لائیو, کچھ بڑے اور طاقتور امریکی جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں لیکن اچھا ہوگا انھیں استعمال نہ کرنا پڑے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ’کچھ بڑے اور طاقتور جہاز‘ ایران کی جانب جا رہے ہیں لیکن اچھا ہو گا اگر انھیں استعمال نہ کرنا پڑے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ان کی ایران سے بات ہوئی اور وہ اس بارے میں کچھ منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔

خلاصہ

  • کچھ بڑے اور طاقتور امریکی جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں لیکن اچھا ہوگا انھیں استعمال نہ کرنا پڑے: ٹرمپ
  • امریکی محکمہ خارجہ کا ایرانی اعلیٰ حکام اور ان کے اہل خانہ کے ملک میں رہنے کا استحقاق ختم کرنے کا اعلان
  • پاسدارانِ انقلاب یورپی یونین کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل، کئی ایرانی رہنماؤں پر بھی پابندیاں
  • امریکی گائیڈڈ میزائل 'ڈسٹرائر ڈیلبرٹ' مشرق وسطیٰ میں داخل ہو گیا
  • سندھ حکومت کا گل پلازہ آتشزدگی واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان

لائیو کوریج

  1. یورپ ہماری فوج کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر بڑی سٹریٹجک غلطی کر رہا ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو ’بڑی سٹریٹجک غلطی‘ قرار دے دیا۔

    انھوں نے جمعرات کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا ہے ’کئی ممالک ہمارے خطے میں ہمہ گیر جنگ شروع ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی یورپی [ملک] نہیں۔‘

    عراقچی کا کہنا ہے کہ یورپ تنازع کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔

    ’امریکہ کے کہنے پر 'سنیپ بیک' (پلٹ کر جواب دینے) کے بعد، وہ اب ہماری قومی فوج کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر ایک اور بڑی سٹریٹجک غلطی کر رہے ہیں۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یورپی باشندے اس سے کہیں بہتر کے مستحق ہیں جو ان کی حکومتیں انھیں فراہم کر رہی ہیں۔

    ایرانی مسلح افواج نے یورپی یونین کے اس فیصلے کو ’غیر منطقی اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا اور یہ ایران کے یورپی یونین کی ’گہری دشمنی‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

  2. یکم سے تین فروری کے دوران مری اور گلیات میں مزید برفباری کا امکان: پی ڈی ایم اے

    مری

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے صوبے کے بالائی علاقوں میں برفباری اور بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ یکم سے 3 فروری کے دوران مری، گلیات اور گردونواح میں برفباری اور بارش ہو گی جبکہ پوٹھوہار ریجن، سیالکوٹ، نارووال، گجرات اور گجرانوالہ میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    ڈائیریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مری میں برفباری کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں جبکہ سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ گاڑی چلاتے وقت تیز رفتاری اور اچانک بریک لگانے سے اجتناب کریں۔

  3. سی ٹی ڈی کا میانوالی میں چھ شدت پسندوں کی اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت کا دعویٰ

    پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ میانوالی میں سی ٹی ڈی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران چھ مبینہ شدت پسند اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ آٹھ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میانوالی میں ’سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی۔‘

    بیان کے مطابق، کاررواَئی کے دوران چاپڑی ڈیم کے نزدیک شدت پسندوں نے سی ٹی ڈی ٹیم پر فائرنگ کر دی۔ سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، ’فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ آٹھ دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں کے قبضے سے ایک خودکش جیکٹ، تین دستی بم، چھ ایس ایم جی رائفلز، 200 گولیاں اور بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔

    سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

  4. مطیع اللہ جان کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفتیشی افسر کو نو فروری تک فرانزک رپورٹ جمع کروانے کا حکم

    سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف منشیات کے ثبوت موجود ہیں چارج فریم ہو سکتا ہے جبکہ اسلام ہائی کورٹ نے تفتیشی افسر کو نو فروری تک مبینہ طور پر برآمد ہونے والی منشیات کی فرانزک رہورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

    جمعہ کے روز ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف مطیع اللہ جان کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کی۔ مطیع اللہ جان اپنے وکیل قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات کے ثبوت موجود ہیں، ان پر چارج فریم ہو سکتا ہے۔

    اس پر مطیع اللہ کے وکیل قدیر جنجوعہ نے موقف اپنایا کہ نارکوٹکس کے کیس میں ویڈیو ہونا ضروری ہے جو اس کیس میں موجود نہیں۔

