ناروے: پولیس انرش بریوک کو روک سکتی تھی

حملوں میں ستتر افراد ہلاک اور دو سو کے قریب خمی ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنحملوں میں ستتر افراد ہلاک اور دو سو کے قریب خمی ہوئے تھے

ناروے میں دائیں بازو کے شدت پسند انرش بہرنگ بریوک کے حملوں سے متعلق تفتیش کرنے والی سرکاری رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ پولیس اوسلو میں بم دھماکے کو روک سکتی تھی اور حملہ آور جلدی پکڑا جا سکتا تھا۔

پیر کو جاری ہونے والی تفتیشی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ گزشتہ برس حملے کے وقت پولیس کارروائی مزید مستعدی سے کر سکتی تھی۔

پولیس پر اس بات کے لیے بھی نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کہ وہ حملے والی جگہ جزیرہ اٹویا کے مقام پر تاخیر سے کیوں پہنچي تھی۔

گزشتہ برس جولائی میں بریوک نے بم حملے اور فائرنگ کر کے ناروے میں ستتر افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ان کے خلاف ناروے کی عدالت میں مقدمہ چلا جس میں انہوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

عدالت اس حملے سے متعلق فیصلہ اسی ماہ سنانے والی ہے اور اس سے پہلے حملے سے متعلق یہ تفتیشی رپورٹ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

حملے سے متعلق تحقیقات میں بعض اہم معاملات، جیسے کہ فائرنگ کی خبر کے باوجود بھی پولیس کا ہیلی کاپٹر کا استعمال نا کرنا اور جزیرہ پر پہنچنے کے لیے فوری طور پرکشتی کا استعمال نا کرنا جیسے معاملات پر اس رپورٹ میں رائے زنی کی جانے کی توقع ہے۔

اس رپورٹ میں مختلف قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان خفیہ معلومات پر تعاون کے سلسلے میں بات ہوگي۔ بہت سے شہری یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ بریوک کی حرکتوں کا پہلے سے پتہ کیسے نہیں چل سکا۔

ان حملوں کے ملزم انرش بہرنگ بریوک نے عدالت میں دیے گئے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے کوئی’دہشت گردی‘ نہیں کی اور انہوں نے جو کیا وہ اسلام اور کثیر الثقافت سوچ کے خلاف ایک صليبي جنگ کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹا وحشیانہ فعل ایک بڑے وحشیانہ فعل سے بچاؤ کے لیے تھا۔

حملہ آور انرش بہرنگ بریوک کے خلاف مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔

عدالت اس مقدمے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا بریوک ذہنی طور پر تندرست ہیں یا نہیں تاہم مقدمے کی سماعت کے موقع پر اس مقدمے میں بریوک کہہ چکے ہیں کہ وہ ذہنی طور پر بالکل صحت مند ہیں۔