حملہ آور کا ناروے کے سفید فام نسل پرست سے’واضح تعلق‘ تھا

،تصویر کا ذریعہGetty
جرمنی کی پولیس کا کہنا ہے کہ جس شخص نے میونخ کے شاپنگ پلازہ میں فائرنگ کی اس کا ناروے میں سنہ 2011 میں اجتماعی قتل کے مرتکب دائیں بازو کے شدت پسند انرش بریوک سے واضح تعلق تھا اور لوگوں کو مارنا حملہ آور کے سر پر سوار تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ صاف ظاہر ہے کہ جمعے کو حملہ آور کی میونخ میں لوگوں کو فائرنگ کر کے مارنے والی حرکت ناروے میں قتل عام کرنے والے شخص انرش درز بریوک سے مماثلت رکھتی ہے۔
سنیچر کو پولیس کا کہنا تھا کہ 18 سالہ لڑکے کے کمرے سے اس حملے کے بارے میں تحریری نوٹس بھی ملے ہیں۔
اس لڑکے کے پاس نو ایم ایم گلوک پستول تھی اور 300 گولیاں اور اس نے بعد میں خودکشی کر لی۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس لڑکے نے فیس بک پر دعوت دے کر لوگوں کو واقعی میکڈونلڈز آنے کو کہا تھا یا نہیں۔
شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس لڑکے نے لڑکی کے نام کا جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو ریستوران میں بلایا جہاں اس نے بعد میں حملہ کیا۔
جمعے کی شام کو میونخ کے اولمپیا شاپنگ مال میں حملے میں نو افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور ذہنی دباؤ (ڈیپریشن) کا مریض تھا اور اس کا علاج ہو رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میونخ کی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ میونخ کے حملے اور پانچ سال قبل ناروے میں کیے گئے حملے میں مماثلت ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کو ناروے میں کیے جانے والے حملے کے پانچ سال پورے ہوئے جس میں آندرز برویک نے فائرنگ کر کے 77 افراد کو ہلاک کیا تھا۔
پولیس سربراہ ہربرٹس آندرے کے مطابق حملہ آور کی لاش اولمپیا شاپنگ مال سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ملی ہے جبکہ اس حملے کے مقاصد کا قطعاً تعین نہیں ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ کارروائی میں 2300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا جن کی مدد کے لیے خصوصی دستے بھی موجود تھے۔







