حملہ آور ایک سال سے منصوبہ بندی کر رہا تھا: جرمن پولیس

،تصویر کا ذریعہ
جرمن حکام کے مطابق جمعے کی شام کو میونخ کے اولمپیا شاپنگ مال میں فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والا نوجوان ایک سال سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
میونخ کے شاپنگ مال پر حملہ کرنے والے 18 سالہ ڈیوڈ سانبولے نے حملے کے بعد خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔
حملے بعد پولیس نے اس نوجوان سے ایک پستول اور 300 گولیاں برآمد کی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نوجوان نے یہ پستول انٹرنٹ سے خریدا تھا۔
جرمنی کے سکیورٹی حکام کی جانب سے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور مرنے والوں کو نہیں جانتا تھا اور نہ ہی ان افراد کو خاص طور پر اس نے چنا تھا۔
اس سے قبل حکام یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ اس حملے کے پیچھے بظاہر کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔
پولیس کے مطابق اس نوجوان نے گذشتہ برس وینڈن کے شہر میں اس سکول کا بھی دورہ کیا تھا جہاں سنہ 2009 میں فائرنگ کا واقعہ پیش آ یا تھا۔
ادھر مرنے والوں کی یاد میں لوگ حملے کے مقام پر شمعیں روشن کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
خیال رہے کہ اس حملے میں حملہ آور سمیت دس افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل جرمنی کی پولیس کا کہنا تھا کہ میونخ کے شاپنگ پلازہ میں فائرنگ کرنے والا ناروے میں سنہ 2011 میں اجتماعی قتل کے مرتکب دائیں بازو کے شدت پسند انرش بریوک سے متاثر تھا اور لوگوں کو مارنا حملہ آور کے سر پر سوار تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ صاف ظاہر ہے کہ جمعے کو حملہ آور کی میونخ میں لوگوں کو فائرنگ کر کے مارنے والی حرکت ناروے میں قتل عام کرنے والے شخص انرش درز بریوک سے مماثلت رکھتی ہے۔
سنیچر کو پولیس کا کہنا تھا کہ 18 سالہ لڑکے کے کمرے سے اس حملے کے بارے میں تحریری نوٹس بھی ملے ہیں۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس لڑکے نے فیس بک پر دعوت دے کر لوگوں کو واقعی میکڈونلڈز آنے کو کہا تھا یا نہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور ذہنی دباؤ (ڈیپریشن) کا مریض تھا اور اس کا علاج ہو رہا تھا۔







