یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
30 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
حکومتِ سندھ نے کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب کمشنر کراچی کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت میں بنیادی فائر سیفٹی انتظامات موجود نہیں تھے اور متعدد قوانین و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
30 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہPTI
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ان کے ذاتی معالج ملاقات کر کے باہر نہیں آتے، اڈیالہ جیل پر دھرنا جاری رہے گا۔
سہیل آفریدی جمعرات کو تقریباً آٹھ گھنٹے تک گورکھپور کے ایک چائے کے ڈھابے پر ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ساتھ بیٹھے رہے۔ سوشل میڈیا پر اس غیر معمولی موجودگی کی خبریں چلنے کے بعد وزیراعلیٰ بعد ازاں اڈیالہ روڈ گورکھپور ناکے پر جا بیٹھے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ عمران خان کے دو سے تین ذاتی معالجین ملاقات کے لیے جیل آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر فیصل، ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر عظمیٰ اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ انھوں نے اور سلمان اکرم راجہ نے ڈاکٹروں کو بلایا ہے تاکہ عمران خان کی صحت سے متعلق ملاقات ممکن ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ظلم اور فسطائیت انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ ایک سابق وزیراعظم سے نہ اس کے اہلِ خانہ، نہ ذاتی معالج اور نہ ہی اس کے مینڈیٹ سے منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ کو عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔‘
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی کے کچھ دوست اور اراکین کوشش کر رہے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا انتظام ہو سکے، تاہم وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ کون بات چیت کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر خرم مرزا اڈیالہ جیل پہنچ رہے ہیں اور اگر ڈاکٹرز کو ملاقات کی اجازت دی گئی تو یہ ایک قابلِ اطمینان پیش رفت ہوگی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ کوئی خوشخبری نہیں دے سکتے، اگر ملاقات نہ کرائی گئی تو وہ وہیں بیٹھے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹرز کی ملاقات کرائی گئی تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ڈاکٹرز کو مریض سے ملنے دیا جائے۔ ان کے مطابق ڈاکٹرز صبح دس سے ساڑھے دس بجے تک جیل پہنچ جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ماہر سٹیفن واٹکنز سے بات کی ہے، جنھوں نے حالیہ دنوں میں فلائٹ ریڈار 24 جیسی ویب سائٹس پر مشرقِ وسطیٰ کے اندر اور اردگرد مختلف امریکی فوجی طیاروں کو دیکھا ہے۔
سٹیفن واٹکنز نے پروازوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ امریکی فضائیہ کا ایک E-11A طیارہ آج کریٹ سے روانہ ہو کر سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف گیا۔ یہ کمرشل جیٹ ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ امریکی افواج وسیع علاقوں میں تیزی اور محفوظ طریقے سے معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔

انھوں نے قطر میں موجود امریکی فضائیہ کے بوئنگ RC-135 کی طرف بھی اشارہ کیا، جو الیکٹرانک نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سٹیفن واٹکنز کا کہنا ہے کہ ’سب سے زیادہ خصوصی طیارے آخر میں نظر آتے ہیں۔ اگر انھیں دو ہفتے پہلے خطے میں منتقل کیا جاتا تو وہ اس وقت تک فارغ بیٹھے ہوتے۔ اب جب وہ دکھائی دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس کام ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایک اور اہم طیارہ جس پر نظر رکھنی چاہیے وہ E-3G Sentry ہے، جو نگرانی اور فوجی کارروائیوں کی ہم آہنگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
واٹکنز نے نوٹ کیا کہ ایک E-3G اسی دن مشرقِ وسطیٰ گیا تھا جب امریکہ نے گذشتہ گرمیوں میں ایران کی کئی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ E-3G Sentry آخری کڑی ہے۔ اگر حالات پچھلے سال کے ’مڈنائٹ ہیمر‘ (ایران پر امریکی حملوں کا کوڈ نام) کی طرح آگے بڑھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ حملہ قریب ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہFamily
