20 لاکھ روپے کے لیے ’20 لیٹر پیٹرول کا کوڈ ورڈ‘: گوجرانوالہ کے ایک گھر پر چھاپہ جس کے بعد این سی سی آئی اے کے چار اہلکار گرفتار ہوئے

پولیس، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گوجرانوالہ کے رہائشی مظفر اقبال یاد کرتے ہیں کہ جب نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن اتھارٹی (این سی سی ائی اے) کے اہلکاروں نے ان کے گھر چھاپہ مارا تو ان میں سے ایک شخص نے ان کا موبائل فون چھین کر انھیں خاموش رہنے کا کہا تھا۔

گھر پر چھاپہ مارنے اور مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے کر لاکھوں روپے ہتھیانے کے الزام میں پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے این سی سی آئی اے کے تین افسران اور ایک اہلکار سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا ہے۔

یہ اہلکار اس وقت ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ نہیں ہے۔

اس سے قبل وی لاگر ڈکی بھائی کی اہلیہ کو مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دے کر اور ڈکی بھائی کے خلاف درج مقدمے میں ریلیف فراہم کرنے کے وعدے پر کروڑوں روپے وصول کرنے کے الزام میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت چھ اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان سے اب تک سات کروڑ روپے سے زیادہ کی ریکوری بھی کی جا چکی ہے۔

اس بار این سی سی آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف یہ حالیہ مقدمہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں درج کیا گیا۔

گرفتار ہونے والوں میں این سی سی آئی اے کے دو سب انسپکٹر، ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور ایک ہیڈ کانسٹیبل شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس گروہ کے ایک فرنٹ مین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ان افسران کی ایما پر لوگوں سے پیسے وصول کرتا تھا۔

’اہلکاروں نے بینک اکاونٹ سے 3300 ڈالر بھی نکالے‘

این سی سی ائی اے کے ان افسران کے خلاف مقدمہ گوجرانوالہ کے رہائشی مظفر اقبال کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ڈیڑھ درجن کے قریب افراد ان کے گھر کی دیوار پھلانگ کے اندر داخل ہو گئے اور جس وقت یہ افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے تو وہ (مدعی مقدمہ) فون پر اپنے کسی عزیز سے بات کر رہے تھے۔

درخواست گزار کے بقول ان میں سے ایک شخص نے زبردستی ان کا موبائل چھینا اور انھیں خاموش رہنے کا حکم دیا۔

اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ مسلح افراد نے ان کے چار بیٹوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور انھیں گھر کے باہر موجود گاڑی میں بیٹھا کر لے گئے اور جاتے ہوئے مدعی مقدمہ کو کہا کہ وہ سائبر کرائم پولیس سٹیشن میں پیش ہوں۔

اس کے علاوہ ملزمان گھر سے جاتے ہوئے 14 قیمتی موبائل، ایک لیپ ٹاپ اور دو گاڑیاں بھی ساتھ لے گئے۔

ڈکی بھائی

،تصویر کا ذریعہYouTube/Ducky Bhai

،تصویر کا کیپشنڈکی بھائی نے غیر قانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کے مقدمے میں ضمانت کے بعد نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن اتھارٹی کے افسران پر تشدد اور رشوت مانگنے کے الزامات عائد کیے تھے

اس مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ اسی رات جب مدعی کرائم پولیس سٹیشن پہنچا تو اس کی دو گاڑیاں جو این سی سی آئی کے اہلکار ان کے گھر سے لے کر گئے تھے، تھانے کی پارکنگ میں موجود تھیں۔

مدعی مقدمہ کے بقول جب وہ تھانے پہنچے تو وہاں پر وہ افراد بھی موجود تھے جنھوں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔

مظفر اقبال کا کہنا تھا کہ این سی سی آئی اے کا سب انسپکٹر انھیں ایک الگ کمرے میں لے گیا اور ان سے پوچھا کہ ان کا بیٹا کیا کام کرتا ہے، جس پر اس افسر کو بتایا گیا کہ ان کا ایک بیٹا آن لائن ٹریڈنگ کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد مذکورہ پولیس افسر نے این سی سی آئی اے کے ایک اور اہلکار اور ان کے مبینہ فرنٹ مین سے مذاکرات کرنے کو کہا۔

