سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پس پردہ اختلافات، ’غداری کے الزامات‘ اور خطے میں نئے بحران کے خدشات

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, بی بی سی عربی سروس

خلیج کی بات کی جائے تو حالیہ برسوں میں خطے کی مجموعی صورتِ حال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مؤقف اور پالیسیوں میں واضح فرق نظر آیا ہے حالانکہ اس سے قبل دونوں ممالک طویل عرصے تک کئی مشترکہ معاملات میں قریبی اتحادی رہے ہیں۔

یہ اختلاف خاص طور پر بعض حساس علاقائی معاملات میں کھل کر سامنے آیا ہے جن میں سب سے نمایاں یمن کی جنگ، سیاسی و عسکری اثر و رسوخ کی تقسیم اور معاشی و سٹریٹجک مقابلے بازی ہے۔

اگرچہ یہ اختلاف دونوں ممالک کے درمیان مکمل قطع تعلقی کی صورت اختیار نہیں کر سکا لیکن یہ ان کے تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی کی نشاندہی ضرور کرتا ہے یعنی مکمل ہم آہنگ شراکت داری سے نکل کر ایسے تعلق کی طرف جانا جو بدلتے مفادات اور ہر ریاست کے اپنے حساب کتاب پر مبنی ہو۔

چونکہ سعودی عرب اور امارات خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے دو سب سے بڑے ممالک ہیں، اس لیے معاشی حجم اور آبادی کے اعتبار سے ان کے درمیان مسابقت کا پایا جانا بھی فطری ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ دونوں ممالک میں قیادت کی نئی نسل سامنے آ چکی ہے جن کے اہداف، خواہشات اور ویژن بعض اوقات ایک دوسرے سے متصادم ہو جاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سعودی میڈیا نے متحدہ عرب امارات پر کھلے عام ’غداری‘ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس نوعیت کی جارحانہ زبان خلیج میں 2017 میں قطر سے تعلقات منقطع ہونے کے بعد پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے، جس سے خطے میں ایک نئے بحران کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال یمن میں حالیہ جھڑپوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جہاں ریاض اور ابو ظہبی مختلف فریقوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں کارروائی کی جبکہ امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند قوتیں اس کے مقابل تھیں۔

ان جھڑپوں کے بعد متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ وہ یمن میں موجود اپنی باقی فورسز واپس بلا رہا ہے۔ امارات کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یمن میں اپنے کردار پر دوبارہ غور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ اتحاد کی اجازت اور مشاورت کے بغیر کسی بھی فریق کو فوجی مدد فراہم نہیں کی جانی چاہیے۔

یہ اختلاف صرف فوجی معاملات تک محدود نہیں بلکہ یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلے کی بھی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر حضرموت اور المہرہ جیسے وسائل سے بھرپور صوبوں میں۔ اسی وجہ سے سعودی اتحاد نے امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی وارننگ بھی دی ہے۔

اس تناظر میں سعودی مصنف سلیمان العقیلی نے فیس بک پر شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’سعودی عرب نے یمن کی جنگ کو قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کی جنگ کے طور پر لڑا، جس کا مقصد حوثی بغاوت کا خاتمہ اور ایران کے اثر و رسوخ کا سدِباب تھا۔‘

ان کے بقول ’اماراتی حمایت کے ذریعے جنوبی علاقوں میں اندرونی محاذ کھول کر جنگ کا رخ عسکری اور سیاسی طور پر موڑ دیا گیا۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں ’قانونی طور پر بنی یمنی حکومت کمزور ہو گئی، اس کے دفاعی محاذ بکھر گئے اور بالواسطہ طور پر حوثیوں کو فائدہ پہنچا، کیونکہ جنگ ریاست کی بحالی کے بجائے طاقت اور مفادات کی کشمکش میں تبدیل ہو گئی، جس سے اتحاد کا مشترکہ ہدف متاثر ہوا۔‘

