میونخ حملے کے شبہے میں افغان نوجوان گرفتار

حملہ آور مرنے والوں کو نہیں جانتا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنحملہ آور مرنے والوں کو نہیں جانتا تھا

میونخ میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اولمپیا شاپنگ مال میں فائرنگ کر کے نو لوگوں کو ہلاک کرنے والے ڈیوڈ سانبولے کے 16 سالہ افغانی دوست کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس نوجوان سے حملہ آور کے منصوبے کے بارے میں نہ بتانے اور حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں۔

میونخ پولیس کے فیس بک صفحے پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس 16 سالہ نوجوان کے بارے میں شبہہ ہے کہ یہ ممکنہ طور پر حملے میں شریک ہو سکتا ہے۔‘

٭ <link type="page"><caption> حملہ آور ایک سال سے منصوبہ بندی کر رہا تھا: جرمن پولیس</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160724_munich_shooting_plan_atk" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’لوگ چیختے چلاتے مال میں داخل ہوئے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160723_munich_attack_eye_witnesses_account_sz" platform="highweb"/></link>

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس نوجوان نے جمعے کو ہونے والے فائرنگ کے واقع کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع دی تھی اور حملہ آور کے ساتھ تعلق کے حوالے سے بطور کسی اور شخص کے انٹرویو بھی کیا گیا تھا۔‘

پولیس کے مطابق اس نوجوان سے بات چیت کے دوران ایسا محسوس ہوا کہ اس کے بیان میں تضاد ہے۔

اس سے قبل جرمن حکام کے مطابق جمعے کی شام کو میونخ کے اولمپیا شاپنگ مال میں فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والا نوجوان ایک سال سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

میونخ کے شاپنگ مال پر حملہ کرنے والے 18 سالہ ڈیوڈ سانبولے نے حملے کے بعد خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔

انرش بریوک نے جولائی 2011 ناروے کے جزیرے یٹویا میں فائرنگ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنانرش بریوک نے جولائی 2011 ناروے کے جزیرے یٹویا میں فائرنگ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا تھا

حملے بعد پولیس نے اس نوجوان سے ایک پستول اور 300 گولیاں برآمد کی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نوجوان نے یہ پستول انٹرنٹ سے خریدا تھا۔

جرمنی کے سکیورٹی حکام کی جانب سے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور مرنے والوں کو نہیں جانتا تھا اور نہ ہی ان افراد کو خاص طور پر اس نے چنا تھا۔

اس سے قبل حکام یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ اس حملے کے پیچھے بظاہر کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔

پولیس کے مطابق اس نوجوان نے گذشتہ برس وینڈن کے شہر میں اس سکول کا بھی دورہ کیا تھا جہاں سنہ 2009 میں فائرنگ کا واقعہ پیش آ یا تھا۔

ادھر مرنے والوں کی یاد میں لوگ حملے کے مقام پر شمعیں روشن کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس حملے میں حملہ آور سمیت دس افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