’میں نے ایک پولیس افسر پر ریپ کا الزام لگایا لیکن میرے خلاف ہی مقدمہ بنا دیا گیا‘

ایک خاتون، جن کا منہ کیمرے کی دوسری طرف ہے، اُن کے بالوں کی پونی بندھی ہے۔ اور ان کے گرد ایک دائرہ کھینچا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریبیکا وڈز اور ہیلی مورٹیمر
    • عہدہ, بی بی سی فائل آن فور انوسٹیگیٹس

جب روتھ یہ الزام لگانے کے لیے پولیس سٹیشن میں داخل ہوئیں کہ اُن کے ساتھی نے اُن کا ریپ کیا ہے تو اُنھوں نے سوچا نہ تھا کہ ایک روز وہ خود ہی کٹہرے میں کھڑی ہوں گی۔

بعد میں پولیس یہ الزام لگائے گی کہ اُن کی جانب سے لگایا گیا ریپ کا الزام جھوٹا تھا اور اُن کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ پھر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اُنھیں کئی سال طویل جدوجہد کرنا پڑی، یہاں تک کہ آخر کار وہ بری کر دی گئیں۔

روتھ، شناخت چھپانے کے لیے جِن کا اصلی نام بدل دیا گیا ہے، نے ریپ کا الزام سنہ 2020 کے آغاز میں دائر کیا، اُس مرد سے علیحدگی کے سات ماہ بعد، جو کہ ایک پولیس افسر تھے۔ جس دن مبینہ حملہ ہوا اُس کے بعد وہ دونوں کبھی نہیں ملے۔

روتھ بی بی سی فائل آن فور انویسٹی گیٹس کو بتاتی ہیں: ’مجھے لگا کہ اگر میں نے اس واقعے کو رپورٹ نہ کیا تو اپنی زندگی جاری نہیں رکھ پاؤں گی۔‘

جس شخص پر روتھ نے الزام عائد کیا تھا، اُن کے خلاف تو کوئی مقدمہ نہ چلایا گیا لیکن روتھ کو اس الزام کا سامنا رہا کہ وہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) کے مطابق برطانیہ میں ہر سال لوگوں کی ’بہت ہی محدود تعداد‘ ریپ کے جھوٹے الزام لگانے پر مقدمات کا سامنا کرتی ہے۔

سی پی ایس کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار، جو ایک دہائی سے بھی پہلے کے ہیں، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سنہ 2011 سے 2012 کے درمیان، 17 ماہ سے زیادہ کے عرصے میں، انگلینڈ اور ویلز میں ریپ کے پانچ ہزار 651 مقدمات چلائے گئے، جب کہ ریپ کے جھوٹے الزامات پر 35 مقدمات چلائے گئے۔ اُسی دوران سی پی ایس کا ہدایت نامہ بھی جدید خطوط پر استوار کیا گیا، جس کی وجہ سے ریپ کے جھوٹے الزامات کے مقدمات کم ہوئے۔

کسی پر ریپ کا جھوٹا الزام لگے تو مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ممکنہ طور پر وہ فرد پولیس کی حوالات یا جیل خانے میں وقت گزار سکتا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد عموماً اُن کا نام منظر عام پر لایا جاتا ہے۔ جو لوگ جلد بری ہو جائیں، اُنھیں بھی بدنامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سی پی ایس کے موجودہ ہدایت نامے کے مطابق پولیس کے لیے یہ تسلیم کرنا اہم ہے کہ ریپ کا جھوٹا الزام نقصان پہنچا سکتا ہے، اور یہ کہ ایسے کیس سختی سے نمٹائے جائیں۔

ہدایت نامے کے مطابق: ’اس طرح کے مقدمات کے لیے معیار بجا طور پر خاصا سخت ہے، کسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پہلے ادارے کے اعلیٰ ترین وکلا سے منظوری لینا ضروری ہے۔‘

روتھ کے معاملے میں جج نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ’پورے مقدمے کی بنیاد ہی غلط تھی۔‘ اُنھوں نے کیس کے طریقہ کار پر بھی سخت سوالات اٹھائے، جن میں ایک اہم ثبوت بھی تھا: روتھ کے سابق ساتھی کی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی آواز۔

