بریوک کا نازی سلیوٹ اور حقوق کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہReuters
ناروے میں اجتماعی قتل عام کے مجرم انرش بیرنگ بریوک نے عدالت میں پیشی کے موقعے پر نازی طرز کا سلام پیش کیا۔
اُنھوں نے جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے پر حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے شدت پسند نے جیل میں اپنی حالت زار کو ’تشدد‘ سے متشابہ قرار دیا ہے۔
سنہ 2011 میں بریوک نے اوٹایا آئس لینڈ میں نوجوانوں کے ایک کیمپ پر اور وسطی اوسلو میں دھماکہ کر کے 77 افراد کو ہلاک کر ڈالا تھا۔
سنہ 2012 میں بریوک کو 21 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سرمئی سوٹ میں ملبوس برییوک نو بجے سے تھوڑی دیر قبل احاطہ عدالت میں داخل ہوئے، جہاں اُنھوں نے اپنے وکلا سے مصافحہ کیا۔ پولیس کی جانب سے ہتھکڑی کھولے جانے کے بعد، اُنھوں نے نازی طرز کا سلام کیا۔
37 سالہ بریوک نے ناروے کی حکومت پر انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کی دو شقوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایک شق اُن کے ’ذاتی اور خاندانی زندگی‘ اور ’خط و کتابت‘ جیسے حقوق کے احترام کا حق فراہم کرتی ہے جبکہ دوسری ’غیرانسانی یا توہین آمیز سلوک یا سزا‘ سے روکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اُن کے وکیل اوئسٹن سٹوروک کا کہنا تھا کہ بریوک جیل میں ’قید تنہائی کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔‘
یہ جیل دارالحکومت اوسلو کے جنوب مغرب میں تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’جیل میں اُن کی اہم چیزوں میں سے ایک مطالعہ کرنا تھا اور اب ان کا مطالعہ ختم ہو چکا ہے، اور میرے خیال میں یہ اِس بات کی علامت ہے کہ تنہائی اُن کی نفسیات پر منفی اثر مرتب کر رہی ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ بریوک کی خط و کتابت پر سینسر کا مقصد اُن کو ’انتہا پسند تنظیموں‘ کے قیام سے روکنا ہے۔
اٹارنی جنرل کے دفتر کا اصرار ہے کہ بریوک کی حالت ’کنونشن کی متعین کردہ حدود کے اندر ہے۔‘
شیئن جیل کے جمنیزیم میں جاری مقدمے کی سماعت جمعے کے روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اِس بات کی بھی اُمید کی جا رہی ہے کہ بریوک بدھ کے روز گواہی دیں گے۔
اگر عدالت فیصلہ کر لیتی ہے کہ دوران قید بریوک پر پابندیاں انتہائی سخت ہیں، اِن سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اُن کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تو عدالت پابندیوں میں نرمی کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
حکام کی جانب سے جیل میں ناروا سلوک کے خلاف اُنھوں نے گذشتہ ستمبر میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی دی تھی۔
جیل میں اُن کے قیدخانے میں ٹی وی اور کمپیوٹر کی سہولت موجود ہے، لیکن اُن کو انٹرنیٹ تک رسائی نہیں دی گئی۔
ناروے اور سویڈن کے ذرائع ابلاغ کے اداروں کو لکھے گئے خط میں اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں تقریباً مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے اور صرف ایک گھنٹے کے لیے قید خانے سے باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ سخت پابندیوں کی وجہ سے وہ اوسلو یونیورسٹی میں سیاسیات کی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اِس سے قبل بریوک کو اوسلو کے قریب ایلا جیل میں رکھا گیا تھا، جس کے بعد سنہ 2013 میں اُنھیں شیئن جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
ایلا میں بھی اُنھوں نے ’غیر انسانی‘ سلوک کی شکایت کی تھی۔
جیل حکام کو لکھے گئے خط میں اُن کا کہنا تھا کہ اُن کا قیدخانہ ٹھیک نہیں ہے اور اِس سے باہر کا نظارہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔
اُنھوں نے ٹھنڈی کافی ملنے، ڈبل روٹی کے لیے کم مکھن دینے اور جِلد کے لیے کریم نہ ملنے کی بھی شکایت کی تھی۔







