز ہیئر ایکسٹینشنز کی تیاری یا پروسیسنگ کے عمل کے دوران شامل ہو سکتے ہیں، یعنی اس وقت جب مصنوعات کو بہتر شکل، پائیداری یا سنبھالنے میں آسان بنانے کی غرض سے کیمیائی عمل سے گزارا جاتا ہے۔
اگرچہ تحقیق نے ان کیمیکلز کی مقدار کا اندازہ نہیں لگایا، لیکن ڈاکٹر فرینکلن کے مطابق انسانی جسم میں ہارمونز کو متاثر کرنے والے بعض مادے انتہائی کم مقدار میں بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
محققین کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ بالوں کی ایکسٹینشن میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے لیے واضح حفاظتی حدود مقرر نہیں کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر فرینکلن نے کہا کہ ’ایسے خطرناک کیمیکلز کا کاسمیٹک مصنوعات میں ہونا کسی طور درست نہیں۔ ہم پہلے ہی روزانہ کئی کیمیکلز کے ساتھ براہ راست یا بلواسطہ رابطے میں آ جاتے ہیں جن سے بچنا ممکن نہیں، اس لیے اضافی خطرات پیدا کرنا غیر ضروری ہے۔‘
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی ایکسٹینشنز کو سٹائل دینے کی غرض سے انھیں گرم کیا جاتا ہے یا اُبلتے پانی میں ڈبویا جاتا ہے، جس سے زہریلی گیسیں خارج ہو سکتی ہیں۔ اور یہ کیمیکلز سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مادے جلد کے ذریعے بھی جسم میں منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف صارفین بلکہ وہ ہیئر سٹائلسٹ بھی متاثر ہوتے ہیں جو ان ایکسٹینشنز کو لگانے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
چند افراد نے بالوں کی ایکسٹینشن کے استعمال کے بعد جسمانی ردِعمل کی شکایات کی ہیں، جن میں کھجلی اور جلد پر سُرخی، سر، گردن اور چہرے پر خارش اور سوجن شامل ہیں۔ چند کیسز میں خواتین نے سانس لینے میں دشواری کی شکایت بھی کی۔
یہ نتائج اس بات کو مزید اجاگر کرتے ہیں کہ بالوں کی ایکسٹینشن کے استعمال میں صحت کے سنگین خطرات موجود ہیں، اور صارفین و ماہرین دونوں کو اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
کیا بالوں کی ایکسٹینشن کو استعمال کرنے کا کوئی محفوظ طریقہ ہے؟
برطانیہ میں اگست 2026 سے نقصان دہ کارسینوجینک مادوں کے استعمال پر سخت قوانین نافذ ہوں گے، لیکن بالوں کی ایکسٹینشن کے شعبے میں ضابطوں کی کمی کے باعث صارفین مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتے۔ کاسمیٹکس کے شعبے پر سخت ضابطے لاگو ہوتے ہیں اور ان کی حفاظت جانچی جاتی ہے، مگر بالوں کی ایکسٹینشن کو زیادہ تر ایک مختلف زمرے میں رکھا جاتا ہے، اور اس لیے ان پر حفاظتی جانچ کے وہ ضوابط نہیں ہیں۔
ماضی میں کی جانے والی سائنسی تحقیقات میں بالوں کو رنگ کرنے (ہیئر ڈائی) اور سٹریٹنرز (بالوں کو سیدھا کرنے والے الیکٹرنک آلات) کو بریسٹ کینسر کے خطرے سے جوڑا گیا ہے، لیکن یہ مصنوعات کاسمیٹکس کے طور پر ریگولیٹ ہوتی ہیں اور ان پر حفاظتی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
یوکے نیشنل ہیئر اینڈ بیوٹی فیڈریشن کی چیف ایگزیکٹیو کیرولین لاریسی کا کہنا ہے کہ ’ریگولیشن صرف اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب مصنوعات کو درست طور پر درجہ بند کیا جائے اور درآمد و فروخت کے وقت اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ یہ ایک حقیقی خلا ہے اور یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ اسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔‘
بی بی سی نے سنہ 2016 میں انکشاف کیا تھا کہ ہیئر ایکسٹینشنز کی پروسیسنگ کے دوران اکثر مصنوعات پر غلط لیبلنگ کی جاتی ہے اور بالوں کی قسم کی وضاحت زیادہ تر اسے فروخت کرنے والے کاروباری حضرات کی ایمانداری پر چھوڑ دی جاتی ہے۔
کچھ مینوفیکچررز کی ویب سائٹس صارفین کو خریداری سے قبل بالوں کے معیار کو جانچنے کے طریقے تجویز کرتی ہیں، لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری صارفین پر نہیں ڈالنی چاہیے۔
ڈاکٹر فرینکلن کے مطابق ’جو بھی بالوں کی ایکسٹینشن استعمال کرتا ہے، اسے اس کے نتائج پر فکر مند ہونا چاہیے۔‘