اس رپورٹ میں مبینہ جنسی حملے سے متعلق واضح اور تکلیف دہ حوالہ جات شامل ہیں

روتھ نے جس شخص پر الزام لگایا، اُن کے ساتھ روتھ کا تعلق مختصر لیکن شدید تھا۔

2019 کی گرمیوں میں یہ تعلق ایک تکلیف دہ جنسی ملاپ کے بعد ختم ہوا، روتھ جسے ’ریپ‘ قرار دیتی ہیں۔

روتھ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک مخصوص جنسی عمل کے لیے تیار ہو گئی تھیں، لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے دو شرائط عائد کی تھیں۔ ایک یہ تھی کہ اگر روتھ نے بتایا اُنھیں تکلیف ہو رہی ہے تو اُن کے ساتھی رک جائیں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ جنسی عمل کے دوران اُنھوں نے اپنی رضامندی واضح طور پر واپس لے لی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ’واقعی، واقعی، واقعی تکلیف دہ تھا۔‘

تاہم، اُن کا کہنا ہے کہ منع کرنے کے باوجود اُن کے ساتھی رکے نہیں۔

بعد میں جوڑے کی تلخ کلامی ہوئی اور روتھ کے ساتھی نے بتایا کہ اب یہ تعلق ختم ہو چکا ہے۔

روتھ کہتی ہیں کہ وہ اس قدر تکلیف میں تھیں کہ ڈاکٹر کے پاس چلی گئیں، جنھوں نے معائنے کے لیے اُنھیں ہسپتال بھجوا دیا۔ ڈاکٹر کو یقین تھا روتھ کا ریپ کیا گیا ہے۔

روتھ کہتی ہیں: ’میں یہ واقعہ رپورٹ نہیں کرنے جا رہی تھی، کیوں کہ وہ ایک پولیس افسر تھے۔‘

جو ہوا اُسے روتھ نے بھولنے کی کوشش کی، لیکن کئی ماہ بعد ایک نئے رشتے میں قربت کے لمحات کے دوران روتھ کو مشکل پیش آئی۔ تب اُنھوں نے واروکشائر پولیس کے پاس جا کر شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا۔

روتھ کے سابق ساتھی، جو ویسٹ مڈلینڈز پولیس میں افسر تھے، فوراً گرفتار کیے گئے اور اُن سے پوچھ گچھ کی گئی۔ لیکن اُنھوں نے ریپ کے الزام کی تردید کر دی۔

یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جنسی تعلق باہمی رضامندی سے قائم ہوا تھا، اُنھوں نے ایک آڈیو فائل پیش کی جو اُنھوں نے جنسی عمل کے دوران اپنے موبائل فون پر خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھی۔ روتھ کے سابق ساتھی کے مطابق آڈیو فائل سے ثابت ہوتا تھا روتھ جھوٹ بول رہی تھیں۔

بعد میں شواہد سے سامنے آیا کہ واروکشائر کے تفتیشی افسران نے روتھ کے سابق ساتھی کی یہ بات تسلیم کی تھی کہ وہ روتھ کو ’ہنستے ہوئے اور رضامندی دیتے ہوئے‘ سن سکتے ہیں۔

چھ ہفتے بعد واروکشائر کی پولیس نے کہا کہ روتھ کے سابق ساتھی کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔

تاہم، بعد میں روتھ کو پولیس کی جانب سے فون کال موصول ہوئی اور اُنھیں رضاکارانہ انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔

’میں نے سوچا تھا کہ وہ ایمانداری سے میرا ساتھ دے رہے ہیں لیکن پھر سب کچھ تیزی سے بدل گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ میں ایک حقیر عورت ہوں، میرا ساتھی مجھے پسند نہیں کرتا تھا اس لیے میں نے ریپ کا الزام لگا دیا۔‘

پولیس انٹرویو کے دوران روتھ کو اپنے سابق ساتھی کی جانب سے کی گئی خفیہ آڈیو ریکارڈنگ کا علم ہوا۔

شکایت درج کرانے کے نو ماہ بعد، نومبر 2020 میں، روتھ پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

تضادات

انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا مطلب ہے جان بوجھ کر نظام انصاف میں مداخلت کرنا۔

اس میں ایسے جرائم شامل ہوتے ہیں، جیسے کہ کسی دوست یا رشتہ دار کو بچانے کے لیے اس کے کسی دوسری جگہ موجود ہونے کا جھوٹ بولنا، شواہد چھپانا یا تباہ کرنا، عینی شاہدین کو ڈرانا دھمکانا، یا جھوٹا الزام لگانا۔