مظفر اقبال کے مطابق انھوں نے مذاکرات کے دوران پانچ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ان کا یہ مطالبہ پورا ہونے کے بعد ان کے چاروں بیٹوں کو مقدمہ درج کیے بغیر رہا کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ اتنی رقم تو نہیں دے سکتے تاہم طویل مذاکرات کے بعد 30 لاکھ روپے میں ڈیل طے ہو گئی۔

اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ شکایت کنندہ نے کہا کہ وہ اپنی نئی گاڑی بطور ضمانت ان کے پاس رکھوا کر جاتے ہیں اور رقم کا بندوبست کر کے آتے ہیں لیکن این سی سی آئی اے کے افسر نے ان کی یہ درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ وہ ساری رقم کیش میں وصول کریں گے۔

مظفر اقبال کے مطابق این سی سی آئی اے کا ایک اور سب انسپکٹر اور ایک نامعلوم شخص ان کی گاڑی کو لے کر راولپنڈی بائی پاس کے قریب واقع شو روم پر گاڑی کی قیمت لگوانے کے لیے لے گئے لیکن گاڑی کا سودا نہ ہوا۔

مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ شکایت کنندہ نے اپنے بیٹے کے ایک دوست سے رابطہ کیا اور ان سے 15 لاکھ روپے بطور قرض لیے جبکہ پانچ لاکھ روپے کا مزید بندوبست کر کے مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے این سی سی آئی اے اہلکاروں کو دیے۔

مدعی مقدمہ نے یہ 20 لاکھ روپے این سی سی آئی اے کے اہلکار کو دیے جس پر اہلکار نے اپنے افسر سب انسپکٹر کو فون کر کے کوڈ ورڈ میں بتایا کہ ’20 لیٹر پیٹرول آ گیا۔‘

پاکستان، جرم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنان اہلکاروں کے بارے میں ایسی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ وہ شہر کے دیگر افراد کو بھی مقدمہ درج کرنے یا انکوائری شروع کرنے کی دھمکیاں دے کر لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ باقی ماندہ دس لاکھ روپے اگلے تین روز میں ادا کرنے کے حوالے سے ان سے ایک سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوایا گیا جس کے بعد ان کے چاروں بیٹوں کو رہا کر دیا گیا۔

مدعی مقدمے کے بقول ان کے ایک بیٹے نعمان نے رہائی کے بعد بتایا کہ این سی سی ائی اے اہلکاروں نے نہ صرف انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان کے بینک اکاونٹ تک رسائی حاصل کر کے وہاں سے 3300 امریکی ڈالر بھی نکال لیے۔

اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ این سی سی آئی اے کے حکام نے ان کے بیٹوں سے جو دیگر دستاویزات قبضے میں لے تھیں، ان کو واپس لینے کے لیے مزید 10 لاکھ روپے بھی ادا کیے گئے ہیں۔

’خفیہ اداروں کے پاس بھی ملزمان کی غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی رپورٹس موجود‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ این سی سی آئی اے کے افسران نے نہ صرف گوجرانوالہ کے ایک تاجر کے گھر پر مسلح ہو کر غیرقانونی ریڈ کیا بلکہ ان کے بچوں کو پہلے اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا اور پھر ان بچوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے کر وہاں سے لاکھوں روپے مالیت کے موبائل اور دیگر سامان اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کیے گئے ان سرکاری اہلکاروں کے بارے میں ایسی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ وہ شہر کے دیگر ایسے افراد جو آن لائن بزنس کرتے ہیں، کو مقدمہ درج کرنے یا ان کے خلاف انکوائری شروع کرنے کی دھمکیاں دے کر ان سے لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ان اہلکاروں کی طرف سے متعدد افراد کو مبینہ طور پر بلیک میل کر کے ان سے لاکھوں روپے بٹورنے کی متعدد شکایات نہ صرف ایف آئی اے کو موصول ہوئیں بلکہ خفیہ اور حساس اداروں کے پاس بھی ان افراد کے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی مستند رپورٹس آئی تھیں۔

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں اور ایف آئی اے حکام نے ان شکایات کی روشنی میں تحقیقات شروع کیں جس میں ان افسران کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا مجرم گردانا گیا۔

ایف آئی اے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد پیسوں کی ریکوری کے لیے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق ملزمان کے قبضے سے اب تک 10 لاکھ روپے کی ریکوری ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس گینگ میں شامل عام افراد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