مکلا، جنوبی یمن۔ اس تصویر میں سعودی حملے میں تباہ ہونے والی یو اے ای کی فوجی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمکلا، جنوبی یمن۔ اس تصویر میں تباہ شدہ فوجی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں، جو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے یمن کے علیحدگی پسند گروہ 'ایس ٹی سی' کے لیے بھیجی گئی تھیں۔ یہ گاڑیاں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائی کارروائی کے بعد بندرگاہ مکلا میں تباہ ہوئی ہیں۔

یمن میں جنوبی یوتھ کونسل کے سربراہ خطاب احمد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’امارات نے ہمارے ساتھ زمینی محاذ پر جنگ لڑی اور آزادی کی رات ان کا پہلے شخص نے اپنی جان دی جس کا پاکیزہ خون ہماری زمین میں شامل ہوا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’کسی ریاست سے اختلاف ہونا ایک الگ بات ہے لیکن یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ امارات جیسے بڑے ملک کے خلاف جھوٹ بولا جائے، الزامات لگائے جائیں اور اس کی کردارکشی کی جائے۔‘

’اختلاف ضرور ہوا ہے، مگر قطع تعلقی نہیں ہوئی‘

گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان فاصلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سعودی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متحدہ عرب امارات کے خلاف مسلسل تنقیدی حملے ہیں۔

ان حملوں میں امارات پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لے کر ’غداری‘ اور ’اشتعال انگیزی‘ جیسے سنگین الزامات تک عائد کیے گئے۔

اس کے جواب میں متحدہ عرب امارات نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور خلیجی اتحاد کے ساتھ اپنی سٹریٹجک شراکت داری پر قائم ہے۔ امارات کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں رائے یا اندازے کا فرق کسی بنیادی اختلاف یا سیاسی کشیدگی کی علامت نہیں ہوتا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے 31 دسمبر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں واضح کیا کہ ریاض کے ساتھ معاشی، سکیورٹی اور سیاسی سطح پر رابطہ اور تعاون مسلسل جاری ہے اور خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری یا سفارتی کارروائی مشترکہ اتحاد کے دائرہ کار میں کی جاتی ہے۔

بیان کے مطابق یہ تعاون خلیج کے استحکام اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

خلیج میں اس نوعیت کی ’جارحانہ‘ زبان 2017 کے بعد پہلی بار سننے میں آ رہی ہے، جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سیاسی اختلافات کے باعث قطر پر سفارتی اور تجارتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ قطع تعلقی تین سال سے زائد عرصے تک برقرار رہی تھی۔

اس حوالے سے معروف سعودی کالم نگار اور صحافی داؤد الشریان نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان میڈیا کے ذریعے دیے جانے والے پیغامات دراصل یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ’اختلاف ضرور ہوا ہے، مگر قطع تعلقی نہیں ہوئی‘ اور ان کے بقول یہ اختلافات ’دو برادر ممالک کے درمیان شراکت داری کے دائرے میں رہتے ہوئے قابو میں رکھے جا سکتے ہیں۔‘

دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی سطح پر حالیہ کشیدگی کی ایک مثال وہ خبر تھی جس کی سعودی عرب نے تردید کی، جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے ابوظہبی کے نائب حاکم اور متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر، شیخ طحنون بن زاید کا استقبال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سعودی وزیرِ اطلاعات نے اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ جب چاہیں بغیر کسی پیشگی اجازت کے مملکت آ سکتے ہیں، کیونکہ سعودی عرب ان کا گھر ہے اور یہاں کے حکمران ان کا خاندان ہیں۔‘

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے سعودی مشیر عبداللہ بن محمد آل الشیخ نے کہا کہ ’سعودی عرب کے بیانات نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کو واضح طور پر ظاہر کیا ہے۔ ایسے تعلقات جو باہمی اعتماد اور احترام پر قائم ہیں اور ہر طرح کے شکوک و شبہات پھیلانے کی کوششوں سے کہیں بالاتر ہیں۔‘

علاقائی اثر و رسوخ کی دوڑ

علم السعودية وعلم الإمارات.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ برسوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے علاقائی معاملات میں پہلے کے وسیع تعاون سے ہٹ کر کبھی کبھار متضاد اور مختلف پالیسیز اپنانا شروع کر دی ہیں۔