ریپ کے مشتبہ جھوٹے الزام پر کارروائی کرتے ہوئے انگلینڈ اور ویلز کی پولیس کے لیے ضروری ہے کہ مقدمہ درج کرنے سے پہلے معاملہ اعلیٰ ترین سطح پر ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز کے علم میں لائیں۔

سی پی ایس کے ہدایت نامے کے مطابق حکام کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے شواہد ہونے چاہییں کہ کسی نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔

روتھ کے معاملے پر تفتیشی افسران نے کہا کہ آڈیو ریکارڈنگ کے علاوہ روتھ کے الزامات اور سابق ساتھی کو پہلے بھیجے گئے واٹس ایپ پیغامات میں بھی تضاد ہے۔ ان پیغامات میں وہ جنسی عمل کے لیے رضامندی ظاہر کر رہی ہیں۔

جب اپریل 2023 میں روتھ کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو استغاثہ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ریکارڈنگ اور پیغامات کے ساتھ ساتھ واقعے سے پہلے اور بعد روتھ کا رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں۔

اُنھوں نے ریکارڈنگ کے تحریری متن کا حوالہ دیا لیکن آڈیو جیوری کو نہ سنوائی۔

تاہم، روتھ کی وکیل صوفی مرے نے وہ آڈیو جیوری کو سنوائی۔

'اچانک پورے کمرے کا ماحول بدل گیا'

جب ریکارڈنگ چلوائی گئی تو روتھ کو یہ کہتے سنا جا سکتا تھا کہ وہ تکلیف میں ہیں اور وہ اپنے ساتھی کو کہہ رہی تھیں ’نہیں‘ اور ’اسے باہر نکالو۔‘

ریکارڈنگ میں موجود ہنسی کی آوازیں روتھ کی نہیں تھیں۔

روتھ کا دفاع کرنے والی ٹیم نے آڈیو کا تجزیہ کر کے معلوم کیا کہ وہ آوازیں در اصل پس منظر میں چلنے والی ایک فحش فلم کے اداکاروں کی تھیں۔

روتھ یاد کرتی ہیں کہ ’اچانک پورے کمرے کا ماحول بدل گیا۔‘

وہ پہلی بار تھی جب روتھ نے مبینہ ریپ کی ریکارڈنگ سنی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ریکارڈنگ اُن کی ’یاد سے بھی بُری‘ تھی۔

وکیل صوفی مرے عدالت میں روتھ کی آڈیو سننے والا واقعہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ روتھ اُن کے پیچھے بیٹھی تھیں اور تکلیف میں تھیں۔ مرے کے مطابق ’یہ شاید میری پیشہ ورانہ زندگی کے مشکل لمحات میں سے ایک تھا۔‘

روتھ کا دفاع اس بنیاد پر تھا کہ اُن کی ’مشروط رضا مندی‘ کی خلاف ورزی ہوئی۔ سیکسوئل آفینسز ایکٹ 2003 میں درج ہے کہ جنسی عمل کے لیے رضا مندی ظاہر کرنے والا فریق اپنی شرائط عائد کر سکتا ہے، مثال کے طور پر، کنڈوم پہنا جائے گا۔ اگر یہ شرائط نہیں مانی جاتیں تو سمجھا جائے گا کہ جنسی عمل میں رضا مندی شامل نہیں تھی۔

اپنے بیان میں روتھ کے ساتھی نے ریپ کا الزام ایک ’مستقل ڈراؤنا خواب‘ قرار دیا اور کہا کہ روتھ نے جنسی ملاپ کی واضح رضا مندی دی تھی۔

تاہم، صوفی مرے کی جانب سے جرح کے دوران اُنھوں نے تسلیم کیا کہ روتھ نے اُن سے کہا تھا اگر تکیلف ہوئی تو جنسی عمل روک دیا جائے گا، اور وہ نہیں رکے۔

وہ اس وقت ویسٹ مڈ لینڈز پولیس سے معطل ہیں، پوری تنخواہ کے ساتھ۔ سال کے آخر میں وہ اس مقدمے کا سامنا کریں گے کہ کیا روتھ کے علم میں لائے بغیر جنسی عمل کی ریکارڈنگ کر کے اُنھوں نے پولیس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