پاکستان سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ ’لاہور کے دل میں ایک بے گناہ جان کا ضیاع محض حادثہ نہیں بلکہ جرم ہے، اور اس نے میرا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے حقائق کو مسخ کیا گیا تاکہ نااہلی کو چھپایا جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے افسران جو ایک کھلا مین ہول بھی محفوظ نہیں کر سکتے، انھیں عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ انصاف کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گی، دو بیٹیوں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور ہر ذمہ دار افسر کو سزا دی جائے گی۔
مریم نواز نے لکھا کہ حکام نے اعتراف کیا کہ بار بار ہدایات اور توجہ کے باوجود ایک قیمتی جان غفلت اور فرض سے کوتاہی کے باعث ضائع ہوئی، لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سچ کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں اب غفلت اور بددیانتی کرنے والے افسران کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کے بجائے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کے لیے ڈھال بنے گی۔
انھوں نے کہا کہ پنجاب میں ہر انسانی جان کی قدر کی جائے گی، چاہے اس میں کتنا ہی طاقتور افسر کیوں نہ ملوث ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمران خان کے دور میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق رہنے والی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انھیں وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک نیا مراسلہ موصول ہوا ہے جس میں ان کا نام ایک مرتبہ پھر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کر دیا گیا ہے۔
شیریں مزاری اس وقت اپنی جیل میں موجود وکیل بیٹی ایمان مزاری اور داماد ہادی علی چھٹہ کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں، جنھیں متنازع ٹویٹس مقدمے میں پیکا قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@ShireenMazari1
شیریں مزاری نے کہا کہ یہ مراسلہ 5 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا تھا اور آج بذریعہ کورئیر ان کے پاس پہنچا۔
شیریں مزاری کا نام پہلے بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے نکال دیا گیا تھا۔ ای سی ایل ایک ایسی فہرست ہے جس میں اگر کسی شہری کا نام ڈال دیا جائے تو پھر اسے بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں ہوتی۔
اعلیٰ فوجی افسران کو ’سٹریٹیجی‘ پڑھانے والی شیریں مزاری کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAP
یورپی یونین نے ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ تہران میں ملک گیر مظاہروں کے خونریز کریک ڈاؤن کے بعد کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس فیصلے پر متفقہ طور پر اتفاق کیا۔
کایا کالس نے کہا کہ ’کوئی بھی حکومت جو اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو قتل کرتی ہے، دراصل اپنے زوال کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔‘
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب 27 رکنی یورپی بلاک نے 15 ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر بھی شامل ہیں۔ یہ پابندیاں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے تناظر میں لگائی گئیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں اب تک 6 ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPublic domain
ایران میں مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے ردعمل میں یورپی یونین نے ملک کے کئی اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
یورپ کی کونسل نے اعلان کیا کہ ان پابندیوں کا ہدف وزیر داخلہ اسکندر مومننی، اٹارنی جنرل محمد موحیدی آزاد اور تہران کی انقلابی عدالت کی برانچ 26 کے جج ایمان افشاری ہیں۔
کونسل آف یورپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تینوں ’پرامن احتجاج کے پرتشدد جبر اور سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی من مانی حراست میں ملوث تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
جہاز سے باخبر رہنے والے نظام سے پتہ چلتا ہے کہ ایک اور امریکی جنگی جہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے، جس سے ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
ٹریکنگ سائٹ میرین ٹریفک نے دکھایا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک کو بدھ 29 فروری کو خلیج فارس کی طرف نہر سویز سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اب کم از کم 10 امریکی جنگی جہاز مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں جن میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن بھی شامل ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے منگل کو بی بی سی کے فیکٹ فائنڈنگ یونٹ کو تصدیق کی کہ جہاز مشرق وسطیٰ میں تھا، لیکن ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے ٹریکنگ سائٹس پر ظاہر نہیں ہوا۔
تاہم، کل صبح سویرے، بی بی سی کے فیکٹ فائنڈنگ ڈپارٹمنٹ نے امریکی بحریہ کے بیل بوئنگ V-22 آسپری طیارے کا سراغ لگایا جو خلیج فارس کے اوپر سے عمان کی طرف پرواز کر رہا تھا۔
