جرمنی میں شامی پناہ گزین کا’بم حملہ‘، 12 افراد زخمی

جرمنی کے شہر آنسباخ میں موسیقی کے تہوار کے دوران ایک شامی پناہ گزین کے ’بم حملے‘ میں 12 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

شامی پناہ گزین بم دھماکے کے نتیجے میں خود بھی مارا گیا ہے۔

باویریا ریاست کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ شامی شہری کی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی اور اس نے موسیقی کے اوپن ایئر فیسٹیول میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر اپنے پاس موجود دھماکہ خیز مواد کو دھماکے سے اڑا دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں شامی پناہ گزین مارا گیا جبکہ دیگر 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام دھماکہ خیز مواد کی ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنحکام دھماکہ خیز مواد کی ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں

حکام کے مطابق دھماکے کے بعد فیسٹیول میں موجود دو ہزار پانچ سو افراد کو جائے وقوعہ سے نکالا گیا۔

باویریاکے وزیر داخلہ کے مطابق دھماکہ موسیقی کے فیسٹیول کے داخلی دروازے پر ہوا۔

سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو سیل کر دیا ہے جبکہ ماہرین دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کی ساخت کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر داخلہ جواخم ہیمن کے مطابق مشینہ حملہ آور تقریباً دو برس پہلے جرمنی آیا تھا اور ایک برس پہلے اس کی پناہ کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا تاہم اسے اپنے آبائی ملک کے حالات بہتر ہونے تک جرمنی میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی اور ایک فلیٹ مہیا کیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ جواخم ہیمن نے شامی پناہ گزین کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ پہلے دو مرتبہ خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں اور کچھ وقت نفسیاتی امراض کی کلینک میں بھی گزارا ہے۔

جرمنی میں جمعے کو ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنجرمنی میں جمعے کو ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے

انھوں نے بتایا کہ’ابھی ہم نہیں جانتے تھے کہ اس شخص نے خودکشی کی منصوبہ بندی کی تھی یا دوسروں کو مارنے کا ادارہ تھا۔ تاہم ان کے پاس موجود بم اتنا طاقتور تھا کہ اس سے بڑی تعداد افراد ہلاک اور زخمی ہو سکتے تھے۔‘

وزیر داخلہ نے دھماکے کی مذمت اور اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں ان پر کنٹرول کو مزید سخت کرنا ہو گا جو ہمارے ملک میں رہ رہے ہیں۔

باویریا ریاست میں ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا حملہ ہے جس میں جمعے کو میونخ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جبکہ اس سے پہلے ویورسبرگ شہر میں ایک ٹرین میں چاقو سے مسلح نوجوان کے حملے میں چار افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ حملہ آور پولیس کی فائرنگ میں مارا گیا۔

بویریا ریاست میں ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا حملہ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبویریا ریاست میں ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا حملہ ہے

17 سالہ نوجوان نے جنوبی جرمنی کی ریاست باویریا کے شہر ویورسبرگ میں ایک ٹرین میں یہ حملہ پیر کی شام کو کیا۔ حملے میں ہانگ کانگ کے چار افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے تین افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دوسری جانب میونخ میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اولمپیا شاپنگ مال میں فائرنگ کر کے نو لوگوں کو ہلاک کرنے والے ڈیوڈ سانبولے کے 16 سالہ افغانی دوست کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس نوجوان سے حملہ آور کے منصوبے کے بارے میں نہ بتانے اور حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں۔

میونخ پولیس کے فیس بک صفحے پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس 16 سالہ نوجوان کے بارے میں شبہہ ہے کہ یہ ممکنہ طور پر حملے میں شریک ہو سکتا ہے۔‘