سینیئر صحافی مطیع اللہ
جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف منشیات کے ثبوت موجود ہیں چارج فریم ہو سکتا ہے جبکہ اسلام ہائی کورٹ نے تفتیشی افسر کو نو فروری تک مبینہ طور پر برآمد ہونے والی منشیات کی فرانزک رہورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
جمعہ کے روز ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف مطیع اللہ جان کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کی۔ مطیع اللہ جان اپنے وکیل قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مطیع اللہ جان کے خلاف
منشیات کے ثبوت موجود ہیں، ان پر چارج فریم ہو سکتا ہے۔
اس پر مطیع اللہ کے وکیل قدیر جنجوعہ نے موقف اپنایا کہ نارکوٹکس کے کیس میں ویڈیو ہونا ضروری ہے جو اس کیس میں موجود نہیں۔
جسٹس ارباب نے استفسار کیا کہ صرف ویڈیو نہیں ہے تو کیا چارج فریم نہیں ہو سکتا؟
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ آئس کی پوزیشن موجود ہے، گواہ موجود ہیں، چارج فریم ہو سکتا ہے۔
مطیع اللہ جان کے وکیل کا کہنا تھا کہ منشیات کے کیسز میں ویڈیو نا ہونے پر کیس نہیں چل سکتا، اعلی عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ منشیات کے کیسز میں پوزیشن موجود ہو تو چارج کیسے فریم نہیں ہو سکتا؟
ایڈوکیٹ قدیر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل صحافی ہیں جو تیس سال سے کورٹ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔
جسٹس ارباب نے استفسار کیا کہ تو کیا یہ آپ کا ڈیفینس ہے؟
مطیع اللہ جان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل 26 نومبر کے واقعے کی رپورٹنگ کرنے پمز گئے تھے، ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔
جسٹس ارباب نے مطیع اللہ کے وکیل سے پوچھا کہ وہ کلاشنکوف ملنے اور دیگر الزامات پر کیا کہیں گے۔
قدیر جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ 28 نومبر 2024 کو برآمد ہونے والی مبینہ منشیات کا سیمپل فرانزک کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن 14 ماہ گزرنے کے باوجود اس کا نہیں آیا ہے۔
جسٹس ارباب کے استفسار پر کہ کہ کیا واقعی ابھی تک فرانزک بھی نہیں ہوا ہے، تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ہم نے ریمائنڈر بھی بھیجا ہے لیکن ابھی تک فرانزک نہیں آیا۔
جسٹس ارباب نے تفتیشی افسر کو فرانزک رپورٹ جمع کروانے کے لیے آئندہ سماعت تک کا وقت دیتے ہوئے سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