آسپرے، جو زیادہ تر نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا ہے، ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی طور پر ٹیک آف اور لینڈ کر سکتا ہے، لیکن یہ ہوائی جہاز کی طرح اڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو بتایا کہ ماسکو ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ کریملن مذاکرات میں اس معاملے پر ان کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
محمد بن زاید النہیان روس کے سرکاری دورے کے آغاز پر آج ماسکو پہنچے۔
متحدہ عرب امارات نے جمعہ اور سنیچر کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے سہ فریقی مذاکرات کی میزبانی کی، جن میں روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندے شریک ہوئے۔ اگلے ہفتے ابوظہبی میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے خلاف طاقت کا کوئی بھی حربہ خطے میں ’افراتفری‘ پیدا کر سکتا ہے اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
دمتری پیسکوف نے یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد دیے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور اپنے جوہری پروگرام پر معاہدے تک پہنچنا ہوگا، بصورت دیگر اسے امریکی فوجی کارروائی کے امکان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا امکان باقی ہے‘
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’مذاکرات کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی‘ اور خبردار کیا کہ طاقت کا کوئی بھی حربہ خطے میں افراتفری اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ واشنگٹن کے ساتھ سمجھوتے پر نہ پہنچا تو 12 روزہ جنگ میں امریکہ کا اگلا حملہ ’پچھلے سے کہیں زیادہ شدید‘ ہوگا۔
ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کا ردعمل ’پہلے سے زیادہ تکلیف دہ‘ ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حکومتِ سندھ نے کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کابینہ کی سب کمیٹی نے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ ایک حاضر جج کے ذریعے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔
دوسری جانب حکومتِ سندھ نے کمشنر کراچی کی انکوائری رپورٹ بھی جاری کر دی ہے۔ اس سرکاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت میں بنیادی فائر سیفٹی انتظامات موجود نہیں تھے اور متعدد قوانین و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق یہی غفلتیں آگ کے پھیلاؤ اور جانی نقصان میں اضافے کا سبب بنیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ میں فائر الارم سسٹم، سپرنکلرز، سٹینڈ پائپ سسٹم اور ایمرجنسی ایگزٹس جیسے لازمی حفاظتی انتظامات یا تو موجود نہیں تھے یا غیر فعال حالت میں تھے۔ اس کے علاوہ عمارت کے اندر راستے تنگ، غیر واضح اور تجاوزات سے بھرے ہوئے تھے، جس کے باعث لوگوں کے لیے بروقت انخلا ممکن نہ ہو سکا۔
انکوائری کمیٹی نے عمارت کے مالکان اور انتظامیہ کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا۔ رپورٹ میں متعلقہ سرکاری اداروں، بشمول بلڈنگ کنٹرول اور فائر بریگیڈ کے بعض افسران کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ نگرانی اور معائنہ کے نظام میں سنگین کمزوریاں موجود رہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، جبکہ شہر بھر کی کمرشل عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے۔ اس کے علاوہ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سزاؤں کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کا واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر فائر سیفٹی قوانین کو نظرانداز کیا جاتا رہا تو مستقبل میں ایسے سانحات دوبارہ رونما ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کمشنر کی رپورٹ کی روشنی میں سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی واٹر بورڈ کے چیف انجینیئر (بلک)، انچارج ہائیڈرینٹس اور سینیئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی نظام موجود نہیں تھا اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ عمارت منظور شدہ نقشے کے خلاف تعمیر کی گئی تھی اور غیر محفوظ راستوں کے باعث انتظامیہ کے خلاف پولیس تفتیش کا حکم دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف مجرمانہ غفلت ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔ آگ لگنے کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پھولوں کی دکان کے مالک باہر گئے ہوئے تھے، بچے کے ہاتھ میں ماچس تھی جس سے آگ بھڑک اٹھی۔
عدالتی انکوائری کے بارے میں صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کسی دباؤ میں نہیں ہے اور جوڈیشل انکوائری ایم کیو ایم کے مطالبے پر نہیں کی جا رہی۔
