میونخ میں دہشت کے سائے

جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شاپنگ سنٹر میں فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق میونخ کے اولمپیا شاپنگ مال میں فائرنگ سے حملہ آور سمیت دس افراد مارے گئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق میونخ کے اولمپیا شاپنگ مال میں فائرنگ سے حملہ آور سمیت دس افراد مارے گئے۔
اس کے علاوہ کم از کم 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس کے علاوہ کم از کم 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور تنہا تھا اور وہ ایرانی نژاد جرمن شہری تھا اور میونخ ہی میں رہتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور تنہا تھا اور وہ ایرانی نژاد جرمن شہری تھا اور میونخ ہی میں رہتا تھا۔
پولیس کی کارروائی میں 2300 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا جن کی مدد خصوصی دستوں نے کی۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپولیس کی کارروائی میں 2300 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا جن کی مدد خصوصی دستوں نے کی۔
میونخ میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمیونخ میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق حملے میں تین افراد شامل تھے، لیکن یہ خبر غلط نکلی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق حملے میں تین افراد شامل تھے، لیکن یہ خبر غلط نکلی۔
پولیس نے اس سے قبل گاڑی میں فرار ہوتے ہوئے دو افراد کو بھی مشتبہ سمجھ لیا تھا لیکن اب اس کا خیال ہے کہ ایک ہی حملہ آور ملوث تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس نے اس سے قبل گاڑی میں فرار ہوتے ہوئے دو افراد کو بھی مشتبہ سمجھ لیا تھا لیکن اب اس کا خیال ہے کہ ایک ہی حملہ آور ملوث تھا۔
پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے پستول کی مدد سے حملہ کیا اور اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے برعکس اس کے پاس لمبی نال کی بندوق نہیں تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے پستول کی مدد سے حملہ کیا اور اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے برعکس اس کے پاس لمبی نال کی بندوق نہیں تھی۔
میونخ پولیس نے کہا ہے کہ مشتبہ بندوق بردار شخص نے خودکشی کر لی ہے اور وہ اکیلا ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمیونخ پولیس نے کہا ہے کہ مشتبہ بندوق بردار شخص نے خودکشی کر لی ہے اور وہ اکیلا ہو سکتا ہے۔
 میونخ پولیس نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حملے کی تحقیقات میں مدد دینے کے لیے تصاویر اور ویڈیو بھیجیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن میونخ پولیس نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حملے کی تحقیقات میں مدد دینے کے لیے تصاویر اور ویڈیو بھیجیں۔