واشنگٹن میں عربی تحقیق و پالیسی سٹڈیز کے امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ان اختلافات کی وجہ سے سعودی اور اماراتی اتحاد میں دراڑیں نظر آنے لگی ہیں۔۔۔ کیونکہ دونوں ممالک اپنی اپنی سٹریٹجک ترجیحات کے مطابق اہم علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو سمندری گزرگاہوں اور بین الاقوامی راستوں سے جڑے ہیں۔

بی بی سی عربی سے بات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن، سوڈان اور بحرِ احمر میں موجود سمندری گزرگاہیں اور بندرگاہیں سعودی عرب اور امارات کے درمیان علاقائی مقابلے کا اہم محور ہیں، مگر ساتھ ہی یہ دونوں کے مشترکہ مفادات کے لیے بھی ایک سٹریٹجک مقام ہیں۔

ماہرین کے مطابق ’اگرچہ امارات نے یمن میں جنوبی عبوری کونسل کی حمایت میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور اپنی مضبوط عسکری موجودگی قائم کی ہے، وہ اب بھی اریٹریا میں فوجی کردار اور سوڈان میں سپورٹ فورسز کی مدد کے ذریعے خطے میں سرگرم ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی اماراتی مداخلت کا انحصار سمندری گزرگاہوں اور علاقائی پانیوں میں اثر و رسوخ کے تنازع کے خطرات کا جائزہ لینے پر ہو گا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحرِ احمر میں سعودی عرب اور امارات کے مفادات ’ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور وہ ایک دوسرے کی مددگار ہیں‘، اور اگرچہ کچھ اقتصادی دائرہ کار جیسے بندرگاہوں کے معاملے اور سرمایہ کاری میں تضاد موجود ہے مگر ’امارات علاقے میں تصادم نہیں بلکہ استحکام چاہتا ہے، جس میں جہاز رانی کی حفاظت، قزاقی اور سمگلنگ کے خلاف اقدامات اور سمندری استحکام شامل ہے۔‘

ماہرین نے واضح کیا کہ ’ابو ظہبی کسی ایسے سمندر کی خواہش نہیں رکھتا جس پر صرف اس کا قبضہ ہو، بلکہ ایسا سمندر چاہتا ہے جو سب کے کام آئے۔‘

دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ یمن، افریقی سینڈز (قرن افریقہ) اور سوڈان جیسے معاملات میں بھی نظر آتا ہے، جہاں ترجیحات کے اختلاف کی وجہ سے ہر فریق کے مقامی اتحاد کی نوعیت بدل جاتی ہے اور اسی وجہ سے بعض اوقات مشترکہ محاذ کمزور ہو جاتے ہیں۔

سوڈان ایک اور حساس معاملہ ہے، یہاں سعودی عرب اور امریکہ نے سوڈانی فوج کو نیا جنگ بندی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے میں متحدہ عرب امارات شامل نہیں ہے حالانکہ امارات پہلے بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں میں حصہ لے چکا ہے۔

طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات پر الزام ہے کہ وہ سوڈان کی فوج کے خلاف سپورٹ فورسز کی حمایت کر رہا ہے، جس کی ابو ظہبی تردید کرتا ہے۔

6 مئی 2025 کو سوڈان کی دفاعی اور سکیورٹی کونسل نے اعلان کیا کہ سوڈان نے امارات کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں، جس کی وجہ وہاں جاری جنگ میں سپورٹ فورسز کی حمایت تھی۔

سوڈانی مصنف اور تجزیہ کار مکاوی مالک نے حالیہ سعودی و سوڈانی ملاقاتوں کو سیاسی منظرنامے پر ’چھپ کر کھیلنے کے دور کے خاتمے‘ کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ یہ ملاقاتیں ’سوڈان کے معاملات کو انتشار سے منظم فیصلوں کی جانب لے جانے کا اعلان‘ ہیں۔

انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ ریاض کے بعد کا مرحلہ ’سوڈان کو ایجنٹس کے ذریعے چلانے کے دور کا اختتام اور ریاست کی قیادت میں آگے بڑھنے کا آغاز ہے، جو سوڈان کو دوبارہ ایک فعال علاقائی کھلاڑی کے طور پر سامنے لاتا ہے اور بحرِ احمر اور قرن افریقہ میں توازن کو سعودی ویژن کے مطابق مستحکم کرتا ہے۔‘

EPA

،تصویر کا ذریعہEPA

معاشی اور سٹریٹجک پالیسیوں میں اختلاف

عام حالات میں خلیجی ممالک اس بات کو ظاہر کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں کہ وہ امن اور استحکام سے مالا مال ہیں اور اپنی معیشیتوں کو، جو زیادہ تر تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہیں، کاروبار اور سیاحت کے شعبوں کی طرف مائل کر رہے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات صرف سیاسی یا عسکری معاملات تک محدود نہیں بلکہ ایک واضح اقتصادی اور سٹریٹجک مقابلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں ترقی کے ماڈل اور علاقائی مقابلے پر مختلف نقطہ نظر سامنے آئے ہیں۔

سعودی عرب اپنی معیشت کو عالمی اقتصادی مرکز کے طور پر مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ویژن 2030 کے تحت تیل سے ہٹ کر متنوع معیشت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امارات نے دہائیوں سے اپنے آپ کو عالمی لاجسٹک اور تجارتی مرکز کے طور پر مضبوط کیا ہے جس میں اس کی بندرگاہیں، آزاد تجارتی زون اور دبئی عالمی مالی مرکز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ مقابلہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو راغب کرنے اور عالمی سطح پر ٹیکنالوجی، مالی خدمات اور سیاحت کے شعبوں میں تقریبات منعقد کرنے تک بھی پھیل رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات ایک متوازن شراکت داری کے ساتھ ساتھ ایک مقابلے کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔

یہ فرق توانائی، تیل، اور علاقائی سرمایہ کاری کی پالیسیوں میں بھی واضح ہے کیونکہ ابوظہبی اور ریاض کبھی کبھار اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار اور قیمتوں کی لچک پر اختلاف رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں، دونوں ممالک کی بیرون ملک سرمایہ کاری کی ترجیحات میں بھی فرق ہے: امارات افریقہ، یمن اور قرن افریقہ پر توجہ دیتی ہے، جبکہ سعودی عرب عرب کی توجہ خطے کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی منصوبوں پر مرکوز ہے۔

سعودی کارکن فیصل الشهری نے ایکس پر کہا کہ سعودی عرب اور امارات کے درمیان مقابلہ صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ ’اقتصادی اور سٹریٹجک اثر و رسوخ کا تنازع ہے جو زمینی واقعات سے براہِ راست جڑا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’امارات نے مشرق وسطیٰ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے، عالمی لاجسٹک نیٹ ورک بنانے اور مشرق و مغرب کے درمیان روابط پر کنٹرول حاصل کرنے میں سب سے کامیاب ماڈل پیش کیا، جس میں اس کی بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور آزاد تجارتی زون شامل ہیں۔‘

جبکہ سعودی عرب نے ’توانائی پر مبنی روایتی اقتصادی کردار سے نکل کر ایک ایسا کھلاڑی بننا شروع کیا ہے جو عالمی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن دوبارہ قائم کرنے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ان تمام اختلافات اور فرق کے باوجود سوال یہ ہے کہ: کیا سعودی و اماراتی اتحاد اپنے درمیان اقتصادی اور سیاسی مقابلے کو قابو میں رکھنے میں کامیاب ہو پائے گا؟ یا خطہ علاقائی کشیدگی کے ایک نئے دور کے دہانے پر ہے؟

مستقبل بتائے گا کہ آیا خلیجی ہم آہنگی کا دور واقعی ختم ہو گیا ہے، یا یہ اختلافات شراکت داری کے دائرے میں سنبھالے جا سکتے ہیں۔