رپورٹ میں 79 افراد کی گمشدگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ 73 لاشوں کی باقیات مل چکی ہیں جبکہ 6 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@GovtofPakistan
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے حکومت اور عارف حبیب کنسورشیم کے مابین ٹرانزیکشن کی تقریب میں شرکت کی۔
تقریب میں وزیراعظم کے مشیر نجکاری محمد علی کا کہنا تھا کہ ’عارف حبیب کنسورشیم 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ جس میں سے 125 ارب قومی ائیرلائن کی استعدادِکار میں اضافے پر خرچ ہوں گے اور 55 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوں گے۔‘
تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آج انجام کو پہنچا، پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں کی گئی۔‘
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا اور یہ عمل ملکی فضائی صنعت میں نئی زندگی اور ترقی کے مواقع فراہم کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’نجکاری کے بعد پی آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ ملکی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بہترین خدمات فراہم کی جا سکیں۔‘
وزیرِاعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے تقریب کے دوران کہا کہ ’پی آئی اے کی نجکاری نے ثابت کر دیا ہے کہ ’پاکستان کاروبار کے لیے سنجیدہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@GovtofPakistan

،تصویر کا ذریعہAmit Singh
مدھیہ پردیش کے ضلع ستنا میں پولیس نے بی جے پی رہنما کے خلاف ایک 25 سالہ خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ منگل کی رات پیش آیا جب ملزم پلکِت ٹنڈن اور اُن کے ساتھی راج کمار نام دیو نے خاتون اور اُن کی والدہ پر تشدد کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں پلکِت ٹنڈن کو خاتون کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون اور اُن کی والدہ دونوں کو گہری چوٹیں آئی ہیں۔
ایس پی ستنا پرےملال کُروے نے صحافیوں کو بتایا کہ ’تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی شکایت پر ملزم پلکِت ٹنڈن اور راج کمار نام دیو کے خلاف ناگود تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور جو بھی حقائق سامنے آئیں گے ان کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘
پولیس کے مطابق ابھی تک پلکِت ٹنڈن کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اُن کا ایک بیوٹی پارلر ہے جو بی جے پی رہنما پلکِت ٹنڈن کے گودام کے قریب واقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہAmit Singh
ایف آئی آر کے مطابق 27 جنوری کی رات تقریباً 10 بجے متاثرہ خاتون کو پلکِت ٹنڈن کے ملازم آر کے نام دیو کے موبائل فون سے کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک گاہک آیا ہے۔ خاتون نے پہلے آنے سے انکار کیا لیکن بعد میں اطلاع دی کہ وہ پہنچ رہی ہیں۔ جب وہ گودام کے باہر پہنچیں تو آر کے نام دیو نے انھیں اندر جانے کو کہا۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اندر داخل ہونے پر انھوں نے پلکِت ٹنڈن کو شراب پیتے دیکھا۔ جب وہ باہر جانے لگیں تو پلکِت ٹنڈن نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ خاتون کے احتجاج کرنے پر پلکِت ٹنڈن نے انھیں زمین پر گرا دیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
شکایت میں مزید کہا گیا کہ شور سن کر جب خاتون کے بھائی اور والدہ موقع پر پہنچے تو انھیں بھی مارا پیٹا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون کو ٹانگ اور سر پر چوٹیں آئیں، ان کی والدہ کے سر، سینے اور ہاتھ پر زخم آئے جبکہ بھائی کے کان اور ہاتھ پر چوٹیں لگیں۔
پولیس نے بتایا کہ زخمیوں کا علاج ہسپتال میں کیا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بدھ کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جسے پولیس نے تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔
اس معاملے پر بی جے پی ستنا یونٹ نے پلکِت ٹنڈن کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے اپنے چین کے دورے کے دوران جمعرات کو چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
اس موقع پر سٹارمر نے کہا کہ برطانیہ چین کے ساتھ ’زیادہ بہتر تعلقات‘ قائم کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے چین کو ’عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی‘ قرار دیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ برطانیہ اور چین کے تعلقات میں ’اتار چڑھاؤ‘ آئے ہیں، لیکن چین برطانیہ کے ساتھ ’طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری‘ کے لیے تیار ہے۔
شی جن پنگ نے موجودہ عالمی حالات کو ’غیر مستحکم اور بدلتے ہوئے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔
