انرش بریوک کے مقدمے کی سماعت مکمل

انرش بہرنگ بریوک عدالت سے کہ چکے ہیں کہ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے شاندار اور پیچیدہ حملہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانرش بہرنگ بریوک عدالت سے کہ چکے ہیں کہ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے شاندار اور پیچیدہ حملہ کیا ہے۔

ناروے میں گزشتہ سال جولائی میں ستتر افراد کو قتل کرنے والے انرش بہرنگ بریوک کے مقدمہ کی سماعت کا اختتام مقتولین کے ورثاء کے عدالت سے ’واک آؤٹ‘ کے ساتھ ہوا۔

سماعت کے آخری روز ملزم نے جیسے ہی عدالت کو اس قتلِ عام کی وجوہات بتانے کی کوشش کی تو تقریباً تیس افراد احتجاجاً باہر چلے گئے۔

تیتیس سالہ ملزم اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے ستتر افراد کو قتل اور دو سو بتالیس کو زخمی کیا۔ انہوں نے اوسلو میں حکومتی عمارتوں پر بم حملے اور اتویا کے جزیرے پر لیبر پارٹی کے نوجوان حمایتیوں کے ایک کیمپ میں اندھا دھند گولیاں چلائیں تھیں۔

ملزم کا موقف تھا کہ انہوں نے ناروے میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے اور انہیں ذہنی طور مستحکم قرار دیتے ہوئے بری کر دیا جائے۔

استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ انرش کو ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دیا جائے۔

ادھر ملزم کے وکیل جیئر لپسٹیڈ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل انتہا پسندی کی سیاست سے متاثر ہوگئے تھے۔

سماعت کے آخری روز عدالت نے بریوک کے قتلِ عام سے براہِ راست متاثر ہونے چند افراد کے بیانات بھی سنے۔

جمعے کو حکومت نے اعلان کیا تھا کہ متاثرین کی یاد میں حملوں کی جائے وقوع پر میموریل بنائے جائیں گے۔

انرش بہرنگ بریوک کے عدالت میں دیے گئے بیان اور مقتولین کے ورثا یا حملوں میں زندہ بچ جانے والے افراد، کسی کے بھی بیانات کو نشر نہیں کیا گیا۔

متاثرین کی امداد کے لیے ایک بنے ایک گروہ نے وضاحت کی کہ متاثرین کے ملزم کے بیان کے وقت احتجاجاً واک آؤٹ کا نشانہ بریوک خود تھے نہ کہ عدالت۔

عدالت میں موجود بی بی سی کے لارس بیوینجر کا کہنا تھا کہ اس گروہ کے خیال میں بریبک اپنی صفائی میں مزید کچھ نہیں کہ سکتے تھے۔

گروہ کے ایک رکن نے کہا ’ملزم کو بولنے کا حق ہے مگر ہم پر سننے کی کوئی بندش یا ذمہ داری نہیں‘۔

واضح رہے کہ عدالت اس مقدمے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا بریوک ذہنی طور پر تندرست ہیں یا نہیں۔ عدالت اپنا فیصلہ چوبیس اگست کو سنائے گی۔