    جسٹس ارباب نے استفسار کیا کہ صرف ویڈیو نہیں ہے تو کیا چارج فریم نہیں ہو سکتا؟

    سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ آئس کی پوزیشن موجود ہے، گواہ موجود ہیں، چارج فریم ہو سکتا ہے۔

    مطیع اللہ جان کے وکیل کا کہنا تھا کہ منشیات کے کیسز میں ویڈیو نا ہونے پر کیس نہیں چل سکتا، اعلی عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں۔

    جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ منشیات کے کیسز میں پوزیشن موجود ہو تو چارج کیسے فریم نہیں ہو سکتا؟

    ایڈوکیٹ قدیر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل صحافی ہیں جو تیس سال سے کورٹ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

    جسٹس ارباب نے استفسار کیا کہ تو کیا یہ آپ کا ڈیفینس ہے؟

    مطیع اللہ جان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل 26 نومبر کے واقعے کی رپورٹنگ کرنے پمز گئے تھے، ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔

    جسٹس ارباب نے مطیع اللہ کے وکیل سے پوچھا کہ وہ کلاشنکوف ملنے اور دیگر الزامات پر کیا کہیں گے۔

    قدیر جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ 28 نومبر 2024 کو برآمد ہونے والی مبینہ منشیات کا سیمپل فرانزک کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن 14 ماہ گزرنے کے باوجود اس کا نہیں آیا ہے۔

    جسٹس ارباب کے استفسار پر کہ کہ کیا واقعی ابھی تک فرانزک بھی نہیں ہوا ہے، تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ہم نے ریمائنڈر بھی بھیجا ہے لیکن ابھی تک فرانزک نہیں آیا۔

    جسٹس ارباب نے تفتیشی افسر کو فرانزک رپورٹ جمع کروانے کے لیے آئندہ سماعت تک کا وقت دیتے ہوئے سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔

  5. روس ’غیر معمولی سرد‘ موسم کے دوران یوکرین کے شہروں پر حملہ نہِیں کرے گا، صدر ٹرمپ کو پوتن کی یقین دہانی

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ’غیر معمولی سرد‘ موسم کے دوران روس یوکرین کے دارالحکومت کئیو اور دیگر شہروں اور قصبوں پر ایک ہفتے تک حملہ نہیں کرے گا۔

    روس کی جانب سے ایسے کسی معاہدے کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹرمپ کے اس بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ انھیں توقع ہے کہ روس اپنا وعدہ نبھائے گا۔

    صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملوں میں وقفہ کب سے شروع ہوگا۔ یاد رہے کہ جمعرات کی شب سے یوکرین کے دارالحکومت میں درجہ حرارت گرنا شروع ہو گیا ہے اور اور اگلے چند دنوں میں یہ منفی 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    روس نے سخت سردیوں کے دوران یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ 2022 میں یوکرین کے جنگ کے آغاز کے بعد سے روس ہر مرتبہ سردیوں میں ایسا کرتا آیا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں کابینہ کے اجلاس کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے ذاتی طور پر صدر پوتن سے کہا کہ وہ ایک ہفتے تک کئیو اور مختلف قصبوں پر حملے نہ کریں، اور انھوں نے ایسا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرینیوں کو اس بات کا یقین نہیں آ رہا تھا لیکن وہ اس پر بہت خوش ہیں کیونکہ وہ بری طرح سے متاثر تھے۔

  6. ایران کا آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان

    ایران بحریہ

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty

    ایران کے ‏پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان کیا ہے۔

    بین الاقوامی ٹی وی چینل الجزیرہ نے نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشق میں روس اور چین کی افواج بھی حصہ لیں گی۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان مشقوں میں ان دونوں ممالک کی شمولیت کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک خبر کے مطابق ایران نے جمعرات کے روز شپنگ کمپنیوں کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کی جائیں گی۔

    آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل برآمد کرنے والا راستہ ہے جو خلیج فارس کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک بشمول سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے۔

  7. پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان، سہیل آفریدی اور دیگر رہنما واپس روانہ

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہX/PTIPunjabPK

    پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر دیا گیا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد وہاں موجود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اور کارکنان واپس روانہ ہو گئے۔

    پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو احتجاج، ہمارا جو دھرنا ہے، اس کو ہم اب سپریم کورٹ کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ جا کر چیف جسٹس کو ایک یاداشت پیش کریں گے اور اس یادداشت کی تائید کے لیے ہمارے تمام پارلیمنٹیرین بھی وہاں موجود رہیں گے۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ سے ہمیں وہ ریلیف ملے گا جو بطور انسان عمران خان کا حق ہے۔‘

    ’نہ صرف ملاقات اور طبی معائنہ بلکہ بالآخر آزادی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ہم عمران خان کی اس ناحق قید کے خلاف پر روز نظر آئیں گے۔

    ’ہمیں کسی چیز کی جلدی نہیں، ہم تحمل سے وہ کام کریں گے جو ہمیں فتح کی جانب لے کر جائے گا۔‘

    اس سے قبل گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ جب تک پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ان کے ذاتی معالج اڈیالہ جیل میں ملاقات کر کے باہر نہیں آتے، اڈیالہ جیل پر دھرنا جاری رہے گا۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ عمران خان کے دو سے تین ذاتی معالجین ملاقات کے لیے جیل آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر فیصل، ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر عظمیٰ اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔

    سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ انھوں نے اور سلمان اکرم راجہ نے ڈاکٹروں کو بلایا ہے تاکہ عمران خان کی صحت سے متعلق ملاقات ممکن ہو سکے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کی جانب سے عمران خان کی آنکھوں کے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں علاج کی تصدیق کے بعد تحریکِ انصاف کی جانب سے ان کے ذاتی معالج کو رسائی دینے کا مطالبہ دہرایا گیا تھا۔

    چند روز قبل تحریکِ انصاف نے ایک بیان میں ’باوثوق صحافتی ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد لایا گیا ہے۔

  8. امریکی محکمہ خارجہ کا ایرانی اعلیٰ حکام اور ان کے اہل خانہ کے ملک میں رہنے کا استحقاق ختم کرنے کا اعلان

    امریکی محکمہ خارجہ کہنا ہے کہ ایرانی اعلیٰ حکام اور ان کے اہل خانہ کے امریکہ میں رہنے کا استحقاق ختم کر دیا گیا ہے۔

    امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایکس اکاوؑنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ایرانی عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، امریکی وزیرِ خارجہ ماکو روبیو نے رواں ہفتے ایرانی اعلیٰ حکام اور ان کے اہل خانہ کے امریکہ میں رہنے کا استحقاق منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسے لوگ جو ایرانی حکومت کے وحشیانہ جبر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں انھیں ہمارے امیگریشن سسٹم سے مستفید ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی ریاست اٹلانٹا کی ایموری یونیورسٹی نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی بیٹی کو یونیورستی سے برطرف کر دیا تھا جس کی تصدیق بی بی سی فارسی کو یونیورسٹی کے ایک فیکلٹی ممبر نے کی تھی۔ فاطمہ اردشیر لاریجانی اٹلانٹا کی ایموری یونیورسٹی کے کینسر ریسرچ ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہی تھیں۔

    سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہx/StateDept

  9. کچھ بڑے اور طاقتور امریکی جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں لیکن اچھا ہوگا انھیں استعمال نہ کرنا پڑے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ’کچھ بڑے اور طاقتور جہاز‘ ایران کی جانب جا رہے ہیں لیکن اچھا ہو گا اگر ہمیں انھیں استعمال نہ کرنا پڑے۔

    جمعرات کے روز، ایک صحافی نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ کیا ان کی گذشتہ کچھ روز میں ایران سے کوئی بات ہوئی ہے اور ان کا آگے کا منصوبہ کیا ہے۔

    امریکی صدر نے جواب دیا، ’جی میری بات ہوئی ہے اور میں اس بارے میں منصوبہ بھی بنا رہا ہوں۔ ہمارے کچھ بہت بڑے اور طاقتور جہاز ایران کی جانب جا رہے ہیں۔ لیکن بہت اچھا ہوگا اگر ہمیں انھیں استعمال نہ کرنا پڑے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے نے ایرنیوں کو کیا پیغام دیا ہے تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’میں نے انھیں دو باتیں کہی ہیں۔ پہلی، کوئی جوہری [ہتھیار] نہیں اور دوسرا، مظاہرین کو قتل کرنا بند کریں۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں [مظاہرین کو] قتل کر رہے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’دو ہفتے قبل میں نے 837 پھانسیاں رکوائی ہیں، مگر انھیں کچھ کرنا پڑے گا۔‘