دوسری جانب ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق برطانیہ اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ برطانوی شہری اب چین میں 30 دن سے کم قیام کے لیے ویزا کے بغیر سفر کر سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کاروباری دورے یا سیاحت کے لیے جانے والے افراد کو ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس طرح برطانیہ ان 50 ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جن میں فرانس، جرمنی اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔
وزیرِاعظم سٹارمر نے ویزا معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کی بڑی اقتصادی طاقتوں میں سے ایک کے طور پر کاروباری ادارے چین میں اپنی موجودگی بڑھانے کے مواقع کے منتظر تھے۔ ہم انھیں یہ آسانی فراہم کریں گے، بشمول مختصر مدت کے سفر کے لیے نرم ویزا قوانین تاکہ وہ بیرونِ ملک دورے سے فائدہ حاصل کر سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ترقی اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے انڈیا میں دو کیسز کی تصدیق کے بعد سرحدوں پر ’نِیپاہ وائرس‘ کے ممکنہ مریضوں کی جانچ پڑتال کے لیے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
اس طرح پاکستان بھی ان ایشیائی ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنھوں نے اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق تھائی لینڈ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام نے بھی اپنے ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے اقدامات مزید سخت کیے ہیں۔
نیپاہ وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور اس کی شرحِ اموات بہت زیادہ ہے۔
پاکستان کے بارڈر ہیلتھ سروسز ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ناگزیر ہوگیا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں پر حفاظتی اور نگرانی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ تمام مسافروں کی تھرمل سکریننگ اور طبی معائنہ کیا جائے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسافروں کو گزشتہ 21 دنوں کی سفری تفصیلات فراہم کرنا ہوگی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کسی نِیپاہ وائرس سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقے سے گزرے ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ دسمبر 2025 تک دنیا بھر میں نِیپاہ وائرس کے 750 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 415 اموات ہوئیں۔ کولیشن فار ایپیڈیمک پریپیئرڈنیس انوویشنز اس وائرس کے خلاف ویکسین کی آزمائش کے لیے فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک غلط فہمی ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا ابراہام معاہدے یا کسی متوازی عمل سے کوئی تعلق ہے۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’بورڈ آف پیس میں شمولیت وزارتِ خارجہ اور تمام متعلقہ اداروں کا اجتماعی فیصلہ ہے جو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کیا گیا۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ ’پاکستان کا بنیادی مقصد بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور برقرار رکھنا، تعمیرِ نو میں مدد فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی ایک منصفانہ اور دیرپا امن کو آگے بڑھانا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’سات دیگر اہم مسلم ممالک، سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر بھی پاکستان کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شامل ہوئے ہیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کی شمولیت کو آٹھ اسلامی ممالک کی اس مشترکہ کوشش کے تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے جس کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنا اور فلسطینی مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طاہر اندرا بی نے غزہ کے عوام کی مشکلات، اموات اور تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’بورڈ آف پیس غزہ اور وسیع تر فلسطینی مسئلے کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مخصوص مینڈیٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے جسے سلامتی کونسل کی قرارداد نے اختیار دیا ہے۔‘
ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کے نظام کو کمزور نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔‘
طاہر اندرا بی نے یہ بھی واضح کیا کہ ’پاکستان نے ابھی تک ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور بورڈ آف پیس کی رکنیت کا مطلب فوجی دستے بھیجنا نہیں ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان طاقت کے استعمال اور جبری اقدامات، بشمول ایران پر پابندیاں لگانے اور اس کے داخلی معاملات میں مداخلت، کی مخالفت کرتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان مسائل کے حل کے لیے امن اور سفارتکاری کی وکالت جاری رکھے گا کیونکہ یہ خطہ جنگ اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’تہران امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب بات چیت ایمانداری اور حقیقی ہو۔‘
انھوں نے کہا، ’اگرچہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکی صدر اس قسم کی بات چیت کے خواہاں ہیں؛ وہ صرف اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس انٹرویو میں، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے حالیہ مظاہروں کے لیے ’غیر ملکیوں‘ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ ’منصوبہ‘ بیرون ملک ڈیزائن کیا گیا تھا۔‘
قالیباف نے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کا ذکر کیے بغیر امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا کہ ’ایرانی حکومت حالیہ بدامنی میں مرنے ہونے والے تقریباً 300 سکیورٹی اہلکاروں کے خون کا بدلہ لینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد شاہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے طبی معائنے سے متعلق درخواست پر پراسیکوشن کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔
جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جی ایچ کیو حلمہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل ملک نے عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے موقف اختیار کیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو شدید تشویش ہے۔
انھوں نے استدعا کی کہ عمران خان اور بشری بی بی سے ان کے ذاتی معالج سے معائنہ کروایا جائے۔ فیصل ملک نے اس ضمن میں تحریری درخواست بھی عدالت میں جع کروائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق خدشات خطرات ہیں۔
اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان دونوں قیدیوں کا طبی معائنہ ان کے ذاتی معالجین سے کروایا جائے۔
اس درخواست میں عمران خان کے تین ذاتی معالجین کا نام لکھ کر عدالت سے ان کے ذریعے معائنہ کروانے کی استدعا کی گئی ہے۔
عدالت نے اس درخواست پر اس مقدمے کے پراسکیوٹر کو نوٹس جاری کیا ہے اور کل ان سے اس ضمن میں جواب مانگا ہے۔
اس مقدمے کے پراسیکوٹر ظہیر شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا نے تیسری مرتبہ ان دونوں کا ان کے ذاتی معالجین سےطبی معائنہ کروانے کے لیے درخواست دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ابھی تک عدالت کے اڈیالہ جیل کے حکام کو عمران خان اور بشری بی بی کی صحت سے متعلق ریکارڈ یا کوئی دستاویز جمع کروانے کا حکم نہیں دیا۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کے حکم کے خلاف درخواست پر سماعت فروری کے پہلے ہفتے تل ملتوی کردی ہے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد شاہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مقدمے میں عمران خان کی پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے کروانے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل میں مقدمات کی سماعت کے لیے عارضی عدالتوں کے قیام کا نوٹفیکیشن ختم کردیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی یونین کے ترجمان برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو دی جانے والی سزاؤں کی مزمت کی ہے۔
سوشل میّڈیا سائٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’ انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر سزا اظہار رائے کی آزادی اور وکلاء کی آزادی کےخلاف ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ نہ صرف کلیدی جمہوری اصول ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا بھی حصہ ہیں۔‘
یاد رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو متنازع ٹویٹس کیس میں الگ الگ دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 برس قیدِ بامشقت کی سزا سُنائی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) کی دفعہ 9 کے تحت پانچ، پانچ برس، پیکا کی دفعہ 10 کے تحت 10، 10 برس اور پیکا کی دفعہ 26 اے کے تحت دو برس قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔
ان دفعات کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے کا جُرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ تاہم تمام سزائیں ایک ساتھ نافذ العمل ہوں گی اور دونوں کو 10، 10 برس قید کی سزا کاٹنی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انھیں ’اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ان کی سختی سے تردید اور مذمت‘ کی جائے اور سلامتی کونسل اس معاملے پر فیصلہ کن ردعمل دے۔