ہم نے اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اُنھوں نے جواب نہ دیا۔

جیوری نے ایک گھنٹے سے کچھ ہی زیادہ وقت میں فیصلہ دے دیا کہ روتھ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرم نہیں ہیں۔

چونکہ یہ ریپ کا مقدمہ نہیں تھا، تو فیصلے کا یہ مطلب نہیں کہ جیوری کے خیال میں اُن کا ریپ کیا گیا، بلکہ صرف یہ طے ہوا کہ جب اُنھوں نے الزام لگایا تھا اُس وقت وہ یہی سمجھتی تھیں کہ اُن کا ریپ ہوا۔

بے گناہ قرار دیے جانے پر روتھ کہتی ہیں: ’میں روئی نہیں، میں چِلّائی نہیں، سچ کہوں تو مجھے نہیں معلوم میں نے کیسا محسوس کیا۔‘

جج نے سوال اٹھائے کہ سی پی ایس اور واروکشائر پولیس نے اپنے فیصلے کیسے لیے تھے۔ جج نے یہ حکم بھی دیا کہ ریپ کے الزام پر اصل تحقیقات دوبارہ شروع کی جائیں۔

سی پی ایس نے بی بی سی کو بتایا کہ ریپ کا ہر الزام انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اور غیر معمولی مقدمات میں، جیسا کہ روتھ کا کیس تھا، شواہد کو استغاثہ کے کئی سینیئر ماہرین نے جانچا۔ تاہم، سی پی ایس کے مطابق، ادارہ جیوری کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔

اپنے بیان میں واروکشائر پولیس نے کہا کہ روتھ پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا مقدمہ درج کرنے کا اصل فیصلہ سی پی ایس کی مشاورت سے کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عدالتی کارروائی کے بعد ’ایسے غیر جانب دار افسران، جن کا پہلے اس کیس سے کوئی تعلق نہ تھا، اُنھوں نے اس کیس کا اور ریپ کی اصل تفتیش کا دوبارہ سے تفصیلی جائزہ لیا۔‘

بیان کے مطابق سی پی ایس کے دیگر شعبہ جات سے بھی رہنمائی لی گئی تاکہ ایک غیر جانب دارانہ نقطہ نظر یقینی بنایا جا سکے، لیکن ’اس کے بعد بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ریپ کا مقدمہ چلانے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔ تب کیس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

پولیس کے مطابق جائزے کے اس عمل کے دوران متاثرہ شخص (روتھ) کو کسی بھی پیش رفت سے مستقل آگاہ کیا جاتا رہا اور یہ کہ پولیس ’ریپ کے تمام الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اور ریپ کا شکار فرد کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے،‘ اور اس نے ’ریپ الزامات کی تحقیقات کے لیے مزید وسائل بھی مختص کیے ہیں۔‘

پولیس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس حقیقت نے تحقیقات پر کوئی اثر نہ ڈالا کہ ملزم ایک حاضر سروس پولیس افسر تھا، بلکہ اس کی وجہ سے چانچ پڑتال زیادہ باریک بینی سے کی گئی۔

روتھ کے سابق ساتھی کو ملازمت دینے والی ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے بتایا کہ روتھ کے مقدمے کے بعد پولیس کے طرز عمل کے بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کیوں کہ فوجداری کارروائیوں کے دوران ادارہ جاتی تحقیقات نہیں کی جاتیں۔

پولیس کے مطابق اگرچہ افسر سے متعلق تحقیقات ہر ممکن تیزی سے کی گئیں لیکن یہ تحقیقات ’ایک سخت قانونی دائرہ کار میں رہ کر کی جاتی ہیں، جس کا مطلب ہے سنجیدہ اور پیچیدہ کیس وقت لیتے ہیں۔‘

روتھ کہتی ہیں وہ اپنے سابقہ ساتھی کے خلاف مقدمہ نہ چلنے پر مایوس ہیں، تاہم اُنھیں مبینہ ریپ کی رپورٹ درج کرانے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔

اُنھوں نے کہا: ’میں ایمان داری سے کہہ سکتی ہوں کہ جو کچھ میں نے کیا وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے درست تھا۔ امید ہے کہ کسی اور کے ساتھ وہ نہیں ہو گا جو میرے ساتھ ہوا۔‘