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جہاز سے باخبر رہنے والے نظام سے پتہ چلا ہے کہ ایک اور امریکی جنگی جہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے، جس سے ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

    ٹریکنگ سائٹ میرین ٹریفک نے دکھایا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک کو بدھ 29 فروری کو خلیج فارس کی طرف نہر سویز سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ اب کم از کم 10 امریکی جنگی جہاز مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں جن میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن بھی شامل ہے۔

    طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ماہر سٹیفن واٹکنز نے حالیہ دنوں میں فلائٹ ریڈار 24 جیسی ویب سائٹس پر مشرقِ وسطیٰ کے اندر اور اردگرد مختلف امریکی فوجی طیاروں کو دیکھا ہے۔

    گذشتہ روز سٹیفن واٹکنز نے پروازوں کا جائزہ لیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی فضائیہ کا ایک E-11A طیارہ کریٹ سے روانہ ہو کر سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف گیا۔ یہ کمرشل جیٹ ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ امریکی افواج وسیع علاقوں میں تیزی اور محفوظ طریقے سے معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔

    انھوں نے قطر میں موجود امریکی فضائیہ کے بوئنگ RC-135 کی طرف بھی اشارہ کیا، جو الیکٹرانک نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    سٹیفن واٹکنز کا کہنا ہے کہ ’سب سے زیادہ خصوصی طیارے آخر میں نظر آتے ہیں۔ اگر انھیں دو ہفتے پہلے خطے میں منتقل کیا جاتا تو وہ اس وقت تک فارغ بیٹھے ہوتے۔ اب جب وہ دکھائی دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس کام ہے۔‘

  10. مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی امریکی فوجی طیارے، کیا ایران پر حملہ قریب ہے؟

    امریکہ ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہم نے طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ماہر سٹیفن واٹکنز سے بات کی ہے، جنھوں نے حالیہ دنوں میں فلائٹ ریڈار 24 جیسی ویب سائٹس پر مشرقِ وسطیٰ کے اندر اور اردگرد مختلف امریکی فوجی طیاروں کو دیکھا ہے۔

    سٹیفن واٹکنز نے پروازوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ امریکی فضائیہ کا ایک E-11A طیارہ آج کریٹ سے روانہ ہو کر سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف گیا۔ یہ کمرشل جیٹ ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ امریکی افواج وسیع علاقوں میں تیزی اور محفوظ طریقے سے معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔

    امریکہ ایران

    انھوں نے قطر میں موجود امریکی فضائیہ کے بوئنگ RC-135 کی طرف بھی اشارہ کیا، جو الیکٹرانک نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    سٹیفن واٹکنز کا کہنا ہے کہ ’سب سے زیادہ خصوصی طیارے آخر میں نظر آتے ہیں۔ اگر انھیں دو ہفتے پہلے خطے میں منتقل کیا جاتا تو وہ اس وقت تک فارغ بیٹھے ہوتے۔ اب جب وہ دکھائی دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس کام ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایک اور اہم طیارہ جس پر نظر رکھنی چاہیے وہ E-3G Sentry ہے، جو نگرانی اور فوجی کارروائیوں کی ہم آہنگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    واٹکنز نے نوٹ کیا کہ ایک E-3G اسی دن مشرقِ وسطیٰ گیا تھا جب امریکہ نے گذشتہ گرمیوں میں ایران کی کئی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ E-3G Sentry آخری کڑی ہے۔ اگر حالات پچھلے سال کے ’مڈنائٹ ہیمر‘ (ایران پر امریکی حملوں کا کوڈ نام) کی طرح آگے بڑھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ حملہ قریب ہے۔‘

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • یورپی یونین نے ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ تہران میں ملک گیر مظاہروں کے خونریز کریک ڈاؤن کے بعد کیا گیا ہے۔
    • روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو بتایا کہ ماسکو ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ تہران کے خلاف طاقت کا کوئی بھی حربہ خطے میں ’افراتفری‘ پیدا کر سکتا ہے اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
    • حکومتِ سندھ نے کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
    • پاکستان نے انڈیا میں دو کیسز کی تصدیق کے بعد سرحدوں پر ’نِیپاہ وائرس‘ کے ممکنہ مریضوں کی جانچ پڑتال کے لیے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
    • پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک غلط فہمی ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا ابراہام معاہدے یا کسی متوازی عمل سے کوئی تعلق ہے۔‘
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