اپنے خط میں، امیر سعید نے مسٹر ٹرمپ کے حالیہ ریمارکس کو ’غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے واضح طور پر منافی‘ قرار دیا۔
ایران نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ’اس طرح کے رویے سے علاقائی کشیدگی بڑھے گی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہو گا۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’کسی بھی مسلح حملے یا جارحیت کی صورت میں، ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور لوگوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اپنا حق استعمال کرے گا۔ۓ
مزید یہ کہ ’امریکہ اپنے کنٹرول سے باہر کسی بھی غیر متوقع نتائج کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری قبول کرے گا۔‘
گذشتہ روز انھوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک پوسٹ میں، امریکی صدر نے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی ایران روانگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاز اور اس کے ساتھ موجود ٹاسک فورس ضرورت پڑنے پر ’تیز رفتاری اور شدت کے ساتھ‘ اپنا مشن انجام دینے کے لیے ’تیار‘ اور ’قابل‘ ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بہاولپور گیریژن کا دورہ کیا جہاں انھیں کور کے مختلف آپریشنل، تربیتی اور انتظامی پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی، خاص طور پر کثیر الجہتی جنگ کی تیاریوں پر توجہ دی گئی۔
چیف آف سٹاف اور سی ڈی ایف نے خیرپور تمےوالی میں فیلڈ ایکسرسائز ’سٹیڈفاسٹ ریزولو‘ دیکھی، جس میں بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز)، جدید نگرانی کے اثاثے، الیکٹرانک وارفیئر اثاثے اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول میکانزم جیسے مخصوص ٹیکنالوجیز کا انضمام شامل تھا۔
فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئےفیلڈ مارشل نے مستقبل کے میدان جنگ اور سلامتی کے چیلنجز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہترین تیاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ’پاکستان کی مسلح افواج مختلف شعبوں میں بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہیں۔ جنگ کا کردار بہت بدل چکا ہے، تکنیکی ترقی نے ارتقاء کو آگے بڑھایا ہے اور مستقبل میں، تکنیکی مشقیں جسمانی حرکات کی جگہ لے لیں گی اور جارحانہ اور دفاعی آپریشنز کے طریقے کو بنیادی طور پر بدل دیں گی۔‘
اس سے پہلے انھوں نے روہی ای اسکلز لرننگ ہب کا بھی افتتاح کیا، جس کا مقصد خاص طور پر جنوبی پنجاب اور ملک بھر کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل مہارتیں اور سیکھنے کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
انھوں نے اے پی ایس عباسیہ کیمپس کا بھی افتتاح کیا، جس میں پاکستان آرمی کی معیاری تعلیم اور کردار سازی کے عزم کی تصدیق کی گئی۔
اس کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ای ایم ای ریجنل ورکشاپ کا دورہ کیا، جہاں انھیں جدید پلیٹ فارمز کو جدید ٹیکنالوجیز، انڈیجنائزیشن اور دیگر جنگی معاونت کے اقدامات کے ذریعے برقرار رکھنے کے لیے مینٹیننس ریجیم کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے لاہور پولیس کی جانب سے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیریز کی سکیورٹی پر نو ایس پیز، 25 ڈی ایس پیز اور 73 ایس ایچ اوز تعینات ہوں گے۔
اس کے علاوہ پولیس کے چھ ہزار سے زائد افسران و اہلکار میچز کے دوران سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔
سی سی پی او لاہور کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران ایک ہزار سے زائد ٹریفک وارڈنز بھی فرائض سر انجام دیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان آسٹریلیاٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران شہر بھر کی سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلال صدیق کمیانہ نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں پاکستان آسٹریلیاٹی ٹوئنٹی کرکٹ سیریز کے تین میچز کھیلے جائیں گے۔جس کے دوران لاہور پولیس ملکی و غیرملکی کرکٹرزاور شائقین کوفول پروف سکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔
سی سی پی او ک نے پولیس افسران کو پاکستان کرکٹ بورڈ اورمتعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے ہدایت کی کہ سٹیڈیم میں داخلے سے قبل ہر فرد کی تلاشی اور خواتین شرکاءکی چیکنگ بذریعہ لیڈیز پولیس عمل میں لائی جائے گی۔
انھوں نے میچوں کے دوران ٹریفک کی روانی کوبرقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سیف سٹی اتھارٹی و دیگر کنٹرول رومز کے ذریعے موثر مانیٹرنگ کی جائے گی۔ میچز کے دوران ڈولفن فورس، پیرو اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں پٹرولنگ کریں گی۔